52.3K views | +0 today
Scooped by Shafiq Ahmed
onto parachinarvoice!

How to become a successful ‘rent-an-expert’ – The Express Tribune

How to become a successful ‘rent-an-expert’ – The Express Tribune | parachinarvoice |
How to become a successful ‘rent-an-expert’
By Ayesha Siddiqa
Published: February 29, 2012
The writer is adviser to the chairman NAB and author of Military Inc. The views expressed here are her own.
If you are a white-skinned foreigner trying to make a career in journalism or academia, here is an opportunity of making it big by becoming an expert on the ‘most dangerous country’ in the world — Pakistan. The colour of the skin is critical for success because those guarding information inside the country about the country do not prefer darker complexion as it reminds them of what they were before being invaded and exposed to genetic re-engineering through processes that are better be kept secret.
Being a female helps tremendously as powerful circles in Pakistan believe that women are most effective in conveying messages to the world. A genuinely pretty face is not a prerequisite as long as the female has a man-attracting-magnetic personality, can speak English well, and falls in the category of a ‘liberal scum’ (most likely she will never be a true liberal). Although domestically numerous versions of females are now available, some of them original and other clones, to communicate the views of the ‘state within the state’, there is always the need for the superior version: the white-skinned female who can naturally speak with an accent and easily make inroads in the western system. A well-dressed woman with airs is certainly a huge advantage.
An appreciation of norms of research and inquiry is certainly not a prerequisite either in the country of origin or in Pakistan. The right instinct as a salesperson, who could sell anything from dishwashing liquid or a used car to a used idea, is essential. However, certain conditions can make the sales pitch extremely impressive. For instance, a couple of generals, senior bureaucrats and politicians in the pocket with whom you can demonstrate familiarity on a first-name basis works really well. It will be naturally assumed that these people have unloaded all national secrets on to your hard drive. Some of this may not be a fallacy as those in position of power feel extremely elated talking to a gora sahib or a mem sahib. They would love to boast about their power and knowledge which is nice since you can write a book after several such conversations. These people, who will willingly become your hosts during visits to Pakistan, will not even bother with what you have written about them and how they have been quoted as long as they are named in an international publication. This, of course, will increase your market at home where you will immediately be invited to talk shows on which Pakistan and the South Asian region are being discussed and taken seriously. Given the concern for security of their nationals in Pakistan, some western countries have started using its (Pakistan’s) non-gora nationals as well. However, the dark-complexioned ones have to work doubly hard for making clients in their countries of residence by first showing off deep contacts in their countries of origin. Of course, dropping names helps a lot as well. But for both, the coloured and white ‘rent-an-expert’ type, it helps to recount certain very private kinds of information. These details, then, help others in foreign capitals assume that the information you have as an expert on the whereabouts of bombs and booby traps is correct.
But the vital personal information requires that you first get close enough to the bigwigs in Pakistan for which a recommended recipe is initial investment in making contacts in the right circles. You will be lucky if you are a female and go through an established introducer in the country of origin. But once past the initial handshake it will be worthwhile to make initial contact successful which you can do by faking a genuine interest in the people, culture and country — and convincing your Pakistani clients of your access to the right circles in important western capitals.
As you get a chance to expand your circle you must remember to say the right things at the right time. For instance, words like ‘feudalism’, ‘clientist’ and so on are a sign of you knowing it all. Also, public claims regarding the state not being a failed one, will bring assured gains. Before long, you will become an author of a few books and an acclaimed expert.
Who says selling the soul to the devil doesn’t have benefits?
Published in The Express Tribune, March 1st, 2012.
No comment yet.
parachinar kurram agency
Curated by Shafiq Ahmed
Your new post is loading...
Your new post is loading...
Scooped by Shafiq Ahmed!

پاراچنار میں خون کی ہولی کھیلنا بند کی جائے۔ شفیق احمد

پاراچنار میں خون کی ہولی کھیلنا بند کی جائے۔ شفیق احمد | parachinarvoice |
پاراچنار سبزی منڈی دھماکہ 
Shafiq Ahmed's insight:
پاکستان میں دہشتگردی کی ابتداء پاراچنار شہر کے سبزی منڈی میں دھماکے سے ہوا ، جس میں ابھی تک ۳۰ افراد شہید اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں، بیشتر زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے اور پچیس زخمیوں کو پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔
حکومت پاراچنار شہر کی تحفظ میں مکمل اور مسلسل ناکام رہی ہے۔ جب تک پاراچنار شہر کی سیکیورٹی طوری اور بنگش قبائل کے جوانوں کے ہاتھ میں تھی ایک بھی دھماکہ نہیں ہوا تھا لیکن جیسے حکومت نے پاراچنار شہر کی سیکیورٹی اپنے ہاتھ میں لے لی تو یہ پانچواں بڑا دھماکہ ہوا ہے۔
پچھلے سال لنڈا بازار میں خودکش دھماکے میں درجنوں بے گناہ لوگوں کا خون بہایا گیا تھا اور اس سے پہلے سکول روڈ خودکش دھماکہ، کُرمی بازار میں نصب بم دھماکہ اور سبزی منڈی میں موجود ڈاکٹر ریاض حسین شاہ کے انتخابی دفتر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ جس میں سینکڑوں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔
۲۰۰۷ سے ۲۰۱۱ کے درمیان خونریز لڑائیوں میں ڈھائی ہزار نوجوانوں کی قربانی دیکر کرم ایجنسی اور پاراچنار کو دہشتگردوں کے حملوں سے بچایا ہے جب حکومت پاکستان اور ریاستی ادارے طالبان کے سامنے بے بس دکھائی دے رہے تھے۔ حکومت اور ادارے طوری بنگش قبائل کے قربانیوں کو فراموش کرتے ہوئے ان سے اسلحہ جمع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جس سے کرم ایجنسی کے طوری بنگش شیعہ قبائل کو سنگین خطرات لاحق ہوئے ہیں اور آج کا دھماکہ انکا واضح ثبوت ہے۔
حکومت طوری بنگش قبائل سے اسلحہ لیکر ان دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاہتے ہیں؟ دو ہفتے پہلے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا اور کرم ایجنسی پاراچنار کی صورتحال پر تفصیل سے لکھا تھا۔
ایف سی اور پولیٹیکل انتظامیہ چونکہ پاراچنار شہر کے سیکیورٹی کے ذمہ دار ہیں اسلیئے انکی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ دھماکے میں ملوث لوگ اور گروپ انصاف کے کٹہرے میں کھڑے کردیں جیسے عثمانیہ مارکیٹ دھماکے کے ملزمان ایک گھنٹے میں ڈھونڈ کر لائے تھے۔
میں یہ کس کے نام لکھّوں جو الم گزر رہے ہیں
مرے شہر جل رہے ہیں مرے لوگ مر رہے ہیں
کوئی اور تو نہیں ہے پس ِ خنجر آزمائی
ہمیں قتل ہو رہے ہیں، ہمیں قتل کر رہے ہیں
طالبان اور لشکر جھنگوی نے پاراچنار دھماکے کی ذمہ داری پشاور میں بیٹھ کر قبول کی ہے! سوال اُٹھتا ہے کہ ریاستی ادارے اور حکومت ان دہشتگردوں کو گرفتار کرنے میں ناکام ہیں یا گرفتار نہیں کرنا چاہتے؟
تحریک انصاف اور جماعت اسلامی پر مشتمل صوبائی حکومت میں انتہا پسندوں کیلئے نرم گوشہ موجود ہے کیونکہ دونوں جماعتیں طالبان کیلئے پشاور میں دفتر کھولنے کے حق میں بیانات دیتے رہے اور جماعت اسلامی کے کالعدم جماعتوں سے روابط کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ مندرجہ ذیل لنکس کو ٹریس کرکے حکومت دھماکے کے ذمہ دار اور سہولت کار گرفتار کریں یا حکومت خود ذمہ داری قبول کریں۔
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

کرم ایجسنی، پاراچنار کو کیسے پُرامن بنائیں؟ شفیق طوری

کرم ایجسنی، پاراچنار کو کیسے پُرامن بنائیں؟ شفیق طوری | parachinarvoice |
پاراچنار کے باپ اپنے بیٹے کیساتھ
Shafiq Ahmed's insight:
جمعہ 31 مارچ 2017 کو پارچنار شہر کے مصروف ترین روڈ پر خودکش دھماکہ ہوا جس میں 24 افراد شہید اور 100 زخمی ہوئے۔ یہ دھماکہ مرکزی امام بارگاہ کے باب النساء کے بالکل سامنے ہوا اور سبزی منڈی دھماکے کہ زخم ابھی تازہ تھے کہ پاراچنار میں ایک دفعہ پھر خون بہایا گیا۔ یہ پہلی بار نہیں کہ کرم ایجسنی کے شیعہ مکتب فکر رکھنے والے پشتونوں کو خون میں نہلایا گیا ہو۔
کرم ایجسنی عموماً اور پاراچنار خصوصاً دہشتگردی کا نشانہ بن رہا ہے جس کے سدِ باب کیلئے نہ قبائلیوں نے خود کوئی پلان بنایا ہے اور نہ ہی حکومت دہشتگرد تنظیموں کو کرم ایجنسی اور پارچنار شہر میں بم دھماکوں روک پائی ہے۔ اس کالم میں نشادہی کی کوشش کی جائے گی، باقی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس دہشتگردی سے نجات پانے کا طریقہ کار طے کریں۔ بیانیہ واضح کریں اور اسٹیبلشمنٹ میں موجود کالی بھیڑیں نکال باہر کریں۔ فوجی اسٹیبلشمٹ ضیاالحقی سنڈروم سےنکل آئیں۔
کب یہ ظلم کا سورج غروب ہوگا؟
کب تک ہم بچوں، عورتوں، جوانوں، بوڑھوں کی بارود سے جھلستی لاشیں اُٹھاتے رہیں گے؟
کب تک ہم آدھے جسم دفن کرتے رہیں گے؟
آخر کب تک؟ کوئی تو بتائے؟
حکومت کی کی مجرمانہ بے حسی اس سے واضح ہے کہ پندرہ سالوں سے جنگ جاری ہے لیکن دہشتگردوں کے خلاف متفقہ بیانیہ سامنے نہیں آ سکا۔ علماء حق کو پاکستان میں بولنے کا حق ہے اور نہ رہنے کا، جاوید غامدی جیسے سکالر اور طاہر القادری جیسے بلند پایہ عالم دین سے دہشتگردوں کے خلاف بیانیہ تیار کرنے کی بجائے طالبان کے باپ سمجھنے والے سمیع الحق کے زریعے مزاکرات کیئے جاتے رہے ہیں۔
حالت یہ کہ موجودہ وزیرداخلہ طالبان لیڈر حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر ان کی بیوہ کی طرح رو رہا تھا اور ایک مہینے تک سوگ منایا! نوازشریف کے اُسامہ بن لادن سے لیکر ممالک کیساتھ تعلقات ڈھکے چھپے نہیں۔
دیوبندیوں اکثریت اچھے لوگ ہیں اور بہت سارے دوست بھی ہیں، سلفیوں میں بھی اچھے لوگ دیکھے ہیں اور وہابیوں میں بھی اچھے لوگ ہونگے لیکن حقیقت یہ کہ مسجد، امام بارگاہ، چرچ، مندر اور سیناگاک کے اندر اور باہر دیوبندی، سلفی اور وہابی ہی پھٹتے ہیں۔
پاراچنار خودکش دھماکہ بھی دیوبندی نے کیا ہے اس کا تعلق بھی دیوبندی دہشتگرد گروپ سے ہے اور اعلان بھی کرکے ذمہ داری بھی قبول کی ہے، وہ سب کو پتہ ہے۔ لیکن مشکل یہ کہ حکومت ایف آئی آر نامعلوم افراد اور نامعلوم تنظیموں کیخلاف درج کرتی ہے اور اس کی بھی وجہ ہے اور وہ وجہ یہ کہ دیوبندی اسٹیبلشمنٹ اتنا طاقتور ہے کہ مجال ہے کوئی وزیراعظم یا آرمی چیف ان کے خلاف منہ کھولیں! ثبوت کے طور پر آپ کو موجودہ آرمی چیف کے خلاف ایک ویڈیو پیش کر سکتا ہوں جس میں ایک وہابی مولوی جنرل باجوہ کے خلاف من گھڑت پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ باجوہ صاحب قادیانی (احمدی) ہے اور یہ اسلامی فوج کے سپہ سالار بننے کا اہل نہیں کیونکہ یہ کافر ہے۔ اب اس کے بعد باجوہ صاحب آرمی چیف بنتا ہے اور وہابی مولوی کے خلاف رپورٹ ان کے سامنے رکھا جاتا ہے لیکن اس مولوی کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، سننے میں آیا کہ چیف صاحب نے معاف کیا ہے۔
دوسری مثال مولوی سمیع الحق دیوبندی کی ہے۔ بے نظیر بھٹو کو قتل کرنے کی سازش اس کے مدرسہ حقانیہ میں ہوئی بندے وہیں سے نکل کر پنڈی گئے اور بے نظیر بھٹو کو شہید کردیا! اس سے بڑھ کر ملا عمر اور بیت اللہ محسود سمیت طالبان کے اکثر لیڈرز اور کارکن مدرسہ حقانیہ سے پڑھے ہوئے ہیں۔ مجال ہے کہ کوئی سمیع الحق یا مدرسہ حقانیہ کا نام لیں!
مفتی نعیم دیوبندی اور ان کی جامعہ بنوریہ جس کے دہشتگرد کیا خودکش بمبار پکڑے گئے ہیں۔
اسی طرح طاہر اشرفی! دہشتگرد تنظیم سپاہ صحابہ کا سیکریٹری جنرل رہا، پاکستان علماء کونسل کے چھتری تلے چُھپ کر لیبیا، جرمنی اور امریکہ سمیت عرب ممالک سے لاکھوں ڈالر لیئے ہیں، اس کا بھائی معاویہ قادیانیوں کا قاتل ہے اور انہی الزامات پر پاکستان علماء کونسل نے برطرف کرکے پھر اہل سنت والجماعت المعروف دہشتگرد سپاہ صحابہ کی طرف گیا ہے اور اب محمد احمد لدھیانوی کو پاک صاف کرکے امن کا سفیر بنانے کی مشن پر ہے! مجال ہے کوئی ایف آئی اے یا دیگر لمبر ون ایجنسیاں ان کیخلاف کارروائی کریں!
پاراچنار خودکش دھماکہ بھی دیوبندی نے کیا ہے اس کا تعلق بھی دیوبندی دہشتگرد گروپ سے ہے اور اعلان بھی کرکے ذمہ داری بھی قبول کی ہے، وہ سب کو پتہ ہے۔ کوئی ایک مہینہ پہلے گاؤں بوشہرہ میں ایجنسیوں نے ریڈ کیا اور ایک سپاہ صحابہ کا ایک دہشتگرد اُٹھایا، حوالدار بخت جمال بنگش نے سر توڑ کوشش کی کہ بندے کو رہا کریں لیکن بندے اسلام آباد پہنچایا گیا تھا جس کی رہائی پشاور میں کسی کے بس کی بات نہیں رہی تھی۔ اس کے بعد حکومت نے دو الرٹ جاری کیئے کہ پاراچنار سے ملحقہ مزار علامہ محمد نواز عرفانی شہید، پاراچنار شہر اور زیڑان علی زیارت پر دہشتگردی کی کارروائی منظم کی گئی ہے۔ اب وہ شخص کون تھا وہ آپ کو کوئی نہیں بتائے گا لیکن وہ شخص کالعدم اہل سنت والجماعت المعروف دہشتگرد سپاہ صحابہ کا ماسٹر مائینڈ بتایا جاتا ہے جو پاراچنار سے لیکر کوہاٹ تک صرف شیعہ مساجد و امام بارگاہوں کو ٹارگٹ کرکے شیعہ نسل کشی کو مزید تیز کرنا چاہتا تھا جو کہ حالیہ دہشتگردی سے صاف نظر آ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاراچنار میں بارود بھری گاڑی مقبل علاقے سے داخل ہوئی جس کے تانے بانے مقبل علاقے کے غوزگڑی میں مدرسہ تعلیم القرآن سے ملنے کی مصدقہ اطلاعات ہیں اور اس مدرسہ کو 15-2014 میں پولیٹیکل انتظامیہ اور فاٹا سیکرٹریٹ کی طرف سے ایک میلن روپے فراہم کیئے گئے اور تری مینگل میں موجود مدرسہ حنفیہ کو بھی ایک میلن روپے فراہم کیئے گئیے۔
کچھ عرصہ قبل مقبل سے ایک بارود بھری گاڑی پاراچنار منتقل کرتے ہوئے راستے میں ہی پھٹ گیا تھا جس میں دو افراد زخمی بتائے جا رہے تھے تاہم اس کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ طالبان کا ایک ٹریننگ کیمپ بھی عرصہ دراز سے قائم ہے جو القاعدہ، طالبان اور داعش کیلئے مقامی جوان بھرتی کرکے افغانستان، یمن، شام اور عراق بھیجنے میں بھی ملوث ہیں۔
جہاد کشمیر اور جماعت اسلامی و جماعت الدعوة کے ہیرو میجر مست گل جو پہلے لشکر طیبہ کیساتھ کشمیر میں جہاد کرتے رہے اب دولت اسلامیہ اور داعش کیساتھ مل کر کرم ایجسنی و فاٹا میں مصروف جہاد ہوا ہے جو پاراچنار بم دھماکوں سمیت پاکستان فوج کے اہلکاروں کے قتل میں بھی ملوث رہاہے۔
کرم ایجسنی میں دہشتگردوں کا ایک اور گروپ جو پیواڑ اور شلوزان کے پہاڑی علاقوں میں تورہ بورہ کے دوسری طرف عرصہ دراز سے سرگرم عمل ہے اور چند سال پہلے خیواص پر لشکر کشی کرکے سو سے زیادہ افراد شہید اور سینکڑوں زخمی کرچکے ہیں جبکہ سینکڑوں گھر مکمل یا جزوی نذر آتش کیئے گئیے ہیں۔
تیسرا فرنٹ بوڑکی اور خرلاچی ہے جہاں سرحد کے اس پار دہشتگردوں کے کیمپس ضیاالحق کے زمانے سے قائم ہیں جنہوں اتوار کے رشنگک، کچکینہ اور دیگر علاقوں میں میزائل فائر کرکے خوف و ہراس پھیلانے کی ناکام کوشش کی۔
ایک اور فرنٹ کڑمان اور زیڑان کی طرف بھی ہے جو وقتاً فوقتاً کڑمان اور زیڑان سے لیکر جالندھر علاقوں تک میزائلوں کی بارش کرتے رہے ہیں، یہ علاقہ غیر سمجھے جانے والے سنیٹرل کرم کا حصہ ہیں اور طالبان کے حکیم اللہ نےیہاں مظبوط نٹ ورک قائم کیا ہے۔ یہاں دینی مدارس طالبان اور داعش کا نظریہ رکھنے ہیں اور ابھی ملا عمر کو امیرالمومنین سمجھتے ہیں۔
دہشتگردوں کا بظاہر یہ مقامی گروپ دراصل میں بین القوامی دہشتگرد تنظیموں سے منسلک ہے اور اس کی سرغنہ کالعدم اہل سنت والجماعت المعروف کالعدم دہشتگرد سپاہ صحابہ کے بدنام زمانہ عید نظر منگل اور پشت پناہی بخت جمال بنگش کررہے ہیں۔ یاد رہے اہل سنت والجماعت، سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، طالبان، دولت اسلامیہ یعنی داعش اور القاعدہ سمیت سارے دہشتگرد شیعہ نسل کشی کے ایک نقطے پر متفق ہیں اور شیعہ مکتبہِ فکر کیخلاف مل کر لڑ رہے ہیں۔ یہ دہشتگرد گروپ شیعہ مکتبہِ فکر کو مشرک اور مرتد سمجھتے اسلیئے اسے کافر کہتے ہیں لیکن سب سے تباہ کن نظریہ پھر ان کو واجب القتل بھی سمجھتے ہیں، ان دہشتگردوں کو پڑھایا جاتا ہے کہ اگر حکومت پاکستان شیعہ آبادی کو ختم نہیں کرتی تو ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ بندوق، بارود، چاقو اور جو جو قتل کے آلات میسر آئے شیعوں کا قتل کریں اور جنت کا ٹکٹ حاصل کریں۔
اب ایسے ماحول میں پاراچنار میں اگر دس دھماکے ہوتے ہیں تو اسے کم سمجھنا چاہیے! پاراچنار کو تو جہنم بنانے کا پورا پلان عرصہ دراز سے تیار ہے اور عمل بھی جاری ہے۔
کسی کو یہ پتہ نہیں کہ کرم ایجنسی میں طوری بنگش قومیں تقریباً پانچ سو سال سے آباد ہیں طوری بنگش قوم ناقابل شکست رہا ہے اور ظالم چاہے کوئی کتنا طاقتور کیوں نا ہو، وہ اپنا دشمن جانتے ہیں اور اس سے لڑنا بھی جانتے ہیں۔
ایکیسویں صدی میں لڑنے کے انداز بدل گئے ہیں اس لیئے ہم نے بھی طریقہ کار بدلا ہے۔ جو لوگ اپنے آپ کو وقت کیساتھ نہیں بدلنا چاہتے وہ تاریخ کا حصہ بن جاتے اور جو وقت کے تغیر و تبدل کیساتھ اپنے آپ کو ڈھلنے کی کوشش کرتے ہیں وہ زندہ رہتے ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
اب ہم پہلے سے زیادہ متحد ہیں اور اسکا مظاہرہ سب نے دیکھ لیا، پیش نماز آغا فدا حسین مظاہری اور عابد حسین الحسینی نے احتجاجی مظاہرہ کی قیادت کرکے ایک معرکہ سر کیا ہے اب سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ اپنے کیئے گئیے وعدوں پر عمل کرائیں۔
اور حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ کرم ایجسنی اور پاراچنار شہر کی تحفظ یقینی بنائیں جو افسر نااہل ثابت ہوئے انہیں برطرف کرکے انکوائری کریں ورنہ یہ نااہل حکمران بن کر ملک کا بیڑہ غرق کرنے میں کسر نہیں چھوڑیں گے مشران سے کیئے گئے وعدے پورے کریں۔ شہدا اور زخمیوں کو دیگر پاکستان کے برابر شہری سمجھ کر امدادی پیکیج بیس لاکھ اور زخمیوں کو پانچ لاکھ تک بڑھا دیں۔
کرم ملیشیا جو ضیاالحق کے وقت دوسرے علاقوں میں بھیجا گیا تھا واپس کردیں یا نئی بھرتی کرکے چار ونگ تک بڑھائیں جو ابھی میرے خیال میں ایک ونگ ہے۔ اور اس میں سب قبیلوں کے اہلکار بھرتی کریں، طوری، بنگش، مقبل، مینگل اور بہت سارے دوسرے۔ جو اپنے اپنے علاقوں کا تحفظ یقیناً کریں گے۔
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

پاراچنار شہر میں پولیٹیکل انتظامیہ کا دکاندار پر ظالمانہ تشدد! حکام کی مسلسل خاموشی۔

پاراچنار شہر میں پولیٹیکل انتظامیہ کا دکاندار پر ظالمانہ تشدد! حکام کی مسلسل خاموشی۔ | parachinarvoice |
دکاندار علمدار حسین پر ظالمانہ تشدد
Shafiq Ahmed's insight:
پاراچنار شہر میں پولیٹیکل انتظامیہ کا دکاندار پر ظالمانہ تشدد! حکام کی مسلسل خاموشی۔ انور شاہ اورکزئی 
 پارہ چنار شہر میں پولیٹیکل انتظامیہ کرم نے انتہائی ظالمانہ رویہ اختیار کرکے دکاندار علمدار حسین پر تشدد کیا ہے ،ذرائع کے مطابق اپر کرم پارہ چنار شہر میں سی سی ٹی وی کمیروں کے لئے پولیٹیکل انتظامیہ زبردستی چندہ اکھٹا کررہا تھا کہ اس دوران علمدار نے پولیٹیکل انتظامیہ اہلکاروں سے صرف یہ پوچھا کہ یہ چندہ کیوں زبردستی اکھٹا کررہے ہو؟ جواب میں پولیٹیکل انتطامیہ نے عملمدار حسین کو سبق سکھانے کیلئے ظالمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر سینٹرل جیل پاراچنار بھیج دیا۔
یاد رہے سی سی ٹی وی کیمروں کے لئے پولیٹیکل انتظامیہ کو فنڈز مل چکا ہے۔۔۔
 یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ پاراچنار شہر کی انتظامیہ تشدد میں ملوث ہو بلکہ گزشتہ کئی سال سے اس طرح واقعات میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جبکہ پولیٹیکل انتظامیہ مسلسل اس طرح واقعات سے چشم پوشی کرتی آرہی ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ پولیٹیکل انتظامیہ اس واقعے کو مثال بنا کر ملوث اہلکاروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑے کریں اور قرار واقعی سزا دیں۔
No comment yet.
Rescooped by Shafiq Ahmed from From Parachinar The Pakistani Gaza!

جائیداد میں حق کےلئے آواز اٹھانے اور کزن سےشادی نہ کرنے پر "حوا" کی بیٹی قتل۔

جائیداد میں حق کےلئے آواز اٹھانے اور کزن سےشادی نہ کرنے پر "حوا" کی بیٹی قتل۔ | parachinarvoice |
حنا شاہنواز جو جائیداد کے تنازعے پر استرزئی میں قتل کی گئیں
Shafiq Ahmed's curator insight, February 8, 2017 3:34 AM
حنا شاہنواز کا تعلق استرزئی سے ہے اور یہ واقعہ بھی استرزئی میں ہی پیش آیا ہے۔ حنا کا والد شانہواز ایک کامیاب بزنس میں تھا اور کوئلے کا کاروبار کررہا تھا۔ کینسر کی مرض سے وفات پائے اور پھر حنا شاہنواز کی ماں بھی کچھ عرصہ بعد وفات پائیں۔ گاؤں میں کسی جھگڑے میں حنا کا بھائی بھی مارا گیا اور حنا درندوں کی اس دنیا میں اکیلی رہ گئیں۔
خواتین کے حقوق کو کچلنے والے رواج, روایات کے علمبرداروں! جن کو رواج میں ایک خامی بھی نہیں دکھتی, آج کی تازہ خبر سے اپنے کلیجے پھر سے ٹھنڈے کر لو. ہوا کچھ یوں کہ ہماری ایک ایم فل پاس بہن نے کچھ عرصہ پہلے ایک این جی ا و کے ساتھ نوکری شروع کی. اس سے پہلے کہ آپکی برائے نام غیرت جاگ اٹھے اور اسے این جی او کی آنٹی, مغرب کے مفادات کی خاطر بکنے والی خاتون کے القابات سے نواز دیں تو سنتے جاییں کہ اس کے والد کی وفات کینسر سے ہوئی اور موت کے آخری دنوں میں علاج کی خاطر مقروض ہو چکے تھے اور پھر وفات پا گئے. بھائی کو محلے کی معمولی لڑایی میں قتل کیا گیا تو بیوہ بھابی اور دو یتیم بچے پیچھے چھوڑ گئے. پھر چھوٹی بہن گیارہ ماہ شادی کو ہوئے اور بیوہ ہوئی تو اس کی ذمداری اور ایک اور ایک یتیم بچے کی ذمداری بھی ہماری اس بہن کے کںدھوں پر آگیی کہ گھر میں کویئ مرد نہیں تھا اور ہماری یہ بہن خاندان کی واحد پڑھی لکھی لڑکی ہے۔
چھ ماہ قبل والدہ کا بھی انتقال ہو گیا. ایسے حالات میں جب رواج، روایت اور قانون نے ان یتیم اور بیوہ بہنوں کی کفالت کا بندوبست نہ کیا تو ایک این جی و نے 80,000 کی تنخواہ میں کام دیا جس سے ان بیواؤں اور یتیم بچوں کی کفلات کا بندوبست کیا گیا. یوں ہمارے قبایلی رواج اور روایت کو خطرہ لاحق ہو گیا. ہمارے غیرت مند چند افراد کی غیرت نے جوش مارا اور نوکری کرنے کے جرم کی پاداش میں ان کے خلاف مھم سازی کی۔
اس بہن نے ماں کے علاج کے لئے بھی قرضہ لیا جس کو ادا کرنے کے لئے کچھ جائیداد بیچنے کا ارادہ رکھتی تھیں اور اسی ارادے کے ساتھ اپنے گھر روانہ ہوئی. ساتھ میں پریشان بھی تھی کہ بیوہ بہن کے یتیم بچے کی کسٹڈی کے لئے ہائی کورٹ سے جیتے گئے کیس کے خلاف بچے کے دادا ابّو نے پھر سے درخواست دی تھی لیکن یہ باہمّت بہن مشکلات کا مقابلہ کرتی رہی۔
پچھلے ہفتے گھر کو لوٹنے والی ہماری پیاری بہن اب ہم میں نہیں ہے. جائیداد میں حق کے لئے آواز اٹھانے اور اپنا شعبہ چننے کے حق کو استعمال کرنے کی پاداش میں چچا زاد بھائی نے اسے کل قتل کر دیا ہے۔
اس جرم میں، اس قتل میں ہروہ شخص شامل ہے اور اسکا ذمہ دار ہے کہ جس نے ان غیر اسلامی اور غیر انسانی رواج اور روایات کے تحفظ کا بیڑا اٹھایا ہے اور جو قبایلی خواتین کو آج تک حقوق نہیں دے رہے. ہماری بہنوں کو تحفظ دیا جائے! ایسے افراد کوسخت سزاییں دے کر مثال بنایا جائے تا کہ پھر کسی کی ہمت نہ ہو کہ خواتین کے خلاف رواج کا سہارا لے کر ظلم کر سکے۔
اس سے پہلے کہ کسی رسم پہ وارے جایئں
آؤ کسی خواب کی تکمیل میں مارے جایئں

سوشل میڈیا پر خبر پھیل گئی ہے کہ حنا شاہنواز کو پاراچنار میں غیرت کے نام ہر قتل کیا جو سراسر جھوٹ ہے۔
کہانی بشکریہ دوست لیاقت حسین جو اس واقعے اور خاندان کے متعلق معلومات رکھتے ہیں اور ایک دوست نے کسی این جی او کا تحریر بھیجا!
Scooped by Shafiq Ahmed!

Don't let Parachinar burn.

Don't let Parachinar burn. | parachinarvoice |
Dr Ghayyur Ayub.
Shafiq Ahmed's insight:
Don't let Parachinar burn.

Dr Ghayur Ayub
One day, during his exile in London, Mr Nawaz Sharif asked me to brief him about Parachinar. I did. After listening to me with keen interest he looked at me and said, “Dr Sahib, I would like to visit Parachinar and see the situation myself when we go back to Pakistan” That was an encouraging remark by my chief.

Time passed. On September 10th 2007, I joined him with the group and landed at Islamabad airport. The rest is history.

In 2008, I took part in the election from NA 37. In those days, the road between Parachinar and Peshawar was closed for Shia individuals because of lethal attacks on them. Only convoys accompanied with Paramilitary force were allowed. I joined one of the convoys. As we reached near Kohat Tunnel we were stopped. It was partially closed because, the day before, a Shia group was attacked which was travelling to Parachinar. I realised then, how unsafe it was for people living in Parachinar to travel in their own homeland. Anyway, the tunnel crossing took three hours instead of 25 minutes because of traffic jam. Later I was told that some of the captured Shias were beheaded by their captors.

If we look at the map of Kurrum Agency, it is divided into three parts; upper, lower and FR Kurrum. Upper Kurrum is primarily inhabited by Shias influenced by Iran and the other two by Sunnis influenced by Saudis. Its capital Parachinar is located in upper Kurrum and the second biggest town Sadda is located in lower Kurrum. The only road which links Parachinar with the rest of mainland Pakistan passes through Sadda. Despite having office of assistant political agent and a garrison of Kurrum Malatia, Sadda is the most dangerous part for Shias passing through to and from Parachinar.

We were told to stay low on our seats as the convoy moved in the town. Shivers went through my spine as we drove through. I remember the town as a young boy, when we used to come and enjoy chicken Balti in a local restaurant known for its delicacy. Such were the changed political dynamics of the region from where I was going to take part in elections.

The electioneering started and a few days later, a suicide bomber blasted himself near my election office. At the time of blast, I was just a few hundred yards away. What I saw was beyond description. Among thick smoke, crumbling buildings and burning fire I saw two young men sitting on the roof of a nearby building thrown in the air like injured birds and fell in the inferno of burning vehicles. Soon the frightening scene was filled with heart-wrecking screams, irrepressible-panic, eyes-burning dust, and breath-choking smoke. The nerve-wrecking and soul-tormenting smell of burning human flesh represented a picture of hell.

This was not the town I grew up in. A town where fresh and cool air from nearby White Mountain (Koh- e- Safaid) would hit my face while walking in Punjabi Bazzar enthralling my soul. Where Shias and Sunnis greeted each other with open arms showing Pashtun culture of frank cordiality. And where the Muslims from the two brethren sects shared their happiness and grief as part of familial requirement. It was a happy and peaceful town. A town Zulfiqar Ali Bhutto fell in love with and wanted to turn it in the image of Switzerland. Not anymore. Standing dazed, I was in the same town but now presenting a gloomy image of smoke, dust, fire and terrifying shrieks of burning and dying bodies. A heavenly town was turned into a hell by ill-advised politicians which brought sectarian hate into the core of tribal social life.

After the elections were postponed and I was crossing the Sadda town on my way back to Peshawar, it reminded me of divided Berlin, when locals took risks to cross the artificially created border. That was 1945, this was 2008. That was political divide this was religious divide. I thought, the Berliners must have felt the same way crossing the line as I did. It took over sixty years for Berlin Wall to come down. How long would it take for this Wall to fall? The question flickered in my mind as I looked at the angry looking faces staring at us.

Parachinar suffered the most after Soviets took over Afghanistan and after they were thrown out and Taliban took the country back, and still later after 9/11. Unfortunately, it was not highlighted by the media the way it highlighted other similar areas. The conditions in Parachinar after Soviet invasion were like a see-saw; frequently facing bad times; and less frequently not so bad times. There were never good times. In bad times people were killed in the verandas of their homes by snipers sitting at the nearby hilltops. Or men like Sarwan Ali from village Malana in desperation shooting himself because he couldn’t find medicine for his wife who suffered from Malaria as chemist shops were empty as a result of the siege of upper Kurrum by the Talibanised fanatics. That was the time when the frustrated Shia youth decided to create a Hizbullah type paramilitary force to counter the Sunni fanatics. I was told that they were approached by Panjsheri Afghans, Hazaras, Afghan Agencies and Iranian clerics to arm and train them.

In not so bad times, the Shia students travelling to Peshawar had to cross Nangrahar in Afghanistan and re-enter Pakistan through Tourkham border because the road from Parachinar to Peshawar was not safe for them.

Gen Raheel Sharif brought some sanity in the situation through Zarb e Azb initiating good times. It seemed to be short lived as after his departure the bad times are returning. The latest bomb blast could be the first warning shot, which killed over two dozen innocent Shia Muslims and injured many more. I can imagine similar scenes at the carnage site I saw many years ago. This time, the army chief Gen Bajwa, responded quickly by visiting the injured and airlifting the seriously wounded to hospitals in Peshawar. I know the prime minister will be disturbed and hurting by the news. I remember the keen interest he showed at Duke Street when I gave him the brief. He must have spoken to the governor at Peshawar, who is one of the kindest persons I have ever known. I hope he doesn’t rely on the MNA from the upper Kurrum who, unlike his father and grandfather, is the most incompetent and corrupt individual known for his shady practices.

If proper steps are not taken now, Kurrum Agency could fall back into the era of bad times, when in desperation the Shia youth prepared a Hizbullah type military force. It will be disastrous keeping the current global politics in mind which is muddled by Donald Trump of America, Narindra Modi of India, pro-Indian Ashraf Ghani in Afghanistan and not very happy Iran. I hope the prime minister pays a visit to Parachinar and get the first-hand knowledge about the situation. In doing so he would be fulfilling his promise made at Duke Street.

The end
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

کرم ایجنسی کے قبائل کو درپیش سنگین خطرات اور ریاستی بے حسی! شفیق طوری

کرم ایجنسی کے قبائل کو درپیش سنگین خطرات اور ریاستی بے حسی! شفیق طوری | parachinarvoice |
صدہ شہر میں شیعہ مسلک کے لوگ سرِعام ٹکڑے ٹکڑے کردئیے گئے۔
Shafiq Ahmed's insight:
کرم ایجنسی جغرافیائی اور اسٹریٹیجک لحاظ سے دیگر قبائلی ایجنسیوں سے مختلف ہے۔ اپر کرم جو شیعہ اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے تین سو سال سے یہاں آباد ہیں۔ اس علاقے کی دفاع افغانستان کے حکمرانوں کے وقت بھی ان کے ہاتھ میں تھی اور جب سو سال پہلے اینگلو-افغان جنگوں میں افغانستان شکست کھا گیا تو انگریز نے بھی کرم ایجنسی کی دفاع کرم ایجنسی کے قبائل کے حوالے کردی۔ انگریز کے فیصلے کے دو اہم پہلو تھے۔ ایک یہ کہ انگریز نے افغانستان کو شکست طوری قبیلے کی مدد سے دی تھی اور دوسری یہ کہ طوری قبیلہ اپنا دفاع کسی دوسرے کے حوالے کرنے سے پر تیار نہیں۔ اب کرم ایجنسی کے طوری بنگش قبیلہ اپنا دفاع اپنے ہاتھ میں کیوں رکھتا ہے اسکے بھی دو اہم وجوہات ہیں جس میں سب سے پہلا ان کا قبائلی شناخت ہے۔ جنوبی اور شمالی وزیرستان کے قبائل ہوں یا خیبر و مہمند قبائل، قومی اسلحہ کسی بھی ایجنسی میں مکمل طور پر حکومتی تحویل میں نہیں دیا گیا ہے اور دوسرا انکا مسلک ہے۔ چونکہ کرم ایجنسی کے گرد و نواح میں تقریباً ڈھائی میلین آبادی کے سنی قبائل آباد ہیں اور درمیان میں آدھی میلین آبادی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، تو اس لحاظ سے طوری بنگش شیعہ قبائل اپنی دفاع کیلئے ہر وقت مستعد رہتے ہیں۔ کرم ایجنسی میں جتنی طوری قبیلے کی تاریخ قدیم ہے اتنی شیعہ سنی قبائل اور مسالک کی لڑائی قدیم ہے۔ حالیہ تاریخ میں 1929-1928 سے خون ریز لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو دو ہزار گیارہ تک بیسیوں لڑائیاں لڑی گئیں جس میں دونوں طرف سے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے ہیں اور ہزاروں معذور و زخمی ہوئے ہیں۔ 2007-2011 کے فیصلہ کن جنگ کے بعد اب حالات مکمل تبدیل ہو چکے ہیں اور اکیسویں صدی میں داخل ہو کر اب دونوں فریق مزید ان فرقہ ورانہ لڑائیوں سے تنگ آ گئے ہیں۔ محنت مزدوری کا آدھے سے زیادہ پیسہ انکے اسلحے پر خرچ ہو رہا ہے۔
مذہبی اور مسلکی لڑائیوں کے علاوہ قبائلی جھگڑے ہیں جو صحراؤں، پہاڑوں اور پانیوں پر پیش آتے ہیں اور بعض لڑائیاں صدیوں سے چلتی آرہی ہے۔ مثلاً شبک، اور بالش خیل کے ہزاروں ایکڑ اراضی پر قبضے ہوئے ہیں اور نستی کوٹ کے پہاڑیوں پر ناجائز قبضہ ہے۔ پیواڑ میں پہاڑوں اور پانی پر تصرف کا جنگ عرصہ دراز سے لڑا جا رہا ہے تو روڈ اور راستوں کے مسئلے اور مسائل قابل ذکر ہیں۔
کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو پانچ سال محصور رکھا گیا جب کرم ایجنسی کو پشاور اور پاکستان سے ملانے والے واحد شاہراہ 2007 سے 2011 تک شیعہ آبادی کیلئے طالبان نے بند رکھا تھا۔ لاکھوں کی آبادی غذائی اجناس اور ادویات کی قلت سے متاثر ہوئی، ہزاروں بچے متاثر ہوئے، ہسپتالوں میں تڑپ تڑپ کر جانیں دیں اور سکول جانے سے محروم رہے تب کسی جماعت اسلامی یا دفاع پاکستان نے کوئی احتجاجی ریکی نکالی اور نہ ہی کوئی قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئے۔ بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سرپرستی میں کانوائے لوٹے رہے اور صدہ شہر اور گردو نواح میں طوری بنگش قبیلے کے بیسیوں لوگوں کو اغوا کیا جاتا رہا، اغواشدگان کو اذیتیں دیکر قتل کیا جاتا رہا اور انکے اعضاء کاٹ کر جنازے پارچنار بھیجے جاتے رہے۔ یہ وہ واقعات ہیں جو میرے سامنے ہوئے اور جسے میں کھبی بھلا نہیں سکتا۔ ان سارے دل دہلا دینے والے واقعات کی ویڈیو فوٹیجز موجود ہے جس پر ایک اعلی سطحی انکوائری کی ضرورت ہے۔ کہ ریاست پانچ سال تک ایک قبیلے کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام کیوں رہی؟ ریاست کے سامنے انکے بچوں کا قتل عام کیوں ہوتا رہا؟ ریاست ماں کی جیسی ہوتی ہے! ایک ماں کے سامنے انکے بچوں کے سر قلم ہوتے رہے اور انکے اعضاء کاٹ کاٹ کر گھروں کو بھیجتے رہے۔ آپ یقین کریں ان علاقوں میں آج تک آپریشن ہواہے اور نہ ہی اسلحہ جمع کرنے کا تقاضا کیا جاتا ہے۔
کرم ایجنسی میں شرح خواندگی اسلام آباد کے برابر ہے پاراچنار جیسے چھوٹے شہر میں تقریباً پچاس پبلک سکول و کالجز ہیں جنہوں گزشتہ دس سال میں تقریباً پانچ سو ڈاکٹرز، پروفیسرز، اور دو سو کے قریب فوجی آفیسرز پیدا کیئے ہیں جو ملک کے طول و عرض میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح صدہ قصبے میں بھی بہت اعلی سکول قائم ہیں جو بہترین طلبا اور پروفیشنلز سامنے لا رہے ہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ریاست ان پروفیشنلز کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے اور سید رضی شاہ جیسے قابل قدر ماہر تعلیم ہوں یا یوسف حسین جیسے واپڈا کے اہلکار، سید عسکر علی شاہ جیسے بزرگ ملک ہوں یا ڈاکٹر سید ریاض حسین جیسے سماجی و سیاسی لیڈر سرِعام قتل ہوتے رہے ہیں اور حکومت انہیں تحفظ دینے میں ناکام نظر آرہا ہے۔ حکومت دہشتگرد تنظیموں کے سامنے بے بس نظر آرہا ہے لیکن پُرامن قبائلیوں سے اسلحہ جمع کرنے کا تقاضا کیا جاتا ہے۔
کرم ایجنسی کے طوری بنگش قبائل کے مسائل حل کیئے بغیر ان کو غیر مسلح کرنا دوسری مخصوص قبائل کے ساتھ ہمدردی تصور کی جائے گی کیونکہ وہ طاقت کی زور پر مزید علاقوں پر قابض ہو جائیں گے۔ جس سے حکومت کیلئے مسائل حل نہیں ہونگے۔ بلکہ مزید بڑھ جائیں گے کیونکہ پھر بات یہاں رکے گی نہیں۔
حکومت ایجنسی کے طوری، بنگش قبائل کو غیر مسلح کرنے سے پہلے قبائلیوں کا گرینڈ جرگہ بلا کر انہیں سنیں اور ان کو اعتماد میں لیں۔ کرم ایجنسی کے طوری بنگش قبائل پاکستان کے خلاف ہیں اور نہ ہی کھبی حکومت یا پاک فوج پر بندوقیں تھان کر بغاوت کی ہے، دوسری طرف یہاں طالبان اور داعش جیسے ملک دشمن اور انسانیت دشمن دہشتگرد تنظیمیں موجود ہیں جو آرمی پبلک سکول اور جی ایچ کیو پر حملے جیسے سنگین حملوں میں ملوث رہے ہیں اور خودکش دھماکوں اور بازاروں و مسجدوں میں آندھادھند فائرنگ کے واقعات میں ملوث ہیں پاراچنار میں ایسی کوئی تنظیم نہیں جن کے ہاتھ اسی ہزار بے گناہ پاکستانیوں کے خون سے ہاتھ رنگے ہوں۔ پاکستان حکومت دہشتگردوں اور خودکش بمباروں کی تحقیقاتی رپورٹس سامنے لائیں تو اس میں پاراچنار کے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والا ایک بھی دہشتگرد نہیں ہوگا۔
جہاں داعش اور طالبان کی موجودگی ہے وہاں حکومت نے آپریشن کا فیصلہ بھی نہیں کیا ہے مثلاً صدہ، بوشہرہ، تری منگل، غوزگڑیئ اور چند اور علاقے جہاں شدت پسند کالعدم تنظیموں کا نٹ ورک موجود ہے اور وہاں پاک آرمی کی کوئی چیک پوسٹیں ہیں اور نہ ہی وہاں ان کو جانے کی اجازت ہے۔ لیکن سب سے پہلا پیواڑ، بوڑکی اور خرلاچی جیسے سرحدی گاؤں جا کر قبائلیوں سے اسلحہ جمع کا تقاضا کرتا ہے۔ ان گاؤں کے لوگ ہمیشہ حالت جنگ میں ہوتے ہیں اور ہتھیار کے بغیر ایک گھنٹہ بھی وہاں رہنا محال ہے۔ کیونکہ اسلحہ ایک توازن پیدا کرتا ہے۔ اگر یہ توازن بگڑ جائے تو تو ایک قبیلہ دوسرے پر حملہ آور ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے کرم ایجنسی میں پہاڑ، صحرا اور پانی کے جھگڑے بھی دیکھتے ہی دیکھتے مذہبی لڑائیوں میں تبدیل ہو کر پورے وادئ کرم کو اپنے لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
قومی اسلحہ تحویل میں لینے کا مناسب حل۔
جس طرح ہر ملک کو اپنے دفاع کا حق ہے اسی طرح ہر شخص اور ہر قبیلے کو بھی اپنی دفاع کا حق حاصل ہے۔ حکومت مندرجہ بالا حالات اور واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے طوری قوم کے سیاسی، سماجی اور علاقائی تحفظ کی ذمہ داری اُٹھاتے ہوئے پہلے ٹھوس اقدامات کریں اور تین صدیوں سے وادئ کرم میں مقیم ان حساس قبائل کو تحفظ کا احساس دلائے تاکہ اس قبیلے کو موجود خطرات سے بچانے کا کوئی تو سامان ہو۔ اگر کل طوری قبیلے کو غیر مسلح کیا جائے تو دوسرے ہی دن القاعدہ، طالبان اور دیگر دشمن قوتیں حملہ آور ہوجائیں گی۔ کیونکہ تری منگل، شلوزان تنگی، غوزگڑیئ اور بوشہرہ طالبان اور داعش کا گڑھ بن چکا ہے اور یہ یہ سارے علاقے بوشھرہ کے علاوہ پہاڑی علاقے ہیں جہاں حکومت پاکستان کی رٹ نہیں لیکن پیواڑ، بوڑکی، خرلاچی، نستی کوٹ سمیت پاراچنار شہر انکے راکٹ لانچرز اور توپ خانے کی زد پر ہے۔ حکومت پاکستان اور پاک فوج نے طوری قبیلے کو کھبی بھی تحفظ فراہم نہیں کیا ہے۔ پچھلے مہینے افغانستان کی طرف سے پاک فوج کے گوی چیک پوسٹ پر حملہ ہوا تھا تو کرم ملیشیا کے جوانوں نے بھاگنے میں عافیت جانی، لیکن طوری۔ قبیلے کے جوانوں نے جا کر افغان فورسز سے زبردست جنگ کی اور پوسٹ واگزار کرایا۔ کیونکہ اس پوسٹ کے بعد پیواڑ گاؤں آتا ہے اور یہ لوگ ہمیشہ پہاڑوں کے چھوٹیوں پر الرٹ رہتے ہیں اور اندرونی و بیرونی دشمن پر نظر رکھتے ہیں۔ انگریز نے طوری قوم کی تحفظ یقینی بنانے کیلئے نہ صرف کرم ملیشیا کھڑا کردیا تھا بلکہ قبائل میں مفت اسلحہ بھی تقسیم کیا تھا، 1986 میں ضیاالحق نے کرم ملیشیا کو پورے پاکستان میں تقسیم کرکے طوری بنگش قبائل کو طویل جنگوں میں جھونک دیا اور اب طوری قوم سے اسلحہ اکھٹا کرکے دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاہتے ہیں؟
آئین اسلامیہ جمہوری پاکستان نے قبائلی علاقوں کو مکمل تحفظ دیا ہے اور کسی بھی آپریشن سے پہلے قبائلی عمائدین کو اعتماد میں لیا جاتا ہے۔ اس آئینی شک پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا جاتا ہے؟ بعض ادارے آئین سے ماورا اقدامات کرکے آئین پاکستان اور پاکستان کے بنیادی اکائیوں کو کمزور کرنے کی سازشی تھیوری کو مزید تقویت پہنچانے پر کیوں تلی ہوئی ہیں؟ قائداعظم محمد علی جناح نے پاراچنار آکر قبائلی عوام کو پاکستان میں شامل ہونے کی دعوت دی تو ان قبائل نے قائداعظم کی درخواست پر لبیک کہتے ہوئے پاکستان کیساتھ الحاق کیا تھا اور تحریک آزادی کشمیر سمیت 1965 اور 1971 کی جنگوں میں ان قبائل کا کردار ڈھکا چھپا نہیں۔ یہ محب وطن پاکستانی اسلام آباد اور لاھور و کراچی کے پاکستانیوں سے کسی بھی حوالے سے کم نہیں۔
ان قبائلیوں کو مین سٹریم میں کیوں نہیں لایا جا رہا۔ تین ملین پشتونوں کو ایک مولانا فضل رحمن نے اغوا کرکے ایف سی آر کے پنجرے میں دوبارہ بند کرنے کی کوشش کی۔
بہت سارے تجاویز میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کرم ملیشیا میں متناسب بھرتی کی جائے اور طوری، بنگش، منگل، مقبل وغیرہ قبائل کو آبادی کے لحاظ سے بھرتی کرکے انہی قبائل کی تحفظ پر مامور کیئے جائیں۔ یہ ملیشیا صرف کرم ایجنسی میں امن کی فضا برقرار رکھنے کیلئے استعمال ہوگی پیواڑ، بوڑکی، نستی کوٹ، شلوزان سمیت سرحدی علاقوں کی نگرانی کرم ملیشیا کے اسی ونگ کے حوالے کرکے طوری، بنگش قبائل کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ اس ملیشیا کو پہلے کی طرح کسی دوسری طرف تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ تاکہ ان قبائل کو احساسِ تحفظ ہو۔
طوری قبائل کیساتھ جو بھی اسلحہ ہے انکی تعداد اور مقدار کی لسٹیں حکومت کو فراہم کی گئیں ہیں۔ جس جگہ پر اسلحہ رکھا گیا ہے اور جن افراد کے پاس اسلحہ رکھا گیا ہے وہ معلومات بھی حکومت کو فراہم کی گئی ہیں۔ یہ سارا صرف اسلیئے کیا گیا ہے کہ کہ ان مخصوص قبائل کا اسلحہ صرف دفاعی نوعیت کا ہے اور یہ قبائل حکومت پاکستان یا دوسرے قبائل پر کھبی بھی حملہ آور نہیں ہوئیں۔ ان مخصوص قبائل کو درپیش مشکلات کو حل کیئے بغیر، انکے تجویز سننے بغیر، انکو تحفظ اور احساس تحفظ دیئے بغیر اسلحہ تحویل میں لینا حکومت کی غیر دانشمندی ہے۔ قبائلی اور مذہبی جنگوں کی ایک طویل تاریخ سے آگاہ ہوتے ہوئے ایک مخصوص قبیلے، قوم اور مسلک سے تعلق رکھنے والوں سے اسلحہ جمع کرنا غیر دانشمندی سے زیادہ بدنیتی پر مبنی نظر آتی ہے ایک ایسے وقت میں جب طالبان اور داعش ان قبائل کے سروں پر کھڑے ہیں۔ سارے صورتحال کے باوجود اسلحہ جمع کرنے کا تقاضا سمجھ سے بالا تر ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوش کے ناخن لیں اور قبائلیوں کے ساتھ بیٹھ کر لائحہ عمل ترتیب دیں۔

No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

پاراچنار سے تعلق رکھنے والے واپڈاکے ایکسین یوسف حسین طوری ایبٹ آباد میں قتل

پاراچنار سے تعلق رکھنے والے واپڈاکے ایکسین یوسف حسین طوری ایبٹ آباد میں قتل | parachinarvoice |
ABBOTTABAD: 10Dec2016 - Body of Xyen PESCO Yousaf Hussein laying on Spot, after Unknown men firing near Shama Bakery Murree road, Sheikh Ul Bandi.
Shafiq Ahmed's insight:
پاراچنار سے تعلق رکھنے والے واپڈاکے ایکسین یوسف حسین طوری کو سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے تکفیری دہشتگردوں نے شیخ البانڈی (ایبٹ آباد) میں گولیاں مار کر قتل کردیاگیا۔
اللہ تعالی مرحوم سمیت ہم سب پر رہم فرمائیں۔
کوئی لیڈر نہیں جو بکھرے ہوئے قوم کو اکھٹا کریں اور ایک متفقہ لائحہ عمل ترتیب دیں تاکہ اس قسم کے المناک اور دردناک واقعات کو روک لیں۔
#ASWJ #SSP #LeJ #ShiaGenocide
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

انسانی حقوق کے علمبردار خرم ذکی بھرے بازار میں شہید۔ از شفیق طوری

انسانی حقوق کے علمبردار خرم ذکی بھرے بازار میں شہید۔ از شفیق طوری | parachinarvoice |
Religious, political, terrorism.
Shafiq Ahmed's insight:
 پاکستان کے "مالک" خرم ذکی کو تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے پاکستان میں قتل کرکے پاکستان دشمنی کا ثبوت دے دیا ہے۔
انسانی حقوق کے علمبردار خرم ذکی کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں خون میں نہلا کرکے انسانیت کا جنازہ نکال دیا ہے۔
سول سوسائٹی کے دبنگ آواز خرم ذکی کو تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے بھرے بازار میں قتل کرکے سول سوسائٹی کا جنازہ نکال دیا ہے۔
شیعہ نسل کشی کے وکیل خرم ذکی کو تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے کھلے عام قتل کرکے انکے دعوے پر مہر تصدیق ثبت کر دیا ہے۔
شیعہ نوجوان خرم ذکی (جو ان کی سب سے بڑی گناہ بھی تھی) کو تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے رات کی تاریکی میں قتل کرکے اپنا بد نُما چہرہ چُھپانے کی ناکام کوشش کی ہے۔
صحافی خرم ذکی کو تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے سرِعام قتل کرکے آزادئِ صحافت کا گلا گھونٹنے کی ناکام کوشش کی ہے۔
مذہبی سکالر خرم ذکی کو تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کرکے شدت پسندی اور قتل و قتال کا ثبوت پیش کردیا ہے۔
تعمیر پاکستان میگزین کے ایڈیٹر خرم ذکی کو قتل کرکے تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے تعمیرِ پاکستان میں رخنہ ڈالنے کی مذموم کوشش کی ہے۔
بے گناہ لوگوں کے قتل پر پاکستان کے ہر چوراہے پر کھڑے ہوکر دبنگ احتجاج کرنے والے خرم ذکی کو ہمیشہ کے لیئے خاموش کردیا گیا ہے۔
خرم ذکی کے سینے پر انسانی و سماجی خدمت کے جتنے تمغے سجے ہوئے تھے، تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے ہر ایک تمغے پر گولی چلا کر انسانیت دُشمن اور سماج دُشمن ہو نے کا ثبوت دے کر ظلم و بربریت کی ہے۔
تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کے باپ نے آج سے چودہ سو سال پہلے ایک سنسان ریگستان میں نواسہِ رسول کو قتل کیا تھا تاکہ قتل کو چھپا سکے کہ اس لک و دک صحرا اور بے آب و گیاہ ریگستان میں کوئی امام کے مدد کیلئے نہیں اُٹھے گا لیکن ایک عورت اُٹھی، جنہوں نے نام نہاد اسلامی خلافت کو چیلنج کیا اور شہر، شہر، گاؤں، گاؤں، سڑکوں اور درباروں میں ظالم کو آشکار اور شرمندہ کرکے نیست و نابودی کی راہ پر گامزن کردیا، تو آج کے ظالم اولادِ یزید کے مقابلے میں دنیا کے کونے کونے میں کروڑوں لوگ سڑکوں پر لبیک یا حسین کی صدائے حق بلند کرکے احتجاج نظر آتے ہیں، ان تکفیری دہشتگردوں کو سمجھنا چاہئیے کہ ہم ان کی قتل و غارت گری اور ظلم و بربریت سے ڈرنے والے نہیں۔ تم نے ایک خرم ذکی کو شہید کردیا ہے ہم لاکھوں خرم ذکی اور پیدا کرکے دکھا ئیں گے۔
چلو حسین کی تقلید بھی کرے کوئی
کہ صرف سوگ منانے سے کچھ نہیں ہو گا
اٹھو کہ ہم بھی جھکا دیں کسی یزید کا سر
لہو کے اشک بہانے سے کچھ نہیں ہو گا
عرصہ دراز سے مملکت خداد پاکستان میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا ہے جس میں ایک اور شہید کا اضافہ ہوا۔
اطلاعات کے مطابق ہفتہ سات مئی کے رات دو موٹر سائیکل سواروں نے نارتھ کراچی میں ایک ہوٹل میں موجود تین نوجوانوں پر خود کار اسلحہ سے اندھا دھند گولیاں برسائیں، فائرنگ سے تینوں نوجوان شدید زخمی ہوگئے، ان زخمیوں میں ایک نوجوان جناب خرم ذکی بھی شامل تھے، جن کے سینے میں پانچ گولیاں پیوست کی گئی تھیں۔ خرم ذکی کو پہلے عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا اور بعد میں آغا خان ہسپتال پہنچا دیا گیا لیکن زخموں کی تاب نہ لا کر خرم ذکی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
پاکستان میں سیاسی پارٹیوں سمیت مختلف مافیاؤں کے خلاف کریک ڈاؤن کرکے ان کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن اگر پاکستان، خصوصاً کراچی، لاہور، گلگت، کوئٹہ اور پشاور میں کسی کے خلاف کوئی منظم کارروائی نہیں ہوئی ہے تو وہ مذہبی جنونی، مذہبی انتہا پسند اور تکفیری دیوبندی دہشتگرد ہیں جن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ تکفیری دیوبندی دہشتگرد کھلے عام ہتھیاروں سمیت دندناتے پھرتے ہیں اور جس کسی کو بھی جب چاہے قتل کرتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ روکنے کا نام نہیں لیتا۔ تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے پاکستان کے تقریباً اسی ہزار پاکستانی شہری شہید کئیے ہیں۔ پاکستان آرمی اور پولیس کے ہزاروں شہیدوں سمیت انسانی حقوق کے نمائندوں، صحافیوں، ڈاکٹرز اور شیعہ مسلک کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پروفیشنل کے شہادتوں کی ایک طویل داستان ہے، اور اس طویل داستان میں داستان گو خرم ذکی بھی شامل ہوئے۔
پاکستان کے تکفیری دیوبندی دہشتگرد القاعدہ، شام و عراق کے داعش، پاکستان و افغانستان کے طالبان نائجیریا کے بوکو حرام، اور صومالیہ کے الشباب سے کسی طور بھی کم نہیں۔ مذکورہ بالا دہشتگرد تنظیموں کا بغور جائزہ لیں تو ان سب کا عقیدے ایک جیسے، ان سب کا طریقہ واردات ایک جیسے اور ان سب کا ٹارگٹ ایک جیسا۔
پاکستان میں کالعدم لشکرِ جھنگوی، کالعدم سپاہ صحابہ، کالعدم اہل سنت والجماعت سمیت درجن بھر تکفیری دیوبندی جماعتیں جہاد فی سبیل شیطان میں مصروف عمل ہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ سمیت ملک کے دو درجن سے زیادہ جاسوسی کے ادارے، پاکستان آرمی، رینجرز، پولیس سمیت ایک درجن کے قریب لاء انفورسمنٹ
کے ادارے، عدالتیں ان تکفیری دہشتگردوں کے ہاتھ روکنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ پاکستان کے مختلف لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کے پاس تکفیری دہشتگردوں کا مکمل ڈیٹا موجود ہے کہ انتہا پسند،تشدد پسند اور شدت پسند تکفیری دیوبندی دہشتگرد پاکستان کے مختلف اقلیتوں اور اقلیتی فرقوں، سول سوسائیٹی، ڈاکٹرز، صحافیوں، پروفیسرز سمیت زندگی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے نمایاں شخصیات کو چُن چُن کر قتل کرہے ہیں۔
جب تک پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور لاء انفورسمنٹ اجنسیاں خاموش تماشائی بیٹھے رہیں گے، پاکستان میں قتل و قتال روکنے والا نہیں۔ جب تک پاکستان اور کراچی میں جامعہ بنوریہ، لال مسجد جیسے مدارس موجود ہیں جن کے دہشتگرد خودکش حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں، پاکستان اور کراچی میں مذہبی اور مسلکی بنیادوں پر قتل ہوتے رہیں گے۔ جب تک کراچی میں اورنگزیب فاروقی جیسے تکفیری دیوبندی دہشتگرد حکومتی سیکیوریٹی میں کھلے عام پھرتے رہتے رہے کراچی میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ ہوتی رہیگی۔ جب تک سپاہ صحابہ کے سابق سیکریٹری جنرل طاہر اشرفی جیسے لوگ بیس بدل کر پاکستان کے مین سٹریم میڈیا پر جلوہ گر ہوتے رہیں گے، پاکستان میں فرقہ واریت ہوتی رہی گی اور اقیلتیں قتل ہوتی رہیں گی۔ طاہر اشرفی کا ذکر اسلئے کیا گیا ہے کہ طاہر اشرفی تعمیر پاکستان میگزین کو بند کرنے کی بھرپور کوشش کرتے رہے ہیں۔
اور جب تک پاکستان میں کالعدم سپاہ صحابہ کے مولانا محمد احمد لُدھیانوی جیسے لوگ پارٹی کا نام بدل بدل کر انتخابات میں حصہ لیتے رہے اور عدالتیں خاموش تماشائی بنی رہی تو پاکستان میں فرقہ واریت کی عفریت سے نجات ناممکن ہے۔
پاکستان میں تکفیری دیوبندی دہشتگرد قابو سے باہر ہوگئے ہیں، پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور مختلف لاء انفورسمنٹ ایجنسیاں تکفیری دہشتگردوں کو نکیل ڈالنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سمیت پاکستان آرمی و رینجرز سمیت مختلف لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کی طرف تکفیری دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہ کرنا تکفیری دہشتگردوں کو ٹارگٹ کلنگ کا لائسنس دینے کے مترادف ہے۔
خرم ذکی شیعہ نسل کشی کرنے پر کالعدم سپاہ صحابہ، کالعدم لشکر جھنگوی اور کالعدم اہل سنت والجماعت سمیت دیگر تکفیری دہشتگرد تنظیموں کے خلاف میدان عمل میں شدید احتجاج کرتے رہے اور لال مسجد اور مولوی عبدالعزیز کے کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے رہے جس پر ان تکفیری دہشتگردوں کی طرف سے روزانہ قتل کی دھمکیاں ملتی رہی جن کا اظہار خرم ذکی مختلف فورم پر کرتے رہے اور مطلقہ اداروں کو دھمکیوں کے متعلق معلومات فراہم کرتے رہے۔
اب سندھ حکومت، رینجرز اور پولیس سمیت دیگر ایجنسیوں کی ذمہ داری ہے کہ خرم ذکی کی فراہم کردہ قتل کی دھمکیوں اور معلومات کے عین مطابق قتل کی تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے ملزمان کو قانون کے شکنجے میں لائیں اور قرار واقعی سزا دی جائے تا کہ شہید خرم ذکی کے غمزدہ خاندان کی تشفی ہو جائے اور دہشتگردوں کے عزائم خاک میں ملا کر مملکت خداد پاکستان کو دہشتگردی کے لعنت سے پاک ہوجائے۔
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

پاراچنار کرم ایجنسی میں سنی شیعہ اتحاد کا عملی مظاہرہ

پاراچنار کرم ایجنسی میں سنی شیعہ اتحاد کا عملی مظاہرہ | parachinarvoice |
Politics, religion 
Shafiq Ahmed's insight:
کرم ایجنسی: پاراچنار سے بہت بڑی خبر۔ اس سے بڑی خوشی نہیں ہو سکتی جب سنی اور شیعہ علماء متفق طور پر جلسوں سے خطاب فرمائیں۔
کرم ایجنسی پاراچنار میں سنی اور شیعہ علماء نے دس قدم آگے بڑھتے ہوئے اس اتفاق اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کیا ہے اور دونوں مکتبہ فکر کے علماء سمیت انجمن حسینیہ نے بے نظیر مثال پیش کی ہے۔
اب اس اتفاق اور اتحاد کو مضبوط تر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ حسین و جمیل وادئ کرم ایجنسی میں امن و آشتی کی فضا برقرار رہ سکے۔
مرکزی امام بارگاہ پاراچنار میں تین روزہ جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے اہل سنت و الجماعت کے مشہور عالم سردار احمد بریلوی مرکزی چیئرمین قومی امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی، علامہ محمدشعیب ، علامہ گلزار حسین اور دیگر علماء سمیت ایجنسی بھر سے ہزاروں کی تعداد میں سامعین نے شرکت کی۔
علماء نے داماد رسول نے دین اسلام کی سربلندی کے لئے شجاعت اور بہادری کے وہ کارنامے انجام دیئے جو رہتی دنیا تک یاد رکهے جائیں گے. علماء نے کہا کہ مسلمانوں کو اتفاق و اتحاد اور حضرت علی علیہ السلام شیر خدا کے نقشِ قدم پر چلنے کی ضرورت ہے۔
جلسے میں انتظامیہ کے اعلی حکام اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اپر کرم ، تحصیلدار اور سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔ جلسے کیلئے پولیٹیکل انتظامیہ سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔
تصاویر اور معلومات بشکریہ صحافی دوست محمد علی طوری
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

فاٹا ریفارمز کمیٹی کا دورہِ کرم ایجنسی : عمائدین، ٹریڈ یونینز، سیاسی جماعتوں سمیت مختلف طبقات نے بدنام زمانہ ایف سی آر کیخلاف فیصلہ دے دیا، گورنر ہاؤس گو ایف سی آر گو کے نعروں سے گونج اُٹھا۔

Political FCR
Shafiq Ahmed's insight:
فاٹا ریفارمز کمیٹی کا دورہِ کرم ایجنسی : عمائدین، ٹریڈ یونینز، سیاسی جماعتوں سمیت مختلف طبقات نے بدنام زمانہ ایف سی آر کیخلاف فیصلہ دے دیا، گورنر ہاؤس گو ایف سی آر گو کے نعروں سے گونج اُٹھا۔ 
 پاراچنار: (شفیق طوری کا رپورٹ اور تجزیہ) اعلیٰ سطح فاٹا ریفارمز کمیٹی نے وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور جناب سرتاج عزیز کے سربراہی میں پیر اٹھائیس مارچ کو گورنر ہاؤس پاراچنار میں عمائدین کیساتھ جرگہ کیا کمیٹی کے ممبران گورنر خیبر پختونخواہ جناب اقبال ظفر جھگڑا، وفاقی وزیر سفیران جناب عبدالقادر بلوچ وفاقی وزیر زید حامد، قومی سلامتی کے مشیر جناب ناصر جنجوعہ سیکریٹری سفیران جناب ارباب شہزاد کیساتھ ساتھ ایک اعلی سطح ملٹری وفد بھی کمیٹی کیساتھ موجود تھا۔ جبکہ کرم ایجنسی کے منتخب نمائندے ممبر قومی اسمبلی جناب ساجد حسین طوری اور سینیٹر سجاد حسین طوری بھی سٹیج پر براجمان تھے۔ باقاعدہ اجلاس تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا مولانا امیر حمزہ نے قارئین کے دلوں کو تلاوت کلام پاک منور فرمایا۔ جس کے بعد ریفارمز کمیٹی کے ممبران کو فرداً فرداً روایتی قبائلی لونگی پیش کی۔ اسکے بعد سٹیج سیکریٹری جناب پروفیسر جمیل حسین شیرازی نے گورنر خیبر پختونخواہ کو اجلاس سے خطاب کیلئے بلایا۔
گورنر خیبر پختونخواہ نے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایک تاریخی جرگہ ہے جو قبائل کے مستقبل کا تعین کریگی اور وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کو کریدیٹ دیتے ہوئے ارلی
فاٹا اصلاحاتی کمیٹی نے عمائدین سے ایف سی آر قانون، قبائلی علاقوں کو صوبہ سرحد میں ضم کرنے یا علیحدہ صوبہ بنانے سے متعلق تجاویز پر سیر حاصل بحث کی۔
اصلاحاتی کمیٹی سے کرم ایجنسی کے سرکردہ عمائدین نے خطاب کیا اور اکثریت نے فاٹا سے ایف سی آر جیسے فرسودہ قانون اور کالے قانون کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے سید سجاد سید میاں نے الفاظ میں ایف سی آر میں آ،انسانی حقوق کیخلاف قوانین میں ترامیم کا مطالبہ کیا اور وقت کیساتھ ساتھ اس قانون کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی، پیر صاحب کی ان تجاویز کو قبائلی عمائدین نے یکسر مسترد کردیا۔
اصلاحاتی کمیٹی سے دوسرا اور اہم خطاب منیر خان اورکزئی نے فرمایا کہ کرم ایجنسی سمیت فاٹا کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور ایف سی آر کو قبائلی عوام مزید برداشت نہیں کرینگے۔ منیر خان صاحب کے خطاب کو قبائلی عوام نے پسند کیا اور تائید کی۔
کرم ایجنسی کے عمائدین میں سے صرف حوالدار بخت جمال بنگش نے ایف سی آر کے حق میں دلائل دینے کی ناکام کوشش کی۔ حوالدار بخت جمال بنگش انجمن فاروقیہ پاراچنار کے سابقہ سیکریٹری جنرل اور اہل سنت والجماعت کے سرکردہ رہنماؤں میں سے ہیں۔ حوالدار بخت جمال نے کہا کہ اگر ایف سی آر ختم ہوئی تو پاراچنار کے عوام صدہ کے راستے سفر نہیں کرسکیں گے اور اسی طرح بوشہرہ سمیت دیگر علاقوں کے لوگ پاراچنار آنے جانے کے قابل نہیں رہیں گے جو نہایت جاہلانہ اور شر پسندانہ تجویز تھی، حوالدار کو نہایت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب قبائلی مشران نے یک زبان ہوکر بخت جمال کی مخالفت کی اور پورے گورنر ہاؤس نے اعلی سطحی اصلاحاتی کمیٹی کے سامنے کھڑے ہو کر گو ایف سی آر گو کے نعرے لگائے اور بخت جمال کو اپنی تقریر ختم کرکے سٹیج سے بھاگنا پڑا۔
اصلاحاتی کمیٹی سے انجمن حسینیہ پاراچنار کے سیکریٹری جنرل جناب سراج حسین نے خطاب کرتے ہوئے شرکا کی توجہ ایک اہم نقطہ کی طرف مبذول کرائی اور کرم ایجنسی کے منفرد جغرافیہ جو تین اطراف سے ڈیورنڈ لائن یعنی افغانستان نے گھیرا ہے اور کئی دہائیوں سے وقتاً فوقتاً مسلکی جھگڑے سر اُٹھاتے رہے ہیں جن سے کرم ایجنسی کے تحفظ کا مسئلہ لا حق رہتا ہے اور ایجنسی غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہا ہے۔ اپنی تقریر میں انجمن حسینیہ کے سیکریٹری جنرل نے ایف سی آر کے خاتمے پر زور دیا اور مل بیٹھ کر نئے اور متفق نظام وضع کرنے کی تجویز پیش کی۔
جرگہ سے فخر زمان بنگش کے علاوہ دیگر چند عمائدین نے بھی خطاب کیا لیکن جرگہ کی فیصلہ کن تقریر اقبال حسین طوری (بستو) نے کی اور جسے کرم ایجنسی کی ترجمان تقریر کہا جا سکتا ہے۔ اقبال حسین طوری نے فرمایا کہ ایف سی آر ایک ظالمانہ قانون ہے جو اکیسویں صدی میں انسانوں پر نافذ کرنا انسانیت کی تذلیل ہے۔ اقبال حسین طوری نے اصلاحاتی کمیٹی کو تجویز دی کہ اگر ایف سی آر اتنی اچھی قانون ہے تو پورے پاکستان پر نافذ کریں اگر پاکستان کیلئے یہ قانون قابل قبول نہیں تو پھر قبائلی عوام کسی بھی حوالے سے دیگر پاکستانی عوام سے کم نہیں اور قبائل کو مرکزی دھارے میں شامل کرکے ترقی اور خوشحالی کے مواقع پیدا فراہم کریں۔ اقبال حسین طوری نے پاکستان میں کمیٹیوں کے کردار پر اعتراض کرتے ہوئے اسے ایک لاحاصل مشق قرار دیا اور فرمایا کہ پاکستان میں جو معاملہ حل نہ کرنے کا سوچ ہو اور معاملات اُلجھانے کا اور فائلوں میں دفن کا پروگرام ہو تو پھر کمیٹی بنائی جاتی ہے لیکن توقع ظاہر کی کہ فاٹا اصلاحاتی کمیٹی اس ٹرینڈ کو ختم کرکے جلد از جلد فیصلہ اور لائحہ عمل تیار کریگی۔ عمائدین کرم ایجنسی نے اقبال حسین طوری کی جرگہ سے خطاب کو تاریخی اور فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے داد دی۔
جرگے سے اختتامی خطاب فاٹا ریفارمز کمیٹی کے سربراہ اور وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور جناب سرتاج عزیز نے کی۔ سرتاج عزیز نے قبائلی عمائدین کو یقین دلایا کہ فاٹا کے مستقبل کا تعین انکے اُمنگوں، تجاویز اور مشاورت کیمطابق کیا جائے گا۔
جرگہ کے بعد ایم این اے ساجد حسین سے تفصیلی بات چیت کی جو جرگہ کے انعقاد اور کامیابی سے کافی خوش دکھائی دئیے اور کہا کہ کرم ایجنسی کے عوام نے ایف سی آر کے خاتمے کا مطالبہ دہرایا ہے۔ ساجد طوری نے فرمایا کہ قبائلی عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور قومی اسمبلی سمیت مختلف کمیٹیوں اور قومی سلامتی کے اداروں کیساتھ ملاقاتوں میں ایف سی آر کیخلاف آواز اُٹھایا ہے۔
سینیٹر سجاد حسین طوری سے بات چیت تو نہیں ہوئی لیکن سٹیج پر بیٹھے انکے حشاش بشاش چہرے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ جرگے کے نتیجے سے کافی خوش تھے۔ ایک ہفتہ پہلے اسلام آباد میں سینیٹر سجاد سے تفصیلی بات چیت ہوئی تھی اور انہوں نے فرمایا کہ وہ ہر فورم پر ایف سی آر قانون کیخلاف آواز اٹھاتے رہینگے۔
No comment yet.
Rescooped by Shafiq Ahmed from NewsOnline!

Blast in Shia Mosque in Saudi Arabia, AlAhsa "Ali Raza Mosque" Kills Three

Blast in Shia Mosque in Saudi Arabia, AlAhsa "Ali Raza Mosque" Kills Three | parachinarvoice |
DUBAI: An attack on a mosque in al-Ahsa ineastSaudi Arabia killed three people on Friday, Saudi-owned al-Arabiya television reported. An...

Via omermirza
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

پاکستانی طالبان بمقابلہ افغانی طالبان! اور پاکستانی داعشور، صحافی

پاکستانی طالبان بمقابلہ افغانی طالبان! اور پاکستانی داعشور، صحافی | parachinarvoice |

پاکستانی طالبان بمقابلہ افغانی طالبان!
آرمی پبلک سکول پشاور بمقابلہ باچا خان یونیورسٹی چارسدہ
باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے ذمے داری ملا عمر منصور والے طالبان گروپ نے قبول کی ہے، جبکہ ملا فضل اللہ گروپ کے خراسانی نے کہا ہے کہ اس حملے سے انکا کوئی تعلق نہیں۔ سلیم صافی نے جیو نیوز پر عائشہ بخش کے پروگرام میں کہا! مزید لنک
یاد رہے آرمی پبلک سکول پر حملہ پاکستانی طالبان نے 16 دسمبر 2015 کو کیا تھا جس میں بچوں سمیت 140 افراد شہید ہوئے تھے۔
اور آج 20 جنوری 2016 کو افغانی طالبان نے باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر حملہ کرکے طالبعلموں سمیت بیس افراد کو شہید کیا گیا۔
کوئی سلیم صافی کو بتائیں کہ آرمی پبلک سکول پر حملہ پاکستانی طالبان ملا فضل اللہ نے کیا تھا اور باچا خان یونیورسٹی پر حملہ افغانستان کے طالبان ملا اختر منصور گروپ نے قبول کی ہے تو پاکستانی اور افغانی طالبان میں فرق کیا ہے؟
ہم تو روز اوّل سے بتا رہے ہیں کہ افغانی طالبان یا پاکستانی طالبان میں کوئی فرق نہیں لیکن آپ جیسے نام نہاد سینئیر صحافی ہو یا اوریا مقبول یا وزیراعظم کے مشیر اعظم عرفان صدیقی جیسے دانشور (داعشور) پوری قوم کو گمراہ کرتے رہے اور افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کے بیانیہ کے مؤجد ہیں
اب اوریا مقبول ہوں یا انصار عباسی، جاوید چوہدری ، خود سلیم صافی ہو یا حامد میر جو افغانستان طالبان کے شیدائی ہیں اور ملا عمر کو امیرالمؤمنین کہتے رہے ان سب کیخلاف ضرب غضب شروع کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔
حکومت کو چاہئیے کہ مندرجہ بالا افراد کے پچھلے پانچ سال کے کالم اور ٹی وی پروگراموں کا تجزیہ کریں اور افغانی طالبان کے حق میں دلائل دینے والوں سے حساب لیا جائے۔
باچا خان یونیورسٹی کے پروفیسر اور طالبعلموں کا خون ان سب کے ہاتھ پر صاف دیکھا جا سکتا ہے جو افغانی طالبان اور ملا عمر کے شیدائی تھے۔
شام اور عراق کا داعش، دنیا بھر میں پھیلی القاعدہ، نائجیریا کے بوکو حرام، صومالیہ کے الشباب سمیت پاکستانی طالبان سپاہ صحابہ، اہل سنت والجماعت ، لشکر جھنگوی اور افغانی طالبان تکفیری وہابی، تکفیری سلفی، اور تکفیری دیوبندی ہیں، اور ان میں کوئی فرق نہیں، سب خونخوار وحشی درندے ہیں، انکی تعریف کے لیئے مجھے الفاظ نہیں مل رہے۔

No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

پشاور میں شیعہ مسلمانوں کے ساتھ صوبائی حکومت کا سوتیلی ماں جیسا سلوک، وزیراعلی پرویز خٹک کی ہٹ دھرمی

پشاور میں شیعہ مسلمانوں کے ساتھ صوبائی حکومت کا سوتیلی ماں جیسا سلوک، وزیراعلی پرویز خٹک کی ہٹ دھرمی | parachinarvoice |

پشاور میں شیعہ مسلمانوں کے ساتھ صوبائی حکومت کا سوتیلی ماں جیسا سلوک۔۔۔۔

تیرہ فروری دوہزار پندرہ کو حیات آباد پشاور میں واقع شیعہ مسلمانوں کی مسجد ،امامیہ مسجد پر یکے بعد تین خود کش حملے ہوئے جس میں دو درجن سے زائد افراد شہید اور پانچ درجن سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔۔ حملے کے بعد صوبائی حکومت نے امامیہ مسجد انتظامیہ کیساتھ کئی مطالبات پر اتفاق کیا اور وعدہ کیا کہ تما م تر مطالبات بہت جلد پورے کئے جائینگے لیکن آج تک وہ مطالبات پورے نہیں کئے گئے بلکہ ستم ظریفی تو یہ ہے۔ کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا جناب پرویز خٹک کو ملاقات کے لئے کئی بار درخواستیں لکھے لیکن وزیر اعلی صاحب کے پاس امامیہ مسجد انتظامیہ کے ساتھ ملاقات کے لئے ٹائم ہی نہیں۔ امامیہ مسجد پر حملےکو ایک سال پورا ہونے کو ہے۔ لیکن صوبائی حکومت ہر وعدے سے تقریبا پیچھے ہٹ چکی ہے۔

میں عوامی نیشنل پارٹی کا اس لئے حامی ہو۔ کہ اگر وہ وعدہ پورا نہیں کرسکتے ملاقات تو کر لیتے ہیں۔ لیکن پروٹوکول اور کرپشن ختم کرنے کے نام پر ووٹ حاصل کرنے والے عوام سے ملاقات کے لئے بھی ٹائم نہیں دیتے جو کہ صوبائی حکومت کی منہ پر طمانچے کے مترادف ہے۔

ہم صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کے سربراہ سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں۔ کہ وہ امامیہ مسجد حیات آباد انتظامیہ کے ساتھ کئے گئے وعدے پورا کریں۔ ایسا نہ ہو کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے کوئی دوسرا واقع رونما ہوجائے۔

ہم اُمید کرتے ہیں۔ کہ صوبائی حکومت اور عمران خان صاحب اس نازک معاملے کو توجہ دیں گے
اور شیعہ مسلمانوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک نہیں کرینگے۔۔۔

تفرقہ بازی مٹاؤ۔۔۔۔ انسانیت اور امن پھیلاؤ

بخدا۔۔۔۔ مزہ تفرقہ بازی اورایک دوسرے کے خلاف فتوے دینے میں نہیں جتنا کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر جینے میں ہے۔ آئیں ایک دوسرے کے ساتھ نیک سلوک کریں نہ کہ مذہب اور فرقے کے نام پر شجرکاری کریں۔۔۔۔

No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

کرم ایجنسی، سیکیوریٹی ادارے اور پولیٹیکل انتظامیہ

کرم ایجنسی، سیکیوریٹی ادارے اور پولیٹیکل انتظامیہ | parachinarvoice |
پاک فوج کے اہلکار قبائلی عمائدین سے ملاقات کرتے ہوئے
Shafiq Ahmed's insight:
کرم ایجنسی، سیکیوریٹی ادارے اور پولیٹیکل انتظامیہ کرم ایجنسی دیگر ایجنسیوں کے نسبت پُرامن ہوچکا ہے جس میں سیکیوریٹی اداروں کیساتھ ساتھ علاقے کی عوام کی بھی بھر پور کاؤشیں شامل ہیں۔ اپر کرم ہو یا لوئر کرم اور یا سنیٹرل کرم نہایت قابل قدر اور معزز مشران قوم اور نوجوان موجود ہیں جنہوں نے ایجنسی میں لگی آگ بجھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب وقت آ پہنچا ہے کہ کرپٹ مشران اور تخریب کار جوانوں کی حوصلہ شکنی کی جائے اور پولیٹیکل انتظامیہ میں بیٹھے کالی بھیڑوں کو آئینہ دکھایا جائے۔
۲۰۰۷ سے ۲۰۱۱ تک کے خونریز قبائلی اور فرقہ ورانہ لڑائی کے بعد کوئی بھی ذی شعور جوان اسلحہ اُٹھانے کے حق نہیں اور کرم ایجنسی کے جوان کھیل اور تعلیم کے شعبے میں روز افزوں ترقی کررہے ہیں جس میں پبلک سیکٹر کے سکولوں کا کردار قابل قدر ہے۔
پانچ سالہ خونریز فرقہ ورانہ اور قبائلی جنگ میں سیکیوریٹی اداروں کا کردار نہایت اہم ہے۔ جہاں چار سال تک سب سیکیوریٹی ادارے خاموش تماشائی بنے رہے اور ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنتے رہے لیکن پھر ایسا وقت بھی آیا کہ ٹل سے لیکر پاراچنار تک سیکیوریٹی اداروں نے سینکڑوں چیک پوسٹ قائم کیئے اور فرقہ ورانہ اور قبائلی جنگ پر قابو پا لیا۔
تاہم ۲۰۱۱ کے بعد دہشتگردوں نے بعض قبائل کیساتھ ملکر کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو خودکش بم دھماکوں کا نشانہ بنانا شروع کیا جس پر پاکستان سمیت دنیا بھر کی طرح یہاں بھی قابو پانا مشکل ہوا ہے۔ ۲۰۱۱ کے قبائلی اور فرقہ ورانہ جنگ کے بعد پارچنار اور گرد نواح کے شیعہ آبادی ۱۱ بڑے خودکش دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے اکثر سہولتکار پکڑے گئے ہیں اور سیکیوریٹی اداروں کے مطابق اس کے سہولتکار مقامی ہیں۔ اب حکومت اور سیکیورٹی اداروں نے ان سہولتکاروں کیخلاف کوئی کارروائی کی ہے یا نہیں یہ بات وہ بتانے سے گریز کررہے ہیں۔ لیکن سب کو پتہ ہے کہ خودکش میں استعمال ہونیوالی گاڑیاں کہاں تیار ہوتی رہی ہیں اور کہاں سے ہوتی ہوئی پاراچنار داخل ہوتی رہی ہیں۔
اصل مقصد اس پورے کہانی کا یہ ہے کہ جن اداروں نے ابھی تک دہشتگردی کے اس سارے عمل سے سبق نہیں سیکھا ہے اس میں سرفہرست پولیٹیکل انتظامیہ ہے۔ صرف کرم ایجنسی کا پولیٹیکل انتظامیہ نہیں بلکہ سات ایجنسیوں کے پولیٹیکل سسٹم مکمل فیل ہوئے ہیں، کرم ایجنسی کے ساتھ ساتھ خیبر، مہمند، اورکزئی، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان اور باجوڑ ایجنسیاں مکمل طور پر تباہ و برباد ہوچکے ہیں اور اسکی مکمل طور پر ذمہ داری پولیٹیکل انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ پولیٹیکل ایجنٹ ایجنسی کا بادشاہ ہوتا ہے، بلکہ بادشاہ سے بھی زیادہ طاقتور کیونکہ عدالت، انتظامیہ اور مقننہ سب انکے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور مزیدار بات یہ کہ پولیٹیکل ایجنٹ کسی کے سامنے جوابدہ بھی نہیں۔ جبکہ علاقائی ذمہ داری کے قانون کے تحت تخریب کاری اور دہشتگردی کے ذمہ دار علاقے کے عوام ہوتے ہیں۔
لگے ہاتھوں ایک سنگین مسئلہ کی نشادہی بھی ضرور ہے تاکہ نئ حلقہ بندی کے وقت یاد رہے، پوسٹوں اور ترقیاتی اسکیموں کی غیر منصفانہ تقسیم کی روک تھام کیا جائے اور وہ کہ یہ جس علاقے کو آج سنٹرل کرم کہا جاتا ھے یہ علاقہ غیر اور کرم کا حصہ نہیں تھا انتظامی لحاظ سے اسکا نام “علاقہ غیر FR Kurram” تھا جیسے اب FR Kohat, FR Banu , FR DIKhan ہیں۔ وہ سارے FRs اب بھی اسی حیثیت میں باقی ہیں صرف کرم سے ملحق FR کو سازش کے تحت کرم ایجنسی میں ضم کیا گیا اور 2002 کے بعد تو باقاعدہ ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اسکو سنٹرل کرم کا نام دیکر باقاعدہ حصہ بنایا گیا۔ اس سے لوئر کرم کو بہت کم لیکن اپر کرم کو بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ اسکا مناسب حل تلاش کیاجائے۔
جس اصل موضوع کی طرف لانا تھا وہ یہ کہ حال ہی میں صدہ میں منعقد ایک تقریب مثال کے طور پر پیش کرتا ہوں تاکہ سب کی آنکھیں کھول جائیں اور اس طرح زیادتی سے آئندہ گریز کیا جائے بلکہ متعصب اہلکاروں کو برطرف کرکے اہل اہلکار لگائیں اور پوسٹوں کی تقسیم بھی مناسب تناسب سے کریں تو کئی مشکلیں خود بخود حل ہوجائیں گی۔
نسیم خان لوئر کرم صدہ سے ایک نام نہاد صحافی ہے جو اکثر عوامی جذبات ابھارتے رہے ہیں۔ نیسم خام نے کل ہی ایک رپورٹ شائع کی ہے کہ
“جی او سی جناب اظہراقبال عباسی نے اج بروز ہفتے کو سدہ کا اسپیشل دورہ کیا، 114 وینگ میں کمانڈنٹ کرم ملیشیاء راشد محمود، وینگ کمانڈر کرنل مقصود انجم ،میجر ارسلان ،کیپٹن زین اور پولیٹیکل انتظامیہ کرم کے افسران اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ طارق حسن، اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ سنٹرل کرم عرفان علی و دیگر ٹیم نے مہمان کا استقبال کیا ،مقامی مشران کے جانب سے ملک حاجی عبدالمنان نے ایجنسی روایات کے مطابق میجر جنرل کو کولہ لونگی پہنائی، اس موقعہ پر لوئر، سنٹرل کرم کے مشران سے ملاقات کی مشران سے خطاب کرتیں ہوئے انہوں نے کہا کہ علاقے ترقی و امن امان قائم رکھنے میں حکومت سے زیادہ اپ لوگوں کاکردار ہے ،کیونکہ امن اور بدامنی کا اثر سب سے پہلے مقامی لوگوں پر پڑتا ہے”
اب لوئر کرم کے امن و امان کی صورتحال پر بلائی گئی اس نمائیندہ قبائلی جرگہ میں مشران بلانے کی ذمہ داری اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اور اس کے ریڈر کی ہوتی ہے۔ معلومات کیمطابق اس امن جرگے میں ٹوٹل تین شیعہ مشران مدعو تھے جنہیں بولنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ جبکہ لوئر کرم میں عمل کوٹ سے لیکر علیزئی تک ایک بہت بڑی تعداد میں شیعہ علاقے شامل ہیں جس کی آبادی لگ بھگ ایک لاکھ کے قریب ہے۔
دوسری طرف اپر کرم میں اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اور ریڈر سنی مسلک سے ہیں اور جب بھی کوئی جرگہ بلایا جاتا ہے اس میں شیعہ مشران سے زیادہ تعداد ہمارے سنی بھائیوں کی ہوتی ہے اور ہر ایک کو بولنے کے برابر مواقع ملتے ہیں جس پر نہ ہمیں کوئی اعتراض ہے اور نہ ہی کھبی شکوہ اور شکایت کی ہے۔ آج جب ہم شکایت کررہے ہیں تو اس زیادتی پر کررہے ہیں جو لوئر کرم صدہ میں ہورہا ہے۔
لہذا اب ہمارا مطالبہ ہے کہ اپر کرم اور لوئر کرم میں پولیٹیکل انتظامیہ کے اہلکاروں کی تعیناتی میں مناسب تناسب کا خیال رکھا جائے۔ اپر کرم کے پولیٹیکل یا اسسٹنٹ پولیٹیکل جبکہ لوئر کرم کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اور تحصیلدار میں برابر تناسب رکھیں ۔ اسی طرح لوئر کرم میں ریڈر اور اپر کرم کے ریڈر کے تعیناتی میں برابر تناسب رکھا جائے تاکہ اس قسم کے ناخوشگوار اور تلخ حقائق سامنے نہ آئیں۔
اس طرح زیادتی سے آئندہ گریز کیا جائے بلکہ متعصب اہلکاروں کو برطرف کرکے اہل اہلکار لگائیں اور پوسٹوں کی تقسیم بھی مناسب تناسب سے کریں تو کئی مشکلیں خود بخود حل ہوجائیں گی۔
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

شیعہ نسل کشی جاری، پاراچنار پھر قتل گاہ بنا! ذمہ دار کون؟

شیعہ نسل کشی جاری، پاراچنار پھر قتل گاہ بنا! ذمہ دار کون؟ | parachinarvoice |
پاراچنار دھماکے میں شہید ایک معصوم بچے کی تصویر
Shafiq Ahmed's insight:

شیعہ نسل کشی جاری، پاراچنار پھر قتل گاہ بنا! ذمہ دار کون؟ 
پاراچنار شہر کے وسط میں اور مرکزی امام بارگاہ کے باب النساء کے بالکل سامنے دھماکہ ہوا ہے یہ رواں سال میں دوسرا بڑا دھماکہ ہے جس میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 22 تک پہنچ گئی ہے اور زخمیوں کی تعداد 95 ہو گئی، دھماکے میں ایک خاتون اور دو کمسن بچے بھی شہید ہو گئے ہیں27 شدید زخمیوں کی حالت خطرناک بتائی جا رہی ہے، جنہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔ بظاہر زوردار کار بم دھماکے سے ارد گرد کی متعدد دکانیں، مکان اور گاڑیاں تباہ ہوگئیں اور راستے سے گزرنے والے لوگ اور قریبی دکانوں میں بیٹھے لوگ بھی دھماکے کے زد میں آگئے۔
دھماکے کے بعد بم دھماکے کے متاثرین اور شہدا کے اہل خانہ سمیت سول سوسائٹی نے مظاہرہ اور احتجاج کرنے کی کوشش کی جنہیں منتشر کرنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فائرنگ شروع کردی، فائرنگ کے نتیجے میں بھی تین افراد ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔
ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. دھماکے کے بعد حسب معمول لیوی ، ایف سی اور آرمی کے دستے جائے وقوعہ پر پہنچے اور سکیورٹی اقدامات سخت کر دئیے۔ کرم ایجسنی کی رضا کار تنظیموں اور سول سوسائٹی نے امدادی کارروائیاں کر کے زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا اور سینکڑوں افراد نے خون کے عطیات جمع کئے۔
پاراچنار شہر خصوصاً اور کرم ایجسنی میں عموماً دہشتگردی کے واقعات ہوتے رہے ہیں جس میں اب تیزی آئی ہے دھماکوں کی ذمہ داری کالعدم اور دہشتگرد تنظمیں قبول کرتی آ رہی ہیں۔ اور کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے جبکہ کرم ایجنسی کے انہی قبائل کو حکومت وقتاً فوقتاً غیر مسلح اور آپریشن کی دھمکیاں دیتا آ رہا ہے۔
پاراچنار میں آج دھماکے کی بازگشت ایک مہینے پہلے سے سنائی دینے لگی جب حکومت نے الرٹ جاری کیا ایک نہیں بلکہ تین الرٹ جاری کیئے گئے جس میں دہشتگردوں کی طرف سے پاراچنار شہر، مزار شہید علامہ محمد نواز عرفانی اور زیارت علی زیڑان میں منظم فرقہ ورانہ دہشتگرد کارروائی ترتیب دینے کی بات گئی تھی۔ عوام سے ھوشیار رہنے کی تاکید کی گئی تھی۔ لیکن حکومت مجرمانہ خواب غفلت سے جاگنے کی کوشش نہیں جس کے نتیجے میں آج ایک اور دھماکہ ہوا اور درجنوں افراد شہید جبکہ بیسیوں زخمی ہوئے۔
پاراچنار دھماکے کے بعد سول سوسائٹی نے دھماکے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرین پولیٹیکل ایجنٹ دفتر کی طرف بڑھ رہے تھے کہ اس دوران مظاہرین پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فائرنگ کردی، فائرنگ کے نتیجے میں تین مظاہرین ہلاک اور درجن بھر زخمی ہونے کی طلاعات ہیں۔ پرامن مظاہرین سوال کررہے تھے کہ پارچنار شہر میں عرصہ سے کرفیو کا سماں ہے اور داخلی و خارجی راستے مکمل بند ہیں اتنی سخت سیکیورٹی کے باوجود دھماکہ کیوں اور کیسے ہوا؟؟ مظاہرین پولیٹیکل انتظامیہ کے اعلی عہدیداروں سمیت ایف سی کمانڈنٹ کی فوری برطرفی کا مطالبہ کررہے تھے اور دہشتگردوں کے پشت پناہی کرنے والوں کیخلاف نعرے لگا رہے تھے۔ 21 جنوری کو بھی دھماکہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں 26 افراد جاں بحق اور تقریباً ایک سو زخمی ہوئے تھے۔
پاراچنار دھماکے میں استعمال بارود بھری گاڑی بوشہرہ سے لائے جانے کی اطلاعات ہیں ، جو کہ الرٹ میں بوشہرہ کا نام لیاجا رہا تھا اور اسی راستے سے لیویز کے پھاٹک توڑتا ہوا شہر میں داخل ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ حکومت کو پہلے خبر بھی تھی! اب گاؤں بوشہرہ میں موجود داعش اور طالبان کیخلاف کوئی کارروائی ہوگی! جیسا کہ کرم ایجسنی میں عموماً شیعہ علاقوں میں کیا جاتا رہا ہے!
پارچنار بم دھماکہ عالمی اور پاکستان میں جاری شیعہ نسل کشی کی کڑی ہے۔ عراق، یمن اور بحرین سمیت شام اور افغانستان میں عالمی سامراجی قوتیں اور علاقائی سٹیس کو کی قوتیں مل کر شیعہ اور سنی قتل عام مصروف ہیں جبکہ دہشتگرد قوتوں کے زریعے مسلمان اور دنیا کے دیگر مذاہب اور فرقوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ داعش، القاعدہ، بوکو حرام، الشباب، طالبان، لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ اور ان جیسے تکفیری دہشتگرد گروپوں کے ذریعے مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے اجتماعی تشخیص کو برباد کیا جارہا ہے اور اسلام کو بدنام کرنے کی مذموم اور ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔
میں یہ کس کے نام لکھوں یہ جو الم گزر رہے ہیں
میرے شہر جل رہے ہیں میرے لوگ مر رہے ہیں
انا للہ و انا الیہ راجعون
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

کرم ایجنسی، پاراچنار بڑی تباہی سے بچ گیا، دھماکے سے ٹرک تباہ

کرم ایجنسی، پاراچنار بڑی تباہی سے بچ گیا، دھماکے سے ٹرک تباہ | parachinarvoice |
پاک افغان سرحد پر پاک فوج کا چیک پوسٹ
Shafiq Ahmed's insight:
پاراچنار نیوز: (محمد علی طوری کا رپورٹ) کرم ایجنسی میں افغانستان سے آنے والے مال بردار ٹرک  دھماکے سے مکمل طور پر تباہ ہو گیا جبکہ تحریک طالبان حکیم اللہ محسود گروپ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی. اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ شاہد علی خان کے مطابق افغانستان کے صوبہ پکتیا سے سامان سے ایک بهرا ٹرک کرم ایجنسی آ رہا تھا کہ بوڑکی خرلاچی بارڈر پر پاکستانی علاقے میں داخل ہونے کے بعد فورسز کے چیک پوسٹ سے 70 میٹر کے فاصلے پر اس میں دھماکا ہوا .چیک پوسٹ سے فاصلے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا. دھماکے سے ٹرک مکمل طور پر تباہ ہو گیا. شاید علی خان کے مطابق دھماکہ ٹرک میں رکھے گئے ٹائم ڈیوائس سے ہوا ہے . دھماکے کے بعد ٹرک ڈرائیور اور کنڈیکٹر کو گرفتار کرکے واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے. دھماکے کی ذمہ داری تحریک طالبان حکیم اللہ محسود گروپ کے ترجمان قاری سیف اللہ نے قبول کر لی. دھماکہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب تین روز قبل کرم ایجنسی میں افغان سرحد پر داعش کی جانب سے بھی قبائلی علاقوں اور ہنگو ڈیرہ اسماعیل خان میں کاروائیاں شروع کرنے کا اعلان کیا گیاہے. جبکہ حکومت نے داعش کے دھمکی آمیز خط سے صرف نظر کرتے ہوئے اسے جعلی قرار دیا ہے۔
یاد رہے پاک فوج نے علاقے کے قبائل کو اسلحہ جمع کرانے کیلئے گیارہ فروری کی حتمی تاریخ دے رکھی ہے۔ جبکہ دوسری کرم ایجنسی مسلسل بم دھماکوں کی زد میں اور داعش اور طالبان نے کرم ایجنسی کو مکمل طور پر گھیرے میں لے رکھا ہے۔
 ایم این اے ساجد طوری نے کرم ایجنسی تخریب کاری کی ایک اور کوشش کی مذمت کی ہے اور صدر وزیراعظم اور آرمی چیف سے افغان سرحد کی نگرانی سخت کرنے اور چیک پوسٹوں پر سکینرز لگانے کا مطالبہ کیا ہے.
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

داعش اور طالبان کا پاکستانی شیعہ آبادیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی

داعش اور طالبان کا پاکستانی شیعہ آبادیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی | parachinarvoice |
داعش اور طالبان کی جانب سے بھیجا گیا خط 
Shafiq Ahmed's insight:
داعش اور طالبان نے ایک اور خط بھیج دیا ہے کہ افغانستان میں مقاصد حاصل کرنے کے بعد اب پاکستان میں مجاھدین کیساتھ روابط میں ہیں کہ کرم، اورکزئی، ھنگو، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ رافضیوں کا قلع قمع کرسکیں۔ زرائع کے مطابق حکومت نے خط پانے والے دو شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جس میں محمد اصغر جو ایک استاد ہے، بشیر حسین اور کبیر حسین شامل ہیں۔ بشیر حسین ملک سے باہر مزدوری کرتا رہا ہے اور آجکل چھٹی پر ہے۔ زرائع کے مطابق گرفتار افراد کی تعداد چھ ہے تاہم دوسرے افراد کے بارے معلومات ابھی تک موصول نہیں ہوسکے ہیں۔ داعش اور طالبان نے خط بھیجا ہے اس پر شیعہ نوجوانوں کی گرفتاری سمجھ سے بالاتر ہے اُمید ہے تفتیش کے بعد نوجوانوں کو رہا کردیا جائے گا۔ حکومت کو اس خط کے مندرجات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور پاراچنار سبزی مارکیٹ دھماکے کے بعد اس قسم کے دھمکی آمیز خطوط باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ارسال کئیے جا رہے ہیں، اور علاقے میں خوف و ہراس طالبان اور داعش سے زیادہ حکومت خود پھیلا رہی ہے جو احتجاج کرنے والوں اور خطوط پانے والوں کو پابند سلاسل کررہے ہیں۔
Mujahid Anees
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

کرم ایجنسی کے گرد ڈیورنڈ لائن ہماری خون سے کھنچی ہوئی لکیر ہے۔ شفیق طوری

کرم ایجنسی کے گرد ڈیورنڈ لائن ہماری خون سے کھنچی ہوئی لکیر ہے۔ شفیق طوری | parachinarvoice |
پاراچنار سبزی منڈی دھماکے کا ایک زخمی
Shafiq Ahmed's insight:
پاکستان آرمی کے سپاہ سالار جناب جنرل قمر باجوہ نے پاراچنار کا دورہ کیا ہے۔ شہدا کے غم میں شریک ہوئے ہیں اور زخمیوں کی عیادت کی ہے۔ بہت اچھی بات اور ہم سراہتے ہیں آرمی چیف کے دورے کو جو ہمارے غم میں شریک ہوئے۔ آرمی چیف نے پاراچنار میں آرمی پبلک سکول کے قیام کا اعلان بھی کیا ہے جسے خوش آمدید کہتے ہیں اور کرم ایجنسی میں موجود علمی فضا میں ایک خوشگوار جھونکا نہیں بلکہ سنگ میل ثابت ہوگا انشااللہ۔ جنرل راحیل صاحب نے بھی میرے خیال میں ایک کیڈٹ کالج کے قیام کا اعلان کیا تھا جو قابل عمل نہ ہوسکا اُمید ہے آرمی پبلک سکول کیساتھ وہ حشر نہیں ہوگا کیونکہ میرے معلومات کیمطابق آرمی پبلک سکول کی فیزیبیلٹی بھی تیار ہے۔
کرم ایجنسی کی تاریخ طوری بنگش اقوام نے اپنے خون سے لکھی ہے اور ہم ہر قیمت پر اسکا دفاع کریں گے۔ یہ ہم پر فرض ہے۔
کرم ایجنسی سمیت اورکزئی ایجنسی اور کوہاٹ تک صرف شیعہ آبادی کو غیر مسلح کیا جا رہا ہے۔ اس پر ہمارے تحفظات ہیں جو دور کیئے جائیں۔
ہم نے کھبی اسلحہ حکومت کے خلاف یا کسی پر حملہ آور ہونے کیلئے استعمال نہیں کیا ہے۔ اور ہم ہر قسم کی ضمانت دینے کیلئے تیار ہیں کہ آئیندہ بھی استعمال نہیں ہوگا۔
میرے دوست سلمان حیدر کا شعر ہے کہ،
 "حُر" ہو تو آؤ، ورنہ پلٹ جاؤ، دیکھ کر 
ریتی پہ ذوالفقار سے کھنچی ہوئی لکیر
 دشمن چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، طالبان، داعش یا لشکر جھنگوی، افغانستان ہو یا ہندوستان کرم ایجنسی کے گرد ڈیورڈ لائن کو ذوالفقار سے کھنچی ہوئی لکیر ہی سمجھیں۔
پاکستان کا دشمن ہمارا بھی دشمن ہے، طالبان، لشکر جھنگوی اور داعش جیسے سفاک دشمنوں کے ہاتھوں ہمارے بچے صبح و شام مار جا رہے ہیں۔ پاکستان کو اس وقت خیال آیا جب آرمی پبلک سکول میں آرمی والوں اور دیگر بچے ان سفاک درندوں کے ہاتھوں بے دردی سے شہید ہوئے۔ 
ہم پاراچنار کرم ایجنسی میں تین سو سال سے زیادہ عرصہ سے رہ رہے ہیں۔ ہماری مجبوریوں کو حکومت سمجھنے کوشش کرے۔
کرم ایجنسی پچھلے تین دھائیوں میں تین بڑی جنگیں لڑی گئی ہیں 1982, 1987, 1996 اور 2007 اور میں میرا مشاہدہ ہے کہ پاکستان آرمی یا ریاست پاکستان نے ہماری کوئی مدد نہیں کی ہے۔ حتی کرم ملیشیا کے ایک کرنل جسکا نام کرنل مجید تھا کے سرپرستی میں پشاور سے پاراچنار آنی والی کانوائے کو صدہ میں روک کر جلایا گیا۔ ہمارے بچوں اور جوانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے پاراچنار بھیجے گئے۔
تُو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر
یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا !
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں
تیری رہبری کا سوال ہے !
دو سال پہلے شلوزان کے علاقے خیواص پر حملہ ہوا۔ سینکڑوں جانیں ضائع ہوئیں۔ کیا ریاست پاکستان یا پاک آرمی مجھے بتا سکتی ہے کہ کتنے پاک آرمی یا ملیشیا یا لیویز کے اہلکار ان جنگوں میں ہلاک ہوئے؟ ایک بھی نہیں۔ ہم خود لڑے ہیں اور آئیندہ بھی لڑتے رہیں گے۔  جیسا کہ میں نے بتایا کہ ہم تین سو سال سے زیادہ عرصہ ہوا کرم ایجنسی میں رہ رہے ہیں۔ 
کرم ایجنسی کی اہمیت سب کو پتہ ہے طوری بنگش قبایئل کو پاکستان افغانستان اور ہندوستان و ایران و سعودی عرب کے درمیان سینڈویچ نہ بنایا جائے۔ ہمارے مسائل صرف انتظامی ہیں۔ پہاڑ کے جھگڑے، زمینوں کے جھگڑے، پانی کے جھگڑے اور مذہبی جنونیوں کے جھگڑے! یہ ریاست کاکام ہے کہ اپنے نظام کو اپڈیٹ کریں جو دو صدیوں پرانا ہے اور ان میں مسائل کے حل کی سکت نہیں۔ پولیٹیکل ایجنٹ اور انتظامیہ پر مسائل کا بہت بڑا بوجھ ہے جو وہ بے چارے اُٹھانے کے قابل بھی ہو تو بھی پوری نہیں کر سکتا۔ انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ سب کام ایک پولیٹیکل ایجنٹ اور ڈپٹی کو کرنے ہوتے ہیں۔
پچھلے آٹھ سال میں آٹھ دھماکے ہوئے ہیں مجھے بتائیں کتنے آدمی پکڑے گئے تھے اور کتنوں کو عدالت میں پیش کرکے سزا دی گئی؟
ہر سال کی ابتداء پاراچنار میں دھماکے سے ہوتی ہے اور دشمن چھپا نہیں ہے سامنے کھڑا ہے۔ "ذمہ واری" بھی قبول کرتا ہے اور اپنے حملہ آوروں کی تصاویر بھی شائع کرتا ہے۔ ان کے خلاف ریاست بھی لڑ رہی ہے اور ہم بھی لڑ رہے ہیں۔ پاکستان میں سب سے زیادہ قربانیاں ہم نے دی ہیں۔ ہمارے پچھلے آٹھ سال میں ساڑھے تین ہزار بندے شہید ہوئے ہیں۔ میں دعوے سے اعداد و شمار کیساتھ بتا سکتا ہوں کہ کرم ایجنسی میں طوری بنگش قبیلوں سے زیادہ قربانیاں کسی نے نہیں دی ہیں اور آئیندہ بھی دیتے رہیں گے۔ اپنی وطن کی خاطر اور اپنے مٹی کی خاطر۔ مادر وطن کی حفاظت کی خاطر۔ 
کرم ایجنسی سمیت پورے فاٹا میں نظام کے اپ گریڈ یشن کی ضرورت ہے۔ اگر نظام درست ہو تو غیر ریاستی عناصر اور تخریب کار و دہشتگرد خودکار نظام کے تحت فلٹر ہوکر اپنے انجام کو پہنچتے رہیں گے۔ پھر ہمیں اسلحے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ پھر ہمیں تنظیموں کی ضرورت نہیں ہوگی۔ پھر ہمیں بھی آواز اُٹھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ہم پاکستانی ہیں اور تا قیامت پاکستانی رہیں گے۔ کرم ایجنسی کے گرد ڈیورنڈ لائن ہماری خون سے کھنچی ہوئی لکیر ہے۔ جس کی گواہ ہمارے قبرستان ہیں جہاں قبروں پر لہراتے سُرخ جھنڈے ہزاروں شہداء کی داستان سناتے نظر آتے ہیں۔ اور ہمارے لہو سے کھنچی ہوئی ڈیورنڈ کی لکیر تاقیامت پاکستان کی گواہی دے گا۔ اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
 پاکستان آرمی زندہ باد۔ پاکستان پائیندہ باد
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

بریگیڈئیر صاحب طوری قبیلہ کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑوگے کیا ؟! شفیق طوری

بریگیڈئیر صاحب طوری قبیلہ کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑوگے کیا ؟! شفیق طوری | parachinarvoice |
بریگیڈئیر امیر خان کرم ایجنسی کے مشران کیساتھ 
Shafiq Ahmed's insight:
 طوری قبیلہ، وادئِ کرم میں دریائے کرم کے دونوں جانب سرسبز و شاداب قطعہ زمین پر تقریباً پانچ سو سال سے آباد ہے۔
بنیادی طور پر خانہ بدوش قبیلہ جب وادئِ کرم میں آباد ہوا تو اپنی محنت و مشقت سے وادئِ کرم کے جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ وادئ کی تقدیر بھی بدل ڈالی اور وادئِ کے زرخیز زمین سے بھر پور فائدہ اُٹھا کر معاشی اور معاشرتی حالات میں انقلابی ترقی لائے۔
وادئِ کرم کے جنوب میں خوست اور شمال میں کوہِ سفید واقع ہے اور کوہ سفید کے اُس پار تورا بورا کی مشہور و معروف پہاڑی سلسلہ جہاں مبینہ طور پر دنیا کے خطرناک ترین دہشتگرد گروہ القاعدہ اور ان کے سربراہ اُسامہ بن لادن کھبی ڈھیرے ڈالے ہوئے تھے۔
مغرب میں افغانستان کے صوبے پکتیکا کے شہرینا اور مختلف گاؤں سمیت پہاڑی سلسلے ہیں جبکہ مشرق میں پاڑہ چمکنی اور اورکزئی ایجنسی واقع ہیں۔
اٹھارہ سو پچاس کے دہائی میں پیواڑ کے ملک ظریف افغانستان کے سردار محمد اعظم خان کے نہایت اہم حمایتی تھے اور شلوزان کے ملک افغانستان کے امیر دوست محمد خان سے ایک شادی کے ذریعے منسلک رہے۔ افغانستان کے امیر دوست محمد خان کے وقت کابل میں کرم ایجنسی شورش کی آوازیں گونجتی رہی اور 1851 میں طوری قبیلے نے پیواڑ قلعے پر قبضہ کرکے افغان امیر کو آنکھیں دکھائیں جو بعد میں بہت بھاری پڑ گئیں جب 1856 افغان امیر نے سردار محمد اعظم کی سربراہی میں مجاھدین بھیج کر طوری قبیلے کو جانی اور مالی نقصان سے دوچار کیا۔ طوری قبیلے کی اس شکست سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اردگرد کے سنی قبائل نے خوستوال اور وزیر قبائل نے کرم ایجنسی پر حملہ کیا جو خوستوال اور وزیر قبائل سمیت دیگر سنی قبائل کے عبرت ناک شکست پر ختم ہوئی۔ طوری قبیلہ سیاسی اور میدان جنگ دونوں محاذ پر ڈٹی رہی اور کامیاب و کامران رہی۔ پھر افغانستان میں امیر شیر علی برسراقتدار آئے اور کرم وادی میں انکے بھائی والی محمد خان گورنر رہے جس کی ماں کا تعلق وادی کرم سے تھا لیکن وادی کرم کے ملک نے وفد کابل بھیج کر امیر شیر علی سے والی محمد کے شکایت کی اور یوں گورنر والی محمد معزول کردئیے گئے۔ انیس سو تیس میں کرم ایجنسی کے تمام سنی قبائل نے شیعہ آبادی پر لشکر کشی کی اور قتل عام کیا۔ یہ وہ دور تھا جب افغانستان میں بچا سقاؤ جیسا سفاک نیم خواندہ مولوی حکمرانی کررہا تھا، بچا سقاؤ کا دور افغانستان میں طالبان کے مُلا عمر کے دور سے بھی زیادہ رجعت پسند اور ظالم دور تھا اور افغانستان ظلم کے زنجیروں میں جھکڑا ہوا تھا، عین اسی وقت پر نادرشاہ، باچا سقاؤ کے افغانستان امارت پر حملہ آور ہوئے تو طوری اور بنگش قبائل نے نادرشاہ کا ساتھ دیا اور طوری قبیلہ مزید مشکلات سے دوچار رہا۔یوں کابل حکومت کی شیعہ دشمنی اور فرقہ ورانہ حکومتوں سے تنگ آکر وادی کرم کے طوری قبیلے نے 1879 میں دوسری افغان جنگ کے وقت برطانوی راج کو خوش آمدید کہا۔ ایک سال بعد برطانوی فوج وادی کرم سے نکل گئی اور وادی کرم کو طوری قبیلے کے حوالے کیا لیکن 1892 میں برطانوی افواج پھر وادی کرم پر قبضہ کر گئے۔ طوری قبیلے کے مشران نے سیاسی، سماجی اور علاقائی تحفظات کے مطالبے کیئے جو سارے کے سارے انگریز حکومت نے تسلیم کیئے یوں رواج اور کرم ملیشیا جیسے دور رس معاہدے طے پا گئے جس کے تحت آج سو سال بعد بھی ہمارے مسائل حل کیئے جا رہے ہیں اور کسی کو اس سو سالہ نظام بدلنے کی اہلیت نہیں اور نہ ہی حوصلہ ہے۔
علاقائی تحفظ کیلئے 1892 میں ایک شاندار طوری ملیشیا کھڑی کر دی گئی جو 1892 اور 1897 جیسے خطرناک ترین جنگوں میں بھی ثابت قدم رہی جبکہ خیبر رائفلز سمیت شمالی اور جنوبی وزیرستان کے ملیشیا کا نام و نشان مٹ گیا تھا۔
۱۹۴۸ء میں قائد اعظم کے اصرار پر دیگر ایجنسیوں کی طرح پاکستان کیساتھ الحاق کیا ۔ طوری قبیلہ کرم ایجنسی کا سب سے بڑا قبیلہ ہے اور واحد پشتون قبیلہ ہے جو شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور شیعہ بنگش قبیلے کیساتھ مل کر کرم ایجنسی واضح اکثریت میں ہیں۔ لہٰذا یہ ضیاالحق کے سخت گیر اسٹیبلشمٹ کو قبول رہے اور نہ ہی علاقے کی دیگر سنی قبائل کو قابل قبول رہے۔ مذہبی اور مسلکی منافرت کے علاوہ یہاں چونکہ شیعہ سنی ساتھ ساتھ رہے ہیں تو زمین ، پہاڑ اور پانی کے جھگڑے بھی ہوتے رہے ہیں جو بعد میں مذہبی اور مسلکی لڑائی میں بدل کر علاقے کو میدان جنگ میں تبدیل کرتے رہے ہیں۔ کرم ایجنسی میں شیعہ آبادی کو تین سو سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے اور یہاں کے اکثریتی شیعہ آبادی کو مسلکی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، لہٰذا کرم ایجنسی میں دہشتگردی صرف ایرانی انقلاب یا افغانستان انقلاب سے جوڑنا حقیقت نہیں لیکن "مردِ مومن مردِ حق" ضیاالحق کے پالیسیوں اور ایران انقلاب کے بعد اس میں تیزی ضرور آئی ہے۔ پاکستان میں ایران اور خمینی کے پہلے نمائیندہ عارف حسین الحسینی کا تعلق پاراچنار سے تھا جو پاکستان کے اُفق پر ضیاالحق کے دور میں نمودار ہوئے جبکہ عارف الحسینی سے پہلے زکواة کے معاملے پر اسلام آباد کے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کا فیصلہ کن معرکہ مفتی جعفر حسین نے سر کیا جب مطلق العنان آمر نے گھٹنے ٹیک دئیے اور مفتی جعفر حسین اور ساتھیوں نے ہی پاکستان میں سیاسی جدودجہد جاری رکھنے کیلئے تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ کی بنیاد رکھی، جبکہ عارف الحسینی انکے دست راست بنے رہے۔ بعض نام نہاد مبصرین اور کالم کار تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ کا مفہوم یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں موجود اقلیتی شیعہ مسلک نے یہ تحریک پاکستان میں ایران طرز کا خمینی انقلاب لانے کیلئے بنایا تھا جو تاریخی بددیانتی ہے۔ تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ پاکستان میں صرف شیعہ اقلیتی مسلک کی تحفظ اور خدمت کیلئے بنایا گیا پہلا پلیٹ فارم تھا۔ اور تحریک کا مقصد اور نعرہ پاکستان پر قابض ہونا کھبی نہیں رہا۔
۱۹۲۹-۲۸، ۱۹۵۰ اور ۱۹۵۶ء کے خونریز لڑائیوں کے علاوہ میرے سامنے وادی کرم میں جو خونریز لڑائی گئیں انکا مختصر تاریخ یہ ہے۔
۱۹۸۱-۸۲ میں کرم ایجنسی کے سارے سنی قبائل نے افغان مہاجرین کیساتھ ملکر صدہ قصبہ میں شیعہ آبادی پر ہلہ بول دیا اور دادو حاجی کے سارے خاندان کو ہلاک کیا گیا اور صدہ قصبے سے شیعہ آبادی کو مکمل طور پر بے دخل کر دیاگیا جو آج تک آباد نہیں ہو سکے۔ کیونکہ اس وقت تک انگریز کا بنایا گیا کرم ملیشیا وادی کرم میں موجود تھا لہٰذا جنگ صدہ تک ہی محدود رہی اور ایجنسی کے دیگر علاقوں تک نہیں پھیلنے دی گئی۔ یاد رہے کرم ملیشیا صرف طوری قبیلہ پر مشتمل نہیں تھا بلکہ اس میں منگل، مقبل، بنگش سمیت ایجنسی کے سارے قبائل کو متناسب نمائیندگی موجود تھی جو کہ اپنے، اپنے علاقے کے امن قائم رکھنے کے ذمہ تھی۔ اس وقت تک ایران کا کوئی مولوی پاکستان میں موجود تھا اور نہ ہی پاراچنار میں۔ بدقسمتی سے ضیااء لحق کے فرقہ ورانہ پالیسیوں کا شکار ہو کر کرم ملیشیا کو برطرف کرکے پورے پاکستان میں پھیلایا گیا، علاقے کو آگ و خون میں نہلایا گیا اور سرسبز وشاداب ، حسین و جمیل اور جنت نظیر وادئِ کرم کو دہشتگردی اور فرقہ واریت کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا جو آج تک نہیں نکل سکا۔
۱۹۸۷-۸۸ ضیاءالحق کے دور میں شیعہ مسلک کے روح رواں اور ملت جعفر یہ کے صف اوّل کے رہنما تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ کے روح رواں علامہ عارف حسین الحسینی کو شہید کیا گیا اور علاقے کے سنی قبائل نے افغان مہاجرین کیساتھ ملکر مقامی شیعہ آبادی پر حملہ کردیا جو صدہ قصبے سے ہوتے ہوئے بالش خیل اور ابراہیم زئی جیسے بڑے گاؤں کو روندتے اور جلاتے ہوئے سمیر گاؤں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور بعد میں طوری لشکر نے پسپا کرکے واپس صدہ کی طرف دھکیل دیا لیکن دسیوں گاؤں جلائے گئے اور لوٹے گئے، امام بارگاہیں اور مساجد مسمار کردی گئیں۔ ۱۷ دن پر محیط لڑائی میں ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے جبکہ پاک فوج اور پاکستان کی اسٹیبلیشمنٹ تماشا دیکھتی رہی۔
۱۹۹۶ء میں رسول اللہ صلعم کے چچا اور حضرت علی کے والد حضرت ابو طالب کی توہین کی گئی اور مقامی شیعہ آبادی کو اشتعال دلا کر خونریز جنگ کا آغاز کیا گیا جو کئی ہفتے تک جاری رہا ہائی سکول پاراچنار میں اسکے پرنسپل اسرار حسین کو قتل کیا گیا جسے بعد صدارتی تمغہ دیا گیا، اسکے بعد کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو محصور کیا گیا اور انکے لئے پاراچنار تک رسائی کے صرف ایک راستے ٹل پاراچنار روڈ کو بند کیا گیا اور پاراچنار پاکستانی غزا میں تبدیل ہوا۔
۲۰۰۱ء میں پھر فرقہ ورانہ فسادات شروع ہوئے اور پیواڑ پھر لشکر کشی کی گئ، پیواڑ کے مختلف گاؤں سمیت مرکزی امام بارگاہ پر بمباری کئ گئی جس میں درجنوں لوگ قتل کیئے گئے۔
۲۰۰۷ میں ۱۲ ربیع الاول کے عید میلاد النبی کے جلوس میں "حسین مردہ باد اور یزید زندہ باد" کے نعرے لگا کر فرقہ ورانہ جنگ کا آغاز کیا گیا یہ ایک منظم اور منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا حملہ تھا جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوئے، بڑی تعداد میں القاعدہ جنگجوؤں کیساتھ ساتھ طالبان کے حکیم اللہ محسود اور منگل باغ نے جنگ کی کمان سنبھالی اور وزیرستان سے لیکر خیبر تک کے سنی قبائل کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی پر حملہ آور ہوئے۔ القاعدہ اور طالبان کے سینکڑوں نہایت مستعد اور ماہر نشانہ بازوں نے پارچنار شہر میں اہل سنت والجماعت کے مسجد کو سب سے بڑا مورچہ نہیں بلکہ قلعے میں تبدیل کردیا تھا جس سے پاراچنار کے مرکزی امام بارگاہ پر بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری شروع کر دی گئی اور ارد گرد کے سارے شہر کیلئے مسجد کے میناروں میں لگائی گئی مشین گنیں ہی کافی تھیں۔ لہذا سینکڑوں قتل ہوئے اور امام بارگاہ سمیت آدھے پاراچنار شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پوری وادی میدان جنگ میں تبدیل ہوئی اور پانچ ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ صدہ کے مین بازار میں شیعہ افراد گاڑیوں سے اتارے گئے اور انکے ہاتھ پیر کاٹ کر پاراچنار بھیج دیئے گئے جنہوں آگ پر پٹرول کا کام کیا اور خونریز لڑائیاں شروع ہوئیں جو پانچ سال تک جاری رہی۔ پاراچنار کو پاکستان سے ملانے والا واحد شاہراہ کئی سال تک بند رہا اور پاراچنار فلسطین اور غزا میں تبدیل ہوا۔ تین سال پاراچنار کا محاصرہ جاری رہا اور طوری بنگش قبائل افغانستان کے راستے تیس گھنٹے پُرخطر سفر کرنے پر مجبور ہوئے تھے، بہت سے لوگ راستے سے اغوا کرکے قتل کئے گئے، بعض لوگ بھاری تاوان دیکر چھڑائے گئے اور کچھ ابھی بازیاب نہیں ہوئے ہیں۔ بچے ادویات اور خوراک نہ ملنے کی وجہ سے مرنے لگے اور لوگ فاقے کاٹنے پر مجبور ہوئے۔ اسکے بعد پاراچنار میں پے درپے خودکش دھماکے شروع کردئیے گئے جس میں سینکڑوں لوگ قتل کئے گئے جس میں ۲۰۰۸ کے انتخابات کے دوران پیپلزپارٹی کے اُمیدوار ڈاکٹر ریاض حسین شاہ کے جلسے پر خودکش حملہ بھی شامل ہے جس میں ڈاکٹر ریاض تو بچ گئے لیکن ایک سو سے زیادہ لوگ قتل ہوئے، ڈاکٹر ریاض شاہ کو بعد میں پشاور کے بھرے بازار میں دن دیہاڑے قتل کیا گیا۔ اور پاراچنار کے مشہور ماہر تعلیم سید رضی شاہ اور پیر عسکر علی شاہ کو اغوا کرکے قتل کیا گیا۔ پارچنار کے علاوہ کراچی، پشاور اور افغانستان کے راستے پاراچنار جاتے ہوئے لوگوں کو بھی خودکش دھماکوں، نسب شدہ بموں اور ٹارگٹ جاری رہی۔
۲۰۱۱ میں آخری فرقہ ورانہ فسادات شلوزان تنگی اور خیواص میں ہوئے جب خیواص گاؤں پر حملہ کرکے جلایا گیا، ایک سو سے زیادہ لوگ قتل کئے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
آخری خودکش دھماکہ عیدگاہ میں ہوا جس میں ۲۳ افراد جاں بحق ہوئے اور دسیوں زخمی ہوئے۔
۲۷ دسمبر ۲۰۱۶ کو گورنر ہاؤس پاراچنار میں جرگے سے خطاب کرتے ہوئے 73 بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈیئر ملک امیر محمد خان نے کہا کہ کرم ایجنسی میں بهاری اسلحے کی موجودگی علاقے کی امن کے لئے خطرہ ہو سکتا ہے قومی اسلحہ ( راکٹ لانچر، ماٹر، توپ ، زیڑاکئے، وغیرہ) رکھنا غیر قانونی ہوگا اور اس کو متعین جگہ پر جمع کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ ماہ میں سارا اسلحہ جمع کیاجائے اگر قومی اسلحے کو جمع نہیں کیا گیا تو ہم خود تحویل میں لیں گے. اس کے بعد اگر کسی کے پاس ایک گرنیڈ یا آئی ڈی بھی نکلا تو اس پر قانون کا اطلاق ہوگا اور دہشت گردی کے زمرے میں آئے گا۔ ہم سب کا نیت ہے کہ ملک میں امن اور سلامتی رہے۔
بریگیڈئیر صاحب کی باتیں بجا ہیں اور کوئی ذی شعور شخص اس دلیل کر مسترد نہیں کرسکتا۔ لیکن جس طرح ہر ملک کو اپنے دفاع کا حق ہے اسی طرح ہر شخص اور ہر قبیلے کو بھی اپنی دفاع کا حق حاصل ہے۔ حکومت مندرجہ بالا حالات اور واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے طوری قوم کے سیاسی، سماجی اور علاقائی تحفظ کی ذمہ داری اُٹھاتے ہوئے پہلے ٹھوس اقدامات کریں تاکہ اس قبیلے کو موجود خطرات سے بچانے کا کوئی تو سامان ہو۔ ایسا نہ ہو کہ کل پاک فوج طوری قبیلے سے اسلحہ اکھٹا کریں اور پھر القاعدہ، طالبان اور دیگر دشمن قوتیں حملہ آور ہوجائیں۔ حکومت پاکستان اور پاک فوج نے طوری قبیلے کو کھبی بھی تحفظ فراہم نہیں کیا ہے۔ اور انگریز نے طوری قوم کی تحفظ یقینی بنانے کیلئے نہ صرف کرم ملیشیا کھڑا کردیا تھا بلکہ قبائل میں مفت اسلحہ بھی تقسیم کیا تھا، 1986 میں ضیاالحق نے کرم ملیشیا کو پورے پاکستان میں تقسیم کرکے طوری بنگش قبائل کو طویل جنگوں میں جھونک دیا اور اب پاک فوج طوری قوم سے اسلحہ اکھٹا کرکے دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاہتے ہیں؟
کرم ملیشیا میں متناسب بھرتی کرکے ایک ونگ بنایا جائے اور اسلحہ انکے سپرد کیا جائے۔ پیواڑ، بوڑکی، نستی کوٹ، شلوزان سمیت سرحدی علاقوں کی نگرانی کرم ملیشیا کے اسی ونگ کے حوالے کرکے طوری، بنگش قبائل کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ 
 ‏جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان سمیت خیبر و دیگر ایجنسیز میں ایک منظم دہشتگردی کی تحریک موجود تھی اور آج بھی ہے۔ پاک فوج نے جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان اور خیبر میں دسیوں آپریشنز کیئے ہیں۔ "آپریشن ضرب عضب" " آپریشن راہ راست" " آپریشن درغلم" آپریشن بیا درغلم" "آپریشن خوخ به دہ شم" آپریشن خیبر1" آپریشن خیبر 2" آپریشن کوہ سفید" آپریشن خیبر3" جہاں تک مجھے علم ہے کہیں بھی قومی اسلحہ تحویل میں نہیں لیا گیا ہے۔
کسی بھی ایجنسی میں رضاکارانہ طور پر اسلحہ جمع کرایاگیا ہے اور نہ ہی فوج نے کسی قوم سے اسلحہ آپریشن کے ذریعے جمع کروایا ہے۔ صرف وہ اسلحہ چھین لیاگیا ہے جو دہشتگردوں نے پاک فوج سے چھین لیا تھا۔ یا دہشتگردوں کے زیر استعمال تھا۔
پاک فوج نے ان ایجنسیوں میں آپریشن کے بعد امن کمیٹیاں بنا کر انکو سرکاری اسلحہ اور ایمیونیشن فراہم کیا تھا۔
تہتر بریگیڈ کے انڈر لوئر کرم اور ٹل بھی آتا ہے بریگیڈئیر صاحب سے گزارش ہے کہ پارچنار آتے ہوئے ٹل سے لیکر صدہ تک سارے اقوام اور تنظیموں سے اسلحہ جمع کرائیں کیونکہ نہ تو وہاں کوئی بارڈر ہے اور نہ ہی انکو کسی سے خطرہ ہے۔ ٹل پاراچنار روڈ ان دہشتگردوں نے پانچ سال تک بند کیئے رکھا تھا اسلیئے ان سے اسلحہ پہلے جمع کیا جائے۔
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

عالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری شہید کے قاتل کون؟ از شفیق طوری

عالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری شہید کے قاتل کون؟ از شفیق طوری | parachinarvoice |
عالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری شہید کے قاتل کون؟ از شفیق طوری
Shafiq Ahmed's insight:
عالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری شہید کے قاتل کون؟ از شفیق طوری
⁧#امجدصابری⁩ کے قتل میں سیاسی جماعتوں و مذہبی اور کالعدم تنظیموں کیساتھ قانون نافذ کرنے والوں کی نااہلی اور چشم پوشی بھی شامل ہے۔⁩
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

کرم ایجنسی، پاراچنار: عثمانیہ مارکیٹ پر دو کریکر دھماکوں کی سازش پر لاکھوں قبائل کو دھمکی۔

کرم ایجنسی، پاراچنار: عثمانیہ مارکیٹ پر دو کریکر دھماکوں کی سازش پر لاکھوں قبائل کو دھمکی۔ | parachinarvoice |
Political, religious 
Shafiq Ahmed's insight:
کرم ایجنسی، پاراچنار: اطلاعات کے مطابق اے پی اے لوئر کرم نصراللہ خان کا بالش خیل چیک پوسٹ پر مشران ماہورہ ، بالش خیل اور صدہ کے ساتھ جرگہ ہوا ہے اور عثمانیہ پلازہ کریکر دھماکہ سازش کے سلسلے میں ملزمان کی حوالگی کا مطالبہ کرتے ہوئے قبائلی مشران کو دھمکی دی ہے کہ اگر ملزمان کو کل بارہ بجے تک حوالے نہ کیا گیا تو اہلیان بالشخیل ،صدہ اور ماہورہ سے گرفتاریاں شروع کی جائیں گی اور ان قبائل جنکا تعلق اکثریت شیعہ مکتبہ فکر سے ہے کے خلاف سخت ترین کاروائی آغاز ہوگا۔
پولیٹیکل انتظامیہ نے کرم ایجنسی میں طالبان، داعش اور لشکر جھنگوی کیخلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے جو ایجنسی میں دہشتگردانہ کارروائی کرتے آ رہے ہیں جنہوں نے انہی شیعہ قبائل کے ہزاروں لوگ قتل کئے ہیں اور پرسوں غوزگڑھی مقبل سی بارودی مواد گاڑی میں بھر کر پاراچنار شہر لایا جا رہا تھا کہ راستے میں ہی پھٹ گیا۔ ان سے پوچھ گچھ ہوئی ہے، نہ کوئی قوم کو ملزمان کی حوالگی کا مطالبہ اور نہ ہی کسی کو گرفتار کیا گیا ہے۔
سپاہ صحابہ (والجماعت) کے عید نظر مینگل اور حوالدار بخت جمال بنگش کرم ایجنسی سے ہزاروں لوگ داعش میں بھرتی کروا رہے ہیں اور پاراچنار کے پاسپورٹ آفس سے روزانہ ان گنت پاسپورٹ بنوا کر یمن، شام اور عراق بھیج رہے ان سے کوئی تحقیق اور نہ کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔
لیکن عثمانیہ مارکیٹ پر دو کریکر دھماکوں کی سازش پر لاکھوں قبائل کو سنگین نتائج دھمکی دے ڈالی۔
کرم ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ کو پاراچنار کے مرکزی امام بارگاہ میں فقید المثال شیعہ سنی اتحاد راس نہیں آیا اور ایجنسی کے حالات خراب کرنے کی سازشیں شروع کر دی گئیں۔
اے پی اے صاحب لوئر کرم نصراللہ خان پر پاراچنار میں کل والا جلسہ ناگوار گزارا ہے اسلئے اب دھمکیوں پر اتر آئے ہیں۔ اور پولیٹیکل انتظامیہ فرقہ واریت کی بیج بونا بند کرے۔
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

پاک-افغان بارڈر پر حالات سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ شفیق طوری

پاک-افغان بارڈر پر حالات سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ شفیق طوری | parachinarvoice |
Political, war
Shafiq Ahmed's insight:
 کرم ایجنسی، پاراچنار پر اگر افغانستان کی طرف سے کسی بھی تکفیری گروہ یا ملی افغان اردو کی طرف سے خدا نخواستہ حملہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہاں پر موجود کرم ملیشیا اور کرم لیویز ذمہ دار ہیں اور بعد میں پاک فوج ذمہ دار ہے لیکن اب تو پاک فوج کو حالات کی سنگینی کا پتہ لگ چکا ہے تو ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔ اور ہم قبائل پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
بوڑکی اور خرلاچی چیک پوسٹوں پر بیٹھے یہ اہلکار روزانہ لاکھوں کروڑوں بنا رہے ہیں اور غیور قبائل کیلئے ایک بوری کھاد بھی چھوڑنے پر راضی نہیں! پھر بھی ہم طوری۔بنگش قبائل اپنی سرزمین کے ایک، ایک انچ کا دفاع کرینگے، کیونکہ کرم ایجنسی کا دفاع ہم تین سو سالوں سے کررہے ہیں، جب پاک فوج نہیں تھی، لیکن پاک فوج کے ہوتے ہوئے طوری بنگش قبائل کو نقصان کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے اور 1980, 1987, 1996, 2001 اور 2007 سے لیکر 2011 تک پاراچنار کے خراب ترین صورتحال اور پاراچنار کا طویل محاصرہ اس بات کا واضح ثبوت ہے۔
افغان ملی اردو قبائل کیخلاف کوئی عزائم نہیں رکھتے اور اگر کوئی عزائم ہیں بھی تو انکا تعلق قبائل کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ پاکستان ریاست کو نقصان پہنچانا ہے کیونکہ افغانستان سمجھتا ہے کہ پاکستانی ریاست افغان طالبان کو سپورٹ کرتے ہیں اور افغان طالبان پاکستان کی مدد سے افغانستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور افغانستان میں انتشار پھیلا رہے ہیں لیکن طالبان اور داعش جیسے بدنام زمانہ تکفیری گروہ کسی بھی کارروائی سے دریغ نہیں کرینگے اور معاشرے کہ یہ ناسور ( طالبان، داعش) اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہونگے۔ اسکی وجہ ہے۔
پہلی وجہ یہ کہ تککفیری گروہ اپنی ظالمانہ طرز عمل کی وجہ سے دنیا میں کہیں بھی کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ دوسری یہ کہ کرم ایجنسی میں ہمیشہ انکو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
تیسری یہ کہ پہلے پوری پاک فوج انکے ساتھ کھڑی تھی لیکن اب ضیائی باقیات اور تبلیغی جراثیم آلود فوجیوں کے علاوہ پاک فوج انکے خلاف ہے، اور اسکی بھی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان گروہوں نے پاک فوج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ انکا ٹاکرا سب سے پہلے فوج سے ہوگا۔
پہلے طوری بنگش تکفیری گروہوں کے نشانے پر تھے اب فوج بھی انکے نشانے پر ہے بلکہ اب تکفیری گروہوں کا پہلا نشانہ پاک فوج ہی ہے اور فوجیوں کو قتل کرکے انکے سروں سے فٹبال کھیلتے کون بھول سکتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ اگر افغان ملی اردو حملہ آور ہوتا ہے یا تکفیری گروہ طالبان و داعش دونوں کا پہلا نشانہ پاک فوج ہوگا، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ قبائل نے نہ انگریز فوج پر تکیہ کیا ہے، نہ افغان اور نہ ہی پاکستان فوج پر، بلکہ مذکورہ بالا افواج نے قبائل کو نقصان کے علاوہ کچھ دیا بھی نہیں اسلئے ان پر تکیہ نہیں کیا جا سکتا۔
اہم بات یہ کہ پاک فوج پہلے سب طالبان کو اپنے بگڑے ہوئے بچے سمجھ رہے تھے لیکن جب انکے سر کاٹ کر فٹبال کھیلا گیا تو پاک فوج کو اندازہ ہوا کہ طالبان اب صرف ہمارے بچے نہیں رہے بلکہ ہندوستان اور بہت سے اوروں کے بھی بچے ہیں۔
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

‮پاکستان ‬ ‮متحدہ ہندوستان اور شیعہ سنی کشمکش‬

‮پاکستان ‬ ‮متحدہ ہندوستان اور شیعہ سنی کشمکش‬ | parachinarvoice |
برِصغیر میں شیعہ سنی تعلقات کا گراف اگر بنایا جائے تو وہ خطِ مستقیم کے بجائے خطِ منہنی کی طرح ٹیڑھا میڑھا بنے گا۔کبھی مثالی تعلقات ، کبھی برے تو کبھی نیم برے تو کبھی نیم اچھے۔۔۔
Shafiq Ahmed's insight:

متحدہ ہندوستان اور شیعہ سنی کشمکش
وسعت اللہ خان
برِصغیر میں شیعہ سنی تعلقات کا گراف اگر بنایا جائے تو وہ خطِ مستقیم کے بجائے خطِ منہنی کی طرح ٹیڑھا میڑھا بنے گا۔کبھی مثالی تعلقات ، کبھی برے تو کبھی نیم برے تو کبھی نیم اچھے۔۔۔
ہندوستان میں مسلمان افغانستان ، ایران اور بحرِ ہند کے راستے داخل ہوئے۔ ان میں عرب ، ترک ، ایرانی حملہ آور اور فاتحین بھی تھے اور جابر عربی و عجمی حکومتوں سے تنگ مفرور ملزم ، فن کار ، علما ، صوفی اور بہتر معاشی و سماجی مستقبل کے خواہاں عام مسلمان بھی۔
آنے والوں کو دو بنیادی چیلنج درپیش تھے۔ اول یہ کہ اقلیت ہونے کے سبب مقامی ہندو اکثریت کے درمیان اپنا تشخص اور دبدبہ کیسے قائم رکھیں دوم یہ کہ خود مسلم سماج کے اندر سماجی، سیاسی، نسلی اور فرقہ وارانہ تضادات کو کیسے قابو میں رکھیں۔
اس تناظر میں ہندوستان میں شیعہ سنی تعلقات کو تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے یعنی ابتدائی دور ، مغلیہ دور اور انگریزی دور۔
* ابتدائی دور
محمد بن قاسم کے بعد سندھ میں لگ بھگ ڈھائی سو برس تک قائم رہنے والا سنی عرب اقتدار پہلے دمشق کی خلافتِ بنو امیہ اور پھر بغداد کی خلافتِ عباسیہ کی خوشنودی پر منحصر رہا۔
جب نویں اور دسویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں مبلغین اور صوفیوں کی آمد کا سلسلہ بڑھنا شروع ہوا تب تک سنیوں کے چار فقہی مکاتیب ( حنفی ، حنبلی ، مالکی ، شافعی ) تشکیل پا چکے تھے اور اہلِ تشیع تین شاخوں ( زیدی ، اثنا عشری ، اسماعیلی ) میں بٹ چکے تھے۔
سنیوں میں امام ابو حنیفہ کے حنفی مکتبِ فکر کے پیروکاروں کی اکثریت تھی اور شیعوں میں چھٹے امام جعفر صادق کے مرتب کردہ فقہِ جعفریہ کے اثنا عشری پیروکار زیادہ تھے۔ چونکہ اس زمانے میں فقہی اختلافات زیادہ تر علمی مباحث کی حدود میں تھے لہذا تحصیلِ علم مشترکہ میراث تھی چنانچہ یہ کوئی انہونی بات نہیں تھی کہ دو سنی فقہا امام مالک اور امام ابوحنیفہ امام جعفر صادق سے بھی درس لیتے رہے۔
( اثنا عشری شیعہ جانشینی و امامت کے مسئلے پر امام جعفر صادق کے دو بیٹوں اسماعیل ابنِ جعفر اور موسی کاظم کے حامیوں میں تقسیم ہوگئے۔ اسماعیل ابنِ جعفر کے حامی اسماعیلی کہلائے۔ اسی شاخ نے دسویں صدی عیسوی میں مراکش تا سندھ فاطمی اسماعیلی سلطنت قائم کی جس کا دارلحکومت قاہرہ تھا۔ جب فاطمی سلطنت کمزور ہوئی تو اسماعیلی دو مزید گروہوں میں بٹ گئے ایک شاخ نزاری کہلائی اور دوسری مستعصلی۔(داؤدی بوہرہ مستعصلی گروہ کی ہی شاخ در شاخ ہے)۔
اسماعیلی مبلغین ملتان تک پھیل گئے چنانچہ دسویں صدی کے وسط میں وہاں اسماعیلی قرامطہ حکومت قائم ہوئی مگر گیارہویں صدی کے شروع میں محمود غزنوی کے دو حملوں میں ملتان سے سیہون تک پھیلی قرامطہ حکومت ختم ہوگئی۔ ان حملوں میں ملتان کی اسماعیلی آبادی کا قتلِ عام ہوا۔ قرامطہ حکمران ابوفتح داؤد کو قیدی بنایا گیا۔ ملتان کے شہریوں سے لگ بھگ دو کروڑ دینار تاوان وصول کیا گیا اور بچے کچھے اسماعیلی بالائی پنجاب اور زیریں سندھ کے مختلف علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
محمود غزنوی کے بعد قرامطہ حکومت پھرمختصر عرصے کے لیے قائم ہوئی تاہم بارہویں صدی میں شہاب الدین غوری نے اس کا مستقل قلع قمع کر دیا اور بعد ازاں صوبہ ملتان دہلی سلطنت کا حصہ بن گیا۔

آج بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں صرف کارگل اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بلتستان اور گلگت ہی وہ علاقے ہیں جہاں شیعہ اکثریت ہے
اس دوران کشمیر میں ایک نئی پیش رفت شروع ہوگئی۔ کشمیر میں اسلام چودھویں صدی کے شروع میں ترکستان سے صوفی بلبل شاہ قلندر اور انکے ایک ہزار مریدوں کے ساتھ پہنچا۔ بودھ راجہ رنچن نے دینی افکار سے متاثر ہو کر بلبل شاہ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔یوں راجہ رنچن سلطان صدر الدین کے نام سے کشمیر کا پہلا مسلمان حکمران بنا۔بعد ازاں ایک ایرانی صوفی سید علی ہمدانی سات سو مبلغوں ، ہنرمندوں اور فن کاروں کی جماعت لے کر کشمیر پہنچے اور اس ثقافت کا جنم ہوا جس نے جدید کشمیر کو شناخت مہیا کی۔
لگ بھگ اسی دور میں شمس الدین عراقی اور انکے پیروکاروں نے کشمیر میں قدم رکھا۔ انہوں نے چک خاندان کی مدد سے ہزاروں ہندوؤں کو شیعہ اسلام میں داخل کیا۔ ایک ترک جنگجو سردار مرزا حیدر دگلت نے پندرہ سو چالیس میں کشمیر پر حملہ کیا اور شیعہ فرقے کا قتلِ عام کیا۔ مرزا دگلت کی واپسی کے بعد چک خاندان کا اقتدار پھر سے بحال ہوگیا ۔ چک حکمرانوں کے تبلیغی جوش وخروش کے ردِ عمل میں سن سولہ سو بائیس سے سولہ سو پچاسی تک کشمیر میں چار بڑے شیعہ سنی بلوے ہوئے۔
ایک سرکردہ مقامی سنی عالم شیخ یعقوب سرفی نے مغلِ اعظم اکبر کو کشمیر پر فوج کشی کی دعوت دی ۔ یوں کشمیر کی آخری آزاد حکومت اپنی ہی فرقہ پرستی کا لقمہ بن گئی۔جب اٹھارویں صدی میں مغل سلطنت زوال پذیر ہونے لگی تو کشمیریوں نے احمد شاہ ابدالی کو مدعو کیا لیکن یہ دعوت بھی ایک مصیبت بن گئی۔
لوٹ مار کا ایک دور ختم ہوتا تو دوسرا شروع ہوجاتا۔پھر کشمیر رنجیت سنگھ کے تختِ لاہور کے زیرِ نگیں آگیا۔مگر انیسویں صدی کے وسط میں انگریز وں نے کشمیر رنجیت سنگھ کے ورثا سے لے کر ڈوگروں کے ہاتھ فروخت کردیا۔ ڈوگرہ دور میں کشمیری مسلمانوں کے فرقہ وارانہ اختلافات وقتی طور پر دب گئے اور تین سو برس بعد سری نگر میں عاشورے کا جلوس نکلا۔
آج بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں صرف کارگل اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بلتستان اور گلگت ہی وہ علاقے ہیں جہاں شیعہ اکثریت ہے۔
* مغلیہ دور
جو بھی ہندوستان جیسے عظیم ملک پر طویل عرصہ حکومت کرنا چاہتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ تمام مذہبی طبقات و مذاہب سے کشادہ دلی برتے۔ جب تک مغلوں نے اس اصول پر عمل کیا ان کی سلطنت مستحکم رہی ۔تنگ نظری بڑھتی گئی تو سلطنت کی عمر گھٹتی گئی۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بابر سے لے کر شاہ جہاں تک مغلوں کا طرزِ حکومت کم و بیش نرمی و گرمی کی مرکب سیکولر پالیسی کے محور پر رہا۔ جب اورنگ زیب نے اس پالیسی سے روگردانی کی تو نتیجہ شورش اور ٹوٹ پھوٹ کی شکل میں نکلا۔
جن دنوں بابر وسطی ایشیا میں فرغانہ کی کھوئی ہوئی سلطنت حاصل کرنے کی تگ و دو میں تھا تو مشکل وقت میں ایران کے صفوی بادشاہ اسماعیل نے قزلباش جنگجوؤں کو بابر کی مدد کے لیے بھیجا۔ بابر یہ بات نہیں بھولا اور جب اس نے ہندوستان میں مغلیہ اقتدار کی بنیاد رکھی تو اپنے ساتھ ایرانی مشاورت بھی لایا۔ اس نے ولی عہد ہمایوں کو وصیت کی کہ ایرانیوں سے تعلقات اچھے رکھنا۔خود کو فرقہ واریت اور مذہبی تعصبات سے بالا رکھتے ہوئے ہر طبقے کے ساتھ اس کی روایات کے مطابق انصاف کرنا۔
جس طرح بابر سے فرغانہ کی سلطنت چھنی اور اس نے ایران کے شاہ اسماعیل کی مدد سے اقتدار دوبارہ حاصل کیا۔اسی طرح ہمایوں سے بھی جب شیرشاہ سوری نے مغل سلطنت چھین لی تو شاہ اسماعیل کے بیٹے طہماسپ نے بھرپور مدد دی۔ ہمایوں نے عالمِ غربت میں لگ بھگ پندرہ برس ایران میں گذارے۔ بعض روایات کے مطابق ہمایوں نے بادلِ نخواستہ شاہ طہماسپ کے اصرار پر مصلحتاً وقتی شیعت اختیار کرلی ۔ شاہ طہماسپ نے بارہ ہزار ایرانی سپاہیوں کا لشکر ہمایوں کے سپرد کیا ۔یوں ہمایوں نے مغل سلطنت دوبارہ حاصل کی۔ہمایوں ایران سے اپنے ہمراہ فارسی ، درباری روایات ، فنونِ لطیفہ کے ماہرین اور انتظامی و فوجی انصرام کے طریقے لایا۔یوں ایرانی اثر و نفوز مغلیہ خاندان میں رچتا بستا چلا گیا۔
ہمایوں کے بیٹے اکبر کے زمانے میں مذہبی رواداری نے نیا رخ اختیار کیا۔اکبر نے صلحِ کل کی پالیسی کے تحت راجپوتوں سے سیاسی تقاضوں کے سبب رشتے ناطے کیے۔ اکبر کے رتنوں میں دو اہم رتن ابوالفضل فیضی اور عبدلرحیم خانِ خاناں شیعہ تھے۔ تاہم اکبر کی فراخدلانہ مذہبی پالیسی کے ردِ عمل میں درباری علما کے مابین عقائد کی سرد جنگ چھڑ گئی جو وقت کے ساتھ ساتھ نت نئی شکلیں اختیار کرتی گئی۔
اکبر کے وارث جہانگیر کی محبوب ایرانی نژاد ملکہ نور جہاں اور اس کے بھائی آصف خان کے اثرو نفوز نے دربارِ جہانگیری پر ایرانی رنگ اور چڑھا دیا۔چنانچہ ایک سرکردہ غیر درباری سنی عالم شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی نے دربار پر بڑھتے ہوئے شیعہ اثرات کے ردِ عمل میں ردِ روافظ کے نام سے کتاب لکھی لیکن شیخ احمد سرہندی نے جب قیوم ہونے کا دعوی کیا تو جہانگیر نے زنداں میں ڈال دیا۔
مگریہ کہنا بھی درست نہ ہوگا کہ ابتدائی مغل بادشاہ مکمل طور سے ایرانی اثرات کے سحر میں تھے کیونکہ انہیں جب کوئی سیاسی و بقائی فیصلہ درپیش ہوتا تو وہ رواداریاں باآسانی لپیٹ بھی دیتے تھے۔
جیسے شروع شروع میں اکبر کا مذہبی رویہ خاصا سخت گیر رہا۔ اس نے بااثر سنی درباری عالم شیخ عبدالنبی کے مشورے پر حضرت امیر خسرو کے پہلو میں دفن ایک ایرانی شیعہ عالم میر مرتضی شیرازی کی قبر اکھڑوا دی۔ بعد ازاں یہی اکبر مذہبی و فرقہ وارانہ لحاظ سے غیر جانبدار ہوگیا۔
اسی دور میں ایک شیعہ عالم نور اللہ شستری ایران سے آگرہ آئے اور مختصر عرصے میں اپنی علمیت و فراست سے بادشاہ کا اعتماد حاصل کرلیا۔ اکبر نے انہیں قاضی القضاۃ کا درجہ دیا۔ جب کشمیر کی شیعہ چک سلطنت میں زیادتیوں کے شکار سنی علما دہائی دینے لگے تو اکبر نے حالات معلوم کرنے کے لئے نور اللہ شستری کو ہی بطور شاہی ایلچی کشمیر بھیجا۔
اکبر کی وفات کے بعد جہانگیر نے نور اللہ شستری کو چیف قاضی کے منصب پر برقرار رکھا۔ لیکن جب شیعہ عقائد پر سنی اعتراضات کے جوابات پر مبنی انکی کتاب احقاق الحقائق ( سچ کی توضیح ) سامنے آئی تو دربار کے سنی علما نے نور اللہ شستری پر شرک کا فتوی جاری کیا۔یوں ستر سالہ شستری شاہی غضب کا نشانہ بنے اور کوڑوں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئے۔ اہلِ تشیع انہیں بطور شہیدِ ثالث یاد کرتے ہیں۔
شاہجہاں کی فرقہ وارانہ پالیسی بھی کم و بیش اپنے پیشروؤں کی طرح ہی رہی۔ شاہجہاں کی محبوب بیوی اور ملکہ نور جہاں کی بھتیجی ممتاز محل تاج محل میں محوِ آرام ہے۔دورِ شاہجہانی کا ایک ایسا واقعہ ملتا ہے جب ایک اسماعیلی مبلغ سیدنا شجاع الدین کے عقائد ناپسند کرتے ہوئے لاہور کے شاہی اصطبل میں ڈال دیا گیا۔
روایت ہے کہ اصطبل کے اردگرد آتشزدگی ہوئی لیکن اصطبل محفوظ رہا۔۔چنانچہ شاہجہاں نے سیدنا شجاع الدین کو رہا کر کے عزت و احترام سے صوبہ گجرات روانہ کردیا گیا۔
تاہم اسی شاہ جہاں کا بیٹا اورنگ زیب جب گجرات کا گورنر بنا تو اس نے ایک اور اسماعیلی مبلغ سیدنا قطب الدین کو شرک کے فتوی پر سزائے موت دے ڈالی۔ تینتیس جلدوں پر مشتمل جو فتاویِ عالمگیری مرتب کیا گیا اس میں شیعہ عقیدے کو مشرکانہ بتایا گیا ۔اورنگ زیب کے دور میں تعزیے اور ماتمی جلوس کی ممانعت ہوئی ۔وہ چوبیس برس جنوبی ہندوستان کی ترکمان شیعہ قطب شاہی حکومت سے برسرِ پیکار رہا اور اس ڈیڑھ سو سالہ سلطنت کا خاتمہ کرکے ہی دم لیا۔
خود قطب شاہی دور بھی جنوبی ہندوستان کی پہلی تاجک شیعہ بہمنی سلطنت کے پونے دو سو سالہ اقتدار کے کھنڈرات پر قائم ہوا تھا۔لیکن اورنگ زیب کے ہاتھوں سولہ سو ستاسی میں قطب شاہیوں کے خاتمے کا ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ جنوبی ہندوستان سے ایک مضبوط مسلمان بادشاہت ہٹنے کے بعد ہندو مرہٹے اور مغل آمنے سامنے ہو گئے۔
رفتہ رفتہ اس چپقلش نےمغل حکومت کے استحکام کو ہی کھوکھلا کردیا اور اورنگ زیب کی وفات کے بعد مغلیہ اختیار تیزی سے مٹتا چلا گیا۔ جس تخت پر بااختیار بادشاہ بیٹھتے تھے اس پر بادشاہ نما کٹھ پتلیاں بٹھائی اٹھائی جانے لگیں۔
اٹھارویں صدی میں دو سگے بھائی مغل جرنیلوں نے بادشاہ گر کی شہرت پائی۔ تاریخ انہیں سید برادران کے نام سے جانتی ہے۔ سید حسن علی خاں اور حسین علی خاں ایرانی ساداتِ بارہہ میں سے تھے۔ اورنگ زیب کے بعد جب طوائف الملوکی پھیلی تو اصل اقتدار سید برادران کے ہاتھ آگیا۔ انہوں نے پندرہ برس میں چھ بادشاہوں ( بہادر شاہ ، جہاندار شاہ ، فرخ سیر ، رفیع الدرجات ، رفیع الدولہ ، محمد شاہ ) کو تخت پر بٹھایا ۔ان میں سے ایک کو قتل ، دوسرے کو نابینا اور تین کو معزول کیا۔بالاخر چھٹے بادشاہ محمد شاہ ( رنگیلا ) نے سید برادران کا کام اتار ڈالا۔
سلطنتِ اودھ
جس دور میں مغل بادشاہ محمد شاہ نے بادشاہ گر سید برادران کو ٹھکانے لگایا ۔انہی برسوں میں اودھ کے مغل گورنر برہان الملک سعادت علی خاں نیشا پوری نے کمزور تختِ دہلی سے زبانی وفاداری نبھاتے ہوئے فیض آباد سے خاندانِ اودھ کی حکمرانی کا آغاز کیا۔اودھ کی شیعہ سلطنت دراصل اس علاقے میں لگ بھگ تین سو برس پہلے قائم جون پور کی شرقی شیعہ سلطنت کے کھنڈرات پر قائم ہونے والی ایک بڑی شیعہ حکومت تھی جو سترہ سو بائیس سے اٹھارہ سو اٹھاون تک ایک سو چھتیس برس قائم رہی ۔ دس نوابین نے اودھ پر حکمرانی کی ۔ان میں سے نواب آصف الدولہ ، غازی الدین حیدر اور واجد علی شاہ نے بالخصوص سلطنتِ اودھ کے سیاسی ، سماجی و ثقافتی عروج و زوال میں اہم کردار ادا کیا۔
آصف الدولہ کے زمانے میں ایران سے اصولی شیعہ علما کی آمد شروع ہوئی جنہوں نے اخباری شیعہ رواج کے برعکس اس پر زور دیا کہ فقہی حوالے سے کسی ایک مرجع ( وہ عالم جس سے فقہی رہنمائی لی جا سکے ) کی تقلید ضروری ہے۔ آصف الدولہ کے وزیرِ اعظم حسن رضا خان نے شیعہ مبلغین کی نا صرف خصوصی سرپرستی کی بلکہ عراق میں نجف اور کربلا کی دیکھ بھال کے لئے بھی اودھی خزانے سے لگ بھگ دس لاکھ روپے سالانہ بجھوائے جانے لگے جبکہ پانچ لاکھ کے صرفے سے دریائے فرات سے نہرِ ہندی نکلوائی گئی جس نے نجف تا کربلا کا علاقہ سرسبز کردیا۔خانہ بدوش عرب قبائل نے یہاں سکونت اختیار کرنے لگے اور شیعت فروغ پانے لگی۔
ایران کے اصولی شیعہ علما کی آمد سے قبل اودھ بالخصوص فیض آباد میں سنی اور شیعہ مقامی ہندووں کے ساتھ مل کے عاشورہ کا انتظام و انصرام کرتے اور رسومات میں شریک ہوتے تھے ۔مگر کٹر علما کی آمد سے کٹرپن اور مذہبی فاصلہ بھی بڑھتا گیا۔ اودھ بالخصوص لکھنئو میں فرقہ ورانہ کشیدگی اسی دور کا تحفہ ہے۔ اٹھارہ سو ستاون کی جنگِ آزادی میں اودھ میں انگریزوں کے خلاف مزاحمت کے غیر موثر ہونے کا ایک اہم سبب بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ خلیج بھی تھی۔
تاہم سترہ سو چوہتر میں فیض اللہ خان نے رام پور میں جو چھوٹی سی شیعہ ریاست قائم کی اس میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی مقابلتاً بہتر رہی۔جبکہ سب سے بڑی مسلمان ریاست حیدرآباد میں بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی زہر آلود نہیں ہوئی۔
* انگریز کا دور
اودھ کی ریاست بعد از زوال اترپردیش کا حصہ ہو گئی اور فرقہ واریت بھی انیسویں سے بیسویں صدی میں داخل ہوگئی۔ مقامی شیعہ اور سنی عالموں کے بڑھتی مذہبی مخاصمت کے سبب انیس سو چار اور آٹھ کے درمیان یو پی بالخصوص لکھنئو اور گردونواح میں شیعہ سنی تصادم کی کئی دفعہ نوبت آئی۔چنانچہ انیس سو نو میں پورے صوبے میں عاشورہ اور چہلم کے جلوس ممنوع ہوگئے لیکن سن تیس کے عشرے میں تین بڑے فرقہ وارانہ تصادم ہوئے اور اس مسئلے نے آزادی کے بعد بھی جان نہیں چھوڑی۔
تاہم انگریزی دور میں یو پی کو چھوڑ ہندوستان کے دیگر علاقوں بالخصوص رجواڑوں میں شیعہ سنی کشیدگی زیادہ تر زبانی حد تک ہی رہی ۔دونوں فرقوں سے تعلق رکھنے والے مغربی تعلیم یافتہ سیاسی رہنماؤں نے اس مسئلے کو اپنی سیاست اور انا کا محور بنانے سے گریز کیا ۔اس دور میں کانگریس اور مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاستدانوں ، عام لوگوں اور بیشتر علما کی زیادہ توجہ انگریزی اقتدار کے خلاف بڑی لڑائی پر ہی مرکوز رہی۔
* شیعہ، بریلوی، دیوبندی اور وہابی
انیس سو سینتالیس میں جن علاقوں میں پاکستان بنا وہاں صوبہ سرحد کو چھوڑ کر ہر جگہ سنی بریلوی مکتبہِ فکر کے پیروکاروں کی اکثریت تھی ۔چونکہ بریلوی مسلک میں تصوف کو خاصی اہمیت حاصل ہے اور تصوف کا روحانی سلسلہ حضرت علی سے شروع ہوتا ہے ۔لہذا بریلویوں اور اہلِ تشیع کے درمیان کم و بیش مذہبی رواداری کی فضا ہی رہی۔البتہ دیگر مکاتیبِ فکر بمقابلہ شیعہ مکتبِ فکر ایسی صورتِ حال نہ تھی۔
شاہ ولی اللہ اور محمد بن عبدالوہاب
سترہ سو تین عیسوی ہیں جزیرہ نما عرب میں محمد بن عبدالوہاب اور ہندوستان میں شاہ ولی اللہ کی پیدائش ہوئی۔ دونوں نے اگلے تین سو برس میں مسلمان دنیا پر گہرے نقوش چھوڑے۔
شاہ ولی اللہ کی تعلیمات نے ان کی وفات کے سو برس بعد دیوبند مکتبِ فکر کی صورت اختیار کی اور محمد بن عبدالوہاب کی دین کو تمام علتوں سے پاک کرنے کی تحریک و تشریح نے ایک طرف خاندانِ سعود کی فکری تعمیر کی اور دوسری طرف خالص پن کے نظریے نے شدت اختیار کرتے کرتے سلفی رخ لے لیا جس نے آگے چل کر تکفیری فلسفے کی شکل میں القاعدہ کو جنم دیا اور پھر اس دھارے میں دیگر شیعہ مخالف دھارے بھی ملتے چلے گئے۔
شاہ ولی اللہ دہلوی شاہ عبدالرحیم کے صاحبزادے تھے اور شاہ عبدالرحیم اورنگ زیب عالمگیر کے فتاویِ عالمگیری کے مرتبین میں شامل تھے۔جب شاہ ولی اللہ نے آنکھ کھولی تو ہندوستان میں مغل سورج ڈوب رہا تھا۔ شاہ ولی اللہ نے لگ بھگ دس برس کا عرصہ عرب میں گذارا۔ اگرچہ انکی محمد بن عبدالوہاب سے براہِ راست ملاقات نہیں ہوئی تاہم دونوں کے کچھ اساتذہ مشترک ضرور رہے۔
شاہ ولی اللہ ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی و حکومتی زوال پر خاصے مضطرب تھے ۔انہوں نے اہلِ سنت کے چاروں مکاتیب میں فکری و فقہی ہم آہنگی کی پرزور وکالت کی تاہم فقہِ جعفریہ اس ہم آہنگی سے خارج رکھا گیا۔ انہوں نے مختلف مذہبی موضوعات و مسائل پر اکیاون تصنیفات رقم کیں۔ ایک کتاب قرت العینین میں اہلِ تشیع کو کمزور عقیدے کا فرقہ ثابت کیا گیا۔
شاہ ولی اللہ نے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پر حملہ آور ہونے کی جو دعوت دی اس کا مدعا و مقصد نہ صرف بڑھتی ہوئی مرہٹہ طاقت کا زور توڑنا بلکہ دہلی سے رافضی اثرات ختم کرنا بھی تھا۔چنانچہ جب ابدالی حملہ آور ہوا تو اس نے دہلی میں اہلِ تشیع کو بطورِ خاص نشانہ بنایا۔ شاہ ولی اللہ کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی بھی بلند پایہ عالم تھے لیکن اثنا عشری عقائد کے بارے میں انکے خیالات اپنے والد کی نسبت زیادہ سخت تھے ۔اس کا اندازہ انکی تصنیف تحفہِ اثنا عشریہ پڑھ کے بھی ہوسکتا ہے۔
جہاں تک ہندوستان میں وہابی عقائد کی ترویج کا معاملہ ہے تو ان کی اشاعت بہت بعد میں شروع ہوئی اور پہلا اہم مرکز ریاست بھوپال بنا جب محمد بن عبدالوہاب کے افکار سے متاثر ایک سرکردہ عالم صدیق علی خان کی انیسویں صدی کی آخری چوتھائی میں بھوپال کی حکمراں شاہجہاں بیگم سے شادی ہوئی اور وہابی فکر کو ریاستی سرپرستی میسر آگئی تاہم بریلوی اور دیوبندی مکتبِ فکر کو ہندوستان کی سرزمین جتنی راس آئی ویسی مقبولیت وہابی نظریات کو حاصل نا ہوسکی۔
البتہ آزادی کے بعد شیعہ سنی تعلقات کے تناظر میں وہابی مکتبِ فکر نے عمومی زہن پر مخصوص اثرات مرتب کیے وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ آج تک وہ اثرات کس کس شکل میں ظاہر ہوئے ہیں۔یہ کوئی راز نہیں ہے۔

No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

عمر میڈیا پروڈکشن ویڈیو! تحریک طالبان درہ آدم خیل اور اسکے کمانڈر عمر منصور چار حملہ آوروں کیساتھ

جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد مسلمان نہیں ہو سکتے! جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد پاکستانی نہیں ہو سکتے! جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد پختون نہیں ہو سکتے! وہ کان کھل ک...
Shafiq Ahmed's insight:

جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد مسلمان نہیں ہو سکتے!
جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد پاکستانی نہیں ہو سکتے!
جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد پختون نہیں ہو سکتے!
وہ کان کھل کر سن لیں۔۔
عمر میڈیا پروڈکشن کا تیار کردہ ویڈیو! تحریک طالبان درہ آدم خیل اور اسکے کمانڈر عمر منصور ان چار حملہ آوروں کیساتھ جنہوں نے باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر حملہ کرکے ہماری مستقبل کو خاک و خون میں نہلا دیا اور بے گناہ پروفیسر اور طالبعلموں سمیت اکیس افراد کو شہید کردیا۔ یہ ویڈیو باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر حملے سے پہلے تیار کی گئی اور ریاست پاکستان اور پاک افواج کیخلاف غلیظ ترین الفاظ استعمال کرتے ہوئے اپنے ناپاک ارادے دہرائے گئے۔
یہ نہ اسریئل سے آئے یہودی ہیں اور نہ ہی ہندوستان سے آئے ہندو!
بلکہ یہ سب مسلمان، پاکستانی اور پختون ہیں۔
آپ بھی دیکھ لیں کہیں آپکا باپ، بھائی یا کوئی رشتہ دار تو ان کیساتھ نہیں ملا ہوا!

No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

پاراچنار، مرکزی جامع مسجد کے خطیب جمعہ کا مسئلہ حل ہوگیا۔ مولانا فدا حسین مظاہری نئے پیش نماز مرکزی امام بارگاہ مقرر

پاراچنار، مرکزی جامع مسجد کے خطیب جمعہ کا مسئلہ حل ہوگیا۔ مولانا فدا حسین مظاہری نئے پیش نماز مرکزی امام بارگاہ مقرر | parachinarvoice |

پاراچنار، مرکزی جامع مسجد کے خطیب جمعہ کا مسئلہ حل ہوگیا" ۔"

شفقنا اردو: پاراچنار مرکزی امام بارگاہ و مسجد پورے پاراچنار کے عوام کا مرکز ہے، جس میں خطیب جامع مسجد پورے کرم ایجنسی کے عوام کا روحانی شخصیت کے علاوہ تمام اندرونی و بیرونی مسائل کیلئے اپنے لئے رہبر سمجھتے ہیں۔ اور اسی خطیب کو اسلام آباد میں مقیم آیت اللہ سید علی سیستانی کے نمائندہ علامہ شیخ محسن منتخب کرتاہے۔ گزشتہ انتخابات کے دوران جامع مسجد پاراچنار کے خطیب جمعہ علامہ شیخ محمد نواز عرفانی انتخابات میں مداخلت کرکے پاراچنار کے عوام کے درمیان کشید گی پیدا ہوگئی تھی۔ پاراچنار کے عوام دو حصوں (ایم این اے ساجد طوری اور امیدوار ائیرمارشل(ر) قیصر حسین ) میں منقسم ہوا۔ بعد ازاں علامہ شیخ نواز عرفانی کو ایجنسی بدر کیا گیا، اور 2014 کے دسمبر کے مہینے میں اسلام آباد میں شہید کردیا گیا۔ انکے شہادت کے بعد پاراچنار کے مرکزی مسجد کے خطیب کے مسئلے نے شور پکڑا۔ تاہم مقامی مولانا عارف حسین جعفری کو کشیدہ حالات سنبھالنے کیلئے خطیب جمعہ مقرر کیا گیا۔ لیکن کرم ایجنسی کے اکثر عوام اسے نہیں چاہتے تھے۔ آخر کار اسی نئے سال کے شروع میں ہی پاراچنار کے عمائدین کا وفد اسلام آباد پہنچ گیا جہاں مولانا شیخ محسن سے پاراچنار کے مرکزی جامع مسجد کے خطیب کے فیصلے کا مطالبہ کیا۔ وفد میں ایم این اے ساجد طوری، سینیٹر سجاد حسین اور دیگر اراکین انجمن شامل ہیں۔ کل رات کو مولانا شیخ محسن نے فیصلہ کرکے گلگت سے تعلق رکھنے والے علامہ فداحسین مظاہری کو پاراچنار کے جامع مسجد کے خطیب اور مدرسہ جعفریہ کے مدیر اعلی کیلئے منتخب کردیا۔
جب پاراچنار مرکزی جامع مسجد میں خطیب کا مسئلہ چلا آرہاتھا۔ اس موقع پر پاراچنار کے شیعیوں کا بیرونی دشمن ناپاک عزائم بنا کر کوئی بھی نقصان پہنچا سکتاہے۔ اور دشمن اس خوشفہمی تھے کہ اب پاراچنار کے عوام آپس میں لڑیں گے۔ لیکن پھر بھی پاراچنار کے عمائدین نے سوچ سمجھ کر خطیب کا مسئلہ حل کرکے عوام کو آپس میں لڑنے سے بچالیا۔

Shafiq Ahmed's insight:

رپورٹ بشکریہ شفقنا نیوز ایجنسی

No comment yet.