shiakillings
2.8K views | +0 today
Follow
shiakillings
shiakillings
Curated by Shafiq Ahmed
Your new post is loading...
Your new post is loading...
Rescooped by Shafiq Ahmed from From Parachinar The Pakistani Gaza
Scoop.it!

کرم ایجنسی، پاراچنار میں دہشتگردی فرقہ واریت اور قبائلی دشمنی مختصر تاریخ اور حقیقت ۔ شفیق احمد طوری

کرم ایجنسی، پاراچنار میں دہشتگردی فرقہ واریت اور قبائلی دشمنی مختصر تاریخ اور حقیقت ۔ شفیق احمد طوری | shiakillings | Scoop.it

پاراچنار کے عیدگاہ میں دھماکے سے ۲۳ افراد جاں بحق ہوئے اور دسیوں زخمی ہوگئے۔

کالعدم لشکر جھنگوی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی اور اسے شام کے لڑائی سے جڑنے کی کوشش کی لیکن لشکر جھنگوی لوگوں کو گمراہ کررہی ہے جو ہر دھماکے کے بعد کرتے رہتے ہیں۔
کرم ایجنسی میں شیعہ آبادی کو تین سو سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے اور یہاں کے اکثریتی شیعہ آبادی کو مسلکی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، شام کی لڑائی تو صرف چار سال سے شروع ہوئی ہے۔ تو اسے پہلے کس وجہ سے نشانہ بنایا جاتا رہا؟
اور ایران میں خمینی انقلاب بھی صرف ۳۵ سال پہلے کا واقعہ ہے۔
دراصل اس جنگ کی ابتداء جنگ چودہ سو سال پہلے کربلا سے شروع ہوتی ہے بلکہ اسے بھی پہلے! بدر اور اُحد سے۔
http://nyti.ms/1lYl8Wy لنک
یہ دھماکہ اہلسنت کی عیدگاہ میں ہوا جہاں لنڈہ بازار لگا ہوا تھا ،اور یہاں عیدگاہ کے ایک کونے میں ہمیشہ سے یہ بازار لگتا رہا ہے۔ جہاں سنی ہوتا ہے نہ شیعہ وہاں صرف غریب لوگ جاتے ہیں، کیونکہ پاراچنار کا موسم نہایت شدید سرد ہوا کرتا ہے اور درجہ حرارت منفی بیس تک چلا جاتا ہے تو غریب اور مسکین لوگ اپنے لیئے اور اپنے بچوں کیلئے لنڈے کے کپڑے اور سردی سے بچنے کے لوازمات خریدتے ہیں۔
پاراچنار میں دہشتگردی کی اصل کہانی ہے کیا؟
اصل کہانی فرقہ ورانہ منافرت ہے اور کرم ایجنسی میں موجود اکثریتی طوری قبیلہ جو شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں آبادی پر مشتمل ہے یہ نہ ملک کے اسٹیبلشمٹ کو قبول ہے اور نہ ہی علاقے کی دیگر سنی قبائل کو قابل قبول ہے۔
مذہبی منافرت کے علاوہ یہاں چونکہ شیعہ سنی ساتھ ساتھ رہے ہیں تو زمین ، پہاڑ اور پانی کے جھگڑے بھی ہوتے رہے ہیں جو بعد میں مذہبی اور مسلکی لڑائی میں بدل کر علاقے کو میدان جنگ میں تبدیل کرتے رہے ہیں۔
افغانستان متعصب حکمرانوں بچہ سقا اور امان اللہ خان کے ظلم ستم سے تنگ آکر طوری قبیلے نے طویل جدوجہد کے بعد انگریزوں کیساتھ ملکر کرم ایجنسی کو متحدہ ہندوستان میں شامل کرلیا اورڈیورنڈ لائن کی اس پار انگریزوں نے طوری قبیلے کے حفاظت کیلئے ۱۸۹۲ میں طوری میلشیا کے نام سے قبائلی ملیشیا بنایا جو بعد میں کرم ملیشیا بن گیا اور پاکستان کا حصہ بن گیا۔
بدقسمتی سے ضیااء لحق کے فرقہ ورانہ پالیسیوں کا شکار ہو کر کرم ملیشیا کو برطرف کرکے پورے پاکستان میں پھیلایا گیا، علاقے کو آگ و خون میں نہلایا گیا اور سرسبز وشاداب ، حسین و جمیل اور جنت نظیر علاقے کو دہشتگردی اور فرقہ واریت کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا جو آج تک نہیں نکل سکا۔
۱۹۲۹-۲۸، ۱۹۵۰ اور ۱۹۵۶ کے خونریز لڑائیوں کے علاوہ میرے سامنے جو خونریز لڑائی ہوئیں انکا مختصر تاریخ یہ ہے
۱۹۸۱-۸۲ میں صدہ قصبہ میں شیعہ آبادی پر ہلہ بول دیا اور دادو حاجی کے سارے خاندان کو ہلاک کیا گیا اور صدہ قصبے سے شیعہ آبادی کو مکمل طور پر بے دخل کر دیاگیا جو آج تک آباد نہیں ہو سکے۔
۱۹۸۷-۸۸ ضیاءالحق کے دور میں پاکستان شیعہ مسلک کے روح رواں اور ملت جعفر یہ کے صف اوّل کے رہنما علامہ عارف حسین الحسینی کو شہید کیا گیا اور علاقے کے سنی قبائل نے افغان مہاجرین کیساتھ ملکر مقامی شیعہ آبادی پر حملہ کردیا اور مہینوں پر محیط لڑائی میں ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے۔ اور اسٹیبلیشمنٹ تماشا دیکھتی رہی۔

۱۹۹۶ میں رسول اللہ کے چچا اور حضرت علی کے والد حضرت ابو طالب کی توہین کی گئی اور مقامی شیعہ آبادی کو اشتعال دلا کر خونریز جنگ کا آغاز کیا گیا جو پانچ سال تک جاری رہا اور اسکے بعد کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو محصور کیا گیا اور انکے لئے پاراچنار تک رسائی کے صرف ایک راستے ٹل پاراچنار روڈ کو بند کیا گیا اور پاراچنار پاکستانی غزا میں تبدیل ہوا۔
جو ہزاروں لوگوں کی ہلاکت پر ختم ہوا۔

۲۰۰۷ میں طالبان نے انجمن اہل سنت والجماعت کے پاراچنار کے سیکریٹری جنرل عید نظر المعروف "یزید نظر" کیساتھ ملکر ۱۲ ربیع الاول کے عید میلاد النبی کے جلوس میں "حسین مردہ باد اور یزید زندہ باد" کے نعرے لگا کر جنگ کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھے پورے پورا علاقہ میدان جنگ میں تبدیل ہوا اور پانچ ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

یاد رہے عید نظر کالعدم سپاہ صحابہ کا سرگرم رکن تھا اور اب اہل سنت والجماعت کا سرگرم رکن ہے جسطرح دیگر سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے لوگ اہل سنت والجماعت کے چھتری تلے جمع ہوئے ہیں ۔
اسکے علاوہ لشکر طیبہ کے میجر مست گل بھی آجکل پاراچنار سے متعلق خبروں میں جلوہ گر ہو رہے ہیں اور مرکزی مسجد و امام بارگاہ کے پیش امام نواز عرفانی کے اسلام آباد میں ہونے والے قتل میں دیگر دہشتگردوں کیساتھ انکا بھی نام لیا جاتا رہا ہے۔


گزشتہ آربعین میں یعنی صرف دس دن پہلے کرم ایجنسی کے علاقے بوشہرہ میں شر انگریزی کی کوشش کی گئی اور انتظامیہ نے آنکھیں بند کردیں کہ بلا ٹل جائے گا۔
اس دھماکے میں ایک طرف چوبیس افراد شہید ہوئے لیکن ایک گھرانہ پورے کا پورا برباد ہوا، بغکی نامی گاؤں کے گوہر علی اپنے دو بیٹوں قیصر علی اور نعمان علی سمیت شہید ہوئے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہر کوئی اپنی گریبان میں جھانکیں اور مزید حالات سے آنکھیں چرانا بند کریں!
آنکھیں چرانے سے آپکے حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے، سازشوں ، دہشتگردی اور فرقہ واریت کا ملکر مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کریں اور حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے لوگوں میں شعور پیدا کریں۔
آپس میں اتحاد کا موقع ضائع نہ کریں۔
تاریخ میں وہ قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو مشکل حالات میں اپنے آپ پر قابو پا کر بہتر فیصلے کریں اور ہماری قوم شہادتوں کی ایک طویل داستان رکھتی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور کوئی مسلک نہیں ہوتا، البتہ دہشتگردی کی بھینٹ چڑھنے والوں کا تعلق اکثر شیعہ مسلک سے ہی ہوتا ہے چاہے کوئٹہ میں ہو یا کراچی لاھور، ڈی آئی خان یا پاراچنار۔
‏پاکستانی کے صف اوّل کے تجزیہ کاروں کیمطابق پاکستان میں ہونے والی ہر دہشتگردی میں بیرونی ہاتھ ملوث رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاؤں ہمیشہ پاکستانی ہوتے ہیں اور دماغ کا کبھی کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔
اللہ تعالی ہماری قوم کو آئیندہ ہر قسم کے آفتوں اور دہشتگردی سے محفوظ رکھیں۔ آمین۔

more...
No comment yet.
Rescooped by Shafiq Ahmed from parachinarvoice
Scoop.it!

Takfiri terrorists Maj Mast Gul assassinate Allama Nawaz Irfani in Islamabad

Takfiri terrorists Maj Mast Gul assassinate Allama Nawaz Irfani in Islamabad | shiakillings | Scoop.it
Top Shia Scholar who was representative of Grand Ayatollah Syed Ali al-Sistani in Pakistan and pro...
more...
Shafiq Ahmed's curator insight, December 11, 2014 9:28 AM


علامہ نواز عرفانی کے قتل کی سازش بے نقاب، طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاراچنار کی معروف شخصیت امام جمعہ و جماعت علامہ شیخ نواز عرفانی کے قتل میں کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق خفیہ اداروں کی جانب سے علامہ نواز عرفانی کی شہادت پر مرتب کی جانے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس واقعہ میں کالعدم تحریک طالبان کا میجر مست گل گروپ ملوث ہے۔ رپورٹ کے مطابق نامعلوم مقام پر داعش کے نمائندے زبیر الکویتی اور میجر مست گل گروپ کے اعلیٰ ذمہ داران کے درمیان ایک خصوصی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان میں داعش کی تشکیل، ابوبکر البغدادی کی بیعت اور فاٹا کی سرزمین کو داعش کا مرکز بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔رپورٹ کے مطابق اس میٹنگ میں پاراچنار کی سرزمین پر موجود شیعہ برادری کو داعش کی آمد میں سب سے بڑی رکاوٹ تسلیم کرتے ہوئے حکمت عملی مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ماضی میں شیعیان پاراچنار کی جانب سے طالبان کو ملنے والی پے در پے شکستوں کا بدلہ لینے اور فاٹا میں داعش کی آمد کا آغاز کرم ایجنسی سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ خفیہ ادارے کی رپورٹ کے مطابق میجر مست گل گرو کے سرکردہ افراد پاراچنار کی اہل تشیع برادری کو داعش کی آمد میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے اس لئے ماضی کا بدلہ لینے کی غرض سے پاراچنار کی اہم شخصیت علامہ نواز عرفانی کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ میجر مست گل گروپ کے افراد یہ بات بھی جانتے تھے کہ پاراچنار میں سادات اور غیر سادات کے فرق نے شیعوں کو تقسیم کیا ہوا ہے، اس ہی لئے پاراچنار کی مجاہد شخصیت علامہ نواز عرفانی جوکہ خود غیر سید تھے کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ان کو قتل کرنے کا ہدف یہ تھا کہ پاراچنار میں شیعہ آپس میں دست و گریباں ہوجائیں اور شیعوں کی اس تقسیم کا فائدہ اٹھا کر پاراچنار پر مکمل چڑھائی کردی جائے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو پاراچنار کی تسخیر کے بعد پورے فاٹا میں داعش کی عملداری کو آسانی کے ساتھ یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اس ہی پلان کے تحت پاراچنار سے جلا وطن کئے جانے والے علامہ شیخ نواز عرفانی کو اسلام آباد میں شہید کیا گیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ مخالف گروپ کی کاروائی ہے، تاہم علامہ نواز عرفانی کی شہادت کے بعد پورے ملک میں شیعہ تنظیموں کے احتجاج نے کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کی کوششوں پر پانی پھیر دیا اور علامہ نواز عرفانی کی شہادت کو ملت جعفریہ کاعظیم نقصان قرار دیا ۔ بعدازاں ملکی سلامتی کے خفیہ اداروں کی رپورٹ نے بھی اس کی حقیقت بیان کردی اور کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کی اس سازش کو بے نقاب کردیا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاراچنار کے شیعہ اس سازش کو بھانپتے ہوئے اپنے اتحاد کو مزید مضبوط کریں تاکہ کالعدم تحریک طالبان کی امیدوں پر پانی پھیرا جاسکے اور امام حسین (ع) ہم سے راضی ہوسکیں

Rescooped by Shafiq Ahmed from From Parachinar The Pakistani Gaza
Scoop.it!

Shooting spree: Former prayer leader gunned down - The Express Tribune

Shooting spree: Former prayer leader gunned down - The Express Tribune | shiakillings | Scoop.it
Irfani was MWM spokes­person for Parach­inar
more...
Shafiq Ahmed's curator insight, November 28, 2014 4:36 AM
New alert 
Parachinar k markazi khateeb allama Muhammad nawaz irfani ky shahadat ki zamadari sipah e sahaba sada ney qabool kar li............... https://www.facebook.com/olb.fatimiyah/posts/707210312688126?fref=nf&pnref=story
Rescooped by Shafiq Ahmed from From Parachinar The Pakistani Gaza
Scoop.it!

MWM leader Allama Nawaz Irfani gunned down in Islamabad

MWM leader Allama Nawaz Irfani gunned down in Islamabad | shiakillings | Scoop.it
ISLAMABAD: Unknown gunmen killed a leader of Majlis Wahdatul Muslimeen (MWM) Allama Nawaz Irfani on Wednesday. Police said that the MWM leader was gunned down in Sector E- ...
Shafiq Ahmed's insight:

پیش نماز علامہ نواز عرفانی کے قتل کی پرزور مذمت کرتا ہوں اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ دہشتگردوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے
علامہ نواز عرفانی کو سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی نے قتل کیا ہے۔

more...
Shafiq Ahmed's curator insight, November 26, 2014 3:50 PM

پیش نماز علامہ نواز عرفانی کے قتل کی پرزور مذمت کرتا ہوں اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ دہشتگردوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے
علامہ نواز عرفانی کو سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی نے قتل کیا ہے۔

Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Eye Witness Saniha e Babusar Shiakilling In Pakistan Shiakilling com, Eye Witness Saniha e Babusar S

Eye Witness Saniha e Babusar Shiakilling In Pakistan Shiakilling com, Eye Witness Saniha e Babusar Sh.
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Heirs and relatives of Shia martyrs stage demo to condemn the ...

Heirs and relatives of Shia martyrs stage demo to condemn the ... | shiakillings | Scoop.it
Shia News – Shiite News – Shia Killing in Pakistan · Home · Bahrain News · Europe News · Iran News · Iraq News · Lebanon News · Lifestyle · Middle East News · Pakistan News · Palestine News · Saudia News · Syria News ...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Jundullah declares Bilawal, Musharraf, MQM as main targets – Shia ...

Jundullah declares Bilawal, Musharraf, MQM as main targets – Shia ... | shiakillings | Scoop.it
Shia News – Shiite News – Shia Killing in Pakistan · Home · Bahrain News · Europe News · Iran News · Iraq News · Lebanon News · Lifestyle · Middle East News · Pakistan News · Palestine News · Saudia News · Syria News ...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Shia professor martyred, colleague injured in Yazidi terrorist attack ...

Shia professor martyred, colleague injured in Yazidi terrorist attack ... | shiakillings | Scoop.it
Shia News – Shiite News – Shia Killing in Pakistan · Home · Bahrain News · Europe News · Iran News · Iraq News · Lebanon News · Lifestyle · Middle East News · Pakistan News · Palestine News · Saudia News · Syria News ...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Eight Hazaras gunned down in Quetta bus attack

Eight Hazaras gunned down in Quetta bus attack | shiakillings | Scoop.it
QUETTA: Unidentified armed men killed eight members of the ethnic Hazara community and injured six others in the Hazar Ganji area of Quetta, the capital of the volatile Balochistan province, on Thursday morning. Imran Qureshi, a senior police officer told Dawn that the armed men opened fire at a Mazda bus and killed eight members of the Hazara community. "The assailants sprayed bullets over the bus and managed to escape unhurt from the spot," Qureshi said. Also read: Pakistani Hazara campaigner fights deportation from Britain The bodies were brought to the Bolan Medical Complex hospital where a large number of people had gathered. Qureshi said initially six people had been killed, however, two more succumbed to injuries on way to the hospital. "This is an act of targeted killing," he said. Panic prevailed among locals after the killings. The predominantly Shia community whose members stand out on account of their Central Asian features has come under increasing attacks by extremist groups such as the Lashkar-i-Jhangvi (LJ). Estimates provided by Tahir Hussain Khan, president of the Balochistan chapter of the Human Rights Commission of Pakistan(HRCP), earlier this month show that the violence has driven as many as 200,000 Hazaras to relocate to other major cities of Pakistan or move abroad. HDP calls for strike in Quetta, MWM announces three-day mourning The Hazara Democratic Party (HDP) has announced shutter down in Quetta on Friday (tomorrow) to mourn the killings of the eight. In a statement issued by the HDP, the party lashed out at the provincial government and law enforcement agencies over their failure to protect Hazaras Shias in the city. "Under a pre-planned conspiracy, our people are being targeted,” the statement said. The Majlis-i-Wahdatul Muslimeen (MWM) has also announced three days of mourning over today’s killings. It has moreover criticised the government and law enforcement agencies for their failure to protect citizens. More on this: HRCP reports exodus of minorities from Balochistan PM takes notice of attack, orders probe, arrests Prime Minister Nawaz Sharif took notice of today’s incident and directed the interior secretary to mobilise security agencies and ensure the arrests of those responsible. The premier ordered that swift and stern action is taken to bring the perpetrators to justice. The prime minister moreover directed the interior secretary to file an official report following a thorough investigation of the incident.
Shafiq Ahmed's insight:
QUETTA: Unidentified armed men killed eight members of the ethnic Hazara community and injured six others in the Hazar Ganji area of Quetta, the capital of the volatile Balochistan province, on Thursday morning. Imran Qureshi, a senior police officer told Dawn that the armed men opened fire at a Mazda bus and killed eight members of the Hazara community. "The assailants sprayed bullets over the bus and managed to escape unhurt from the spot," Qureshi said. Also read: Pakistani Hazara campaigner fights deportation from Britain The bodies were brought to the Bolan Medical Complex hospital where a large number of people had gathered. Qureshi said initially six people had been killed, however, two more succumbed to injuries on way to the hospital. "This is an act of targeted killing," he said. Panic prevailed among locals after the killings. The predominantly Shia community whose members stand out on account of their Central Asian features has come under increasing attacks by extremist groups such as the Lashkar-i-Jhangvi (LJ). Estimates provided by Tahir Hussain Khan, president of the Balochistan chapter of the Human Rights Commission of Pakistan(HRCP), earlier this month show that the violence has driven as many as 200,000 Hazaras to relocate to other major cities of Pakistan or move abroad. HDP calls for strike in Quetta, MWM announces three-day mourning The Hazara Democratic Party (HDP) has announced shutter down in Quetta on Friday (tomorrow) to mourn the killings of the eight. In a statement issued by the HDP, the party lashed out at the provincial government and law enforcement agencies over their failure to protect Hazaras Shias in the city. "Under a pre-planned conspiracy, our people are being targeted,” the statement said. The Majlis-i-Wahdatul Muslimeen (MWM) has also announced three days of mourning over today’s killings. It has moreover criticised the government and law enforcement agencies for their failure to protect citizens. More on this: HRCP reports exodus of minorities from Balochistan PM takes notice of attack, orders probe, arrests Prime Minister Nawaz Sharif took notice of today’s incident and directed the interior secretary to mobilise security agencies and ensure the arrests of those responsible. The premier ordered that swift and stern action is taken to bring the perpetrators to justice. The prime minister moreover directed the interior secretary to file an official report following a thorough investigation of the incident.
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

REPORT: History Of Shia Killing In Pakistan | Chainsoff's Blog

REPORT: History Of Shia Killing In Pakistan | Chainsoff's Blog | shiakillings | Scoop.it
50 Years ago, on June 6, 1963, at least 116 Shia Muslims were massacred in the village of Thehri in the Khairpur district of Sindh province in Pakistan while taking part in the Juloos (procession) of the solemn Day of Ashura, ...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

A gang of Lashkare Jhangvi held for killings Sunni-Shia Muslims in ...

A gang of Lashkare Jhangvi held for killings Sunni-Shia Muslims in ... | shiakillings | Scoop.it
Shia News – Shiite News – Shia Killing in Pakistan · Home · Bahrain News · Europe News · Iran News · Iraq News · Lebanon News · Lifestyle · Middle East News · Pakistan News · Palestine News · Saudia News · Syria News ...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Yazidi terrorists shot martyred a Shia and injured another in Peshawar

Yazidi terrorists shot martyred a Shia and injured another in Peshawar | shiakillings | Scoop.it
Shia News – Shiite News – Shia Killing in Pakistan · Home · Bahrain News · Europe News · Iran News · Iraq News · Lebanon News · Lifestyle · Middle East News · Pakistan News · Palestine News · Saudia News · Syria News ...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

2 Shia Muslims injured in targeted attack of Yazidi terrorists in Karachi

2 Shia Muslims injured in targeted attack of Yazidi terrorists in Karachi | shiakillings | Scoop.it
Shia News – Shiite News – Shia Killing in Pakistan · Home · Bahrain News · Europe News · Iran News · Iraq News · Lebanon News · Lifestyle · Middle East News · Pakistan News · Palestine News · Saudia News · Syria News ...
more...
No comment yet.
Rescooped by Shafiq Ahmed from parachinarvoice
Scoop.it!

‮پاکستان ‬ ‮متحدہ ہندوستان اور شیعہ سنی کشمکش‬

‮پاکستان ‬ ‮متحدہ ہندوستان اور شیعہ سنی کشمکش‬ | shiakillings | Scoop.it
برِصغیر میں شیعہ سنی تعلقات کا گراف اگر بنایا جائے تو وہ خطِ مستقیم کے بجائے خطِ منہنی کی طرح ٹیڑھا میڑھا بنے گا۔کبھی مثالی تعلقات ، کبھی برے تو کبھی نیم برے تو کبھی نیم اچھے۔۔۔
more...
Shafiq Ahmed's curator insight, February 19, 8:09 PM

متحدہ ہندوستان اور شیعہ سنی کشمکش
وسعت اللہ خان
برِصغیر میں شیعہ سنی تعلقات کا گراف اگر بنایا جائے تو وہ خطِ مستقیم کے بجائے خطِ منہنی کی طرح ٹیڑھا میڑھا بنے گا۔کبھی مثالی تعلقات ، کبھی برے تو کبھی نیم برے تو کبھی نیم اچھے۔۔۔
ہندوستان میں مسلمان افغانستان ، ایران اور بحرِ ہند کے راستے داخل ہوئے۔ ان میں عرب ، ترک ، ایرانی حملہ آور اور فاتحین بھی تھے اور جابر عربی و عجمی حکومتوں سے تنگ مفرور ملزم ، فن کار ، علما ، صوفی اور بہتر معاشی و سماجی مستقبل کے خواہاں عام مسلمان بھی۔
آنے والوں کو دو بنیادی چیلنج درپیش تھے۔ اول یہ کہ اقلیت ہونے کے سبب مقامی ہندو اکثریت کے درمیان اپنا تشخص اور دبدبہ کیسے قائم رکھیں دوم یہ کہ خود مسلم سماج کے اندر سماجی، سیاسی، نسلی اور فرقہ وارانہ تضادات کو کیسے قابو میں رکھیں۔
اس تناظر میں ہندوستان میں شیعہ سنی تعلقات کو تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے یعنی ابتدائی دور ، مغلیہ دور اور انگریزی دور۔
* ابتدائی دور
محمد بن قاسم کے بعد سندھ میں لگ بھگ ڈھائی سو برس تک قائم رہنے والا سنی عرب اقتدار پہلے دمشق کی خلافتِ بنو امیہ اور پھر بغداد کی خلافتِ عباسیہ کی خوشنودی پر منحصر رہا۔
جب نویں اور دسویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں مبلغین اور صوفیوں کی آمد کا سلسلہ بڑھنا شروع ہوا تب تک سنیوں کے چار فقہی مکاتیب ( حنفی ، حنبلی ، مالکی ، شافعی ) تشکیل پا چکے تھے اور اہلِ تشیع تین شاخوں ( زیدی ، اثنا عشری ، اسماعیلی ) میں بٹ چکے تھے۔
سنیوں میں امام ابو حنیفہ کے حنفی مکتبِ فکر کے پیروکاروں کی اکثریت تھی اور شیعوں میں چھٹے امام جعفر صادق کے مرتب کردہ فقہِ جعفریہ کے اثنا عشری پیروکار زیادہ تھے۔ چونکہ اس زمانے میں فقہی اختلافات زیادہ تر علمی مباحث کی حدود میں تھے لہذا تحصیلِ علم مشترکہ میراث تھی چنانچہ یہ کوئی انہونی بات نہیں تھی کہ دو سنی فقہا امام مالک اور امام ابوحنیفہ امام جعفر صادق سے بھی درس لیتے رہے۔
( اثنا عشری شیعہ جانشینی و امامت کے مسئلے پر امام جعفر صادق کے دو بیٹوں اسماعیل ابنِ جعفر اور موسی کاظم کے حامیوں میں تقسیم ہوگئے۔ اسماعیل ابنِ جعفر کے حامی اسماعیلی کہلائے۔ اسی شاخ نے دسویں صدی عیسوی میں مراکش تا سندھ فاطمی اسماعیلی سلطنت قائم کی جس کا دارلحکومت قاہرہ تھا۔ جب فاطمی سلطنت کمزور ہوئی تو اسماعیلی دو مزید گروہوں میں بٹ گئے ایک شاخ نزاری کہلائی اور دوسری مستعصلی۔(داؤدی بوہرہ مستعصلی گروہ کی ہی شاخ در شاخ ہے)۔
اسماعیلی مبلغین ملتان تک پھیل گئے چنانچہ دسویں صدی کے وسط میں وہاں اسماعیلی قرامطہ حکومت قائم ہوئی مگر گیارہویں صدی کے شروع میں محمود غزنوی کے دو حملوں میں ملتان سے سیہون تک پھیلی قرامطہ حکومت ختم ہوگئی۔ ان حملوں میں ملتان کی اسماعیلی آبادی کا قتلِ عام ہوا۔ قرامطہ حکمران ابوفتح داؤد کو قیدی بنایا گیا۔ ملتان کے شہریوں سے لگ بھگ دو کروڑ دینار تاوان وصول کیا گیا اور بچے کچھے اسماعیلی بالائی پنجاب اور زیریں سندھ کے مختلف علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
محمود غزنوی کے بعد قرامطہ حکومت پھرمختصر عرصے کے لیے قائم ہوئی تاہم بارہویں صدی میں شہاب الدین غوری نے اس کا مستقل قلع قمع کر دیا اور بعد ازاں صوبہ ملتان دہلی سلطنت کا حصہ بن گیا۔

آج بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں صرف کارگل اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بلتستان اور گلگت ہی وہ علاقے ہیں جہاں شیعہ اکثریت ہے
اس دوران کشمیر میں ایک نئی پیش رفت شروع ہوگئی۔ کشمیر میں اسلام چودھویں صدی کے شروع میں ترکستان سے صوفی بلبل شاہ قلندر اور انکے ایک ہزار مریدوں کے ساتھ پہنچا۔ بودھ راجہ رنچن نے دینی افکار سے متاثر ہو کر بلبل شاہ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔یوں راجہ رنچن سلطان صدر الدین کے نام سے کشمیر کا پہلا مسلمان حکمران بنا۔بعد ازاں ایک ایرانی صوفی سید علی ہمدانی سات سو مبلغوں ، ہنرمندوں اور فن کاروں کی جماعت لے کر کشمیر پہنچے اور اس ثقافت کا جنم ہوا جس نے جدید کشمیر کو شناخت مہیا کی۔
لگ بھگ اسی دور میں شمس الدین عراقی اور انکے پیروکاروں نے کشمیر میں قدم رکھا۔ انہوں نے چک خاندان کی مدد سے ہزاروں ہندوؤں کو شیعہ اسلام میں داخل کیا۔ ایک ترک جنگجو سردار مرزا حیدر دگلت نے پندرہ سو چالیس میں کشمیر پر حملہ کیا اور شیعہ فرقے کا قتلِ عام کیا۔ مرزا دگلت کی واپسی کے بعد چک خاندان کا اقتدار پھر سے بحال ہوگیا ۔ چک حکمرانوں کے تبلیغی جوش وخروش کے ردِ عمل میں سن سولہ سو بائیس سے سولہ سو پچاسی تک کشمیر میں چار بڑے شیعہ سنی بلوے ہوئے۔
ایک سرکردہ مقامی سنی عالم شیخ یعقوب سرفی نے مغلِ اعظم اکبر کو کشمیر پر فوج کشی کی دعوت دی ۔ یوں کشمیر کی آخری آزاد حکومت اپنی ہی فرقہ پرستی کا لقمہ بن گئی۔جب اٹھارویں صدی میں مغل سلطنت زوال پذیر ہونے لگی تو کشمیریوں نے احمد شاہ ابدالی کو مدعو کیا لیکن یہ دعوت بھی ایک مصیبت بن گئی۔
لوٹ مار کا ایک دور ختم ہوتا تو دوسرا شروع ہوجاتا۔پھر کشمیر رنجیت سنگھ کے تختِ لاہور کے زیرِ نگیں آگیا۔مگر انیسویں صدی کے وسط میں انگریز وں نے کشمیر رنجیت سنگھ کے ورثا سے لے کر ڈوگروں کے ہاتھ فروخت کردیا۔ ڈوگرہ دور میں کشمیری مسلمانوں کے فرقہ وارانہ اختلافات وقتی طور پر دب گئے اور تین سو برس بعد سری نگر میں عاشورے کا جلوس نکلا۔
آج بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں صرف کارگل اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بلتستان اور گلگت ہی وہ علاقے ہیں جہاں شیعہ اکثریت ہے۔
* مغلیہ دور
جو بھی ہندوستان جیسے عظیم ملک پر طویل عرصہ حکومت کرنا چاہتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ تمام مذہبی طبقات و مذاہب سے کشادہ دلی برتے۔ جب تک مغلوں نے اس اصول پر عمل کیا ان کی سلطنت مستحکم رہی ۔تنگ نظری بڑھتی گئی تو سلطنت کی عمر گھٹتی گئی۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بابر سے لے کر شاہ جہاں تک مغلوں کا طرزِ حکومت کم و بیش نرمی و گرمی کی مرکب سیکولر پالیسی کے محور پر رہا۔ جب اورنگ زیب نے اس پالیسی سے روگردانی کی تو نتیجہ شورش اور ٹوٹ پھوٹ کی شکل میں نکلا۔
جن دنوں بابر وسطی ایشیا میں فرغانہ کی کھوئی ہوئی سلطنت حاصل کرنے کی تگ و دو میں تھا تو مشکل وقت میں ایران کے صفوی بادشاہ اسماعیل نے قزلباش جنگجوؤں کو بابر کی مدد کے لیے بھیجا۔ بابر یہ بات نہیں بھولا اور جب اس نے ہندوستان میں مغلیہ اقتدار کی بنیاد رکھی تو اپنے ساتھ ایرانی مشاورت بھی لایا۔ اس نے ولی عہد ہمایوں کو وصیت کی کہ ایرانیوں سے تعلقات اچھے رکھنا۔خود کو فرقہ واریت اور مذہبی تعصبات سے بالا رکھتے ہوئے ہر طبقے کے ساتھ اس کی روایات کے مطابق انصاف کرنا۔
جس طرح بابر سے فرغانہ کی سلطنت چھنی اور اس نے ایران کے شاہ اسماعیل کی مدد سے اقتدار دوبارہ حاصل کیا۔اسی طرح ہمایوں سے بھی جب شیرشاہ سوری نے مغل سلطنت چھین لی تو شاہ اسماعیل کے بیٹے طہماسپ نے بھرپور مدد دی۔ ہمایوں نے عالمِ غربت میں لگ بھگ پندرہ برس ایران میں گذارے۔ بعض روایات کے مطابق ہمایوں نے بادلِ نخواستہ شاہ طہماسپ کے اصرار پر مصلحتاً وقتی شیعت اختیار کرلی ۔ شاہ طہماسپ نے بارہ ہزار ایرانی سپاہیوں کا لشکر ہمایوں کے سپرد کیا ۔یوں ہمایوں نے مغل سلطنت دوبارہ حاصل کی۔ہمایوں ایران سے اپنے ہمراہ فارسی ، درباری روایات ، فنونِ لطیفہ کے ماہرین اور انتظامی و فوجی انصرام کے طریقے لایا۔یوں ایرانی اثر و نفوز مغلیہ خاندان میں رچتا بستا چلا گیا۔
ہمایوں کے بیٹے اکبر کے زمانے میں مذہبی رواداری نے نیا رخ اختیار کیا۔اکبر نے صلحِ کل کی پالیسی کے تحت راجپوتوں سے سیاسی تقاضوں کے سبب رشتے ناطے کیے۔ اکبر کے رتنوں میں دو اہم رتن ابوالفضل فیضی اور عبدلرحیم خانِ خاناں شیعہ تھے۔ تاہم اکبر کی فراخدلانہ مذہبی پالیسی کے ردِ عمل میں درباری علما کے مابین عقائد کی سرد جنگ چھڑ گئی جو وقت کے ساتھ ساتھ نت نئی شکلیں اختیار کرتی گئی۔
اکبر کے وارث جہانگیر کی محبوب ایرانی نژاد ملکہ نور جہاں اور اس کے بھائی آصف خان کے اثرو نفوز نے دربارِ جہانگیری پر ایرانی رنگ اور چڑھا دیا۔چنانچہ ایک سرکردہ غیر درباری سنی عالم شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی نے دربار پر بڑھتے ہوئے شیعہ اثرات کے ردِ عمل میں ردِ روافظ کے نام سے کتاب لکھی لیکن شیخ احمد سرہندی نے جب قیوم ہونے کا دعوی کیا تو جہانگیر نے زنداں میں ڈال دیا۔
مگریہ کہنا بھی درست نہ ہوگا کہ ابتدائی مغل بادشاہ مکمل طور سے ایرانی اثرات کے سحر میں تھے کیونکہ انہیں جب کوئی سیاسی و بقائی فیصلہ درپیش ہوتا تو وہ رواداریاں باآسانی لپیٹ بھی دیتے تھے۔
جیسے شروع شروع میں اکبر کا مذہبی رویہ خاصا سخت گیر رہا۔ اس نے بااثر سنی درباری عالم شیخ عبدالنبی کے مشورے پر حضرت امیر خسرو کے پہلو میں دفن ایک ایرانی شیعہ عالم میر مرتضی شیرازی کی قبر اکھڑوا دی۔ بعد ازاں یہی اکبر مذہبی و فرقہ وارانہ لحاظ سے غیر جانبدار ہوگیا۔
اسی دور میں ایک شیعہ عالم نور اللہ شستری ایران سے آگرہ آئے اور مختصر عرصے میں اپنی علمیت و فراست سے بادشاہ کا اعتماد حاصل کرلیا۔ اکبر نے انہیں قاضی القضاۃ کا درجہ دیا۔ جب کشمیر کی شیعہ چک سلطنت میں زیادتیوں کے شکار سنی علما دہائی دینے لگے تو اکبر نے حالات معلوم کرنے کے لئے نور اللہ شستری کو ہی بطور شاہی ایلچی کشمیر بھیجا۔
اکبر کی وفات کے بعد جہانگیر نے نور اللہ شستری کو چیف قاضی کے منصب پر برقرار رکھا۔ لیکن جب شیعہ عقائد پر سنی اعتراضات کے جوابات پر مبنی انکی کتاب احقاق الحقائق ( سچ کی توضیح ) سامنے آئی تو دربار کے سنی علما نے نور اللہ شستری پر شرک کا فتوی جاری کیا۔یوں ستر سالہ شستری شاہی غضب کا نشانہ بنے اور کوڑوں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئے۔ اہلِ تشیع انہیں بطور شہیدِ ثالث یاد کرتے ہیں۔
شاہجہاں کی فرقہ وارانہ پالیسی بھی کم و بیش اپنے پیشروؤں کی طرح ہی رہی۔ شاہجہاں کی محبوب بیوی اور ملکہ نور جہاں کی بھتیجی ممتاز محل تاج محل میں محوِ آرام ہے۔دورِ شاہجہانی کا ایک ایسا واقعہ ملتا ہے جب ایک اسماعیلی مبلغ سیدنا شجاع الدین کے عقائد ناپسند کرتے ہوئے لاہور کے شاہی اصطبل میں ڈال دیا گیا۔
روایت ہے کہ اصطبل کے اردگرد آتشزدگی ہوئی لیکن اصطبل محفوظ رہا۔۔چنانچہ شاہجہاں نے سیدنا شجاع الدین کو رہا کر کے عزت و احترام سے صوبہ گجرات روانہ کردیا گیا۔
تاہم اسی شاہ جہاں کا بیٹا اورنگ زیب جب گجرات کا گورنر بنا تو اس نے ایک اور اسماعیلی مبلغ سیدنا قطب الدین کو شرک کے فتوی پر سزائے موت دے ڈالی۔ تینتیس جلدوں پر مشتمل جو فتاویِ عالمگیری مرتب کیا گیا اس میں شیعہ عقیدے کو مشرکانہ بتایا گیا ۔اورنگ زیب کے دور میں تعزیے اور ماتمی جلوس کی ممانعت ہوئی ۔وہ چوبیس برس جنوبی ہندوستان کی ترکمان شیعہ قطب شاہی حکومت سے برسرِ پیکار رہا اور اس ڈیڑھ سو سالہ سلطنت کا خاتمہ کرکے ہی دم لیا۔
خود قطب شاہی دور بھی جنوبی ہندوستان کی پہلی تاجک شیعہ بہمنی سلطنت کے پونے دو سو سالہ اقتدار کے کھنڈرات پر قائم ہوا تھا۔لیکن اورنگ زیب کے ہاتھوں سولہ سو ستاسی میں قطب شاہیوں کے خاتمے کا ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ جنوبی ہندوستان سے ایک مضبوط مسلمان بادشاہت ہٹنے کے بعد ہندو مرہٹے اور مغل آمنے سامنے ہو گئے۔
رفتہ رفتہ اس چپقلش نےمغل حکومت کے استحکام کو ہی کھوکھلا کردیا اور اورنگ زیب کی وفات کے بعد مغلیہ اختیار تیزی سے مٹتا چلا گیا۔ جس تخت پر بااختیار بادشاہ بیٹھتے تھے اس پر بادشاہ نما کٹھ پتلیاں بٹھائی اٹھائی جانے لگیں۔
اٹھارویں صدی میں دو سگے بھائی مغل جرنیلوں نے بادشاہ گر کی شہرت پائی۔ تاریخ انہیں سید برادران کے نام سے جانتی ہے۔ سید حسن علی خاں اور حسین علی خاں ایرانی ساداتِ بارہہ میں سے تھے۔ اورنگ زیب کے بعد جب طوائف الملوکی پھیلی تو اصل اقتدار سید برادران کے ہاتھ آگیا۔ انہوں نے پندرہ برس میں چھ بادشاہوں ( بہادر شاہ ، جہاندار شاہ ، فرخ سیر ، رفیع الدرجات ، رفیع الدولہ ، محمد شاہ ) کو تخت پر بٹھایا ۔ان میں سے ایک کو قتل ، دوسرے کو نابینا اور تین کو معزول کیا۔بالاخر چھٹے بادشاہ محمد شاہ ( رنگیلا ) نے سید برادران کا کام اتار ڈالا۔
سلطنتِ اودھ
جس دور میں مغل بادشاہ محمد شاہ نے بادشاہ گر سید برادران کو ٹھکانے لگایا ۔انہی برسوں میں اودھ کے مغل گورنر برہان الملک سعادت علی خاں نیشا پوری نے کمزور تختِ دہلی سے زبانی وفاداری نبھاتے ہوئے فیض آباد سے خاندانِ اودھ کی حکمرانی کا آغاز کیا۔اودھ کی شیعہ سلطنت دراصل اس علاقے میں لگ بھگ تین سو برس پہلے قائم جون پور کی شرقی شیعہ سلطنت کے کھنڈرات پر قائم ہونے والی ایک بڑی شیعہ حکومت تھی جو سترہ سو بائیس سے اٹھارہ سو اٹھاون تک ایک سو چھتیس برس قائم رہی ۔ دس نوابین نے اودھ پر حکمرانی کی ۔ان میں سے نواب آصف الدولہ ، غازی الدین حیدر اور واجد علی شاہ نے بالخصوص سلطنتِ اودھ کے سیاسی ، سماجی و ثقافتی عروج و زوال میں اہم کردار ادا کیا۔
آصف الدولہ کے زمانے میں ایران سے اصولی شیعہ علما کی آمد شروع ہوئی جنہوں نے اخباری شیعہ رواج کے برعکس اس پر زور دیا کہ فقہی حوالے سے کسی ایک مرجع ( وہ عالم جس سے فقہی رہنمائی لی جا سکے ) کی تقلید ضروری ہے۔ آصف الدولہ کے وزیرِ اعظم حسن رضا خان نے شیعہ مبلغین کی نا صرف خصوصی سرپرستی کی بلکہ عراق میں نجف اور کربلا کی دیکھ بھال کے لئے بھی اودھی خزانے سے لگ بھگ دس لاکھ روپے سالانہ بجھوائے جانے لگے جبکہ پانچ لاکھ کے صرفے سے دریائے فرات سے نہرِ ہندی نکلوائی گئی جس نے نجف تا کربلا کا علاقہ سرسبز کردیا۔خانہ بدوش عرب قبائل نے یہاں سکونت اختیار کرنے لگے اور شیعت فروغ پانے لگی۔
ایران کے اصولی شیعہ علما کی آمد سے قبل اودھ بالخصوص فیض آباد میں سنی اور شیعہ مقامی ہندووں کے ساتھ مل کے عاشورہ کا انتظام و انصرام کرتے اور رسومات میں شریک ہوتے تھے ۔مگر کٹر علما کی آمد سے کٹرپن اور مذہبی فاصلہ بھی بڑھتا گیا۔ اودھ بالخصوص لکھنئو میں فرقہ ورانہ کشیدگی اسی دور کا تحفہ ہے۔ اٹھارہ سو ستاون کی جنگِ آزادی میں اودھ میں انگریزوں کے خلاف مزاحمت کے غیر موثر ہونے کا ایک اہم سبب بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ خلیج بھی تھی۔
تاہم سترہ سو چوہتر میں فیض اللہ خان نے رام پور میں جو چھوٹی سی شیعہ ریاست قائم کی اس میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی مقابلتاً بہتر رہی۔جبکہ سب سے بڑی مسلمان ریاست حیدرآباد میں بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی زہر آلود نہیں ہوئی۔
* انگریز کا دور
اودھ کی ریاست بعد از زوال اترپردیش کا حصہ ہو گئی اور فرقہ واریت بھی انیسویں سے بیسویں صدی میں داخل ہوگئی۔ مقامی شیعہ اور سنی عالموں کے بڑھتی مذہبی مخاصمت کے سبب انیس سو چار اور آٹھ کے درمیان یو پی بالخصوص لکھنئو اور گردونواح میں شیعہ سنی تصادم کی کئی دفعہ نوبت آئی۔چنانچہ انیس سو نو میں پورے صوبے میں عاشورہ اور چہلم کے جلوس ممنوع ہوگئے لیکن سن تیس کے عشرے میں تین بڑے فرقہ وارانہ تصادم ہوئے اور اس مسئلے نے آزادی کے بعد بھی جان نہیں چھوڑی۔
تاہم انگریزی دور میں یو پی کو چھوڑ ہندوستان کے دیگر علاقوں بالخصوص رجواڑوں میں شیعہ سنی کشیدگی زیادہ تر زبانی حد تک ہی رہی ۔دونوں فرقوں سے تعلق رکھنے والے مغربی تعلیم یافتہ سیاسی رہنماؤں نے اس مسئلے کو اپنی سیاست اور انا کا محور بنانے سے گریز کیا ۔اس دور میں کانگریس اور مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاستدانوں ، عام لوگوں اور بیشتر علما کی زیادہ توجہ انگریزی اقتدار کے خلاف بڑی لڑائی پر ہی مرکوز رہی۔
* شیعہ، بریلوی، دیوبندی اور وہابی
انیس سو سینتالیس میں جن علاقوں میں پاکستان بنا وہاں صوبہ سرحد کو چھوڑ کر ہر جگہ سنی بریلوی مکتبہِ فکر کے پیروکاروں کی اکثریت تھی ۔چونکہ بریلوی مسلک میں تصوف کو خاصی اہمیت حاصل ہے اور تصوف کا روحانی سلسلہ حضرت علی سے شروع ہوتا ہے ۔لہذا بریلویوں اور اہلِ تشیع کے درمیان کم و بیش مذہبی رواداری کی فضا ہی رہی۔البتہ دیگر مکاتیبِ فکر بمقابلہ شیعہ مکتبِ فکر ایسی صورتِ حال نہ تھی۔
شاہ ولی اللہ اور محمد بن عبدالوہاب
سترہ سو تین عیسوی ہیں جزیرہ نما عرب میں محمد بن عبدالوہاب اور ہندوستان میں شاہ ولی اللہ کی پیدائش ہوئی۔ دونوں نے اگلے تین سو برس میں مسلمان دنیا پر گہرے نقوش چھوڑے۔
شاہ ولی اللہ کی تعلیمات نے ان کی وفات کے سو برس بعد دیوبند مکتبِ فکر کی صورت اختیار کی اور محمد بن عبدالوہاب کی دین کو تمام علتوں سے پاک کرنے کی تحریک و تشریح نے ایک طرف خاندانِ سعود کی فکری تعمیر کی اور دوسری طرف خالص پن کے نظریے نے شدت اختیار کرتے کرتے سلفی رخ لے لیا جس نے آگے چل کر تکفیری فلسفے کی شکل میں القاعدہ کو جنم دیا اور پھر اس دھارے میں دیگر شیعہ مخالف دھارے بھی ملتے چلے گئے۔
شاہ ولی اللہ دہلوی شاہ عبدالرحیم کے صاحبزادے تھے اور شاہ عبدالرحیم اورنگ زیب عالمگیر کے فتاویِ عالمگیری کے مرتبین میں شامل تھے۔جب شاہ ولی اللہ نے آنکھ کھولی تو ہندوستان میں مغل سورج ڈوب رہا تھا۔ شاہ ولی اللہ نے لگ بھگ دس برس کا عرصہ عرب میں گذارا۔ اگرچہ انکی محمد بن عبدالوہاب سے براہِ راست ملاقات نہیں ہوئی تاہم دونوں کے کچھ اساتذہ مشترک ضرور رہے۔
شاہ ولی اللہ ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی و حکومتی زوال پر خاصے مضطرب تھے ۔انہوں نے اہلِ سنت کے چاروں مکاتیب میں فکری و فقہی ہم آہنگی کی پرزور وکالت کی تاہم فقہِ جعفریہ اس ہم آہنگی سے خارج رکھا گیا۔ انہوں نے مختلف مذہبی موضوعات و مسائل پر اکیاون تصنیفات رقم کیں۔ ایک کتاب قرت العینین میں اہلِ تشیع کو کمزور عقیدے کا فرقہ ثابت کیا گیا۔
شاہ ولی اللہ نے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پر حملہ آور ہونے کی جو دعوت دی اس کا مدعا و مقصد نہ صرف بڑھتی ہوئی مرہٹہ طاقت کا زور توڑنا بلکہ دہلی سے رافضی اثرات ختم کرنا بھی تھا۔چنانچہ جب ابدالی حملہ آور ہوا تو اس نے دہلی میں اہلِ تشیع کو بطورِ خاص نشانہ بنایا۔ شاہ ولی اللہ کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی بھی بلند پایہ عالم تھے لیکن اثنا عشری عقائد کے بارے میں انکے خیالات اپنے والد کی نسبت زیادہ سخت تھے ۔اس کا اندازہ انکی تصنیف تحفہِ اثنا عشریہ پڑھ کے بھی ہوسکتا ہے۔
جہاں تک ہندوستان میں وہابی عقائد کی ترویج کا معاملہ ہے تو ان کی اشاعت بہت بعد میں شروع ہوئی اور پہلا اہم مرکز ریاست بھوپال بنا جب محمد بن عبدالوہاب کے افکار سے متاثر ایک سرکردہ عالم صدیق علی خان کی انیسویں صدی کی آخری چوتھائی میں بھوپال کی حکمراں شاہجہاں بیگم سے شادی ہوئی اور وہابی فکر کو ریاستی سرپرستی میسر آگئی تاہم بریلوی اور دیوبندی مکتبِ فکر کو ہندوستان کی سرزمین جتنی راس آئی ویسی مقبولیت وہابی نظریات کو حاصل نا ہوسکی۔
البتہ آزادی کے بعد شیعہ سنی تعلقات کے تناظر میں وہابی مکتبِ فکر نے عمومی زہن پر مخصوص اثرات مرتب کیے وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ آج تک وہ اثرات کس کس شکل میں ظاہر ہوئے ہیں۔یہ کوئی راز نہیں ہے۔

http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2013/02/130223_shia_sunni_relations_subcont_zs.shtml

Rescooped by Shafiq Ahmed from parachinarvoice
Scoop.it!

Ayatollah Sistani's representative assassinated in Pakistan - Iraqi News

Ayatollah Sistani's representative assassinated in Pakistan - Iraqi News | shiakillings | Scoop.it
Baghdad (IraqiNews.com) The Representative of the Supreme Religious Authority, Ali al-Sistani,and the headmaster of the Jaafariya Religious School in the P
more...
Shafiq Ahmed's curator insight, November 28, 2014 4:44 AM

Ayatollah Sistani's representative assassinated in Pakistan - Iraqi News | @scoopit http://sco.lt/...

Rescooped by Shafiq Ahmed from From Parachinar The Pakistani Gaza
Scoop.it!

Backlash: Three-day mourning period in Parachinar - The Express Tribune

Backlash: Three-day mourning period in Parachinar - The Express Tribune | shiakillings | Scoop.it
Tribal people gather­ed on Thursd­ay to condem­n the the killin­g of MWM cleric Allama Muhamm­ad Nawaz Irfani­
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Shias kiled in Pakistan since 2001

Shias kiled in Pakistan since 2001 | shiakillings | Scoop.it
RT @BanoBee: #SATP introduces #ShiaKilling data sheet http://t.co/ulryJpjExd 4159 killed since '01 @A_Rizvi110 @Askari_H @arshadh128 @Sye…
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Karachi blast in Shia moqsue - YouTube

#Karachi during #Muharram Majlis : #ShiaGenocide #ShiaSunniUnity #ShiaSunniBhaiBhai #ShiaKilling #Pakistan #Muslim .. http://t.co/IUoA2EAvue
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Shiite Doctor Shot Killed in Karachi - Ahlul Bayt News Agency - abna.ir

Shiite Doctor Shot Killed in Karachi - Ahlul Bayt News Agency - abna.ir | shiakillings | Scoop.it
Ahlul Bayt News Agency - abna.ir Shiite Doctor Shot Killed in Karachi Ahlul Bayt News Agency - abna.ir With continued selective killings against the oppressed minority Shias, it was not known as to what and against whom the operation was being...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Eminent Shia scholar Allama Taqi Hadi Naqvi shot martyred in Karachi

Eminent Shia scholar Allama Taqi Hadi Naqvi shot martyred in Karachi | shiakillings | Scoop.it
Shia News – Shiite News – Shia Killing in Pakistan · Home · Bahrain News · Europe News · Iran News · Iraq News · Lebanon News · Lifestyle · Middle East News · Pakistan News · Palestine News · Saudia News · Syria News ...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Many innocent Shia Muslims detained under MPO after having been ...

Many innocent Shia Muslims detained under MPO after having been ... | shiakillings | Scoop.it
Shia News – Shiite News – Shia Killing in Pakistan · Home · Bahrain News · Europe News · Iran News · Iraq News · Lebanon News · Lifestyle · Middle East News · Pakistan News · Palestine News · Saudia News · Syria News ...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Second Shia doctor killed in 24 hours in Karachi - Ahlul Bayt News Agency - abna.ir

Second Shia doctor killed in 24 hours in Karachi - Ahlul Bayt News Agency - abna.ir | shiakillings | Scoop.it
Ahlul Bayt News Agency - abna.ir Second Shia doctor killed in 24 hours in Karachi Ahlul Bayt News Agency - abna.ir In yet another high-profile Shia killing in Gulistan-e-Jauhar, a physician, Haider Raza, was gunned down by unidentified gunmen in...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Shia businessman martyred in Yazidi terrorist attack in Karachi ...

Shia businessman martyred in Yazidi terrorist attack in Karachi ... | shiakillings | Scoop.it
Shia News – Shiite News – Shia Killing in Pakistan · Home · Bahrain News · Europe News · Iran News · Iraq News · Lebanon News · Lifestyle · Middle East News · Pakistan News · Palestine News · Saudia News · Syria News ...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

The ethnic cleansing of Shia in Pakistan Monthly Update – August | ShiaGenocide.org

The ethnic cleansing of Shia in Pakistan Monthly Update – August | ShiaGenocide.org | shiakillings | Scoop.it
The ethnic cleansing of Shia in Pakistan Monthly Update – August (Meanwhile,the ethnic cleansing #Shia in #Pakistan Monthly Update–August #Shiakilling #Shiagenocide @humanrights1st http://t.co/g6xkAsDbc7)...
more...
No comment yet.