parachinarvoice
52.3K views | +0 today
Follow
parachinarvoice
parachinar kurram agency
Curated by Shafiq Ahmed
Your new post is loading...
Your new post is loading...
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

کرم ایجنسی، سیکیوریٹی ادارے اور پولیٹیکل انتظامیہ

کرم ایجنسی، سیکیوریٹی ادارے اور پولیٹیکل انتظامیہ | parachinarvoice | Scoop.it
پاک فوج کے اہلکار قبائلی عمائدین سے ملاقات کرتے ہوئے
Shafiq Ahmed's insight:
کرم ایجنسی، سیکیوریٹی ادارے اور پولیٹیکل انتظامیہ کرم ایجنسی دیگر ایجنسیوں کے نسبت پُرامن ہوچکا ہے جس میں سیکیوریٹی اداروں کیساتھ ساتھ علاقے کی عوام کی بھی بھر پور کاؤشیں شامل ہیں۔ اپر کرم ہو یا لوئر کرم اور یا سنیٹرل کرم نہایت قابل قدر اور معزز مشران قوم اور نوجوان موجود ہیں جنہوں نے ایجنسی میں لگی آگ بجھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب وقت آ پہنچا ہے کہ کرپٹ مشران اور تخریب کار جوانوں کی حوصلہ شکنی کی جائے اور پولیٹیکل انتظامیہ میں بیٹھے کالی بھیڑوں کو آئینہ دکھایا جائے۔
۲۰۰۷ سے ۲۰۱۱ تک کے خونریز قبائلی اور فرقہ ورانہ لڑائی کے بعد کوئی بھی ذی شعور جوان اسلحہ اُٹھانے کے حق نہیں اور کرم ایجنسی کے جوان کھیل اور تعلیم کے شعبے میں روز افزوں ترقی کررہے ہیں جس میں پبلک سیکٹر کے سکولوں کا کردار قابل قدر ہے۔
پانچ سالہ خونریز فرقہ ورانہ اور قبائلی جنگ میں سیکیوریٹی اداروں کا کردار نہایت اہم ہے۔ جہاں چار سال تک سب سیکیوریٹی ادارے خاموش تماشائی بنے رہے اور ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنتے رہے لیکن پھر ایسا وقت بھی آیا کہ ٹل سے لیکر پاراچنار تک سیکیوریٹی اداروں نے سینکڑوں چیک پوسٹ قائم کیئے اور فرقہ ورانہ اور قبائلی جنگ پر قابو پا لیا۔
تاہم ۲۰۱۱ کے بعد دہشتگردوں نے بعض قبائل کیساتھ ملکر کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو خودکش بم دھماکوں کا نشانہ بنانا شروع کیا جس پر پاکستان سمیت دنیا بھر کی طرح یہاں بھی قابو پانا مشکل ہوا ہے۔ ۲۰۱۱ کے قبائلی اور فرقہ ورانہ جنگ کے بعد پارچنار اور گرد نواح کے شیعہ آبادی ۱۱ بڑے خودکش دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے اکثر سہولتکار پکڑے گئے ہیں اور سیکیوریٹی اداروں کے مطابق اس کے سہولتکار مقامی ہیں۔ اب حکومت اور سیکیورٹی اداروں نے ان سہولتکاروں کیخلاف کوئی کارروائی کی ہے یا نہیں یہ بات وہ بتانے سے گریز کررہے ہیں۔ لیکن سب کو پتہ ہے کہ خودکش میں استعمال ہونیوالی گاڑیاں کہاں تیار ہوتی رہی ہیں اور کہاں سے ہوتی ہوئی پاراچنار داخل ہوتی رہی ہیں۔
اصل مقصد اس پورے کہانی کا یہ ہے کہ جن اداروں نے ابھی تک دہشتگردی کے اس سارے عمل سے سبق نہیں سیکھا ہے اس میں سرفہرست پولیٹیکل انتظامیہ ہے۔ صرف کرم ایجنسی کا پولیٹیکل انتظامیہ نہیں بلکہ سات ایجنسیوں کے پولیٹیکل سسٹم مکمل فیل ہوئے ہیں، کرم ایجنسی کے ساتھ ساتھ خیبر، مہمند، اورکزئی، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان اور باجوڑ ایجنسیاں مکمل طور پر تباہ و برباد ہوچکے ہیں اور اسکی مکمل طور پر ذمہ داری پولیٹیکل انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ پولیٹیکل ایجنٹ ایجنسی کا بادشاہ ہوتا ہے، بلکہ بادشاہ سے بھی زیادہ طاقتور کیونکہ عدالت، انتظامیہ اور مقننہ سب انکے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور مزیدار بات یہ کہ پولیٹیکل ایجنٹ کسی کے سامنے جوابدہ بھی نہیں۔ جبکہ علاقائی ذمہ داری کے قانون کے تحت تخریب کاری اور دہشتگردی کے ذمہ دار علاقے کے عوام ہوتے ہیں۔
لگے ہاتھوں ایک سنگین مسئلہ کی نشادہی بھی ضرور ہے تاکہ نئ حلقہ بندی کے وقت یاد رہے، پوسٹوں اور ترقیاتی اسکیموں کی غیر منصفانہ تقسیم کی روک تھام کیا جائے اور وہ کہ یہ جس علاقے کو آج سنٹرل کرم کہا جاتا ھے یہ علاقہ غیر اور کرم کا حصہ نہیں تھا انتظامی لحاظ سے اسکا نام “علاقہ غیر FR Kurram” تھا جیسے اب FR Kohat, FR Banu , FR DIKhan ہیں۔ وہ سارے FRs اب بھی اسی حیثیت میں باقی ہیں صرف کرم سے ملحق FR کو سازش کے تحت کرم ایجنسی میں ضم کیا گیا اور 2002 کے بعد تو باقاعدہ ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اسکو سنٹرل کرم کا نام دیکر باقاعدہ حصہ بنایا گیا۔ اس سے لوئر کرم کو بہت کم لیکن اپر کرم کو بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ اسکا مناسب حل تلاش کیاجائے۔
جس اصل موضوع کی طرف لانا تھا وہ یہ کہ حال ہی میں صدہ میں منعقد ایک تقریب مثال کے طور پر پیش کرتا ہوں تاکہ سب کی آنکھیں کھول جائیں اور اس طرح زیادتی سے آئندہ گریز کیا جائے بلکہ متعصب اہلکاروں کو برطرف کرکے اہل اہلکار لگائیں اور پوسٹوں کی تقسیم بھی مناسب تناسب سے کریں تو کئی مشکلیں خود بخود حل ہوجائیں گی۔
نسیم خان لوئر کرم صدہ سے ایک نام نہاد صحافی ہے جو اکثر عوامی جذبات ابھارتے رہے ہیں۔ نیسم خام نے کل ہی ایک رپورٹ شائع کی ہے کہ
“جی او سی جناب اظہراقبال عباسی نے اج بروز ہفتے کو سدہ کا اسپیشل دورہ کیا، 114 وینگ میں کمانڈنٹ کرم ملیشیاء راشد محمود، وینگ کمانڈر کرنل مقصود انجم ،میجر ارسلان ،کیپٹن زین اور پولیٹیکل انتظامیہ کرم کے افسران اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ طارق حسن، اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ سنٹرل کرم عرفان علی و دیگر ٹیم نے مہمان کا استقبال کیا ،مقامی مشران کے جانب سے ملک حاجی عبدالمنان نے ایجنسی روایات کے مطابق میجر جنرل کو کولہ لونگی پہنائی، اس موقعہ پر لوئر، سنٹرل کرم کے مشران سے ملاقات کی مشران سے خطاب کرتیں ہوئے انہوں نے کہا کہ علاقے ترقی و امن امان قائم رکھنے میں حکومت سے زیادہ اپ لوگوں کاکردار ہے ،کیونکہ امن اور بدامنی کا اثر سب سے پہلے مقامی لوگوں پر پڑتا ہے”
اب لوئر کرم کے امن و امان کی صورتحال پر بلائی گئی اس نمائیندہ قبائلی جرگہ میں مشران بلانے کی ذمہ داری اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اور اس کے ریڈر کی ہوتی ہے۔ معلومات کیمطابق اس امن جرگے میں ٹوٹل تین شیعہ مشران مدعو تھے جنہیں بولنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ جبکہ لوئر کرم میں عمل کوٹ سے لیکر علیزئی تک ایک بہت بڑی تعداد میں شیعہ علاقے شامل ہیں جس کی آبادی لگ بھگ ایک لاکھ کے قریب ہے۔
دوسری طرف اپر کرم میں اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اور ریڈر سنی مسلک سے ہیں اور جب بھی کوئی جرگہ بلایا جاتا ہے اس میں شیعہ مشران سے زیادہ تعداد ہمارے سنی بھائیوں کی ہوتی ہے اور ہر ایک کو بولنے کے برابر مواقع ملتے ہیں جس پر نہ ہمیں کوئی اعتراض ہے اور نہ ہی کھبی شکوہ اور شکایت کی ہے۔ آج جب ہم شکایت کررہے ہیں تو اس زیادتی پر کررہے ہیں جو لوئر کرم صدہ میں ہورہا ہے۔
لہذا اب ہمارا مطالبہ ہے کہ اپر کرم اور لوئر کرم میں پولیٹیکل انتظامیہ کے اہلکاروں کی تعیناتی میں مناسب تناسب کا خیال رکھا جائے۔ اپر کرم کے پولیٹیکل یا اسسٹنٹ پولیٹیکل جبکہ لوئر کرم کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اور تحصیلدار میں برابر تناسب رکھیں ۔ اسی طرح لوئر کرم میں ریڈر اور اپر کرم کے ریڈر کے تعیناتی میں برابر تناسب رکھا جائے تاکہ اس قسم کے ناخوشگوار اور تلخ حقائق سامنے نہ آئیں۔
اس طرح زیادتی سے آئندہ گریز کیا جائے بلکہ متعصب اہلکاروں کو برطرف کرکے اہل اہلکار لگائیں اور پوسٹوں کی تقسیم بھی مناسب تناسب سے کریں تو کئی مشکلیں خود بخود حل ہوجائیں گی۔
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

شیعہ نسل کشی جاری، پاراچنار پھر قتل گاہ بنا! ذمہ دار کون؟

شیعہ نسل کشی جاری، پاراچنار پھر قتل گاہ بنا! ذمہ دار کون؟ | parachinarvoice | Scoop.it
پاراچنار دھماکے میں شہید ایک معصوم بچے کی تصویر
Shafiq Ahmed's insight:




شیعہ نسل کشی جاری، پاراچنار پھر قتل گاہ بنا! ذمہ دار کون؟ 
پاراچنار شہر کے وسط میں اور مرکزی امام بارگاہ کے باب النساء کے بالکل سامنے دھماکہ ہوا ہے یہ رواں سال میں دوسرا بڑا دھماکہ ہے جس میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 22 تک پہنچ گئی ہے اور زخمیوں کی تعداد 95 ہو گئی، دھماکے میں ایک خاتون اور دو کمسن بچے بھی شہید ہو گئے ہیں27 شدید زخمیوں کی حالت خطرناک بتائی جا رہی ہے، جنہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔ بظاہر زوردار کار بم دھماکے سے ارد گرد کی متعدد دکانیں، مکان اور گاڑیاں تباہ ہوگئیں اور راستے سے گزرنے والے لوگ اور قریبی دکانوں میں بیٹھے لوگ بھی دھماکے کے زد میں آگئے۔
دھماکے کے بعد بم دھماکے کے متاثرین اور شہدا کے اہل خانہ سمیت سول سوسائٹی نے مظاہرہ اور احتجاج کرنے کی کوشش کی جنہیں منتشر کرنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فائرنگ شروع کردی، فائرنگ کے نتیجے میں بھی تین افراد ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔
ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. دھماکے کے بعد حسب معمول لیوی ، ایف سی اور آرمی کے دستے جائے وقوعہ پر پہنچے اور سکیورٹی اقدامات سخت کر دئیے۔ کرم ایجسنی کی رضا کار تنظیموں اور سول سوسائٹی نے امدادی کارروائیاں کر کے زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا اور سینکڑوں افراد نے خون کے عطیات جمع کئے۔
پاراچنار شہر خصوصاً اور کرم ایجسنی میں عموماً دہشتگردی کے واقعات ہوتے رہے ہیں جس میں اب تیزی آئی ہے دھماکوں کی ذمہ داری کالعدم اور دہشتگرد تنظمیں قبول کرتی آ رہی ہیں۔ اور کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے جبکہ کرم ایجنسی کے انہی قبائل کو حکومت وقتاً فوقتاً غیر مسلح اور آپریشن کی دھمکیاں دیتا آ رہا ہے۔
پاراچنار میں آج دھماکے کی بازگشت ایک مہینے پہلے سے سنائی دینے لگی جب حکومت نے الرٹ جاری کیا ایک نہیں بلکہ تین الرٹ جاری کیئے گئے جس میں دہشتگردوں کی طرف سے پاراچنار شہر، مزار شہید علامہ محمد نواز عرفانی اور زیارت علی زیڑان میں منظم فرقہ ورانہ دہشتگرد کارروائی ترتیب دینے کی بات گئی تھی۔ عوام سے ھوشیار رہنے کی تاکید کی گئی تھی۔ لیکن حکومت مجرمانہ خواب غفلت سے جاگنے کی کوشش نہیں جس کے نتیجے میں آج ایک اور دھماکہ ہوا اور درجنوں افراد شہید جبکہ بیسیوں زخمی ہوئے۔
پاراچنار دھماکے کے بعد سول سوسائٹی نے دھماکے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرین پولیٹیکل ایجنٹ دفتر کی طرف بڑھ رہے تھے کہ اس دوران مظاہرین پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فائرنگ کردی، فائرنگ کے نتیجے میں تین مظاہرین ہلاک اور درجن بھر زخمی ہونے کی طلاعات ہیں۔ پرامن مظاہرین سوال کررہے تھے کہ پارچنار شہر میں عرصہ سے کرفیو کا سماں ہے اور داخلی و خارجی راستے مکمل بند ہیں اتنی سخت سیکیورٹی کے باوجود دھماکہ کیوں اور کیسے ہوا؟؟ مظاہرین پولیٹیکل انتظامیہ کے اعلی عہدیداروں سمیت ایف سی کمانڈنٹ کی فوری برطرفی کا مطالبہ کررہے تھے اور دہشتگردوں کے پشت پناہی کرنے والوں کیخلاف نعرے لگا رہے تھے۔ 21 جنوری کو بھی دھماکہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں 26 افراد جاں بحق اور تقریباً ایک سو زخمی ہوئے تھے۔
پاراچنار دھماکے میں استعمال بارود بھری گاڑی بوشہرہ سے لائے جانے کی اطلاعات ہیں ، جو کہ الرٹ میں بوشہرہ کا نام لیاجا رہا تھا اور اسی راستے سے لیویز کے پھاٹک توڑتا ہوا شہر میں داخل ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ حکومت کو پہلے خبر بھی تھی! اب گاؤں بوشہرہ میں موجود داعش اور طالبان کیخلاف کوئی کارروائی ہوگی! جیسا کہ کرم ایجسنی میں عموماً شیعہ علاقوں میں کیا جاتا رہا ہے!
پارچنار بم دھماکہ عالمی اور پاکستان میں جاری شیعہ نسل کشی کی کڑی ہے۔ عراق، یمن اور بحرین سمیت شام اور افغانستان میں عالمی سامراجی قوتیں اور علاقائی سٹیس کو کی قوتیں مل کر شیعہ اور سنی قتل عام مصروف ہیں جبکہ دہشتگرد قوتوں کے زریعے مسلمان اور دنیا کے دیگر مذاہب اور فرقوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ داعش، القاعدہ، بوکو حرام، الشباب، طالبان، لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ اور ان جیسے تکفیری دہشتگرد گروپوں کے ذریعے مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے اجتماعی تشخیص کو برباد کیا جارہا ہے اور اسلام کو بدنام کرنے کی مذموم اور ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔
میں یہ کس کے نام لکھوں یہ جو الم گزر رہے ہیں
میرے شہر جل رہے ہیں میرے لوگ مر رہے ہیں
انا للہ و انا الیہ راجعون
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

داعش اور طالبان کا پاکستانی شیعہ آبادیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی

داعش اور طالبان کا پاکستانی شیعہ آبادیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی | parachinarvoice | Scoop.it
داعش اور طالبان کی جانب سے بھیجا گیا خط 
Shafiq Ahmed's insight:
داعش اور طالبان نے ایک اور خط بھیج دیا ہے کہ افغانستان میں مقاصد حاصل کرنے کے بعد اب پاکستان میں مجاھدین کیساتھ روابط میں ہیں کہ کرم، اورکزئی، ھنگو، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ رافضیوں کا قلع قمع کرسکیں۔ زرائع کے مطابق حکومت نے خط پانے والے دو شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جس میں محمد اصغر جو ایک استاد ہے، بشیر حسین اور کبیر حسین شامل ہیں۔ بشیر حسین ملک سے باہر مزدوری کرتا رہا ہے اور آجکل چھٹی پر ہے۔ زرائع کے مطابق گرفتار افراد کی تعداد چھ ہے تاہم دوسرے افراد کے بارے معلومات ابھی تک موصول نہیں ہوسکے ہیں۔ داعش اور طالبان نے خط بھیجا ہے اس پر شیعہ نوجوانوں کی گرفتاری سمجھ سے بالاتر ہے اُمید ہے تفتیش کے بعد نوجوانوں کو رہا کردیا جائے گا۔ حکومت کو اس خط کے مندرجات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور پاراچنار سبزی مارکیٹ دھماکے کے بعد اس قسم کے دھمکی آمیز خطوط باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ارسال کئیے جا رہے ہیں، اور علاقے میں خوف و ہراس طالبان اور داعش سے زیادہ حکومت خود پھیلا رہی ہے جو احتجاج کرنے والوں اور خطوط پانے والوں کو پابند سلاسل کررہے ہیں۔
Mujahid Anees
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

کرم ایجنسی کے گرد ڈیورنڈ لائن ہماری خون سے کھنچی ہوئی لکیر ہے۔ شفیق طوری

کرم ایجنسی کے گرد ڈیورنڈ لائن ہماری خون سے کھنچی ہوئی لکیر ہے۔ شفیق طوری | parachinarvoice | Scoop.it
پاراچنار سبزی منڈی دھماکے کا ایک زخمی
Shafiq Ahmed's insight:
پاکستان آرمی کے سپاہ سالار جناب جنرل قمر باجوہ نے پاراچنار کا دورہ کیا ہے۔ شہدا کے غم میں شریک ہوئے ہیں اور زخمیوں کی عیادت کی ہے۔ بہت اچھی بات اور ہم سراہتے ہیں آرمی چیف کے دورے کو جو ہمارے غم میں شریک ہوئے۔ آرمی چیف نے پاراچنار میں آرمی پبلک سکول کے قیام کا اعلان بھی کیا ہے جسے خوش آمدید کہتے ہیں اور کرم ایجنسی میں موجود علمی فضا میں ایک خوشگوار جھونکا نہیں بلکہ سنگ میل ثابت ہوگا انشااللہ۔ جنرل راحیل صاحب نے بھی میرے خیال میں ایک کیڈٹ کالج کے قیام کا اعلان کیا تھا جو قابل عمل نہ ہوسکا اُمید ہے آرمی پبلک سکول کیساتھ وہ حشر نہیں ہوگا کیونکہ میرے معلومات کیمطابق آرمی پبلک سکول کی فیزیبیلٹی بھی تیار ہے۔
کرم ایجنسی کی تاریخ طوری بنگش اقوام نے اپنے خون سے لکھی ہے اور ہم ہر قیمت پر اسکا دفاع کریں گے۔ یہ ہم پر فرض ہے۔
کرم ایجنسی سمیت اورکزئی ایجنسی اور کوہاٹ تک صرف شیعہ آبادی کو غیر مسلح کیا جا رہا ہے۔ اس پر ہمارے تحفظات ہیں جو دور کیئے جائیں۔
ہم نے کھبی اسلحہ حکومت کے خلاف یا کسی پر حملہ آور ہونے کیلئے استعمال نہیں کیا ہے۔ اور ہم ہر قسم کی ضمانت دینے کیلئے تیار ہیں کہ آئیندہ بھی استعمال نہیں ہوگا۔
میرے دوست سلمان حیدر کا شعر ہے کہ،
 "حُر" ہو تو آؤ، ورنہ پلٹ جاؤ، دیکھ کر 
ریتی پہ ذوالفقار سے کھنچی ہوئی لکیر
 دشمن چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، طالبان، داعش یا لشکر جھنگوی، افغانستان ہو یا ہندوستان کرم ایجنسی کے گرد ڈیورڈ لائن کو ذوالفقار سے کھنچی ہوئی لکیر ہی سمجھیں۔
پاکستان کا دشمن ہمارا بھی دشمن ہے، طالبان، لشکر جھنگوی اور داعش جیسے سفاک دشمنوں کے ہاتھوں ہمارے بچے صبح و شام مار جا رہے ہیں۔ پاکستان کو اس وقت خیال آیا جب آرمی پبلک سکول میں آرمی والوں اور دیگر بچے ان سفاک درندوں کے ہاتھوں بے دردی سے شہید ہوئے۔ 
ہم پاراچنار کرم ایجنسی میں تین سو سال سے زیادہ عرصہ سے رہ رہے ہیں۔ ہماری مجبوریوں کو حکومت سمجھنے کوشش کرے۔
کرم ایجنسی پچھلے تین دھائیوں میں تین بڑی جنگیں لڑی گئی ہیں 1982, 1987, 1996 اور 2007 اور میں میرا مشاہدہ ہے کہ پاکستان آرمی یا ریاست پاکستان نے ہماری کوئی مدد نہیں کی ہے۔ حتی کرم ملیشیا کے ایک کرنل جسکا نام کرنل مجید تھا کے سرپرستی میں پشاور سے پاراچنار آنی والی کانوائے کو صدہ میں روک کر جلایا گیا۔ ہمارے بچوں اور جوانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے پاراچنار بھیجے گئے۔
تُو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر
یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا !
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں
تیری رہبری کا سوال ہے !
دو سال پہلے شلوزان کے علاقے خیواص پر حملہ ہوا۔ سینکڑوں جانیں ضائع ہوئیں۔ کیا ریاست پاکستان یا پاک آرمی مجھے بتا سکتی ہے کہ کتنے پاک آرمی یا ملیشیا یا لیویز کے اہلکار ان جنگوں میں ہلاک ہوئے؟ ایک بھی نہیں۔ ہم خود لڑے ہیں اور آئیندہ بھی لڑتے رہیں گے۔  جیسا کہ میں نے بتایا کہ ہم تین سو سال سے زیادہ عرصہ ہوا کرم ایجنسی میں رہ رہے ہیں۔ 
کرم ایجنسی کی اہمیت سب کو پتہ ہے طوری بنگش قبایئل کو پاکستان افغانستان اور ہندوستان و ایران و سعودی عرب کے درمیان سینڈویچ نہ بنایا جائے۔ ہمارے مسائل صرف انتظامی ہیں۔ پہاڑ کے جھگڑے، زمینوں کے جھگڑے، پانی کے جھگڑے اور مذہبی جنونیوں کے جھگڑے! یہ ریاست کاکام ہے کہ اپنے نظام کو اپڈیٹ کریں جو دو صدیوں پرانا ہے اور ان میں مسائل کے حل کی سکت نہیں۔ پولیٹیکل ایجنٹ اور انتظامیہ پر مسائل کا بہت بڑا بوجھ ہے جو وہ بے چارے اُٹھانے کے قابل بھی ہو تو بھی پوری نہیں کر سکتا۔ انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ سب کام ایک پولیٹیکل ایجنٹ اور ڈپٹی کو کرنے ہوتے ہیں۔
پچھلے آٹھ سال میں آٹھ دھماکے ہوئے ہیں مجھے بتائیں کتنے آدمی پکڑے گئے تھے اور کتنوں کو عدالت میں پیش کرکے سزا دی گئی؟
ہر سال کی ابتداء پاراچنار میں دھماکے سے ہوتی ہے اور دشمن چھپا نہیں ہے سامنے کھڑا ہے۔ "ذمہ واری" بھی قبول کرتا ہے اور اپنے حملہ آوروں کی تصاویر بھی شائع کرتا ہے۔ ان کے خلاف ریاست بھی لڑ رہی ہے اور ہم بھی لڑ رہے ہیں۔ پاکستان میں سب سے زیادہ قربانیاں ہم نے دی ہیں۔ ہمارے پچھلے آٹھ سال میں ساڑھے تین ہزار بندے شہید ہوئے ہیں۔ میں دعوے سے اعداد و شمار کیساتھ بتا سکتا ہوں کہ کرم ایجنسی میں طوری بنگش قبیلوں سے زیادہ قربانیاں کسی نے نہیں دی ہیں اور آئیندہ بھی دیتے رہیں گے۔ اپنی وطن کی خاطر اور اپنے مٹی کی خاطر۔ مادر وطن کی حفاظت کی خاطر۔ 
کرم ایجنسی سمیت پورے فاٹا میں نظام کے اپ گریڈ یشن کی ضرورت ہے۔ اگر نظام درست ہو تو غیر ریاستی عناصر اور تخریب کار و دہشتگرد خودکار نظام کے تحت فلٹر ہوکر اپنے انجام کو پہنچتے رہیں گے۔ پھر ہمیں اسلحے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ پھر ہمیں تنظیموں کی ضرورت نہیں ہوگی۔ پھر ہمیں بھی آواز اُٹھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ہم پاکستانی ہیں اور تا قیامت پاکستانی رہیں گے۔ کرم ایجنسی کے گرد ڈیورنڈ لائن ہماری خون سے کھنچی ہوئی لکیر ہے۔ جس کی گواہ ہمارے قبرستان ہیں جہاں قبروں پر لہراتے سُرخ جھنڈے ہزاروں شہداء کی داستان سناتے نظر آتے ہیں۔ اور ہمارے لہو سے کھنچی ہوئی ڈیورنڈ کی لکیر تاقیامت پاکستان کی گواہی دے گا۔ اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
 پاکستان آرمی زندہ باد۔ پاکستان پائیندہ باد
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

بریگیڈئیر صاحب طوری قبیلہ کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑوگے کیا ؟! شفیق طوری

بریگیڈئیر صاحب طوری قبیلہ کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑوگے کیا ؟! شفیق طوری | parachinarvoice | Scoop.it
بریگیڈئیر امیر خان کرم ایجنسی کے مشران کیساتھ 
Shafiq Ahmed's insight:
 طوری قبیلہ، وادئِ کرم میں دریائے کرم کے دونوں جانب سرسبز و شاداب قطعہ زمین پر تقریباً پانچ سو سال سے آباد ہے۔
بنیادی طور پر خانہ بدوش قبیلہ جب وادئِ کرم میں آباد ہوا تو اپنی محنت و مشقت سے وادئِ کرم کے جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ وادئ کی تقدیر بھی بدل ڈالی اور وادئِ کے زرخیز زمین سے بھر پور فائدہ اُٹھا کر معاشی اور معاشرتی حالات میں انقلابی ترقی لائے۔
وادئِ کرم کے جنوب میں خوست اور شمال میں کوہِ سفید واقع ہے اور کوہ سفید کے اُس پار تورا بورا کی مشہور و معروف پہاڑی سلسلہ جہاں مبینہ طور پر دنیا کے خطرناک ترین دہشتگرد گروہ القاعدہ اور ان کے سربراہ اُسامہ بن لادن کھبی ڈھیرے ڈالے ہوئے تھے۔
مغرب میں افغانستان کے صوبے پکتیکا کے شہرینا اور مختلف گاؤں سمیت پہاڑی سلسلے ہیں جبکہ مشرق میں پاڑہ چمکنی اور اورکزئی ایجنسی واقع ہیں۔
اٹھارہ سو پچاس کے دہائی میں پیواڑ کے ملک ظریف افغانستان کے سردار محمد اعظم خان کے نہایت اہم حمایتی تھے اور شلوزان کے ملک افغانستان کے امیر دوست محمد خان سے ایک شادی کے ذریعے منسلک رہے۔ افغانستان کے امیر دوست محمد خان کے وقت کابل میں کرم ایجنسی شورش کی آوازیں گونجتی رہی اور 1851 میں طوری قبیلے نے پیواڑ قلعے پر قبضہ کرکے افغان امیر کو آنکھیں دکھائیں جو بعد میں بہت بھاری پڑ گئیں جب 1856 افغان امیر نے سردار محمد اعظم کی سربراہی میں مجاھدین بھیج کر طوری قبیلے کو جانی اور مالی نقصان سے دوچار کیا۔ طوری قبیلے کی اس شکست سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اردگرد کے سنی قبائل نے خوستوال اور وزیر قبائل نے کرم ایجنسی پر حملہ کیا جو خوستوال اور وزیر قبائل سمیت دیگر سنی قبائل کے عبرت ناک شکست پر ختم ہوئی۔ طوری قبیلہ سیاسی اور میدان جنگ دونوں محاذ پر ڈٹی رہی اور کامیاب و کامران رہی۔ پھر افغانستان میں امیر شیر علی برسراقتدار آئے اور کرم وادی میں انکے بھائی والی محمد خان گورنر رہے جس کی ماں کا تعلق وادی کرم سے تھا لیکن وادی کرم کے ملک نے وفد کابل بھیج کر امیر شیر علی سے والی محمد کے شکایت کی اور یوں گورنر والی محمد معزول کردئیے گئے۔ انیس سو تیس میں کرم ایجنسی کے تمام سنی قبائل نے شیعہ آبادی پر لشکر کشی کی اور قتل عام کیا۔ یہ وہ دور تھا جب افغانستان میں بچا سقاؤ جیسا سفاک نیم خواندہ مولوی حکمرانی کررہا تھا، بچا سقاؤ کا دور افغانستان میں طالبان کے مُلا عمر کے دور سے بھی زیادہ رجعت پسند اور ظالم دور تھا اور افغانستان ظلم کے زنجیروں میں جھکڑا ہوا تھا، عین اسی وقت پر نادرشاہ، باچا سقاؤ کے افغانستان امارت پر حملہ آور ہوئے تو طوری اور بنگش قبائل نے نادرشاہ کا ساتھ دیا اور طوری قبیلہ مزید مشکلات سے دوچار رہا۔یوں کابل حکومت کی شیعہ دشمنی اور فرقہ ورانہ حکومتوں سے تنگ آکر وادی کرم کے طوری قبیلے نے 1879 میں دوسری افغان جنگ کے وقت برطانوی راج کو خوش آمدید کہا۔ ایک سال بعد برطانوی فوج وادی کرم سے نکل گئی اور وادی کرم کو طوری قبیلے کے حوالے کیا لیکن 1892 میں برطانوی افواج پھر وادی کرم پر قبضہ کر گئے۔ طوری قبیلے کے مشران نے سیاسی، سماجی اور علاقائی تحفظات کے مطالبے کیئے جو سارے کے سارے انگریز حکومت نے تسلیم کیئے یوں رواج اور کرم ملیشیا جیسے دور رس معاہدے طے پا گئے جس کے تحت آج سو سال بعد بھی ہمارے مسائل حل کیئے جا رہے ہیں اور کسی کو اس سو سالہ نظام بدلنے کی اہلیت نہیں اور نہ ہی حوصلہ ہے۔
علاقائی تحفظ کیلئے 1892 میں ایک شاندار طوری ملیشیا کھڑی کر دی گئی جو 1892 اور 1897 جیسے خطرناک ترین جنگوں میں بھی ثابت قدم رہی جبکہ خیبر رائفلز سمیت شمالی اور جنوبی وزیرستان کے ملیشیا کا نام و نشان مٹ گیا تھا۔
۱۹۴۸ء میں قائد اعظم کے اصرار پر دیگر ایجنسیوں کی طرح پاکستان کیساتھ الحاق کیا ۔ طوری قبیلہ کرم ایجنسی کا سب سے بڑا قبیلہ ہے اور واحد پشتون قبیلہ ہے جو شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور شیعہ بنگش قبیلے کیساتھ مل کر کرم ایجنسی واضح اکثریت میں ہیں۔ لہٰذا یہ ضیاالحق کے سخت گیر اسٹیبلشمٹ کو قبول رہے اور نہ ہی علاقے کی دیگر سنی قبائل کو قابل قبول رہے۔ مذہبی اور مسلکی منافرت کے علاوہ یہاں چونکہ شیعہ سنی ساتھ ساتھ رہے ہیں تو زمین ، پہاڑ اور پانی کے جھگڑے بھی ہوتے رہے ہیں جو بعد میں مذہبی اور مسلکی لڑائی میں بدل کر علاقے کو میدان جنگ میں تبدیل کرتے رہے ہیں۔ کرم ایجنسی میں شیعہ آبادی کو تین سو سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے اور یہاں کے اکثریتی شیعہ آبادی کو مسلکی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، لہٰذا کرم ایجنسی میں دہشتگردی صرف ایرانی انقلاب یا افغانستان انقلاب سے جوڑنا حقیقت نہیں لیکن "مردِ مومن مردِ حق" ضیاالحق کے پالیسیوں اور ایران انقلاب کے بعد اس میں تیزی ضرور آئی ہے۔ پاکستان میں ایران اور خمینی کے پہلے نمائیندہ عارف حسین الحسینی کا تعلق پاراچنار سے تھا جو پاکستان کے اُفق پر ضیاالحق کے دور میں نمودار ہوئے جبکہ عارف الحسینی سے پہلے زکواة کے معاملے پر اسلام آباد کے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کا فیصلہ کن معرکہ مفتی جعفر حسین نے سر کیا جب مطلق العنان آمر نے گھٹنے ٹیک دئیے اور مفتی جعفر حسین اور ساتھیوں نے ہی پاکستان میں سیاسی جدودجہد جاری رکھنے کیلئے تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ کی بنیاد رکھی، جبکہ عارف الحسینی انکے دست راست بنے رہے۔ بعض نام نہاد مبصرین اور کالم کار تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ کا مفہوم یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں موجود اقلیتی شیعہ مسلک نے یہ تحریک پاکستان میں ایران طرز کا خمینی انقلاب لانے کیلئے بنایا تھا جو تاریخی بددیانتی ہے۔ تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ پاکستان میں صرف شیعہ اقلیتی مسلک کی تحفظ اور خدمت کیلئے بنایا گیا پہلا پلیٹ فارم تھا۔ اور تحریک کا مقصد اور نعرہ پاکستان پر قابض ہونا کھبی نہیں رہا۔
۱۹۲۹-۲۸، ۱۹۵۰ اور ۱۹۵۶ء کے خونریز لڑائیوں کے علاوہ میرے سامنے وادی کرم میں جو خونریز لڑائی گئیں انکا مختصر تاریخ یہ ہے۔
۱۹۸۱-۸۲ میں کرم ایجنسی کے سارے سنی قبائل نے افغان مہاجرین کیساتھ ملکر صدہ قصبہ میں شیعہ آبادی پر ہلہ بول دیا اور دادو حاجی کے سارے خاندان کو ہلاک کیا گیا اور صدہ قصبے سے شیعہ آبادی کو مکمل طور پر بے دخل کر دیاگیا جو آج تک آباد نہیں ہو سکے۔ کیونکہ اس وقت تک انگریز کا بنایا گیا کرم ملیشیا وادی کرم میں موجود تھا لہٰذا جنگ صدہ تک ہی محدود رہی اور ایجنسی کے دیگر علاقوں تک نہیں پھیلنے دی گئی۔ یاد رہے کرم ملیشیا صرف طوری قبیلہ پر مشتمل نہیں تھا بلکہ اس میں منگل، مقبل، بنگش سمیت ایجنسی کے سارے قبائل کو متناسب نمائیندگی موجود تھی جو کہ اپنے، اپنے علاقے کے امن قائم رکھنے کے ذمہ تھی۔ اس وقت تک ایران کا کوئی مولوی پاکستان میں موجود تھا اور نہ ہی پاراچنار میں۔ بدقسمتی سے ضیااء لحق کے فرقہ ورانہ پالیسیوں کا شکار ہو کر کرم ملیشیا کو برطرف کرکے پورے پاکستان میں پھیلایا گیا، علاقے کو آگ و خون میں نہلایا گیا اور سرسبز وشاداب ، حسین و جمیل اور جنت نظیر وادئِ کرم کو دہشتگردی اور فرقہ واریت کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا جو آج تک نہیں نکل سکا۔
۱۹۸۷-۸۸ ضیاءالحق کے دور میں شیعہ مسلک کے روح رواں اور ملت جعفر یہ کے صف اوّل کے رہنما تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ کے روح رواں علامہ عارف حسین الحسینی کو شہید کیا گیا اور علاقے کے سنی قبائل نے افغان مہاجرین کیساتھ ملکر مقامی شیعہ آبادی پر حملہ کردیا جو صدہ قصبے سے ہوتے ہوئے بالش خیل اور ابراہیم زئی جیسے بڑے گاؤں کو روندتے اور جلاتے ہوئے سمیر گاؤں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور بعد میں طوری لشکر نے پسپا کرکے واپس صدہ کی طرف دھکیل دیا لیکن دسیوں گاؤں جلائے گئے اور لوٹے گئے، امام بارگاہیں اور مساجد مسمار کردی گئیں۔ ۱۷ دن پر محیط لڑائی میں ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے جبکہ پاک فوج اور پاکستان کی اسٹیبلیشمنٹ تماشا دیکھتی رہی۔
۱۹۹۶ء میں رسول اللہ صلعم کے چچا اور حضرت علی کے والد حضرت ابو طالب کی توہین کی گئی اور مقامی شیعہ آبادی کو اشتعال دلا کر خونریز جنگ کا آغاز کیا گیا جو کئی ہفتے تک جاری رہا ہائی سکول پاراچنار میں اسکے پرنسپل اسرار حسین کو قتل کیا گیا جسے بعد صدارتی تمغہ دیا گیا، اسکے بعد کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو محصور کیا گیا اور انکے لئے پاراچنار تک رسائی کے صرف ایک راستے ٹل پاراچنار روڈ کو بند کیا گیا اور پاراچنار پاکستانی غزا میں تبدیل ہوا۔
۲۰۰۱ء میں پھر فرقہ ورانہ فسادات شروع ہوئے اور پیواڑ پھر لشکر کشی کی گئ، پیواڑ کے مختلف گاؤں سمیت مرکزی امام بارگاہ پر بمباری کئ گئی جس میں درجنوں لوگ قتل کیئے گئے۔
۲۰۰۷ میں ۱۲ ربیع الاول کے عید میلاد النبی کے جلوس میں "حسین مردہ باد اور یزید زندہ باد" کے نعرے لگا کر فرقہ ورانہ جنگ کا آغاز کیا گیا یہ ایک منظم اور منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا حملہ تھا جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوئے، بڑی تعداد میں القاعدہ جنگجوؤں کیساتھ ساتھ طالبان کے حکیم اللہ محسود اور منگل باغ نے جنگ کی کمان سنبھالی اور وزیرستان سے لیکر خیبر تک کے سنی قبائل کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی پر حملہ آور ہوئے۔ القاعدہ اور طالبان کے سینکڑوں نہایت مستعد اور ماہر نشانہ بازوں نے پارچنار شہر میں اہل سنت والجماعت کے مسجد کو سب سے بڑا مورچہ نہیں بلکہ قلعے میں تبدیل کردیا تھا جس سے پاراچنار کے مرکزی امام بارگاہ پر بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری شروع کر دی گئی اور ارد گرد کے سارے شہر کیلئے مسجد کے میناروں میں لگائی گئی مشین گنیں ہی کافی تھیں۔ لہذا سینکڑوں قتل ہوئے اور امام بارگاہ سمیت آدھے پاراچنار شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پوری وادی میدان جنگ میں تبدیل ہوئی اور پانچ ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ صدہ کے مین بازار میں شیعہ افراد گاڑیوں سے اتارے گئے اور انکے ہاتھ پیر کاٹ کر پاراچنار بھیج دیئے گئے جنہوں آگ پر پٹرول کا کام کیا اور خونریز لڑائیاں شروع ہوئیں جو پانچ سال تک جاری رہی۔ پاراچنار کو پاکستان سے ملانے والا واحد شاہراہ کئی سال تک بند رہا اور پاراچنار فلسطین اور غزا میں تبدیل ہوا۔ تین سال پاراچنار کا محاصرہ جاری رہا اور طوری بنگش قبائل افغانستان کے راستے تیس گھنٹے پُرخطر سفر کرنے پر مجبور ہوئے تھے، بہت سے لوگ راستے سے اغوا کرکے قتل کئے گئے، بعض لوگ بھاری تاوان دیکر چھڑائے گئے اور کچھ ابھی بازیاب نہیں ہوئے ہیں۔ بچے ادویات اور خوراک نہ ملنے کی وجہ سے مرنے لگے اور لوگ فاقے کاٹنے پر مجبور ہوئے۔ اسکے بعد پاراچنار میں پے درپے خودکش دھماکے شروع کردئیے گئے جس میں سینکڑوں لوگ قتل کئے گئے جس میں ۲۰۰۸ کے انتخابات کے دوران پیپلزپارٹی کے اُمیدوار ڈاکٹر ریاض حسین شاہ کے جلسے پر خودکش حملہ بھی شامل ہے جس میں ڈاکٹر ریاض تو بچ گئے لیکن ایک سو سے زیادہ لوگ قتل ہوئے، ڈاکٹر ریاض شاہ کو بعد میں پشاور کے بھرے بازار میں دن دیہاڑے قتل کیا گیا۔ اور پاراچنار کے مشہور ماہر تعلیم سید رضی شاہ اور پیر عسکر علی شاہ کو اغوا کرکے قتل کیا گیا۔ پارچنار کے علاوہ کراچی، پشاور اور افغانستان کے راستے پاراچنار جاتے ہوئے لوگوں کو بھی خودکش دھماکوں، نسب شدہ بموں اور ٹارگٹ جاری رہی۔
۲۰۱۱ میں آخری فرقہ ورانہ فسادات شلوزان تنگی اور خیواص میں ہوئے جب خیواص گاؤں پر حملہ کرکے جلایا گیا، ایک سو سے زیادہ لوگ قتل کئے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
آخری خودکش دھماکہ عیدگاہ میں ہوا جس میں ۲۳ افراد جاں بحق ہوئے اور دسیوں زخمی ہوئے۔
۲۷ دسمبر ۲۰۱۶ کو گورنر ہاؤس پاراچنار میں جرگے سے خطاب کرتے ہوئے 73 بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈیئر ملک امیر محمد خان نے کہا کہ کرم ایجنسی میں بهاری اسلحے کی موجودگی علاقے کی امن کے لئے خطرہ ہو سکتا ہے قومی اسلحہ ( راکٹ لانچر، ماٹر، توپ ، زیڑاکئے، وغیرہ) رکھنا غیر قانونی ہوگا اور اس کو متعین جگہ پر جمع کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ ماہ میں سارا اسلحہ جمع کیاجائے اگر قومی اسلحے کو جمع نہیں کیا گیا تو ہم خود تحویل میں لیں گے. اس کے بعد اگر کسی کے پاس ایک گرنیڈ یا آئی ڈی بھی نکلا تو اس پر قانون کا اطلاق ہوگا اور دہشت گردی کے زمرے میں آئے گا۔ ہم سب کا نیت ہے کہ ملک میں امن اور سلامتی رہے۔
بریگیڈئیر صاحب کی باتیں بجا ہیں اور کوئی ذی شعور شخص اس دلیل کر مسترد نہیں کرسکتا۔ لیکن جس طرح ہر ملک کو اپنے دفاع کا حق ہے اسی طرح ہر شخص اور ہر قبیلے کو بھی اپنی دفاع کا حق حاصل ہے۔ حکومت مندرجہ بالا حالات اور واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے طوری قوم کے سیاسی، سماجی اور علاقائی تحفظ کی ذمہ داری اُٹھاتے ہوئے پہلے ٹھوس اقدامات کریں تاکہ اس قبیلے کو موجود خطرات سے بچانے کا کوئی تو سامان ہو۔ ایسا نہ ہو کہ کل پاک فوج طوری قبیلے سے اسلحہ اکھٹا کریں اور پھر القاعدہ، طالبان اور دیگر دشمن قوتیں حملہ آور ہوجائیں۔ حکومت پاکستان اور پاک فوج نے طوری قبیلے کو کھبی بھی تحفظ فراہم نہیں کیا ہے۔ اور انگریز نے طوری قوم کی تحفظ یقینی بنانے کیلئے نہ صرف کرم ملیشیا کھڑا کردیا تھا بلکہ قبائل میں مفت اسلحہ بھی تقسیم کیا تھا، 1986 میں ضیاالحق نے کرم ملیشیا کو پورے پاکستان میں تقسیم کرکے طوری بنگش قبائل کو طویل جنگوں میں جھونک دیا اور اب پاک فوج طوری قوم سے اسلحہ اکھٹا کرکے دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاہتے ہیں؟
کرم ملیشیا میں متناسب بھرتی کرکے ایک ونگ بنایا جائے اور اسلحہ انکے سپرد کیا جائے۔ پیواڑ، بوڑکی، نستی کوٹ، شلوزان سمیت سرحدی علاقوں کی نگرانی کرم ملیشیا کے اسی ونگ کے حوالے کرکے طوری، بنگش قبائل کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ 
 ‏جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان سمیت خیبر و دیگر ایجنسیز میں ایک منظم دہشتگردی کی تحریک موجود تھی اور آج بھی ہے۔ پاک فوج نے جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان اور خیبر میں دسیوں آپریشنز کیئے ہیں۔ "آپریشن ضرب عضب" " آپریشن راہ راست" " آپریشن درغلم" آپریشن بیا درغلم" "آپریشن خوخ به دہ شم" آپریشن خیبر1" آپریشن خیبر 2" آپریشن کوہ سفید" آپریشن خیبر3" جہاں تک مجھے علم ہے کہیں بھی قومی اسلحہ تحویل میں نہیں لیا گیا ہے۔
کسی بھی ایجنسی میں رضاکارانہ طور پر اسلحہ جمع کرایاگیا ہے اور نہ ہی فوج نے کسی قوم سے اسلحہ آپریشن کے ذریعے جمع کروایا ہے۔ صرف وہ اسلحہ چھین لیاگیا ہے جو دہشتگردوں نے پاک فوج سے چھین لیا تھا۔ یا دہشتگردوں کے زیر استعمال تھا۔
پاک فوج نے ان ایجنسیوں میں آپریشن کے بعد امن کمیٹیاں بنا کر انکو سرکاری اسلحہ اور ایمیونیشن فراہم کیا تھا۔
تہتر بریگیڈ کے انڈر لوئر کرم اور ٹل بھی آتا ہے بریگیڈئیر صاحب سے گزارش ہے کہ پارچنار آتے ہوئے ٹل سے لیکر صدہ تک سارے اقوام اور تنظیموں سے اسلحہ جمع کرائیں کیونکہ نہ تو وہاں کوئی بارڈر ہے اور نہ ہی انکو کسی سے خطرہ ہے۔ ٹل پاراچنار روڈ ان دہشتگردوں نے پانچ سال تک بند کیئے رکھا تھا اسلیئے ان سے اسلحہ پہلے جمع کیا جائے۔
shafiqueahmed110@gmail.com
‏Shaforama@
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

کرم ایجنسی، پاراچنار: عثمانیہ مارکیٹ پر دو کریکر دھماکوں کی سازش پر لاکھوں قبائل کو دھمکی۔

کرم ایجنسی، پاراچنار: عثمانیہ مارکیٹ پر دو کریکر دھماکوں کی سازش پر لاکھوں قبائل کو دھمکی۔ | parachinarvoice | Scoop.it
Political, religious 
Shafiq Ahmed's insight:
کرم ایجنسی، پاراچنار: اطلاعات کے مطابق اے پی اے لوئر کرم نصراللہ خان کا بالش خیل چیک پوسٹ پر مشران ماہورہ ، بالش خیل اور صدہ کے ساتھ جرگہ ہوا ہے اور عثمانیہ پلازہ کریکر دھماکہ سازش کے سلسلے میں ملزمان کی حوالگی کا مطالبہ کرتے ہوئے قبائلی مشران کو دھمکی دی ہے کہ اگر ملزمان کو کل بارہ بجے تک حوالے نہ کیا گیا تو اہلیان بالشخیل ،صدہ اور ماہورہ سے گرفتاریاں شروع کی جائیں گی اور ان قبائل جنکا تعلق اکثریت شیعہ مکتبہ فکر سے ہے کے خلاف سخت ترین کاروائی آغاز ہوگا۔
پولیٹیکل انتظامیہ نے کرم ایجنسی میں طالبان، داعش اور لشکر جھنگوی کیخلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے جو ایجنسی میں دہشتگردانہ کارروائی کرتے آ رہے ہیں جنہوں نے انہی شیعہ قبائل کے ہزاروں لوگ قتل کئے ہیں اور پرسوں غوزگڑھی مقبل سی بارودی مواد گاڑی میں بھر کر پاراچنار شہر لایا جا رہا تھا کہ راستے میں ہی پھٹ گیا۔ ان سے پوچھ گچھ ہوئی ہے، نہ کوئی قوم کو ملزمان کی حوالگی کا مطالبہ اور نہ ہی کسی کو گرفتار کیا گیا ہے۔
سپاہ صحابہ (والجماعت) کے عید نظر مینگل اور حوالدار بخت جمال بنگش کرم ایجنسی سے ہزاروں لوگ داعش میں بھرتی کروا رہے ہیں اور پاراچنار کے پاسپورٹ آفس سے روزانہ ان گنت پاسپورٹ بنوا کر یمن، شام اور عراق بھیج رہے ان سے کوئی تحقیق اور نہ کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔
لیکن عثمانیہ مارکیٹ پر دو کریکر دھماکوں کی سازش پر لاکھوں قبائل کو سنگین نتائج دھمکی دے ڈالی۔
کرم ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ کو پاراچنار کے مرکزی امام بارگاہ میں فقید المثال شیعہ سنی اتحاد راس نہیں آیا اور ایجنسی کے حالات خراب کرنے کی سازشیں شروع کر دی گئیں۔
اے پی اے صاحب لوئر کرم نصراللہ خان پر پاراچنار میں کل والا جلسہ ناگوار گزارا ہے اسلئے اب دھمکیوں پر اتر آئے ہیں۔ اور پولیٹیکل انتظامیہ فرقہ واریت کی بیج بونا بند کرے۔
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

پشاور میں شیعہ مسلمانوں کے ساتھ صوبائی حکومت کا سوتیلی ماں جیسا سلوک، وزیراعلی پرویز خٹک کی ہٹ دھرمی

پشاور میں شیعہ مسلمانوں کے ساتھ صوبائی حکومت کا سوتیلی ماں جیسا سلوک، وزیراعلی پرویز خٹک کی ہٹ دھرمی | parachinarvoice | Scoop.it

پشاور میں شیعہ مسلمانوں کے ساتھ صوبائی حکومت کا سوتیلی ماں جیسا سلوک۔۔۔۔

تیرہ فروری دوہزار پندرہ کو حیات آباد پشاور میں واقع شیعہ مسلمانوں کی مسجد ،امامیہ مسجد پر یکے بعد تین خود کش حملے ہوئے جس میں دو درجن سے زائد افراد شہید اور پانچ درجن سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔۔ حملے کے بعد صوبائی حکومت نے امامیہ مسجد انتظامیہ کیساتھ کئی مطالبات پر اتفاق کیا اور وعدہ کیا کہ تما م تر مطالبات بہت جلد پورے کئے جائینگے لیکن آج تک وہ مطالبات پورے نہیں کئے گئے بلکہ ستم ظریفی تو یہ ہے۔ کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا جناب پرویز خٹک کو ملاقات کے لئے کئی بار درخواستیں لکھے لیکن وزیر اعلی صاحب کے پاس امامیہ مسجد انتظامیہ کے ساتھ ملاقات کے لئے ٹائم ہی نہیں۔ امامیہ مسجد پر حملےکو ایک سال پورا ہونے کو ہے۔ لیکن صوبائی حکومت ہر وعدے سے تقریبا پیچھے ہٹ چکی ہے۔

میں عوامی نیشنل پارٹی کا اس لئے حامی ہو۔ کہ اگر وہ وعدہ پورا نہیں کرسکتے ملاقات تو کر لیتے ہیں۔ لیکن پروٹوکول اور کرپشن ختم کرنے کے نام پر ووٹ حاصل کرنے والے عوام سے ملاقات کے لئے بھی ٹائم نہیں دیتے جو کہ صوبائی حکومت کی منہ پر طمانچے کے مترادف ہے۔

ہم صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کے سربراہ سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں۔ کہ وہ امامیہ مسجد حیات آباد انتظامیہ کے ساتھ کئے گئے وعدے پورا کریں۔ ایسا نہ ہو کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے کوئی دوسرا واقع رونما ہوجائے۔

ہم اُمید کرتے ہیں۔ کہ صوبائی حکومت اور عمران خان صاحب اس نازک معاملے کو توجہ دیں گے
اور شیعہ مسلمانوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک نہیں کرینگے۔۔۔

تفرقہ بازی مٹاؤ۔۔۔۔ انسانیت اور امن پھیلاؤ

بخدا۔۔۔۔ مزہ تفرقہ بازی اورایک دوسرے کے خلاف فتوے دینے میں نہیں جتنا کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر جینے میں ہے۔ آئیں ایک دوسرے کے ساتھ نیک سلوک کریں نہ کہ مذہب اور فرقے کے نام پر شجرکاری کریں۔۔۔۔

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

علامہ نواز عرفانی کے قتل کی سازش بے نقاب، طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا

علامہ نواز عرفانی کے قتل کی سازش بے نقاب، طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاراچنار کی معروف شخصیت امام جمعہ و جماعت علامہ شیخ نواز عرفانی کے قتل میں کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق خفیہ اداروں کی جانب سے علامہ نواز عرفانی کی شہادت پر مرتب کی جانے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس واقعہ میں کالعدم تحریک طالبان کا میجر مست گل گروپ ملوث ہے۔ رپورٹ کے مطابق نامعلوم مقام پر داعش کے نمائندے زبیر الکویتی اور میجر مست گل گروپ کے اعلیٰ ذمہ داران کے درمیان ایک خصوصی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان میں داعش کی تشکیل، ابوبکر البغدادی کی بیعت اور فاٹا کی سرزمین کو داعش کا مرکز بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔رپورٹ کے مطابق اس میٹنگ میں پاراچنار کی سرزمین پر موجود شیعہ برادری کو داعش کی آمد میں سب سے بڑی رکاوٹ تسلیم کرتے ہوئے حکمت عملی مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ماضی میں شیعیان پاراچنار کی جانب سے طالبان کو ملنے والی پے در پے شکستوں کا بدلہ لینے اور فاٹا میں داعش کی آمد کا آغاز کرم ایجنسی سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ خفیہ ادارے کی رپورٹ کے مطابق میجر مست گل گرو کے سرکردہ افراد پاراچنار کی اہل تشیع برادری کو داعش کی آمد میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے اس لئے ماضی کا بدلہ لینے کی غرض سے پاراچنار کی اہم شخصیت علامہ نواز عرفانی کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ میجر مست گل گروپ کے افراد یہ بات بھی جانتے تھے کہ پاراچنار میں سادات اور غیر سادات کے فرق نے شیعوں کو تقسیم کیا ہوا ہے، اس ہی لئے پاراچنار کی مجاہد شخصیت علامہ نواز عرفانی جوکہ خود غیر سید تھے کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ان کو قتل کرنے کا ہدف یہ تھا کہ پاراچنار میں شیعہ آپس میں دست و گریباں ہوجائیں اور شیعوں کی اس تقسیم کا فائدہ اٹھا کر پاراچنار پر مکمل چڑھائی کردی جائے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو پاراچنار کی تسخیر کے بعد پورے فاٹا میں داعش کی عملداری کو آسانی کے ساتھ یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اس ہی پلان کے تحت پاراچنار سے جلا وطن کئے جانے والے علامہ شیخ نواز عرفانی کو اسلام آباد میں شہید کیا گیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ مخالف گروپ کی کاروائی ہے، تاہم علامہ نواز عرفانی کی شہادت کے بعد پورے ملک میں شیعہ تنظیموں کے احتجاج نے کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کی کوششوں پر پانی پھیر دیا اور علامہ نواز عرفانی کی شہادت کو ملت جعفریہ کاعظیم نقصان قرار دیا ۔ بعدازاں ملکی سلامتی کے خفیہ اداروں کی رپورٹ نے بھی اس کی حقیقت بیان کردی اور کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کی اس سازش کو بے نقاب کردیا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاراچنار کے شیعہ اس سازش کو بھانپتے ہوئے اپنے اتحاد کو مزید مضبوط کریں تاکہ کالعدم تحریک طالبان کی امیدوں پر پانی پھیرا جاسکے اور امام حسین (ع) ہم سے راضی ہوسکیں۔

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Down, but not out: Itching to grab his scissors and comb the Parachinar blast injured in LRH Peshawar - The Express Tribune

Down, but not out: Itching to grab his scissors and comb the Parachinar blast injured in LRH Peshawar - The Express Tribune | parachinarvoice | Scoop.it

The Express Tribune
Down, but not out: Itching to grab his scissors and comb
The Express Tribune
The deadly blasts in Parachinar's bustling market killed 60 Shia tribesmen and injured around 180 people.

Shafiq Ahmed's insight:

Parachinar ki kahani ek Zakhmi ke zanami

the Parachinar blast injured in LRH Peshawar

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

ALAM HAZRAT Ali A.S ZERA QABADSHAKHEL JASHN EID E NOWROZ (parachinar jashn e NOROZ: http://t.co/Oan8P28g via @youtube...)...

ALAM HAZRAT Ali  A.S ZERA QABADSHAKHEL JASHN EID E NOWROZ (parachinar jashn e NOROZ: http://t.co/Oan8P28g via @youtube...)...

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

parachinar kurram agency suicide attack Martyr's

parachinar kurram agency suicide attack Martyr's...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

شہداہ پارہ چنار کی تصاویر منظر عام پر آگئی ۔ ملت میں شدید غم و غصہ | Shia Killing

شہداہ پارہ چنار کی تصاویر منظر عام پر آگئی ۔ ملت میں شدید غم و غصہ | Shia Killing | parachinarvoice | Scoop.it

شہداہ پارہ چنار کی تصاویر منظر عام پر آگئی ۔ ملت میں شدید غم و غصہ
Written by Admin | February 24, 2012 | 8
یہ17 فروری بروز جمعہ کو طالبان دہشتگردوں کے مبینہ خودکش حملے اور اس کے بعد ان درندوں کی سرپرست سکیورٹی فورسز کی شیلنگ اور ٹینکوں سے کچلے جانے والے مظلوم شہدائے پاراچنار میں سے چند شہداء کی تصاویر ہیں۔

طوری بنگش قبائل کے مطابق کہ چار سال تک جب پاراچنار شہر اور اپر کرم کی سکیورٹی شیعہ رضاکاروں کے ہاتھ میں تھی تو کوئی دھماکہ یا حملہ نہیں ہوا، چند ماہ پہلے جب ان چیک پوسٹوں پر رضا کاروں کی جگہ ملک کا بیشتر بجٹ ہڑپ کرنیوالی سکیورٹی فورسز تعینات ہوئیں، تو اتنا بڑا سانحہ رونما ہو گیا۔ عوامی و سماجی حلقوں کے مطابق اس طرحکا بڑا دہشتگردانہ حملہ ریاستی دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے۔

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

کرم ایجسنی، پاراچنار کو کیسے پُرامن بنائیں؟ شفیق طوری

کرم ایجسنی، پاراچنار کو کیسے پُرامن بنائیں؟ شفیق طوری | parachinarvoice | Scoop.it
پاراچنار کے باپ اپنے بیٹے کیساتھ
Shafiq Ahmed's insight:
جمعہ 31 مارچ 2017 کو پارچنار شہر کے مصروف ترین روڈ پر خودکش دھماکہ ہوا جس میں 24 افراد شہید اور 100 زخمی ہوئے۔ یہ دھماکہ مرکزی امام بارگاہ کے باب النساء کے بالکل سامنے ہوا اور سبزی منڈی دھماکے کہ زخم ابھی تازہ تھے کہ پاراچنار میں ایک دفعہ پھر خون بہایا گیا۔ یہ پہلی بار نہیں کہ کرم ایجسنی کے شیعہ مکتب فکر رکھنے والے پشتونوں کو خون میں نہلایا گیا ہو۔
کرم ایجسنی عموماً اور پاراچنار خصوصاً دہشتگردی کا نشانہ بن رہا ہے جس کے سدِ باب کیلئے نہ قبائلیوں نے خود کوئی پلان بنایا ہے اور نہ ہی حکومت دہشتگرد تنظیموں کو کرم ایجنسی اور پارچنار شہر میں بم دھماکوں روک پائی ہے۔ اس کالم میں نشادہی کی کوشش کی جائے گی، باقی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس دہشتگردی سے نجات پانے کا طریقہ کار طے کریں۔ بیانیہ واضح کریں اور اسٹیبلشمنٹ میں موجود کالی بھیڑیں نکال باہر کریں۔ فوجی اسٹیبلشمٹ ضیاالحقی سنڈروم سےنکل آئیں۔
کب یہ ظلم کا سورج غروب ہوگا؟
کب تک ہم بچوں، عورتوں، جوانوں، بوڑھوں کی بارود سے جھلستی لاشیں اُٹھاتے رہیں گے؟
کب تک ہم آدھے جسم دفن کرتے رہیں گے؟
آخر کب تک؟ کوئی تو بتائے؟
حکومت کی کی مجرمانہ بے حسی اس سے واضح ہے کہ پندرہ سالوں سے جنگ جاری ہے لیکن دہشتگردوں کے خلاف متفقہ بیانیہ سامنے نہیں آ سکا۔ علماء حق کو پاکستان میں بولنے کا حق ہے اور نہ رہنے کا، جاوید غامدی جیسے سکالر اور طاہر القادری جیسے بلند پایہ عالم دین سے دہشتگردوں کے خلاف بیانیہ تیار کرنے کی بجائے طالبان کے باپ سمجھنے والے سمیع الحق کے زریعے مزاکرات کیئے جاتے رہے ہیں۔
حالت یہ کہ موجودہ وزیرداخلہ طالبان لیڈر حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر ان کی بیوہ کی طرح رو رہا تھا اور ایک مہینے تک سوگ منایا! نوازشریف کے اُسامہ بن لادن سے لیکر ممالک کیساتھ تعلقات ڈھکے چھپے نہیں۔
دیوبندیوں اکثریت اچھے لوگ ہیں اور بہت سارے دوست بھی ہیں، سلفیوں میں بھی اچھے لوگ دیکھے ہیں اور وہابیوں میں بھی اچھے لوگ ہونگے لیکن حقیقت یہ کہ مسجد، امام بارگاہ، چرچ، مندر اور سیناگاک کے اندر اور باہر دیوبندی، سلفی اور وہابی ہی پھٹتے ہیں۔
پاراچنار خودکش دھماکہ بھی دیوبندی نے کیا ہے اس کا تعلق بھی دیوبندی دہشتگرد گروپ سے ہے اور اعلان بھی کرکے ذمہ داری بھی قبول کی ہے، وہ سب کو پتہ ہے۔ لیکن مشکل یہ کہ حکومت ایف آئی آر نامعلوم افراد اور نامعلوم تنظیموں کیخلاف درج کرتی ہے اور اس کی بھی وجہ ہے اور وہ وجہ یہ کہ دیوبندی اسٹیبلشمنٹ اتنا طاقتور ہے کہ مجال ہے کوئی وزیراعظم یا آرمی چیف ان کے خلاف منہ کھولیں! ثبوت کے طور پر آپ کو موجودہ آرمی چیف کے خلاف ایک ویڈیو پیش کر سکتا ہوں جس میں ایک وہابی مولوی جنرل باجوہ کے خلاف من گھڑت پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ باجوہ صاحب قادیانی (احمدی) ہے اور یہ اسلامی فوج کے سپہ سالار بننے کا اہل نہیں کیونکہ یہ کافر ہے۔ اب اس کے بعد باجوہ صاحب آرمی چیف بنتا ہے اور وہابی مولوی کے خلاف رپورٹ ان کے سامنے رکھا جاتا ہے لیکن اس مولوی کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، سننے میں آیا کہ چیف صاحب نے معاف کیا ہے۔
دوسری مثال مولوی سمیع الحق دیوبندی کی ہے۔ بے نظیر بھٹو کو قتل کرنے کی سازش اس کے مدرسہ حقانیہ میں ہوئی بندے وہیں سے نکل کر پنڈی گئے اور بے نظیر بھٹو کو شہید کردیا! اس سے بڑھ کر ملا عمر اور بیت اللہ محسود سمیت طالبان کے اکثر لیڈرز اور کارکن مدرسہ حقانیہ سے پڑھے ہوئے ہیں۔ مجال ہے کہ کوئی سمیع الحق یا مدرسہ حقانیہ کا نام لیں!
مفتی نعیم دیوبندی اور ان کی جامعہ بنوریہ جس کے دہشتگرد کیا خودکش بمبار پکڑے گئے ہیں۔
اسی طرح طاہر اشرفی! دہشتگرد تنظیم سپاہ صحابہ کا سیکریٹری جنرل رہا، پاکستان علماء کونسل کے چھتری تلے چُھپ کر لیبیا، جرمنی اور امریکہ سمیت عرب ممالک سے لاکھوں ڈالر لیئے ہیں، اس کا بھائی معاویہ قادیانیوں کا قاتل ہے اور انہی الزامات پر پاکستان علماء کونسل نے برطرف کرکے پھر اہل سنت والجماعت المعروف دہشتگرد سپاہ صحابہ کی طرف گیا ہے اور اب محمد احمد لدھیانوی کو پاک صاف کرکے امن کا سفیر بنانے کی مشن پر ہے! مجال ہے کوئی ایف آئی اے یا دیگر لمبر ون ایجنسیاں ان کیخلاف کارروائی کریں!
پاراچنار خودکش دھماکہ بھی دیوبندی نے کیا ہے اس کا تعلق بھی دیوبندی دہشتگرد گروپ سے ہے اور اعلان بھی کرکے ذمہ داری بھی قبول کی ہے، وہ سب کو پتہ ہے۔ کوئی ایک مہینہ پہلے گاؤں بوشہرہ میں ایجنسیوں نے ریڈ کیا اور ایک سپاہ صحابہ کا ایک دہشتگرد اُٹھایا، حوالدار بخت جمال بنگش نے سر توڑ کوشش کی کہ بندے کو رہا کریں لیکن بندے اسلام آباد پہنچایا گیا تھا جس کی رہائی پشاور میں کسی کے بس کی بات نہیں رہی تھی۔ اس کے بعد حکومت نے دو الرٹ جاری کیئے کہ پاراچنار سے ملحقہ مزار علامہ محمد نواز عرفانی شہید، پاراچنار شہر اور زیڑان علی زیارت پر دہشتگردی کی کارروائی منظم کی گئی ہے۔ اب وہ شخص کون تھا وہ آپ کو کوئی نہیں بتائے گا لیکن وہ شخص کالعدم اہل سنت والجماعت المعروف دہشتگرد سپاہ صحابہ کا ماسٹر مائینڈ بتایا جاتا ہے جو پاراچنار سے لیکر کوہاٹ تک صرف شیعہ مساجد و امام بارگاہوں کو ٹارگٹ کرکے شیعہ نسل کشی کو مزید تیز کرنا چاہتا تھا جو کہ حالیہ دہشتگردی سے صاف نظر آ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاراچنار میں بارود بھری گاڑی مقبل علاقے سے داخل ہوئی جس کے تانے بانے مقبل علاقے کے غوزگڑی میں مدرسہ تعلیم القرآن سے ملنے کی مصدقہ اطلاعات ہیں اور اس مدرسہ کو 15-2014 میں پولیٹیکل انتظامیہ اور فاٹا سیکرٹریٹ کی طرف سے ایک میلن روپے فراہم کیئے گئے اور تری مینگل میں موجود مدرسہ حنفیہ کو بھی ایک میلن روپے فراہم کیئے گئیے۔
کچھ عرصہ قبل مقبل سے ایک بارود بھری گاڑی پاراچنار منتقل کرتے ہوئے راستے میں ہی پھٹ گیا تھا جس میں دو افراد زخمی بتائے جا رہے تھے تاہم اس کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ طالبان کا ایک ٹریننگ کیمپ بھی عرصہ دراز سے قائم ہے جو القاعدہ، طالبان اور داعش کیلئے مقامی جوان بھرتی کرکے افغانستان، یمن، شام اور عراق بھیجنے میں بھی ملوث ہیں۔
جہاد کشمیر اور جماعت اسلامی و جماعت الدعوة کے ہیرو میجر مست گل جو پہلے لشکر طیبہ کیساتھ کشمیر میں جہاد کرتے رہے اب دولت اسلامیہ اور داعش کیساتھ مل کر کرم ایجسنی و فاٹا میں مصروف جہاد ہوا ہے جو پاراچنار بم دھماکوں سمیت پاکستان فوج کے اہلکاروں کے قتل میں بھی ملوث رہاہے۔
کرم ایجسنی میں دہشتگردوں کا ایک اور گروپ جو پیواڑ اور شلوزان کے پہاڑی علاقوں میں تورہ بورہ کے دوسری طرف عرصہ دراز سے سرگرم عمل ہے اور چند سال پہلے خیواص پر لشکر کشی کرکے سو سے زیادہ افراد شہید اور سینکڑوں زخمی کرچکے ہیں جبکہ سینکڑوں گھر مکمل یا جزوی نذر آتش کیئے گئیے ہیں۔
تیسرا فرنٹ بوڑکی اور خرلاچی ہے جہاں سرحد کے اس پار دہشتگردوں کے کیمپس ضیاالحق کے زمانے سے قائم ہیں جنہوں اتوار کے رشنگک، کچکینہ اور دیگر علاقوں میں میزائل فائر کرکے خوف و ہراس پھیلانے کی ناکام کوشش کی۔
ایک اور فرنٹ کڑمان اور زیڑان کی طرف بھی ہے جو وقتاً فوقتاً کڑمان اور زیڑان سے لیکر جالندھر علاقوں تک میزائلوں کی بارش کرتے رہے ہیں، یہ علاقہ غیر سمجھے جانے والے سنیٹرل کرم کا حصہ ہیں اور طالبان کے حکیم اللہ نےیہاں مظبوط نٹ ورک قائم کیا ہے۔ یہاں دینی مدارس طالبان اور داعش کا نظریہ رکھنے ہیں اور ابھی ملا عمر کو امیرالمومنین سمجھتے ہیں۔
دہشتگردوں کا بظاہر یہ مقامی گروپ دراصل میں بین القوامی دہشتگرد تنظیموں سے منسلک ہے اور اس کی سرغنہ کالعدم اہل سنت والجماعت المعروف کالعدم دہشتگرد سپاہ صحابہ کے بدنام زمانہ عید نظر منگل اور پشت پناہی بخت جمال بنگش کررہے ہیں۔ یاد رہے اہل سنت والجماعت، سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، طالبان، دولت اسلامیہ یعنی داعش اور القاعدہ سمیت سارے دہشتگرد شیعہ نسل کشی کے ایک نقطے پر متفق ہیں اور شیعہ مکتبہِ فکر کیخلاف مل کر لڑ رہے ہیں۔ یہ دہشتگرد گروپ شیعہ مکتبہِ فکر کو مشرک اور مرتد سمجھتے اسلیئے اسے کافر کہتے ہیں لیکن سب سے تباہ کن نظریہ پھر ان کو واجب القتل بھی سمجھتے ہیں، ان دہشتگردوں کو پڑھایا جاتا ہے کہ اگر حکومت پاکستان شیعہ آبادی کو ختم نہیں کرتی تو ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ بندوق، بارود، چاقو اور جو جو قتل کے آلات میسر آئے شیعوں کا قتل کریں اور جنت کا ٹکٹ حاصل کریں۔
اب ایسے ماحول میں پاراچنار میں اگر دس دھماکے ہوتے ہیں تو اسے کم سمجھنا چاہیے! پاراچنار کو تو جہنم بنانے کا پورا پلان عرصہ دراز سے تیار ہے اور عمل بھی جاری ہے۔
لیکن
کسی کو یہ پتہ نہیں کہ کرم ایجنسی میں طوری بنگش قومیں تقریباً پانچ سو سال سے آباد ہیں طوری بنگش قوم ناقابل شکست رہا ہے اور ظالم چاہے کوئی کتنا طاقتور کیوں نا ہو، وہ اپنا دشمن جانتے ہیں اور اس سے لڑنا بھی جانتے ہیں۔
ایکیسویں صدی میں لڑنے کے انداز بدل گئے ہیں اس لیئے ہم نے بھی طریقہ کار بدلا ہے۔ جو لوگ اپنے آپ کو وقت کیساتھ نہیں بدلنا چاہتے وہ تاریخ کا حصہ بن جاتے اور جو وقت کے تغیر و تبدل کیساتھ اپنے آپ کو ڈھلنے کی کوشش کرتے ہیں وہ زندہ رہتے ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
اب ہم پہلے سے زیادہ متحد ہیں اور اسکا مظاہرہ سب نے دیکھ لیا، پیش نماز آغا فدا حسین مظاہری اور عابد حسین الحسینی نے احتجاجی مظاہرہ کی قیادت کرکے ایک معرکہ سر کیا ہے اب سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ اپنے کیئے گئیے وعدوں پر عمل کرائیں۔
اور حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ کرم ایجسنی اور پاراچنار شہر کی تحفظ یقینی بنائیں جو افسر نااہل ثابت ہوئے انہیں برطرف کرکے انکوائری کریں ورنہ یہ نااہل حکمران بن کر ملک کا بیڑہ غرق کرنے میں کسر نہیں چھوڑیں گے مشران سے کیئے گئے وعدے پورے کریں۔ شہدا اور زخمیوں کو دیگر پاکستان کے برابر شہری سمجھ کر امدادی پیکیج بیس لاکھ اور زخمیوں کو پانچ لاکھ تک بڑھا دیں۔
کرم ملیشیا جو ضیاالحق کے وقت دوسرے علاقوں میں بھیجا گیا تھا واپس کردیں یا نئی بھرتی کرکے چار ونگ تک بڑھائیں جو ابھی میرے خیال میں ایک ونگ ہے۔ اور اس میں سب قبیلوں کے اہلکار بھرتی کریں، طوری، بنگش، مقبل، مینگل اور بہت سارے دوسرے۔ جو اپنے اپنے علاقوں کا تحفظ یقیناً کریں گے۔
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

کرم ایجنسی، پاراچنار بڑی تباہی سے بچ گیا، دھماکے سے ٹرک تباہ

کرم ایجنسی، پاراچنار بڑی تباہی سے بچ گیا، دھماکے سے ٹرک تباہ | parachinarvoice | Scoop.it
پاک افغان سرحد پر پاک فوج کا چیک پوسٹ
Shafiq Ahmed's insight:
پاراچنار نیوز: (محمد علی طوری کا رپورٹ) کرم ایجنسی میں افغانستان سے آنے والے مال بردار ٹرک  دھماکے سے مکمل طور پر تباہ ہو گیا جبکہ تحریک طالبان حکیم اللہ محسود گروپ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی. اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ شاہد علی خان کے مطابق افغانستان کے صوبہ پکتیا سے سامان سے ایک بهرا ٹرک کرم ایجنسی آ رہا تھا کہ بوڑکی خرلاچی بارڈر پر پاکستانی علاقے میں داخل ہونے کے بعد فورسز کے چیک پوسٹ سے 70 میٹر کے فاصلے پر اس میں دھماکا ہوا .چیک پوسٹ سے فاصلے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا. دھماکے سے ٹرک مکمل طور پر تباہ ہو گیا. شاید علی خان کے مطابق دھماکہ ٹرک میں رکھے گئے ٹائم ڈیوائس سے ہوا ہے . دھماکے کے بعد ٹرک ڈرائیور اور کنڈیکٹر کو گرفتار کرکے واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے. دھماکے کی ذمہ داری تحریک طالبان حکیم اللہ محسود گروپ کے ترجمان قاری سیف اللہ نے قبول کر لی. دھماکہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب تین روز قبل کرم ایجنسی میں افغان سرحد پر داعش کی جانب سے بھی قبائلی علاقوں اور ہنگو ڈیرہ اسماعیل خان میں کاروائیاں شروع کرنے کا اعلان کیا گیاہے. جبکہ حکومت نے داعش کے دھمکی آمیز خط سے صرف نظر کرتے ہوئے اسے جعلی قرار دیا ہے۔
یاد رہے پاک فوج نے علاقے کے قبائل کو اسلحہ جمع کرانے کیلئے گیارہ فروری کی حتمی تاریخ دے رکھی ہے۔ جبکہ دوسری کرم ایجنسی مسلسل بم دھماکوں کی زد میں اور داعش اور طالبان نے کرم ایجنسی کو مکمل طور پر گھیرے میں لے رکھا ہے۔
 ایم این اے ساجد طوری نے کرم ایجنسی تخریب کاری کی ایک اور کوشش کی مذمت کی ہے اور صدر وزیراعظم اور آرمی چیف سے افغان سرحد کی نگرانی سخت کرنے اور چیک پوسٹوں پر سکینرز لگانے کا مطالبہ کیا ہے.
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Don't let Parachinar burn.

Don't let Parachinar burn. | parachinarvoice | Scoop.it
Dr Ghayyur Ayub.
Shafiq Ahmed's insight:
Don't let Parachinar burn.
By

Dr Ghayur Ayub
One day, during his exile in London, Mr Nawaz Sharif asked me to brief him about Parachinar. I did. After listening to me with keen interest he looked at me and said, “Dr Sahib, I would like to visit Parachinar and see the situation myself when we go back to Pakistan” That was an encouraging remark by my chief.

Time passed. On September 10th 2007, I joined him with the group and landed at Islamabad airport. The rest is history.

In 2008, I took part in the election from NA 37. In those days, the road between Parachinar and Peshawar was closed for Shia individuals because of lethal attacks on them. Only convoys accompanied with Paramilitary force were allowed. I joined one of the convoys. As we reached near Kohat Tunnel we were stopped. It was partially closed because, the day before, a Shia group was attacked which was travelling to Parachinar. I realised then, how unsafe it was for people living in Parachinar to travel in their own homeland. Anyway, the tunnel crossing took three hours instead of 25 minutes because of traffic jam. Later I was told that some of the captured Shias were beheaded by their captors.

If we look at the map of Kurrum Agency, it is divided into three parts; upper, lower and FR Kurrum. Upper Kurrum is primarily inhabited by Shias influenced by Iran and the other two by Sunnis influenced by Saudis. Its capital Parachinar is located in upper Kurrum and the second biggest town Sadda is located in lower Kurrum. The only road which links Parachinar with the rest of mainland Pakistan passes through Sadda. Despite having office of assistant political agent and a garrison of Kurrum Malatia, Sadda is the most dangerous part for Shias passing through to and from Parachinar.

We were told to stay low on our seats as the convoy moved in the town. Shivers went through my spine as we drove through. I remember the town as a young boy, when we used to come and enjoy chicken Balti in a local restaurant known for its delicacy. Such were the changed political dynamics of the region from where I was going to take part in elections.

The electioneering started and a few days later, a suicide bomber blasted himself near my election office. At the time of blast, I was just a few hundred yards away. What I saw was beyond description. Among thick smoke, crumbling buildings and burning fire I saw two young men sitting on the roof of a nearby building thrown in the air like injured birds and fell in the inferno of burning vehicles. Soon the frightening scene was filled with heart-wrecking screams, irrepressible-panic, eyes-burning dust, and breath-choking smoke. The nerve-wrecking and soul-tormenting smell of burning human flesh represented a picture of hell.

This was not the town I grew up in. A town where fresh and cool air from nearby White Mountain (Koh- e- Safaid) would hit my face while walking in Punjabi Bazzar enthralling my soul. Where Shias and Sunnis greeted each other with open arms showing Pashtun culture of frank cordiality. And where the Muslims from the two brethren sects shared their happiness and grief as part of familial requirement. It was a happy and peaceful town. A town Zulfiqar Ali Bhutto fell in love with and wanted to turn it in the image of Switzerland. Not anymore. Standing dazed, I was in the same town but now presenting a gloomy image of smoke, dust, fire and terrifying shrieks of burning and dying bodies. A heavenly town was turned into a hell by ill-advised politicians which brought sectarian hate into the core of tribal social life.

After the elections were postponed and I was crossing the Sadda town on my way back to Peshawar, it reminded me of divided Berlin, when locals took risks to cross the artificially created border. That was 1945, this was 2008. That was political divide this was religious divide. I thought, the Berliners must have felt the same way crossing the line as I did. It took over sixty years for Berlin Wall to come down. How long would it take for this Wall to fall? The question flickered in my mind as I looked at the angry looking faces staring at us.

Parachinar suffered the most after Soviets took over Afghanistan and after they were thrown out and Taliban took the country back, and still later after 9/11. Unfortunately, it was not highlighted by the media the way it highlighted other similar areas. The conditions in Parachinar after Soviet invasion were like a see-saw; frequently facing bad times; and less frequently not so bad times. There were never good times. In bad times people were killed in the verandas of their homes by snipers sitting at the nearby hilltops. Or men like Sarwan Ali from village Malana in desperation shooting himself because he couldn’t find medicine for his wife who suffered from Malaria as chemist shops were empty as a result of the siege of upper Kurrum by the Talibanised fanatics. That was the time when the frustrated Shia youth decided to create a Hizbullah type paramilitary force to counter the Sunni fanatics. I was told that they were approached by Panjsheri Afghans, Hazaras, Afghan Agencies and Iranian clerics to arm and train them.

In not so bad times, the Shia students travelling to Peshawar had to cross Nangrahar in Afghanistan and re-enter Pakistan through Tourkham border because the road from Parachinar to Peshawar was not safe for them.

Gen Raheel Sharif brought some sanity in the situation through Zarb e Azb initiating good times. It seemed to be short lived as after his departure the bad times are returning. The latest bomb blast could be the first warning shot, which killed over two dozen innocent Shia Muslims and injured many more. I can imagine similar scenes at the carnage site I saw many years ago. This time, the army chief Gen Bajwa, responded quickly by visiting the injured and airlifting the seriously wounded to hospitals in Peshawar. I know the prime minister will be disturbed and hurting by the news. I remember the keen interest he showed at Duke Street when I gave him the brief. He must have spoken to the governor at Peshawar, who is one of the kindest persons I have ever known. I hope he doesn’t rely on the MNA from the upper Kurrum who, unlike his father and grandfather, is the most incompetent and corrupt individual known for his shady practices.

If proper steps are not taken now, Kurrum Agency could fall back into the era of bad times, when in desperation the Shia youth prepared a Hizbullah type military force. It will be disastrous keeping the current global politics in mind which is muddled by Donald Trump of America, Narindra Modi of India, pro-Indian Ashraf Ghani in Afghanistan and not very happy Iran. I hope the prime minister pays a visit to Parachinar and get the first-hand knowledge about the situation. In doing so he would be fulfilling his promise made at Duke Street.

The end
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

پاراچنار میں خون کی ہولی کھیلنا بند کی جائے۔ شفیق احمد

پاراچنار میں خون کی ہولی کھیلنا بند کی جائے۔ شفیق احمد | parachinarvoice | Scoop.it
پاراچنار سبزی منڈی دھماکہ 
Shafiq Ahmed's insight:
پاکستان میں دہشتگردی کی ابتداء پاراچنار شہر کے سبزی منڈی میں دھماکے سے ہوا ، جس میں ابھی تک ۳۰ افراد شہید اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں، بیشتر زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے اور پچیس زخمیوں کو پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔
حکومت پاراچنار شہر کی تحفظ میں مکمل اور مسلسل ناکام رہی ہے۔ جب تک پاراچنار شہر کی سیکیورٹی طوری اور بنگش قبائل کے جوانوں کے ہاتھ میں تھی ایک بھی دھماکہ نہیں ہوا تھا لیکن جیسے حکومت نے پاراچنار شہر کی سیکیورٹی اپنے ہاتھ میں لے لی تو یہ پانچواں بڑا دھماکہ ہوا ہے۔
پچھلے سال لنڈا بازار میں خودکش دھماکے میں درجنوں بے گناہ لوگوں کا خون بہایا گیا تھا اور اس سے پہلے سکول روڈ خودکش دھماکہ، کُرمی بازار میں نصب بم دھماکہ اور سبزی منڈی میں موجود ڈاکٹر ریاض حسین شاہ کے انتخابی دفتر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ جس میں سینکڑوں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔
۲۰۰۷ سے ۲۰۱۱ کے درمیان خونریز لڑائیوں میں ڈھائی ہزار نوجوانوں کی قربانی دیکر کرم ایجنسی اور پاراچنار کو دہشتگردوں کے حملوں سے بچایا ہے جب حکومت پاکستان اور ریاستی ادارے طالبان کے سامنے بے بس دکھائی دے رہے تھے۔ حکومت اور ادارے طوری بنگش قبائل کے قربانیوں کو فراموش کرتے ہوئے ان سے اسلحہ جمع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جس سے کرم ایجنسی کے طوری بنگش شیعہ قبائل کو سنگین خطرات لاحق ہوئے ہیں اور آج کا دھماکہ انکا واضح ثبوت ہے۔
حکومت طوری بنگش قبائل سے اسلحہ لیکر ان دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاہتے ہیں؟ دو ہفتے پہلے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا اور کرم ایجنسی پاراچنار کی صورتحال پر تفصیل سے لکھا تھا۔ http://www.humsub.com.pk/39254/shafique-toori/
ایف سی اور پولیٹیکل انتظامیہ چونکہ پاراچنار شہر کے سیکیورٹی کے ذمہ دار ہیں اسلیئے انکی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ دھماکے میں ملوث لوگ اور گروپ انصاف کے کٹہرے میں کھڑے کردیں جیسے عثمانیہ مارکیٹ دھماکے کے ملزمان ایک گھنٹے میں ڈھونڈ کر لائے تھے۔
میں یہ کس کے نام لکھّوں جو الم گزر رہے ہیں
مرے شہر جل رہے ہیں مرے لوگ مر رہے ہیں
کوئی اور تو نہیں ہے پس ِ خنجر آزمائی
ہمیں قتل ہو رہے ہیں، ہمیں قتل کر رہے ہیں
طالبان اور لشکر جھنگوی نے پاراچنار دھماکے کی ذمہ داری پشاور میں بیٹھ کر قبول کی ہے! سوال اُٹھتا ہے کہ ریاستی ادارے اور حکومت ان دہشتگردوں کو گرفتار کرنے میں ناکام ہیں یا گرفتار نہیں کرنا چاہتے؟
تحریک انصاف اور جماعت اسلامی پر مشتمل صوبائی حکومت میں انتہا پسندوں کیلئے نرم گوشہ موجود ہے کیونکہ دونوں جماعتیں طالبان کیلئے پشاور میں دفتر کھولنے کے حق میں بیانات دیتے رہے اور جماعت اسلامی کے کالعدم جماعتوں سے روابط کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ مندرجہ ذیل لنکس کو ٹریس کرکے حکومت دھماکے کے ذمہ دار اور سہولت کار گرفتار کریں یا حکومت خود ذمہ داری قبول کریں۔
‏1: http://bit.ly/2jYyUJ0
‏2: https://umarmediaweb.wordpress.com/
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

پاراچنار سے تعلق رکھنے والے واپڈاکے ایکسین یوسف حسین طوری ایبٹ آباد میں قتل

پاراچنار سے تعلق رکھنے والے واپڈاکے ایکسین یوسف حسین طوری ایبٹ آباد میں قتل | parachinarvoice | Scoop.it
ABBOTTABAD: 10Dec2016 - Body of Xyen PESCO Yousaf Hussein laying on Spot, after Unknown men firing near Shama Bakery Murree road, Sheikh Ul Bandi.
Shafiq Ahmed's insight:
پاراچنار سے تعلق رکھنے والے واپڈاکے ایکسین یوسف حسین طوری کو سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے تکفیری دہشتگردوں نے شیخ البانڈی (ایبٹ آباد) میں گولیاں مار کر قتل کردیاگیا۔
اللہ تعالی مرحوم سمیت ہم سب پر رہم فرمائیں۔
کوئی لیڈر نہیں جو بکھرے ہوئے قوم کو اکھٹا کریں اور ایک متفقہ لائحہ عمل ترتیب دیں تاکہ اس قسم کے المناک اور دردناک واقعات کو روک لیں۔
#ASWJ #SSP #LeJ #ShiaGenocide
http://fb.me/7JojEzEX9
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

فاٹا ریفارمز کمیٹی کا دورہِ کرم ایجنسی : عمائدین، ٹریڈ یونینز، سیاسی جماعتوں سمیت مختلف طبقات نے بدنام زمانہ ایف سی آر کیخلاف فیصلہ دے دیا، گورنر ہاؤس گو ایف سی آر گو کے نعروں سے گونج اُٹھا۔

Political FCR
Shafiq Ahmed's insight:
فاٹا ریفارمز کمیٹی کا دورہِ کرم ایجنسی : عمائدین، ٹریڈ یونینز، سیاسی جماعتوں سمیت مختلف طبقات نے بدنام زمانہ ایف سی آر کیخلاف فیصلہ دے دیا، گورنر ہاؤس گو ایف سی آر گو کے نعروں سے گونج اُٹھا۔ 
 پاراچنار: (شفیق طوری کا رپورٹ اور تجزیہ) اعلیٰ سطح فاٹا ریفارمز کمیٹی نے وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور جناب سرتاج عزیز کے سربراہی میں پیر اٹھائیس مارچ کو گورنر ہاؤس پاراچنار میں عمائدین کیساتھ جرگہ کیا کمیٹی کے ممبران گورنر خیبر پختونخواہ جناب اقبال ظفر جھگڑا، وفاقی وزیر سفیران جناب عبدالقادر بلوچ وفاقی وزیر زید حامد، قومی سلامتی کے مشیر جناب ناصر جنجوعہ سیکریٹری سفیران جناب ارباب شہزاد کیساتھ ساتھ ایک اعلی سطح ملٹری وفد بھی کمیٹی کیساتھ موجود تھا۔ جبکہ کرم ایجنسی کے منتخب نمائندے ممبر قومی اسمبلی جناب ساجد حسین طوری اور سینیٹر سجاد حسین طوری بھی سٹیج پر براجمان تھے۔ باقاعدہ اجلاس تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا مولانا امیر حمزہ نے قارئین کے دلوں کو تلاوت کلام پاک منور فرمایا۔ جس کے بعد ریفارمز کمیٹی کے ممبران کو فرداً فرداً روایتی قبائلی لونگی پیش کی۔ اسکے بعد سٹیج سیکریٹری جناب پروفیسر جمیل حسین شیرازی نے گورنر خیبر پختونخواہ کو اجلاس سے خطاب کیلئے بلایا۔
گورنر خیبر پختونخواہ نے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایک تاریخی جرگہ ہے جو قبائل کے مستقبل کا تعین کریگی اور وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کو کریدیٹ دیتے ہوئے ارلی
فاٹا اصلاحاتی کمیٹی نے عمائدین سے ایف سی آر قانون، قبائلی علاقوں کو صوبہ سرحد میں ضم کرنے یا علیحدہ صوبہ بنانے سے متعلق تجاویز پر سیر حاصل بحث کی۔
اصلاحاتی کمیٹی سے کرم ایجنسی کے سرکردہ عمائدین نے خطاب کیا اور اکثریت نے فاٹا سے ایف سی آر جیسے فرسودہ قانون اور کالے قانون کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے سید سجاد سید میاں نے الفاظ میں ایف سی آر میں آ،انسانی حقوق کیخلاف قوانین میں ترامیم کا مطالبہ کیا اور وقت کیساتھ ساتھ اس قانون کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی، پیر صاحب کی ان تجاویز کو قبائلی عمائدین نے یکسر مسترد کردیا۔
اصلاحاتی کمیٹی سے دوسرا اور اہم خطاب منیر خان اورکزئی نے فرمایا کہ کرم ایجنسی سمیت فاٹا کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور ایف سی آر کو قبائلی عوام مزید برداشت نہیں کرینگے۔ منیر خان صاحب کے خطاب کو قبائلی عوام نے پسند کیا اور تائید کی۔
کرم ایجنسی کے عمائدین میں سے صرف حوالدار بخت جمال بنگش نے ایف سی آر کے حق میں دلائل دینے کی ناکام کوشش کی۔ حوالدار بخت جمال بنگش انجمن فاروقیہ پاراچنار کے سابقہ سیکریٹری جنرل اور اہل سنت والجماعت کے سرکردہ رہنماؤں میں سے ہیں۔ حوالدار بخت جمال نے کہا کہ اگر ایف سی آر ختم ہوئی تو پاراچنار کے عوام صدہ کے راستے سفر نہیں کرسکیں گے اور اسی طرح بوشہرہ سمیت دیگر علاقوں کے لوگ پاراچنار آنے جانے کے قابل نہیں رہیں گے جو نہایت جاہلانہ اور شر پسندانہ تجویز تھی، حوالدار کو نہایت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب قبائلی مشران نے یک زبان ہوکر بخت جمال کی مخالفت کی اور پورے گورنر ہاؤس نے اعلی سطحی اصلاحاتی کمیٹی کے سامنے کھڑے ہو کر گو ایف سی آر گو کے نعرے لگائے اور بخت جمال کو اپنی تقریر ختم کرکے سٹیج سے بھاگنا پڑا۔
اصلاحاتی کمیٹی سے انجمن حسینیہ پاراچنار کے سیکریٹری جنرل جناب سراج حسین نے خطاب کرتے ہوئے شرکا کی توجہ ایک اہم نقطہ کی طرف مبذول کرائی اور کرم ایجنسی کے منفرد جغرافیہ جو تین اطراف سے ڈیورنڈ لائن یعنی افغانستان نے گھیرا ہے اور کئی دہائیوں سے وقتاً فوقتاً مسلکی جھگڑے سر اُٹھاتے رہے ہیں جن سے کرم ایجنسی کے تحفظ کا مسئلہ لا حق رہتا ہے اور ایجنسی غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہا ہے۔ اپنی تقریر میں انجمن حسینیہ کے سیکریٹری جنرل نے ایف سی آر کے خاتمے پر زور دیا اور مل بیٹھ کر نئے اور متفق نظام وضع کرنے کی تجویز پیش کی۔
جرگہ سے فخر زمان بنگش کے علاوہ دیگر چند عمائدین نے بھی خطاب کیا لیکن جرگہ کی فیصلہ کن تقریر اقبال حسین طوری (بستو) نے کی اور جسے کرم ایجنسی کی ترجمان تقریر کہا جا سکتا ہے۔ اقبال حسین طوری نے فرمایا کہ ایف سی آر ایک ظالمانہ قانون ہے جو اکیسویں صدی میں انسانوں پر نافذ کرنا انسانیت کی تذلیل ہے۔ اقبال حسین طوری نے اصلاحاتی کمیٹی کو تجویز دی کہ اگر ایف سی آر اتنی اچھی قانون ہے تو پورے پاکستان پر نافذ کریں اگر پاکستان کیلئے یہ قانون قابل قبول نہیں تو پھر قبائلی عوام کسی بھی حوالے سے دیگر پاکستانی عوام سے کم نہیں اور قبائل کو مرکزی دھارے میں شامل کرکے ترقی اور خوشحالی کے مواقع پیدا فراہم کریں۔ اقبال حسین طوری نے پاکستان میں کمیٹیوں کے کردار پر اعتراض کرتے ہوئے اسے ایک لاحاصل مشق قرار دیا اور فرمایا کہ پاکستان میں جو معاملہ حل نہ کرنے کا سوچ ہو اور معاملات اُلجھانے کا اور فائلوں میں دفن کا پروگرام ہو تو پھر کمیٹی بنائی جاتی ہے لیکن توقع ظاہر کی کہ فاٹا اصلاحاتی کمیٹی اس ٹرینڈ کو ختم کرکے جلد از جلد فیصلہ اور لائحہ عمل تیار کریگی۔ عمائدین کرم ایجنسی نے اقبال حسین طوری کی جرگہ سے خطاب کو تاریخی اور فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے داد دی۔
جرگے سے اختتامی خطاب فاٹا ریفارمز کمیٹی کے سربراہ اور وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور جناب سرتاج عزیز نے کی۔ سرتاج عزیز نے قبائلی عمائدین کو یقین دلایا کہ فاٹا کے مستقبل کا تعین انکے اُمنگوں، تجاویز اور مشاورت کیمطابق کیا جائے گا۔
جرگہ کے بعد ایم این اے ساجد حسین سے تفصیلی بات چیت کی جو جرگہ کے انعقاد اور کامیابی سے کافی خوش دکھائی دئیے اور کہا کہ کرم ایجنسی کے عوام نے ایف سی آر کے خاتمے کا مطالبہ دہرایا ہے۔ ساجد طوری نے فرمایا کہ قبائلی عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور قومی اسمبلی سمیت مختلف کمیٹیوں اور قومی سلامتی کے اداروں کیساتھ ملاقاتوں میں ایف سی آر کیخلاف آواز اُٹھایا ہے۔
سینیٹر سجاد حسین طوری سے بات چیت تو نہیں ہوئی لیکن سٹیج پر بیٹھے انکے حشاش بشاش چہرے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ جرگے کے نتیجے سے کافی خوش تھے۔ ایک ہفتہ پہلے اسلام آباد میں سینیٹر سجاد سے تفصیلی بات چیت ہوئی تھی اور انہوں نے فرمایا کہ وہ ہر فورم پر ایف سی آر قانون کیخلاف آواز اٹھاتے رہینگے۔
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

پاراچنار کے دہشتگرد تکفیری ہزاروں کی تعداد میں داعش کیساتھ ملکر لڑ رہے ہیں۔ شفیق طوری

پاراچنار کے دہشتگرد تکفیری ہزاروں کی تعداد میں داعش کیساتھ ملکر لڑ رہے ہیں۔  شفیق طوری | parachinarvoice | Scoop.it

پاراچنار کے دہشتگرد تکفیری ہزاروں کی تعداد میں داعش کیساتھ ملکر لڑ رہے ہیں۔ جن کے سہولت کار نام ولدیت اور مستقل پتہ درجہ ذیل ہیں !

پاکستان سے داعش کیلئے بھرتی جاری ہے اور پھر شام، یمن اور دوسرے ممالک بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے اور کوہاٹ، کرک، شمالی اور جنوبی وزیرستان، خیبر اور دیگر علاقوں سے بڑے پیمانے پر لوگوں ان جنگ زدہ علاقوں میں بھیجا جا رہا ہے۔
اس سارے سلسلے کا ٹھیکہ مولانا شاہ عبدالعزیز نے لیا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو تکفیری دہشتگرد گروہوں کی مدد کیلئے بھیجا جا رہا ہے۔

مولانا شاہ عبدالعزیز کا نام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، نامی گرامی تکفیری دہشتگر ہیں اور بہت سارے دہشتگردوں کے علاوہ سابق صدر اور آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر حملے اور جی ایچ کیو پر حملے کے سہولت کا اور مددگار بھی تھا۔
کیونکہ مولانا کے طالبان سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی سمیت لال مسجد کے تکفیری مولانا عبدالعزیز سے قریبی مراسم ہیں اسلیئے اب یہ سب تعلقات استعمال کرتے ہوئے داعش کیلئے بھرتیا کررہا ہے۔


کرم ایجنسی سے مندرجہ ذیل لوگ بھرتیوں اور برین واشنگ کے ذمہ دار ہیں۔


پاراچنار کے گاؤں بوشہرہ کا رہائیشی حاجی بخت جمال بنگش دولت اسلامیہ کا پہلا سہولت کار ہے جو دولت اسلامیہ کیلئے بھرتی کرتا ہے

پاراچنار کے گاؤں گوبازنہ کے رہائشی عید نظر المعروف یزید نظر دوسرا داعش سہولت کار ہے جو داعش کیلئے بھرتی کرتا ہے، یاد رہے یزید نظر کا تعلق کالعدم اہل سنت والجماعت سے ہے اور اسے پہلے سپاہ صحابہ کے سرگرم رکن رہے ہیں جنہوں نے دو ہزار سات کے پاراچنار فسادات کے بیج بوئے ۔

کرم ایجنسی کا دولت خان تکفیری گروپ دولت اسلامیہ خراسان کا نیا کمانڈر ہے وہ بھرتی کرتا ہے۔

میجر مست گل جو پہلے لشکر طیبہ کیساتھ کشمیر میں جہاد کرتے رہے اب دولت اسلامیہ کیساتھ مل چکا ہے اور پاراچنار بم دھماکوں سمیت پاکستان فوج کے اہلکاروں کے قتل میں بھی ملوث ہے۔

پاراچنار کے گاؤں اُچت کا فضل سعید حقانی طالبان کے سرغنہ اور داعشی سہولت کار ہے جو داعش کیلئے بھرتی کرتا ہے اور ⁦پاکستان آرمی اور دیگر ایجنسیوں نے انکے ذمے سارے خون معاف کئیے ہیں⁩ جو نہتے پاراچنار والوں کو اغوا کے بعد قتل کرتا رہا اور شیعہ نوجوانوں کے سر ، پیر اور ہاتھ کاٹ کر پاراچنار ارسال کرتا رہا، جبکہ کرم ملیشیا اور لیویز خاموش تماشائی بنے رہے، یاد رہے کرم ملیشیا کے کرنل ۔۔۔۔۔ بھی فضل سعید حقانی کیساتھ ملا ہوا تھا۔ اس وقت!
گاؤں بوشہرہ سے تعلق رکھنے والے ایڈوکیٹ میر زمان بنگش تقریباً تمام دہشتگردوں کے قانونی مشیر ہیں ۔
مزید معلومات درکار ہیں کمنٹ میں لکھیں۔

Shafiq Ahmed's insight:

جیو نیوز کے شاہزیب خانزادہ کے کرم ایجنسی اور ہنگو میں داعش بھرتی کے حوالے سے انکشافات

See GEO News Shahzeb Khanzada story about DAESH (ISIS) recruitment in Kurram Angency and Hagu

https://www.facebook.com/shafiqueahmed110/videos/963001797068287/

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Hassan Turi: Blaming The Victims, targeting students of Parachinar

Hassan Turi: Blaming The Victims, targeting students of Parachinar | parachinarvoice | Scoop.it

Tuesday, 19 November 2013 On 16 November, Mr Inamullah Khattak wrote an article in dawn on Rawalpindi tragedy. The title of which was ‘’Outsiders involved in clashes” in that article Mr Khattak put entire blame on Turi’s of Kurram Agency and in whole article he has termed entire Turi tribe “Hardliners”. He has solely depended on report prepared by intelligence agencies and then starts how all these savage Pashtun tribesmen from the FATA are responsible for whole this tragedy. His whole article revolves around how Turis came to Islamabad and Pindi and how their influx is the sole reason behind this tragedy. He constantly terms Turi’s as hardliners in order to humanize the terrorist outfit Ahle sunat ul Jumat. While most of the jaloss was comprised of Punjabis, Gilgits. He excludes Punjabis and other ethnicities and put entire blame on Pashtun shias of Kurram Agency. As Turi’s land (Kurram Agency) has been used by establishment from decades and Turi’s have always fought their survival war. Turi’s are paying price of being shia living in the wrong place. So every conflict with its rival tribe is termed as sectarian conflict. So it provided better scapegoat for the writer to put whole blame on Turi’s. He is appealing to terrorist outfits and general public that Pashtun shia is the main reason behind this tragedy. It is their war which is reflecting in Pindi. While he forgets that all these terrorists and religious organization were created in Punjab, like SSP was conjured into existence in 1985 in response to Tehreek-i-Nifaz-i-Sharia. Punjab spread this fire under military establishment into whole Pakistan and been fought allover Pakistan. When the fire which Punjab created has reached its home, now they are blaming other for its own mess. The 10,000 which are now settled in Twin cities migrated due to these wars, I would not call it sectarian but they are colored by our establishment as sectarian to achieve its wider interests in the country. The class war which started in southern Punjab between shia landlords and suni lower class, the Iranian revolution and after influx of wahabi ideology in Zia era gave birth to such sentiments and and since then it has been used by our establishment to achieve its nefarious objectives in the region . 10,000 mostly comprised of students and families who had their business in Peshawar. Which were continuously targeted in Peshawar was forced to take refuge in Islamabad and Pindi. What can one expect, while living in a country in which terrorists are termed as ‘’Shaheed’’ and those who fought against them are called Hardliner. If by fighting against Taliban can make one hardliner, then yes, we are HARDLINERS. This is the position with which our establishment has issue with Turi’s and they do not waste any single moment to equate Turis to Taliban. While writing this I am receiving news that hundreds of Kurrmiwal Turis are being arrested in Pindi. For the last few years thousands of Shias are being killed in allover three provinces, including Gilgit-Baltistan, no one is arrested so far. But this is the first time in recent few years that shias have retaliated, that too in Punjab. Punjab is sending message to other provinces that it will not tolerate any retaliation against their state proxies that too from other ethnicities. The Blogger can be reached through http://hassanturi.blogspot.com/2013/11/blaming-victims.html

Shafiq Ahmed's insight:

Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 18 Nov راولپنڈی 150 پارہ چنار اور گلگت بلتستان والے سٹوڈنٹس گرفتار ڈان کے رپورٹر انام اللہ خٹک کے بے بنیاد رپورٹ پر Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov اپکا @CMPervez شکل ملعون یزید جیسا ہے_ اور لعنت ہے شیعوں پر جو آج سے #PTI کو طلاق نہ دے یہ ب چ ہمارے حکمران ہیں اور یہ عمران کا سونامی Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov پاکستان بھر میں فوج اور شریف برادران حکومت کے تعاون سے امام بارگاہوں کو جلانے کا سلسلہ جاری 6 جل گئے #لبيك_ياحسين یا حسین Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov جب اشفاق آرمی نہیں تکفیری دیوبندیوں کے، نواز سپاہ یزید، شہبازلشکر یزید کے سربراہ ہوں تو امام بارگاہ جلنے رہینگے Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov اشفاق پرویز کیانی تکفیری دیوبندی نواز شریف سپاہ یزید کے اور شہباز شریف لشکر یزید کے سربراہ کیوں نہیں جن کے ہوتے ہوئے امام بارگاہ جلائے گئے Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov پاکستان میں کوئی شیعہ سنی لڑائی نہیں بلکہ لڑائی حسینیوں اور یزیدیوں کے درمیاں ہے بدقسمتی سے یزید کے حواری اور وکیل زیادہ ہو گئے ہیں Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov پاکستان میں روزانہ معصوم لوگ اور بےگناہ لوگ مارے جاتے ہیں ان کیلئے کوئی آواز نہیں اٹھتا اب سپاہ یزید کے دس بارہ گنڈوں پر اتنا واویلا!؟ Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov شیعوں کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے _ حکومتی اور اسٹیبلشمنٹ کے اتحادی دہشتگرد سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کو لگام دیا جائے Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov اگر پاکستان میں شیعوں کو ماتم اور جلوسوں سے روکنے کی کوشش کی گئی جو ہو رہی تو شام کیطرح خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں

more...
Shafiq Ahmed's curator insight, November 19, 2013 1:47 PM
Shafiq Ahmed's insight:

Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 18 Nov راولپنڈی 150 پارہ چنار اور گلگت بلتستان والے سٹوڈنٹس گرفتار ڈان کے رپورٹر انام اللہ خٹک کے بے بنیاد رپورٹ پر Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov اپکا @CMPervez شکل ملعون یزید جیسا ہے_ اور لعنت ہے شیعوں پر جو آج سے #PTI کو طلاق نہ دے یہ ب چ ہمارے حکمران ہیں اور یہ عمران کا سونامی Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov پاکستان بھر میں فوج اور شریف برادران حکومت کے تعاون سے امام بارگاہوں کو جلانے کا سلسلہ جاری 6 جل گئے #لبيك_ياحسين یا حسین Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov جب اشفاق آرمی نہیں تکفیری دیوبندیوں کے، نواز سپاہ یزید، شہبازلشکر یزید کے سربراہ ہوں تو امام بارگاہ جلنے رہینگے Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov اشفاق پرویز کیانی تکفیری دیوبندی نواز شریف سپاہ یزید کے اور شہباز شریف لشکر یزید کے سربراہ کیوں نہیں جن کے ہوتے ہوئے امام بارگاہ جلائے گئے Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov پاکستان میں کوئی شیعہ سنی لڑائی نہیں بلکہ لڑائی حسینیوں اور یزیدیوں کے درمیاں ہے بدقسمتی سے یزید کے حواری اور وکیل زیادہ ہو گئے ہیں Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov پاکستان میں روزانہ معصوم لوگ اور بےگناہ لوگ مارے جاتے ہیں ان کیلئے کوئی آواز نہیں اٹھتا اب سپاہ یزید کے دس بارہ گنڈوں پر اتنا واویلا!؟ Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov شیعوں کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے _ حکومتی اور اسٹیبلشمنٹ کے اتحادی دہشتگرد سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کو لگام دیا جائے Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov اگر پاکستان میں شیعوں کو ماتم اور جلوسوں سے روکنے کی کوشش کی گئی جو ہو رہی تو شام کیطرح خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں

Shafiq Ahmed's curator insight, November 19, 2013 1:48 PM
Shafiq Ahmed's insight:

Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 18 Nov راولپنڈی 150 پارہ چنار اور گلگت بلتستان والے سٹوڈنٹس گرفتار ڈان کے رپورٹر انام اللہ خٹک کے بے بنیاد رپورٹ پر Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov اپکا @CMPervez شکل ملعون یزید جیسا ہے_ اور لعنت ہے شیعوں پر جو آج سے #PTI کو طلاق نہ دے یہ ب چ ہمارے حکمران ہیں اور یہ عمران کا سونامی Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov پاکستان بھر میں فوج اور شریف برادران حکومت کے تعاون سے امام بارگاہوں کو جلانے کا سلسلہ جاری 6 جل گئے #لبيك_ياحسين یا حسین Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov جب اشفاق آرمی نہیں تکفیری دیوبندیوں کے، نواز سپاہ یزید، شہبازلشکر یزید کے سربراہ ہوں تو امام بارگاہ جلنے رہینگے Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov اشفاق پرویز کیانی تکفیری دیوبندی نواز شریف سپاہ یزید کے اور شہباز شریف لشکر یزید کے سربراہ کیوں نہیں جن کے ہوتے ہوئے امام بارگاہ جلائے گئے Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov پاکستان میں کوئی شیعہ سنی لڑائی نہیں بلکہ لڑائی حسینیوں اور یزیدیوں کے درمیاں ہے بدقسمتی سے یزید کے حواری اور وکیل زیادہ ہو گئے ہیں Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov پاکستان میں روزانہ معصوم لوگ اور بےگناہ لوگ مارے جاتے ہیں ان کیلئے کوئی آواز نہیں اٹھتا اب سپاہ یزید کے دس بارہ گنڈوں پر اتنا واویلا!؟ Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov شیعوں کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے _ حکومتی اور اسٹیبلشمنٹ کے اتحادی دہشتگرد سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کو لگام دیا جائے Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov اگر پاکستان میں شیعوں کو ماتم اور جلوسوں سے روکنے کی کوشش کی گئی جو ہو رہی تو شام کیطرح خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں

Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

The night the refugee boat sank: victims tell their stories - The Guardian

The night the refugee boat sank: victims tell their stories - The Guardian | parachinarvoice | Scoop.it

The night the refugee boat sank: victims tell their stories
The Guardian
They too were Hazaras, living in Parachinar, a remote, rough town in the volatile semi-autonomous tribal agency of Kurram. Here too sectarian violence was intense.

Shafiq Ahmed's insight:

The night the refugee boat sank: victims tell their stories 
The Guardian 
They too were Hazaras, living in Parachinar, a remote, rough town in the volatile semi-autonomous tribal agency of Kurram. Here too sectarian violence was intense.

more...
Shafiq Ahmed's curator insight, June 5, 2013 6:19 AM
very sad untold story about Parachinar asylum seekers
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

for the Martyrs of Parachinar who were martyred on 17th February 2012 in a Suicide Attack. Welcome To IslamiMarkaz.com

for the Martyrs of Parachinar who were martyred on 17th February 2012 in a Suicide Attack. Welcome To IslamiMarkaz.com | parachinarvoice | Scoop.it

Speech held on 23rd February 2012 for the Martyrs of Parachinar who were martyred on 17th February 2012 in a Suicide Attack.

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Jang Group (The News) retracts its ISI-inspired report on Haideri Taliban

Jang Group (The News) retracts its ISI-inspired report on Haideri Taliban | parachinarvoice | Scoop.it

Jang Group (The News) retracts its ISI-inspired report on Haideri Taliban
Pakistan Blogzine was a part of a recent effort along with Shia activists and other rights activists in highlighting the Jang Group’s unprofessional and malicious conduct in publishing an ISI-inspired report about an imaginary Shia terrorist group namely Haideri Taliban or Mehi Militia.

We are pleased to report that as an outcome of our collective efforts, Jang Group (The News) has retracted the news item and published and apology.

This small incident shows that every single post, tweet, and email counts. Let’s carry on with our activism in support of the persecuted, target killed and ignored communities.

We warn Pakistan army and its propagandists in media and urban elites to refrain from misrepresenting Pakistan’s Shia Muslims and other persecuted and target killed communities.

We also urge media and activists to break their collective silence and selective morality on genocide of Shias and other groups in Pakistan.

We urge Jang Group’s Bureau Chief in Peshawar Rahimullah Yusufzai to also spare some loyalty for Pakistan’s oppressed communities departing from his (and Saleem Safi’s) traditional loyalty to ISI.

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

We need your help to recover Jalil Hussain – by Hassan Turi

We need your help to recover Jalil Hussain – by Hassan Turi | parachinarvoice | Scoop.it

We need your help to recover Jalil Hussain – by Hassan Turi

This child has been missing for almost one year.

He was abducted by the Taliban from river Kurram on 5 March 2011.

His name is Jalil Hussain.

I visited his village and took information about the child and the family.

His father died recently of cardiac arrest.

They are very poor, his mother’s mental condition is not good.

We request Pakistan’s army chief General Kayani and President Zardari to instruct Pakistan’s security agencies to do the needful to free this child from the captivity of the Taliban.

We request Pakistani media, social activists and human rights groups to campaign for the safe and urgent recovery of this child.
more...
No comment yet.