parachinarvoice
Follow
Find
45.7K views | +1 today
 
Scooped by Shafiq Ahmed
onto parachinarvoice
Scoop.it!

Mukhtar Ali Shedi | Punjabi, Saraiki, Urdu High Quality MP3 Nohay | ShianeAli.com

Mukhtar Ali Shedi | Punjabi, Saraiki, Urdu High Quality MP3 Nohay | ShianeAli.com | parachinarvoice | Scoop.it

Mukhtar Ali Sheedi

Anjuman Sipah-e-Ali Akbar (A.S)

Khair Pur Miras, Sindh

اردو , پنجابی, سرائيکی, نوحہ دوہڑے

more...
No comment yet.
parachinarvoice
parachinar kurram agency
Curated by Shafiq Ahmed
Your new post is loading...
Your new post is loading...
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

پاراچنار کے دہشتگرد تکفیری ہزاروں کی تعداد میں داعش کیساتھ ملکر لڑ رہے ہیں۔ شفیق طوری

پاراچنار کے دہشتگرد تکفیری ہزاروں کی تعداد میں داعش کیساتھ ملکر لڑ رہے ہیں۔  شفیق طوری | parachinarvoice | Scoop.it

پاراچنار کے دہشتگرد تکفیری ہزاروں کی تعداد میں داعش کیساتھ ملکر لڑ رہے ہیں۔ جن کے سہولت کار نام ولدیت اور مستقل پتہ درجہ ذیل ہیں !

پاکستان سے داعش کیلئے بھرتی جاری ہے اور پھر شام، یمن اور دوسرے ممالک بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے اور کوہاٹ، کرک، شمالی اور جنوبی وزیرستان، خیبر اور دیگر علاقوں سے بڑے پیمانے پر لوگوں ان جنگ زدہ علاقوں میں بھیجا جا رہا ہے۔
اس سارے سلسلے کا ٹھیکہ مولانا شاہ عبدالعزیز نے لیا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو تکفیری دہشتگرد گروہوں کی مدد کیلئے بھیجا جا رہا ہے۔

مولانا شاہ عبدالعزیز کا نام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، نامی گرامی تکفیری دہشتگر ہیں اور بہت سارے دہشتگردوں کے علاوہ سابق صدر اور آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر حملے اور جی ایچ کیو پر حملے کے سہولت کا اور مددگار بھی تھا۔
کیونکہ مولانا کے طالبان سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی سمیت لال مسجد کے تکفیری مولانا عبدالعزیز سے قریبی مراسم ہیں اسلیئے اب یہ سب تعلقات استعمال کرتے ہوئے داعش کیلئے بھرتیا کررہا ہے۔


کرم ایجنسی سے مندرجہ ذیل لوگ بھرتیوں اور برین واشنگ کے ذمہ دار ہیں۔


پاراچنار کے گاؤں بوشہرہ کا رہائیشی حاجی بخت جمال بنگش دولت اسلامیہ کا پہلا سہولت کار ہے جو دولت اسلامیہ کیلئے بھرتی کرتا ہے

پاراچنار کے گاؤں گوبازنہ کے رہائشی عید نظر المعروف یزید نظر دوسرا داعش سہولت کار ہے جو داعش کیلئے بھرتی کرتا ہے، یاد رہے یزید نظر کا تعلق کالعدم اہل سنت والجماعت سے ہے اور اسے پہلے سپاہ صحابہ کے سرگرم رکن رہے ہیں جنہوں نے دو ہزار سات کے پاراچنار فسادات کے بیج بوئے ۔

کرم ایجنسی کا دولت خان تکفیری گروپ دولت اسلامیہ خراسان کا نیا کمانڈر ہے وہ بھرتی کرتا ہے۔

میجر مست گل جو پہلے لشکر طیبہ کیساتھ کشمیر میں جہاد کرتے رہے اب دولت اسلامیہ کیساتھ مل چکا ہے اور پاراچنار بم دھماکوں سمیت پاکستان فوج کے اہلکاروں کے قتل میں بھی ملوث ہے۔

پاراچنار کے گاؤں اُچت کا فضل سعید حقانی طالبان کے سرغنہ اور داعشی سہولت کار ہے جو داعش کیلئے بھرتی کرتا ہے اور ⁦پاکستان آرمی اور دیگر ایجنسیوں نے انکے ذمے سارے خون معاف کئیے ہیں⁩ جو نہتے پاراچنار والوں کو اغوا کے بعد قتل کرتا رہا اور شیعہ نوجوانوں کے سر ، پیر اور ہاتھ کاٹ کر پاراچنار ارسال کرتا رہا، جبکہ کرم ملیشیا اور لیویز خاموش تماشائی بنے رہے، یاد رہے کرم ملیشیا کے کرنل ۔۔۔۔۔ بھی فضل سعید حقانی کیساتھ ملا ہوا تھا۔ اس وقت!
گاؤں بوشہرہ سے تعلق رکھنے والے ایڈوکیٹ میر زمان بنگش تقریباً تمام دہشتگردوں کے قانونی مشیر ہیں ۔
مزید معلومات درکار ہیں کمنٹ میں لکھیں۔

Shafiq Ahmed's insight:

جیو نیوز کے شاہزیب خانزادہ کے کرم ایجنسی اور ہنگو میں داعش بھرتی کے حوالے سے انکشافات

See GEO News Shahzeb Khanzada story about DAESH (ISIS) recruitment in Kurram Angency and Hagu

https://www.facebook.com/shafiqueahmed110/videos/963001797068287/

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

عمر میڈیا پروڈکشن ویڈیو! تحریک طالبان درہ آدم خیل اور اسکے کمانڈر عمر منصور چار حملہ آوروں کیساتھ

جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد مسلمان نہیں ہو سکتے! جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد پاکستانی نہیں ہو سکتے! جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد پختون نہیں ہو سکتے! وہ کان کھل ک...
Shafiq Ahmed's insight:

جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد مسلمان نہیں ہو سکتے!
جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد پاکستانی نہیں ہو سکتے!
جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد پختون نہیں ہو سکتے!
وہ کان کھل کر سن لیں۔۔
عمر میڈیا پروڈکشن کا تیار کردہ ویڈیو! تحریک طالبان درہ آدم خیل اور اسکے کمانڈر عمر منصور ان چار حملہ آوروں کیساتھ جنہوں نے باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر حملہ کرکے ہماری مستقبل کو خاک و خون میں نہلا دیا اور بے گناہ پروفیسر اور طالبعلموں سمیت اکیس افراد کو شہید کردیا۔ یہ ویڈیو باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر حملے سے پہلے تیار کی گئی اور ریاست پاکستان اور پاک افواج کیخلاف غلیظ ترین الفاظ استعمال کرتے ہوئے اپنے ناپاک ارادے دہرائے گئے۔
یہ نہ اسریئل سے آئے یہودی ہیں اور نہ ہی ہندوستان سے آئے ہندو!
بلکہ یہ سب مسلمان، پاکستانی اور پختون ہیں۔
آپ بھی دیکھ لیں کہیں آپکا باپ، بھائی یا کوئی رشتہ دار تو ان کیساتھ نہیں ملا ہوا!

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

پاراچنار، مرکزی جامع مسجد کے خطیب جمعہ کا مسئلہ حل ہوگیا۔ مولانا فدا حسین مظاہری نئے پیش نماز مرکزی امام بارگاہ مقرر

پاراچنار، مرکزی جامع مسجد کے خطیب جمعہ کا مسئلہ حل ہوگیا۔ مولانا فدا حسین مظاہری نئے پیش نماز مرکزی امام بارگاہ مقرر | parachinarvoice | Scoop.it

پاراچنار، مرکزی جامع مسجد کے خطیب جمعہ کا مسئلہ حل ہوگیا" ۔"

شفقنا اردو: پاراچنار مرکزی امام بارگاہ و مسجد پورے پاراچنار کے عوام کا مرکز ہے، جس میں خطیب جامع مسجد پورے کرم ایجنسی کے عوام کا روحانی شخصیت کے علاوہ تمام اندرونی و بیرونی مسائل کیلئے اپنے لئے رہبر سمجھتے ہیں۔ اور اسی خطیب کو اسلام آباد میں مقیم آیت اللہ سید علی سیستانی کے نمائندہ علامہ شیخ محسن منتخب کرتاہے۔ گزشتہ انتخابات کے دوران جامع مسجد پاراچنار کے خطیب جمعہ علامہ شیخ محمد نواز عرفانی انتخابات میں مداخلت کرکے پاراچنار کے عوام کے درمیان کشید گی پیدا ہوگئی تھی۔ پاراچنار کے عوام دو حصوں (ایم این اے ساجد طوری اور امیدوار ائیرمارشل(ر) قیصر حسین ) میں منقسم ہوا۔ بعد ازاں علامہ شیخ نواز عرفانی کو ایجنسی بدر کیا گیا، اور 2014 کے دسمبر کے مہینے میں اسلام آباد میں شہید کردیا گیا۔ انکے شہادت کے بعد پاراچنار کے مرکزی مسجد کے خطیب کے مسئلے نے شور پکڑا۔ تاہم مقامی مولانا عارف حسین جعفری کو کشیدہ حالات سنبھالنے کیلئے خطیب جمعہ مقرر کیا گیا۔ لیکن کرم ایجنسی کے اکثر عوام اسے نہیں چاہتے تھے۔ آخر کار اسی نئے سال کے شروع میں ہی پاراچنار کے عمائدین کا وفد اسلام آباد پہنچ گیا جہاں مولانا شیخ محسن سے پاراچنار کے مرکزی جامع مسجد کے خطیب کے فیصلے کا مطالبہ کیا۔ وفد میں ایم این اے ساجد طوری، سینیٹر سجاد حسین اور دیگر اراکین انجمن شامل ہیں۔ کل رات کو مولانا شیخ محسن نے فیصلہ کرکے گلگت سے تعلق رکھنے والے علامہ فداحسین مظاہری کو پاراچنار کے جامع مسجد کے خطیب اور مدرسہ جعفریہ کے مدیر اعلی کیلئے منتخب کردیا۔
جب پاراچنار مرکزی جامع مسجد میں خطیب کا مسئلہ چلا آرہاتھا۔ اس موقع پر پاراچنار کے شیعیوں کا بیرونی دشمن ناپاک عزائم بنا کر کوئی بھی نقصان پہنچا سکتاہے۔ اور دشمن اس خوشفہمی تھے کہ اب پاراچنار کے عوام آپس میں لڑیں گے۔ لیکن پھر بھی پاراچنار کے عمائدین نے سوچ سمجھ کر خطیب کا مسئلہ حل کرکے عوام کو آپس میں لڑنے سے بچالیا۔

Shafiq Ahmed's insight:

رپورٹ بشکریہ شفقنا نیوز ایجنسی

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Scores of Takfiri militants have left for Syria from Kurram Agency to join ISIL, Daesh through their local facilitators. By Shafique Ahmed Turi

Scores of Takfiri militants have left for Syria from Kurram Agency to join ISIL, Daesh through their local facilitators. By Shafique Ahmed Turi | parachinarvoice | Scoop.it

Scores of Takfiri militants have left for Syria from Kurram Agency to join Daesh through their local facilitators and are fighting against the forces loyal to Syrian President Bashar al-Assdad.

From Karak,  Kpk province the well known Takfir Deobandi cleric Maulana Shah AbdulAziz from karak is hiring pe from north and south Waziristan agencies, Khyber Angency, Kohat, Hangu, Duaba and the whole Khyber Pukhtoonkhwa provinc. Maulana Shah AbdulAziz standing close to the red mosque Takfir cleric in the image is well known terrorist supporated by some agencies in the past and inv in too many terrorist activities including facilitate, support and assistance to the terrorists Attacks on former president and Army chief General ret Parviz Musharaf.

Because of close relations with Lashkar e jhangvi, Sepah e Sahaba, Taliban and the red mosque Takfiri cleric Maulana AbdulAziz he is recruiting people very easily.

According to reliable information, a local chapter of the banned sectarian outfit, Lashk-e-Janghvi (LeJ) is playing a key role in sending the local people to Syria for the so-called Jihad and so far more than 1000 people have joined Daesh in war-torn Syria.

Haji Bakht Jamal Bangash, a resident of Boshehra, Parachinar Kurram Agency is the key facilitator who is secretly facilitating and sending the militants to Syria. Bakht Jamal, formerly associated with TTP is now secretly heading the local chapter of LeJ to engineer sectarian conflict in Parachinar, a Shia majority tribal belt bordering Afghanistan.

Eid Nazar, resident of Gobazana, who has a history for his notorious role in creating 1996 and 2007 sectarian conflicts in Parachinar, is another important character who has developed links with Daesh across the border in Afghanistan. Nazar, who was previous heading the local chapter of Sipah-e-Sahaba is now recruiting the locals for Daesh.

Dawlat Khan, a member of the Khorasan chapter of Daesh and is also playing an important role in recruiting and sending the militants to Syria to fight against the Syrian Arab Army.

Major Mast Gul, previous associated with Lashkar-e-Taiba has now joined forces with Daesh. Gul has been involved in terrorists attacks and bomb blasts against the local Shiites in Parachinar.

Fazal Saeed Haqqani, previous TTP Amir for Kurram Agency and later formed his own terror faction, is also recruiting the local people for Daesh and is a potential threat to the country’s security.

Haqqani who belongs to Uchat village of Lower Kurram Agency has a history of killing and kidnapping Shiites community members and was pardoned by the security establishment when an operation was launched in central Kurram against TTP.

Advocate Mir Zaman Bangash, resident of village Boshehra, is the legal council for almost all local militants who pursue the cases of terrorism against them in the courts.

Shafiq Ahmed's insight:

See GEO News Shahzeb Khanzada story about DAESH (ISIS) recruitment in Kurram Angency and Hagu

https://www.facebook.com/shafiqueahmed110/videos/963001797068287/

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Geo News | Blast in ParaChinar Bazar

Geo News is Pakistan's most trusted and watched news source for authentic, on time news, breaking news updates, forum discussions, talk shows and much more.

more...
No comment yet.
Rescooped by Shafiq Ahmed from From Parachinar The Pakistani Gaza
Scoop.it!

کرم ایجنسی، پاراچنار میں دہشتگردی فرقہ واریت اور قبائلی دشمنی مختصر تاریخ اور حقیقت ۔ شفیق احمد طوری

کرم ایجنسی، پاراچنار میں دہشتگردی فرقہ واریت اور قبائلی دشمنی مختصر تاریخ اور حقیقت ۔ شفیق احمد طوری | parachinarvoice | Scoop.it

پاراچنار کے عیدگاہ میں دھماکے سے ۲۳ افراد جاں بحق ہوئے اور دسیوں زخمی ہوگئے۔

کالعدم لشکر جھنگوی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی اور اسے شام کے لڑائی سے جڑنے کی کوشش کی لیکن لشکر جھنگوی لوگوں کو گمراہ کررہی ہے جو ہر دھماکے کے بعد کرتے رہتے ہیں۔
کرم ایجنسی میں شیعہ آبادی کو تین سو سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے اور یہاں کے اکثریتی شیعہ آبادی کو مسلکی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، شام کی لڑائی تو صرف چار سال سے شروع ہوئی ہے۔ تو اسے پہلے کس وجہ سے نشانہ بنایا جاتا رہا؟
اور ایران میں خمینی انقلاب بھی صرف ۳۵ سال پہلے کا واقعہ ہے۔
دراصل اس جنگ کی ابتداء جنگ چودہ سو سال پہلے کربلا سے شروع ہوتی ہے بلکہ اسے بھی پہلے! بدر اور اُحد سے۔
http://nyti.ms/1lYl8Wy لنک
یہ دھماکہ اہلسنت کی عیدگاہ میں ہوا جہاں لنڈہ بازار لگا ہوا تھا ،اور یہاں عیدگاہ کے ایک کونے میں ہمیشہ سے یہ بازار لگتا رہا ہے۔ جہاں سنی ہوتا ہے نہ شیعہ وہاں صرف غریب لوگ جاتے ہیں، کیونکہ پاراچنار کا موسم نہایت شدید سرد ہوا کرتا ہے اور درجہ حرارت منفی بیس تک چلا جاتا ہے تو غریب اور مسکین لوگ اپنے لیئے اور اپنے بچوں کیلئے لنڈے کے کپڑے اور سردی سے بچنے کے لوازمات خریدتے ہیں۔
پاراچنار میں دہشتگردی کی اصل کہانی ہے کیا؟
اصل کہانی فرقہ ورانہ منافرت ہے اور کرم ایجنسی میں موجود اکثریتی طوری قبیلہ جو شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں آبادی پر مشتمل ہے یہ نہ ملک کے اسٹیبلشمٹ کو قبول ہے اور نہ ہی علاقے کی دیگر سنی قبائل کو قابل قبول ہے۔
مذہبی منافرت کے علاوہ یہاں چونکہ شیعہ سنی ساتھ ساتھ رہے ہیں تو زمین ، پہاڑ اور پانی کے جھگڑے بھی ہوتے رہے ہیں جو بعد میں مذہبی اور مسلکی لڑائی میں بدل کر علاقے کو میدان جنگ میں تبدیل کرتے رہے ہیں۔
افغانستان متعصب حکمرانوں بچہ سقا اور امان اللہ خان کے ظلم ستم سے تنگ آکر طوری قبیلے نے طویل جدوجہد کے بعد انگریزوں کیساتھ ملکر کرم ایجنسی کو متحدہ ہندوستان میں شامل کرلیا اورڈیورنڈ لائن کی اس پار انگریزوں نے طوری قبیلے کے حفاظت کیلئے ۱۸۹۲ میں طوری میلشیا کے نام سے قبائلی ملیشیا بنایا جو بعد میں کرم ملیشیا بن گیا اور پاکستان کا حصہ بن گیا۔
بدقسمتی سے ضیااء لحق کے فرقہ ورانہ پالیسیوں کا شکار ہو کر کرم ملیشیا کو برطرف کرکے پورے پاکستان میں پھیلایا گیا، علاقے کو آگ و خون میں نہلایا گیا اور سرسبز وشاداب ، حسین و جمیل اور جنت نظیر علاقے کو دہشتگردی اور فرقہ واریت کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا جو آج تک نہیں نکل سکا۔
۱۹۲۹-۲۸، ۱۹۵۰ اور ۱۹۵۶ کے خونریز لڑائیوں کے علاوہ میرے سامنے جو خونریز لڑائی ہوئیں انکا مختصر تاریخ یہ ہے
۱۹۸۱-۸۲ میں صدہ قصبہ میں شیعہ آبادی پر ہلہ بول دیا اور دادو حاجی کے سارے خاندان کو ہلاک کیا گیا اور صدہ قصبے سے شیعہ آبادی کو مکمل طور پر بے دخل کر دیاگیا جو آج تک آباد نہیں ہو سکے۔
۱۹۸۷-۸۸ ضیاءالحق کے دور میں پاکستان شیعہ مسلک کے روح رواں اور ملت جعفر یہ کے صف اوّل کے رہنما علامہ عارف حسین الحسینی کو شہید کیا گیا اور علاقے کے سنی قبائل نے افغان مہاجرین کیساتھ ملکر مقامی شیعہ آبادی پر حملہ کردیا اور مہینوں پر محیط لڑائی میں ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے۔ اور اسٹیبلیشمنٹ تماشا دیکھتی رہی۔

۱۹۹۶ میں رسول اللہ کے چچا اور حضرت علی کے والد حضرت ابو طالب کی توہین کی گئی اور مقامی شیعہ آبادی کو اشتعال دلا کر خونریز جنگ کا آغاز کیا گیا جو پانچ سال تک جاری رہا اور اسکے بعد کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو محصور کیا گیا اور انکے لئے پاراچنار تک رسائی کے صرف ایک راستے ٹل پاراچنار روڈ کو بند کیا گیا اور پاراچنار پاکستانی غزا میں تبدیل ہوا۔
جو ہزاروں لوگوں کی ہلاکت پر ختم ہوا۔

۲۰۰۷ میں طالبان نے انجمن اہل سنت والجماعت کے پاراچنار کے سیکریٹری جنرل عید نظر المعروف "یزید نظر" کیساتھ ملکر ۱۲ ربیع الاول کے عید میلاد النبی کے جلوس میں "حسین مردہ باد اور یزید زندہ باد" کے نعرے لگا کر جنگ کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھے پورے پورا علاقہ میدان جنگ میں تبدیل ہوا اور پانچ ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

یاد رہے عید نظر کالعدم سپاہ صحابہ کا سرگرم رکن تھا اور اب اہل سنت والجماعت کا سرگرم رکن ہے جسطرح دیگر سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے لوگ اہل سنت والجماعت کے چھتری تلے جمع ہوئے ہیں ۔
اسکے علاوہ لشکر طیبہ کے میجر مست گل بھی آجکل پاراچنار سے متعلق خبروں میں جلوہ گر ہو رہے ہیں اور مرکزی مسجد و امام بارگاہ کے پیش امام نواز عرفانی کے اسلام آباد میں ہونے والے قتل میں دیگر دہشتگردوں کیساتھ انکا بھی نام لیا جاتا رہا ہے۔


گزشتہ آربعین میں یعنی صرف دس دن پہلے کرم ایجنسی کے علاقے بوشہرہ میں شر انگریزی کی کوشش کی گئی اور انتظامیہ نے آنکھیں بند کردیں کہ بلا ٹل جائے گا۔
اس دھماکے میں ایک طرف چوبیس افراد شہید ہوئے لیکن ایک گھرانہ پورے کا پورا برباد ہوا، بغکی نامی گاؤں کے گوہر علی اپنے دو بیٹوں قیصر علی اور نعمان علی سمیت شہید ہوئے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہر کوئی اپنی گریبان میں جھانکیں اور مزید حالات سے آنکھیں چرانا بند کریں!
آنکھیں چرانے سے آپکے حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے، سازشوں ، دہشتگردی اور فرقہ واریت کا ملکر مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کریں اور حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے لوگوں میں شعور پیدا کریں۔
آپس میں اتحاد کا موقع ضائع نہ کریں۔
تاریخ میں وہ قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو مشکل حالات میں اپنے آپ پر قابو پا کر بہتر فیصلے کریں اور ہماری قوم شہادتوں کی ایک طویل داستان رکھتی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور کوئی مسلک نہیں ہوتا، البتہ دہشتگردی کی بھینٹ چڑھنے والوں کا تعلق اکثر شیعہ مسلک سے ہی ہوتا ہے چاہے کوئٹہ میں ہو یا کراچی لاھور، ڈی آئی خان یا پاراچنار۔
‏پاکستانی کے صف اوّل کے تجزیہ کاروں کیمطابق پاکستان میں ہونے والی ہر دہشتگردی میں بیرونی ہاتھ ملوث رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاؤں ہمیشہ پاکستانی ہوتے ہیں اور دماغ کا کبھی کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔
اللہ تعالی ہماری قوم کو آئیندہ ہر قسم کے آفتوں اور دہشتگردی سے محفوظ رکھیں۔ آمین۔

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

In case you missed Wasat Ullah Khan columns on "Saw Bars Se Jari Jang" سو برس سے جاری جنگ

In case you missed Wasat Ullah Khan columns on "Saw Bars Se Jari Jang" سو برس سے جاری جنگ | parachinarvoice | Scoop.it

In case you missed Wasat Ullah Khan columns on "Saw Bars Se Jari Jang"

سو برس سے جاری جنگ 

you can read it here all ten columns.

Shafiq Ahmed's insight:

In case you missed Wasat Ullah Khan columns on "Saw Bars Se Jari Jang"

سو برس سے جاری جنگ 

you can read it here all ten columns.

 

سو برس سے جاری جنگ ( قسط اول )

وسعت اللہ خان  ہفتہ 27 جون 2015

انگلستان کی عظمت و حرمت کے تحفظ کے نام پر ایک پوری جوان نسل کو بے وقوف جنرلوں کے احمق منصوبوں کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔جو بچ گئے وہ یہ جان کر صدمے اور مایوسی میں دھنستے چلے گئے کہ ان کے اصل دشمن جرمن نہیں بلکہ وہ بڈھے تھے جنھوں نے ان سے جھوٹ بول کے اس جنگ میں جھونکا۔چنانچہ ایک پوری نسل کا اپنی سماجی اقدار پر سے اعتبار اٹھ گیا اور انھوں نے ماضی کے ورثے سے لاتعلق ہو کے ایک نیا راستہ چن لیا۔( برطانوی مورخ سیموئیل ہینز) ‘‘۔

اگر میں کہوں کہ آج ہم جس متشدد سرطان میں مبتلا ہیں اس کی جڑیں پہلی عالمی جنگ میں ہیں تو آپ مان لیں گے ؟ انیس سو چودہ سے اٹھارہ تک کے چار برس نے اس کرہِ ارض کو ایسا تلپٹ کیا کہ سو برس بعد بھی اس کے اثرات بھگتے جا رہے ہیں۔کہا تو یہ گیا تھا کہ یہ جنگ تہذیب ِ انسانی کے تحفظ اور مستقبل کی سب جنگوں کے خاتمے کا سبب بنے گی لیکن یہ فریب تیزاب کا ایسا مرتبان نکلا جس کے ٹوٹنے سے تباہی در تباہی بہتی چلی گئی۔سو برس پہلے شروع ہونے والی یہ جنگ جانے کب تک جاری رہے۔

پہلی جنگِ عظیم سات ہزار سالہ معلوم انسانی تہذیب کا پہلا وحشیانہ عالمی تصادم تھا۔اس میں ایک کروڑ عام شہری اور نوے لاکھ فوجی مارے گئے۔دو کروڑ سے زائد انسان زخمی اور معذور ہوئے۔یہ جنگ جسے یورپی نوآبادیاتی طاقتوں کی ہوسِ برتری نے شروع کیا سوائے براعظم امریکا ہر خطے میں لڑی اور لڑوائی گئی۔یہ جنگ یورپی سامراجیوں کی کمان میں افریقی و ایشیائی غلاموںنے لڑی اور آج بھی ان ھی غلاموں کی کمر پے بیٹھ کے لڑی جارہی ہے۔

جنگِ عظیم اول نے ہمیں پہلے آہنی فوجی ہیلمٹ ، پہلے ٹینک ، پہلے جنگی طیارے ، پہلی آبدوز ، پہلے طیارہ بردار بحری جہاز ، انسان کش زہریلی گیس کے پہلے جنگی استعمال ، پہلے گیس ماسک ، پہلی فوجی عورت ، پہلی جنگی خندق ، پہلے بلڈ بینک اور پہلی ایکسرے مشین سے روشناس کرایا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پہلی بار اس عظیم جنگ کے آخری سال ( انیس سو سترہ – اٹھارہ ) میں کود کر امریکا کے منہ کو دنیا پر حکمرانی کا خونی چسکا لگا۔

یہ جنگ کئی سلطنتیں کھا گئی اور ہلا گئی۔زار کی عظیم الشان پانچ سو سالہ بادشاہت، آسٹرو ہنگیرین ایمپائر، جرمن ایمپائر اور عالی مرتبت سلطنتِ عثمانیہ نقشے سے مٹ گئی۔ برطانیہ عظمیٰ کے آفتابِ عروج پر زوال کی جھریاں پڑنے لگیں کہ جس کی کرنوں سے نصف کرہِ ارض منور تھا۔فرانس کی نصف آبادی نہ صرف ہر طرح سے کھکھل ہو گئی بلکہ سطوتِ آقائیت کی رسی بھی جل گئی البتہ بل پوری طرح دوسری عالمی جنگ نے نکالا۔

پہلی عالمگیر جنگ عالمگیر جھوٹ پے لڑی گئی۔عربوں سے دل فریب وعدے کرکے ان کے ہاتھوں سلطنتِ عثمانیہ پر آخری کاری وار کروایا گیا۔اس کا اجر بس یہ ملا کہ عربوں کی گردن میں پڑا طوقِ عثمانی طوقِ فرانسیسی و برطانوی سے بدل گیا  اور پھر ان کی پیٹھ میں صیہونی خنجر گھونپ کے آپس میں چھیچا لیدر کروا دی گئی۔افریقی نوآبادیوں اور ہندوستان  کو یہ پٹی پڑھائی گئی کہ ہمارا ساتھ دو اور بدلے میں خود مختاری لو۔لیکن جنگ کے بعد ان افریقیوں اور ہندوستانیوں کی مشکیں پہلے سے زیادہ کس دی گئیں۔

اس جنگ میں اپنے ہی سپاہیوں سے جھوٹ بولا گیا۔ بتایا کچھ کروایا کچھ۔اور جب ان سپاہیوں نے اپنے ہی خون سے لکھا وچن نبھا دیا تو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکا گیا۔

پہلی عالمی جنگ نہ ایک عام مغربی کے فائدے میں لڑی گئی، نہ ہی یہ کسی عام مشرقی کے کام کی تھی۔یہ جنگ کسی منصفانہ نظریے ، ٹھوس ملکیتی جواز یا اپنے دفاع کے لیے نہیں تھی بلکہ یورپ کے شاہوں نے تہذیب کے سینے پر سامراجی بندر بانٹ کی بساط بچھا کے کروڑوں انسانوں کو مہرہ بنا کے خونی جوا کھیلا اور پھر ہاتھ جھاڑ کے پرے ہوگئے۔

ایک تاجک کہاوت ہے کہ جہنم کا وزنی دروازہ کھولنے کے لیے ایک چھنگلی ہی بہت ہے۔

ہوا یوں کہ آسٹرو ہنگیرین سلطنت کے ولی عہد فرانز فرڈیننڈ کو کسی سرپھرے نے بوسنیا کے شہر سرائیوو میں قتل کردیا۔آسٹرو ہنگیرین بادشاہ نے سربیا پر اس قتل کا الزام لگا کے بدلہ لینے کا عہد کیا۔زارِ روس نے آسٹرو ہنگیرین سلطنت کو خبردار کیا کہ سربیا میرا اتحادی ہے۔اگر اس پر حملہ ہوا تو میں بھی کود پڑوں گا۔

جرمن بادشاہ ولیلہم نے آسٹرو ہنگیرین بادشاہ کو یقین دلایا کہ کسی بھی فوجی کاروائی کی صورت میں ہم تمہارا ساتھ دیں گے اور جرمنی کے صنعتی و فوجی حریف برطانیہ اور فرانس نے روس کو یقین دلایا کہ اگر سربیا کو بچانے کے لیے تمہاری آسٹرو ہنگیرین اور جرمن سلطنت سے مڈ بھیڑ ہوئی تو ہم تمہاری حمایت میں اعلانِ جنگ کردیں گے۔ترکی کی سلطنتِ عثمانیہ نے جرمن سلطنت کو یقین دلایا کہ جنگ کی صورت میں ہم روس ، برطانیہ اور فرانس کے مقابلے میں حاضر ہیں۔

چنانچہ اٹھائیس جولائی انیس سو چودہ کو آسٹرو ہنگیرین دستوں نے سربیا پر چڑھائی کردی۔سربیا کی حمایت میں روس کودا۔روس کی حمایت میں تین ہفتے بعد فرانس ، برطانیہ اور اٹلی کودے اور ان تینوں کی حمایت میں جاپان کود گیا۔ دوسری جانب آسٹرو ہنگیرین سلطنت کی مدد کے لیے پہلے جرمنی آیا پھر ترکی بھی آ گیا۔

بھیڑیوں کی اس لڑائی میں عرب نژاد عثمانی سپاہی عبداللہ اور چکوال کا ہندوستانی نژاد برطانوی سپاہی عنائیت خان اپنی زمین سے ہزاروں میل پرے یورپ کے اجنبی برفیلی میدانوں اور گرم افریقی بیابانوں میں اپنے اپنے آقاؤں کی نمک خواری میں ایک دوسرے پر چار برس بندوقیں تانے یہی سوچتے رہے کہ وہ کس کے لیے اور کیوں لڑوائے جا رہے ہیں۔

یہ جنگ کھلے میدان اور بند کمروں میں لڑی گئی۔باہر جرنیل ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے پیادے بھڑا رہے  تھے تو بند کمروں میں سامراجی سیاستداں بینکاروں کی مدد سے ممکنہ نوآبادیاتی مالِ غنیمت کی بندر بانٹ کے نقشے پر لکیریں کھینچ رہے تھے۔

اگلے چند کالموں میں کوشش ہوگی کہ ہم سب کا مستقبل بالعموم اور مشرقِ وسطی ، شمالی افریقہ اور ہندوستان کا مستقبل بالخصوص پہلی عالمی جنگ کے خونی قلم سے کس کس نے کیسے کیسے لکھا کہ آج سو برس بعد بھی لہو رس رہا ہے۔مقصد نہ کسی کو کو سنا نہ خود کو مظلوم ثابت کرنا ہے۔بلکہ اس حقیقت تک پہنچنا ہے جس نے ہمیں وہاں پہنچا دیا جہاں کوئی بھی جانا نہیں چاہ رہا تھا۔

نہ کوئی گلہ ہے مجھ کو نہ کوئی شکایت ہے

آج ہوں میں جو کچھ بھی یہ آپ کی عنایت ہے

 

سو برس سے جاری جنگ (قسط دوم)

وسعت اللہ خان  منگل 30 جون 2015

اب سے ایک سو ایک برس پہلے اٹھارہ جولائی انیس سو چودہ کو پہلی جنگِ عظیم کا بگل بجا تو اس روز عالمی جغرافیہ کچھ یوں تھاکہ ہندوستان سے آبنائے ملاکا تک کا علاقہ سلطنتِ برطانیہ کا مقبوضہ تھا۔شام تا یمن کا مشرقِ وسطیٰ سلطنتِ عثمانیہ کا مقبوضہ تھا اور شمالی افریقہ برطانیہ ، فرانس ، اٹلی اور اسپین نے عثمانیوں سے چھین کے بانٹ رکھا تھا۔اس نوآبادیاتی جغرافیے کا سب سے محکوم کردار عام مسلمان تھا۔لہذا کسی بھی دو طرفہ جھگڑے میں اس کے ساتھ بندر کی بلا طویلے کے سر والا معاملہ ناگزیر تھا۔بقول ضمیر جعفری

آقا جو لڑکھڑایا تو نوکر پھسل گیا

نومبر انیس سو چودہ کے دوسرے ہفتے میں سلطنتِ عثمانیہ کے مفتیِ اعظم نے استنبول کی الفتح مسجد کے منبر سے فتویٰ جاری کیا کہ تمام مسلمانوں پر ملعون برطانیہ ، فرانس ، روس اور ان کے دیگر ساجھے داروں کے خلاف جہاد فرض ہوگیا ہے۔ مشکل بس یہ تھی کہ جتنے مسلمان سلطنتِ عثمانیہ میں بستے تھے لگ بھگ اتنے ہی ملعونوں کے مقبوضات میں بھی رہ رہے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں جانب کے مقبوضہ مسلمان سامراجی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان آ گئے۔

برطانیہ نے اپنے زیرِ نگیں مصر سے مختلف جنگی خدمات کے لیے ایک ملین افراد بھرتی کیے۔فرانس نے اپنی نوآبادی الجزائر سے ایک لاکھ ستر ہزار ، تیونس سے اسی ہزار اور مراکش سے پینتالیس ہزار مقامی افراد جبری بھرتی کرکے یورپی محاذ پر روانہ کیے۔جنگ کے خاتمے پر ان میں سے پچیس فیصد سپاہی گھر واپس نہیں لوٹے۔ تیونس کے مورخ خلیل شریف کے مطابق فرانسیسیوں نے نوآبادیاتی سپاہیوں کو اگلے مورچوں پر اور گورے سپاہیوں کو زیادہ تر خندقوں کی جنگ میں استعمال کیا۔اس لیے غلام فوجی زیادہ مرے۔

نوآبادیاتی سپاہی جبراً لڑ رہے تھے، اس لیے فرانسیسی جرنیل ان سپاہیوں کے ڈسپلن کے بارے میں اکثر فکرمند رہتے۔جرمن مسلسل پروپیگنڈہ کر رہے تھے کہ مفتی اعظم کے فتویٰ کے بعد کسی بھی مسلمان کا سلطنت عثمانیہ اور اس کے اتحادیوں (جرمنی وغیرہ) سے لڑنا حرام ہے۔چنانچہ فتوے کے دو ہفتے بعد تیس نومبر انیس سو چودہ کو تیونس کے فوجی قلعے بیضرت میں بغاوت ہوگئی اور مقامی رنگروٹوں نے مارسیلز (فرانسیسی بندرگاہ) جانے والے جہاز میں سوار ہونے سے انکار کردیا۔ اس خبر کو الجزائر اور مراکش کے مقبوضات تک پھیلنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی اور مورخ فیصل شریف کے مطابق سو سے ڈیڑھ سو کے درمیان تیونسی باغیوں کو فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کردیا گیا۔

محاذِ جنگ پر بھی نوآبادیاتی فوجیوں میں ڈسپلن قائم رکھنے کے لیے فرانسیسی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ہر دس میں سے ایک کو نشانِ عبرت بنانے کی قدیم رومن فوجی روایت کو شمالی افریقی رنگروٹوں پر لاگو کیا۔پندرہ دسمبر انیس سو چودہ کو ’’ رجمنٹ دو مکس الجئیرز ’’کی دسویں بٹالین کے بیس الجزائری و تیونسی سپاہیوں نے جرمن پوزیشنوں کی طرف پیش قدمی سے ہچکچاہٹ دکھائی تو جنرل لا کورے نے انھیں نہتا کرکے دشمن مورچوں کی طرف بڑھنے کا حکم دیا اور اگر اس دوران دشمن سے بچ نکلیں تو ان ھی کے کامریڈ انھیں گولی سے اڑا دیں۔ فرانسیسی محقق گلبرٹ مینئر کے مطابق انیس سو پندرہ تک مختلف محاذوں پر ایسی سرسری سزائیں دینے کے تحریری احکامات جنگی ریکارڈ میں موجود ہیں مگر بعد میں ایسے احکامات زبانی جاری ہونے لگے۔

فرانسیسیوں کی جبری بھرتی مہم کے خلاف انیس سو پندرہ، سولہ میں لیبیا کی سرحد کے قریب تیونسی قصبے کبیر میں دو بغاوتیں ہوئیں جو جنگ کے بعد بھی گوریلا مزاحمت کی شکل میں جاری رہیں۔ انھیں دبانے کی کوشش میں سیکڑوں فرانسیسی فوجی ہلاک ہوئے۔ان بغاوتوں کے سرغنہ خلیفہ بن عسکر اور محمد دغباچی تھے۔ دغباچی کو انیس سو چوبیس میں پکڑ کے پھانسی دیدی گئی مگر اس کا نام لوک گیتوں کا حصہ بن گیا۔ایسی بغاوتیں عثمانی مقبوضات میں بھی ہوئیں مگر یہاں وہاں اکا دکا بغاوتوں سے قطع نظر اکثریت کے لیے فوجی بھرتی سے انکار دونوں جانب ممکن نہ تھا۔

اپریل دو ہزار پندرہ میں پہلی بار جرمنوں نے بلجئیم میں فلانڈرز کے محاذ پر کلورین گیس کے پانچ ہزار کنستر استعمال کیے۔لگ بھگ چھ ہزار فوری ہلاکتیں ہوئیں اور سیکڑوں زخمی بینائی کھو بیٹھے۔ فرانس کا پینتالیسواں اور ستاسی واں ٹیریٹوریل ڈویژن اولین کیمیاوی حملے کی زد میں آیا۔دونوں ڈویژنوں میں شمالی افریقی رنگروٹوں کی اکثریت تھی۔برطانوی مورخ ایڈورڈ سپئیرز کے بقول بعد کے گیس حملوں میں برطانوی ، فرانسیسی اور کینیڈین فوجی زیادہ متاثر ہوئے۔

عسکری تاریخ کے اس پہلے کیمیاوی حملے میں استعمال ہونے والی کلورین گیس جنگ سے دو برس پہلے ( انیس سو بارہ) برلن میں قائم ہونے والے کیسر ولیہلم انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل کیمسٹری میں تیار ہوئی۔ انسٹی ٹیوٹ کے پہلے ڈائریکٹر فرٹز ہیبر کو انیس سو اٹھارہ میں امونیا گیس سے مصنوعی کھاد بنانے کے فارمولے پر کیمسٹری کا نوبیل انعام ملا۔ اب تک اس انسٹی ٹیوٹ کے تینتیس سائنسداں نوبیل انعام حاصل کرچکے ہیں۔

یورپ کے وسطی محاذ پر کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد جنگی تعطل پیدا ہوگیا اور فریقین نے خندقوں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو مصروف رکھنے کی حکمتِ عملی اپنالی۔

اس تعطل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برطانوی ایڈمرل ونسٹن چرچل نے جرمن اتحادی ترکی کی فیصلہ کن پٹائی کا منصوبہ بنایا۔مقصد یہ تھا کہ استنبول پر قبضہ کرکے روس تک کمک پہنچانے کے لیے بحیرہ اسود تک کا راستہ کھولا جائے۔ ویسے بھی انیسویں صدی سے کوئی بھی عثمانیوں کو خاطر میں نہیں لا رہا تھا۔اس دوران عثمانیوں سے بلقان اور یونان چھن گئے۔ پھر الجزائر سے مصر تک کے شمالی افریقی مقبوضات یورپئیوں نے ہتھیا لیے۔ انیس سو گیارہ میں لیبیا بھی اٹلی نے جھپٹ لیا۔ لے دے کے شام ، فلسطین ، ولایت بغداد و موصل ، جزیرہ نما عرب اور یمن ہی عثمانیوں کے ہاتھ میں رہ گئے۔ زار نکولس اول کا یہ کہنا کچھ غلط نہ تھا کہ یورپ کے اس مردِ بیمار سے اب کوئی نہیں ڈرتا ورتا۔

چنانچہ پچیس اپریل انیس سو پندرہ کو برطانیہ ، فرانس ، یونان ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی مشترکہ افواج بحیرہ ایجین کے کنارے گیلی پولی کے ساحل پر اترنی شروع ہوئیں تو یہاں بس ایک ترک فوجی یونٹ متعین تھا۔آسٹریلوی مورخ بل سیلرز کے بقول جب تھکا ہارا ترک یونٹ پسپائی کی تیاری کر رہا تھا تو اسے مصطفیٰ کمال نامی ایک اعلی فوجی افسر کا پیغام ملا ’’ میں تمہیں لڑنے کا نہیں مرنے کا حکم دیتا ہوں۔تمہاری موت ہمیں اتنا وقت دے جائے گی کہ ہم تمہاری جگہ لے سکیں‘‘۔

مصطفی کمال کی انیسویں کور کے تین لاکھ فوجیوں میں سے پچھتر فیصد کا تعلق ولائیتِ شام و فلسطین سے تھا۔ تین میں سے دو رجمنٹیں عرب تھیں۔گیلی پولی کا معرکہ سات ماہ جاری رہا اور ترکوں نے اتحادیوں کو اکھاڑ پھینکا۔دونوں طرف سے لگ بھگ ڈھائی لاکھ فوجی کام آئے۔مگر مصطفی کمال کو معروف عرب شاعر خالد شوقی کی طرف سے خالد بن ولیدِ ثانی کا خطاب مل گیا۔

ادھر جرمنی نے یورپ کے وسطی اور مشرقی محاذ پر اتحادیوں کے جو سپاہی جنگی قیدی بنائے ان میں سے روس کی طرف سے لڑنے والے تاتاری مسلمانوں کو دیگر مسلمان جنگی قیدیوں سے الگ رکھا گیا۔شمالی افریقہ اور ہندوستان کے تین سے چار ہزار قیدی برلن کے نزدیک ہوفمین کیمپ پہنچائے گئے۔

شمالی افریقہ اور ہندوستان کے مسلمان قیدیوں کو باقیوں سے الگ رکھنے کی حکمتِ عملی مشرقِ وسطی میں ایک عرصے تک خدمات انجام دینے والے جرمن قانون دان اور ماہرِسفارت میکسویل اوپن ہائم کا آئیڈیا تھا۔( ان صاحب کا ذکر آگے بھی آئے گا)۔ حکمت یہ تھی کہ سرکردہ ترک اور عرب مذہبی رہنما کیمپ کا دورہ کریں اور اپنے ہم مذہب قیدیوں کو سمجھائیں کہ ترکوں اور ان کے اتحادیوں سے نبرد آزما ’’ مسلمان دشمن قوتوں’’ کی حمایت میں لڑنا کتنا بڑا گناہ ہے۔بعد ازاں کئی قیدی جرمنوں کی طرف سے اپنے سابق آقاؤں کے خلاف لڑے بھی۔

ہوفمین کیمپ میں ہی کیسر ولیلہم نے جیبِ خاص سے ایک چوبی مسجد بنوائی جس میں پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش تھی۔جنگ کے بعد ہوفمین کیمپ ختم ہوگیا مگر مسجد کو برلن میں رہنے والے مسلمانوں نے آباد رکھا۔ پھربرلن شہر میں ایک پختہ مسجد بن گئی اور ہوفمین کیمپ والی جرمنی کی اولین مسجد رفتہ رفتہ منہدم ہوگئی۔

سوال یہ ہے کہ برطانیہ ، فرانس اور روس کی طرح جرمنی بھی غیر مسلمان تھا۔تو پھر ایسا کیوں تھا کہ جرمنی کو تو عثمانی سلطان قابلِ اعتماد برادر سمجھتے رہے اور باقی یورپی طاقتوں کو کٹر دشمن ؟ اس پالیسی کے کیا کیا فائدے اور نقصانات ہوئے اور اس پالیسی سے مسلمان دنیا کو کیا ملا اور کیا چھنا؟

 

سو برس سے جاری جنگ ) قسط سوم (

وسعت اللہ خان  ہفتہ 4 جولائ 2015

پہلی عالمی جنگ کے اثرات کے بارے میں بات کرتے کرتے گزشتہ قسط میں یہ سوال بھی اٹھا کہ خلافتِ عثمانیہ چار سو برس تک مسلم سنی اکثریت کی سیاسی و روحانی ترجمانی کی دعوے دار رہی تو پھر جرمنی کے ساتھ اس کی قربت کا کیا راز تھا اور دیگر یورپی طاقتوں سے اس قدر مخاصمت کیوں تھی جب کہ جرمنی سمیت سب ہی یورپی طاقتیں غیر مسلمان تھیں۔

اٹھارہ سو تیس تک خطہِ بلقان ( جنوبی یورپ ) اور میسو پوٹامیا ( عراق ) سے الجزائر تک چاند ستارے والا سرخ عثمانی پرچم لہراتا رہا۔ لیکن اگلے نوے برس کے دوران بلقان کو روسی زاروں کے حمایت یافتہ سلاوک قوم پرستوں نے ترکوں سے واگزار کروا لیا اور شمالی افریقہ ترکی کے ہاتھ سے نکل کر برطانیہ، فرانس، اسپین اور اٹلی میں بٹ بٹا گیا۔ چنانچہ اٹھارہ سو چھہتر سے انیس سو نو تک تخت آرا سلطان عبدالحمید اول کا یہ خدشہ یکسر بے بنیاد  نہ تھا کہ یورپی نوآبادیاتی قوتیں اگلے مرحلے میں غیر ترک عثمانی رعایا کو ورغلا کر بچی کھچی عثمانی سلطنت کا بھی تیا پانچا کرنا چاہتی ہیں۔

مگر جرمنی واحد یورپی طاقت تھا جس نے دیگر یورپی طاقتوں  سے عسکری و نوآبادیاتی مخاصمت کے سبب ترکی سے بنا کے رکھنے میں دلچسپی لی۔ اپنی نوآبادیاتی قبضے کی پالیسی مشرقی اور جنوب ہائے افریقہ تک محدود رکھی  اور عثمانیوں کے زیرِ نگیں علاقوں پر نگاہِ ہوس رکھنے سے گریز کیا اور ترکی سے اسٹرٹیجک، سیاسی و تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی مثبت پالیسی اپنائی۔

کیسر ولیہلم نے اٹھارہ سو نواسی میں استنبول کا اور اٹھارہ سو اٹھانوے میں فلسطین و دمشق کا دورہ کیا۔ حیفہ کی بندرگاہ سے انھیں یروشلم تک جلوس کی شکل میں لایا گیا اور دمشق میں کیسر نے صلاح الدین ایوبی کے مزار پر حاضری دینے کے بعد اعلان کیا کہ میں اپنی جیب سے مزار کی مرمت و تزئین و آرائش کراؤں گا۔ عرب جذباتی ہو گئے اور انھوں نے ولیہلم کو حاجی ولیہلم  کا لقب دے دیا۔ یوں عالمِ اسلام میں سلطنتِ عثمانیہ کے اکثر عقیدت مندوں کو جرمنی سے بھی انسیت ہوتی چلی گئی۔ ویسے بھی دونوں کے مشترکہ دشمن انھیں فطری اتحادی بنانے کے لیے کافی تھے۔ حریف یورپی طاقتوں کے مقابلے میں جرمنی جیسی صنعتی و عسکری قوت کی مدد سے ترکی کو اپنے معاشی و فوجی ادارے کسی حد تک جدیدیانے کا موقع ملا اور جرمنی کو بھی علاقائی توازنِ طاقت برقرار رکھنے کے لیے ترک سلطنت کی اسٹرٹیجک اہمیت کا مسلسل احساس رہا۔

کیسر ویلہلم کے نزدیک یورپ میں ایک ہی طاقت جرمنی کے ہم پلہ تھی۔ یعنی عظیم بحری قوت کا مالک آدھی دنیا کا حکمران برطانیہ۔ جرمن خارجہ پالیسی کا محور بھی برطانوی عزائم کو لگام دینا تھا اور عثمانیوں سے بہتر تعلقات اس پالیسی کا بنیادی پتھر تھا۔ کیسر ویلہلم نے عثمانیوں اور ان کے زیرِ نگیں عربوں کے دل جیتنے کا کام تجربہ کار سفارتکار، قانون داں،  مشرقِ وسطی کے سرکردہ محقق اور آرکیالوجسٹ میکسویل اوپن ہائم کے سپرد کیا۔

اوپن ہائم  نے سلطنتِ عثمانیہ کے مختلف علاقوں کا بطور سیاح وسیع سفر کیا اور پھر شمالی شام میں چھ ہزار قبلِ مسیح کی بستی طل احلاف کے کھنڈرات دریافت کر کے عثمانیوں کو اپنے علمی و تحقیقی وقار کا قائل کیا۔ اوپن ہائم نے برلن تا بغداد ریلوے کا نہ صرف نقشہ بنایا بلکہ جرمن کمپنی سیمنز کو اس منصوبے پر سرمایہ کاری  کے لیے آمادہ کیا۔ جرمن بھانپ چکے تھے کہ انیس سو آٹھ میں ایران میں تیل کی دریافت کے بعد بلادِ شام و عراق میں بھی تیل ملنے کے امکانات روشن ہیں اور برطانیہ کا مقابلہ کرنے کے لیے مستقبل کے ایندھن سے ممکنہ طور پر مالامال اس علاقے پر سیاسی و اسٹرٹیجک اثر و رسوخ پکا کرنا کتنا ضروری ہے۔ برلن بغداد ریلوے منصوبہ سینتیس برس میں مکمل ہوا مگر جنگ شروع ہو گئی اور دنیا ہی بدل گئی۔

انیس سو آٹھ کے بعد سے عثمانی دربار میں جدیدیت کے حامی اصلاح پسندوں المعروف ینگ ٹرکس کا غلبہ بڑھتا گیا۔ بظاہر تو سلطان  کا سکہ چلتا تھا لیکن سب جانتے تھے کہ اصل اختیارات جواں سال وزیرِ جنگ انور پاشا اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھ میں ہیں۔ انور پاشا کی فوجی تربیت جرمنی میں ہوئی۔  وہ بسمارک کا مداح تھا اور روانی سے جرمن بول سکتا تھا۔ انور پاشا کے نزدیک اقتصادی، سائنسی اور عسکری ترقی کا دوسرا نام جرمنی تھا۔

اٹھائیس جولائی انیس سو چودہ کو جنگ شروع ہوئی تو جرمنوں سے انور پاشا کی بات چیت شروع ہو گئی اور صرف چار دن میں دو طرفہ تعاون کا معاہدہ طے پا گیا۔ مگر اس معاہدے کو ترکی کی جانب سے رسمی اعلانِ جنگ تک خفیہ رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ ترک قیادت  کا خیال تھا کہ ہماری افرادی قوت اور جرمن عسکری طاقت  کے مشترکہ استعمال سے جنگ مختصر رہے گی۔ جرمنوں کا بھی یہی خیال تھا کہ مسلمانوں کی اکثریت چونکہ سلطنت ِ عثمانیہ کو سیاسی و روحانی مرکز مانتی ہے  لہذا یورپی نوآبادیات کے مسلمان جہاد کی اپیل کے نتیجے میں اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اور برطانیہ و فرانس کی توجہ اپنی نوآبادیات سنبھالنے میں بٹ جائے گی۔ یوں جنگ آسانی سے جیت لی جائے گی۔

مگر برطانیہ نے جنگ چھڑتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ اٹھارہ سو بیاسی سے اپنے زیرِ اثر نیم خود مختار عثمانی صوبے مصر پر قبضہ کیا اور وہاں جبری بھرتی کا آغاز کر دیا۔ لگ بھگ بارہ لاکھ مصریوں کو برطانیہ نے اگلے چار برس یورپ، شمالی افریقہ اور بلادِ شام کی فوجی مہمات میں خوب استعمال کیا۔ جنگ کے خاتمے کے بعد جرمن جنرل ایرک لوڈنڈوف کے بقول عثمانیوں کی جنگ میں شمولیت کے بعد ہی وسطی یورپی طاقتیں ( آسٹریا اور جرمنی ) جنگ کو طول دینے کے قابل ہو سکیں ورنہ تو دو برس میں ہی خاتمہ ہو جاتا۔

مگر جنگ شروع ہونے تک مغربی مورخین کی رائے کے برعکس عام عربوں کے دل میں عمومی طور پر سلطنتِ عثمانیہ کے لیے معاندانہ جذبات نہیں تھے۔ عرب مورخ عواد حلابی کہتے ہیں کہ اگر عثمانی اقتدار سے عرب اتنے ہی بیزار ہوتے جیسا کے اکثر مغربی مورخین بتاتے ہیں تو جنگ سے پہلے بلادِ شام  ( جدید شام، لبنان، اردن، فلسطین ) اور بلادِ موصل و بغداد کے تین لاکھ عرب سپاہی عثمانی افواج میں خدمات انجام نہ دے رہے ہوتے۔ نو سینئر عثمانی فوجی کمانڈروں میں سے دو البانوی، دو کاکیشیائی، دو عرب اور ترک صرف تین تھے۔ سلطان کا وزیرِ اعظم سعید حلیم پاشا بھی عرب نژاد تھا۔

البتہ جب ترکی جنگ میں کود پڑا تو اس پر برطانیہ و فرانس اور ان کی نوآبادیوں کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کے سبب عربوں کی روزمرہ زندگی اجیرن ہونے لگی اور راشننگ نے اشیائے خور و نوش و ایندھن کی قلت اور بڑھا دی۔ چنانچہ اردنی مورخ علی محافظ کے بقول شریفِ مکہ و مدینہ حسین بن علی نے عثمانی وزیرِ اعظم کو لکھا کہ جنگ میں شمولیت کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی جائے۔ یہ جنگ ترکی، بالخصوص عربوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی۔

جنگ سے پہلے تک سلطنت کی باگ ڈور سنبھالنے والے جدت پسند ینگ ٹرکس اختیارات کی غیر مرکزیت، عثمانی صوبوں کو مرحلہ وار  آئینی خود مختاری دینے اور سماجی جدت کاری کے پرزور حامی تھے۔ اس بارے میں پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچا جا رہا تھا۔ مگر جنگ چھڑتے ہی سب منصوبے ملتوی ہو گئے اور عرب صوبوں کے قوم پرست حلقوں میں مایوسی بڑھنے لگی۔

ینگ ٹرکس کو جنگ سے پہلے ہی شبہ ہونے لگا کہ عرب قوم پرستوں کو برطانیہ اور فرانس کی جانب سے خفیہ شہہ مل رہی ہے۔ چنانچہ جنگِ شروع ہوتے ہی قوم پرستوں اور ان کے حامیوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی۔ مرکزی حکومت نے سخت گیر جنرل جمال پاشا کو بلادِ شام کا گورنر مقرر کیا۔ اسے یہ ذمے داری بھی سونپی گئی کہ مصر کو برطانیہ سے چھڑوایا جائے۔ چنانچہ جنوری انیس سو پندرہ میں ترک دستوں نے صحرائے سینا پار کرتے ہوئے نہر سویز عبور کرنے کی کوشش کی۔ لیکن برطانوی دستوں نے حملہ پسپا کر دیا اور پانچ سو ترک سپاہیوں نے بغیر لڑے ہتھیار بھی ڈال دیے۔ ان میں اکثریت عرب سپاہیوں کی تھی۔

یہی وقت تھا جب برطانیہ اور فرانس نے عام عربوں کو خلافتِ عثمانیہ سے عمومی سطح پر برگشتہ کرنے کے لیے مناسب متبادل کی تلاش شروع کر دی اور ان کی نگاہِ انتخاب حسین  ابن علی عرف شریفِ مکہ پر پڑی جن  کا شجرہ اہلِ بیت تک جاتا تھا اور مکہ اور مدینہ کی کلید برداری بھی دورِ عباسیہ سے ان ھی  کے خاندان کے پاس تھی۔ برطانوی و فرانسیسی منصوبہ ساز سمجھتے تھے کہ ایک عام عرب کو خلافت سے برگشتہ کرنے کے لیے بطور روحانی متبادل شریفِ مکہ کا پروفائیل چاروں خانے فٹ ہے۔ اگر یہ جوا کامیاب ہو گیا تو پھر جنگی میدان میں کامیابی بچوں کا کھیل ہے۔ اور پھر برطانیہ اور فرانس کا غیر اعلانیہ جنگی پلان بی حرکت میں آ گیا۔

 

سو سال سے جاری جنگ ) قسط چہارم(

وسعت اللہ خان  منگل 7 جولائ 2015

گذشتہ مضمون میں تذکرہ ہو ہو چکا ہے کہ جنگِ عظیم اول کا آغاز ہوتے ہی جرمن ترک اتحاد نے فرض کرلیا کہ عثمانی سلطانِ معظم کی جانب سے جہاد کا فتویٰ جاری ہوتے ہی شمالی افریقہ کی مسلمان نوآبادیاں اپنے  یورپی آقاؤں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں گی اور یوں ہمیں مختصر وقت میں فتح نصیب ہوجائے گی۔ برطانیہ اور فرانس کی مسلمان کالونیاںتو خیر کیا بغاوت کرتیں۔الٹا عثمانی حکمران اپنی غیر ترک رعایا کی وفاداری کی بابت شکوک میں مبتلا ہوتے چلے گئے اور مشکوک رعایا کو ساتھ رکھنے کے لیے دل جیتنے کے بجائے سختیوں کا سہارا لیا گیا اور یہی سختیاں وہ دلدل بن گئی جس میں پھنس کے چار سو سالہ سلطنتِ عثمانیہ کو غائب ہونے میں بس چار برس لگے۔ ظاہر ہے ان حالات کا برطانیہ اور فرانس نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔اور کیوں نہ اٹھاتے۔محبت اور جنگ میں تو سب جائز ہی ہوتا ہے۔

مثلاً شریف مکہ حسین ابنِ علی ہوں یا بلادِ شام کے عرب قوم پرست۔ سب کا خیال تھا کہ ترکی اگر جنگ میں کودا تو ہاتھیوں کی لڑائی میں بڑا نقصان عرب گھاس کا ہوگا۔جنگ میں عثمانی سلطان کی جانب سے کودنے کے یکطرفہ فیصلے نے عرب قوم پرستوں کی سیاسی محرومی کو بے چینی میں بدل دیا۔وہ پہلے ہی استنبول میں برسرِ اقتدار ینگ ٹرکس کی جانب سے سیاسی اصلاحات اور غیر مرکزیت کے وعدے انیس سو آٹھ کے بعد سے مسلسل ملتوی ہونے پر تپے بیٹھے تھے اور اب تو یہ وعدے اور امیدیں جنگ کی زد میں آ چکے تھے۔عثمانی اسٹیبلشمنٹ قوم پرستوں کی بے چینی کے اسباب پر غور کرنے اور تحمل سے نمٹنے کے راستے تلاش کرنے کے بجائے ترنت اس نتیجے پر پہنچی کہ ہو نہ ہو اس نازک موقع پر عربوں کو یہ پٹی سلطنت کے حصے بخرے کرنے کے خواہش مند برطانیہ اور فرانس نے پڑھائی ہے۔

نومبر انیس سو چودہ میں جنگ میں ترکی کی شمولیت کے صرف دس روز بعد بحریہ کے سخت گیر وزیر جمال پاشا کو بلادِ شام ( موجودہ شام ، لبنان ، اردن ، فلسطین ) کا گورنر بنا کے بھیجا گیا۔اسے یہ ذمے داری بھی دی گئی کہ اندرونی بے چینی کو دبانے کے ساتھ ساتھ مصر کو بھی برطانیہ سے واپس لے جو گذشتہ تین عشروں سے برطانیہ کے زیرِ اثر ایک رسمی عثمانی صوبہ بن کے رہ گیا تھا۔جمال پاشا نے مصر پر فوج کشی ضرور کی مگر بغیر جنگ کے پسپا ہونا پڑا۔لیکن اس ناکامی کا الزام عرب سپاہیوں کی غداری پر دھر دیا گیا۔

عربوں کی نگاہ سے دیکھا جائے تو گورنر جمال پاشا کادور بدعنوانیوں ، مخبری ، قحط سالی اور تشدد کا تاریک زمانہ تھا۔لبنانی مورخ ایسام خلف کے بقول قوم پرستوں سے ناطے کا جس جس پیذرا بھی شک ہوا دھر لیا گیا۔اس دور کی عثمانی ڈکشنری میں عرب قوم پرست اور برطانیہ و فرانس کا ایجنٹ ایک برابر تھا۔ ہزاروں عرب جلا وطن ہوئے یا زیرِِ زمین چلے گئے۔ سیکڑوں کو طویل قید سنائی گئی۔حیفہ ، بیروت اور دمشق میں بتیس عرب سیاسی کارکنوں اور دانشوروں کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ گویا عرب انٹیلی جینشیا کے خلاف اعلانِ جنگ ہوگیا۔( جمال پاشا کا یہ طرزِ حکمرانی آج تک تک بیشتر عرب قیادت کا منشور بنا ہوا ہے )۔

مگر جنگ صرف عرب قوم پرستوں پر ہی مصیبت نہیں لائی۔جبر اور جنگ کی فضا میں ہر سیر بھر گیہوں کے ساتھ من بھر گھن بھی تو پستا ہے۔پہلی عالمی جنگ میں اگر آبادی وار متاثرین کو دیکھا جائے تو جرمن سلطنت کی نو فیصد ، سلطنتِ فرانس کی گیارہ فیصد اور سلطنتِ عثمانیہ کی لگ بھگ بیس تا پچیس فیصد آبادی جنگی صعوبتوں کا نشانہ بنی۔

مثلاً عثمانی بلادِ شام میں لبنان کے خطے کو ہی لے لیجیے۔صرف چار برس میں وہاں کی ایک تہائی آبادی مر گئی اور ایک تہائی دربدر ہوگئی۔اقتصادی ناکہ بندی کے سبب چونکہ بیرونِ ملک مقیم لبنانی گھر پیسے نہیں بھیج سکتے تھے لہذا قلیل خوراک کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں نے گاؤں کے گاؤںبھک مری اور قحط میں فنا کردیے۔کئی علاقوں میں نوبت عصمت فروشی تک آ گئی۔ سیر بھر غلے کے لیے مہاجن زمین کے کاغذات گروی رکھنے لگے۔ ایک لبنانی خاتون میمونہ الامین کا انتقال حال ہی میں ایک سو ایک برس کی عمر میں ہوا۔میمونہ نے بتایاکہ ’’ ایک بار میری ماں نے سونے کی بالیاں دے کر مٹھی بھر آٹا لیا۔ہم لوگ اپنا پہاڑی گھر چھوڑ کے خوراک کی تلاش میں جنگلات میں آ گئے۔وہاں ہم جیسے بے آسرا خاندان گھاس میں تھوڑا سا آٹا ملا کر روٹی سی بنا لیتے۔ بہت سے بچے یہ غذا برداشت نہ کر پاتے اور سامنے سامنے جان دے دیتے ’’۔

جنگ سے پہلے عرب نوجوان خوشی خوشی عثمانی سپاہ میں بھرتی ہوتے تھے لیکن جب اسٹیبلشمنٹ نے لوگوں کو پکڑ پکڑ کے بھرتی کرنا شروع کیا تو بہت سے جوان زنانہ کپڑوں میں فرار ہونے لگے۔

برطانویوں کا خیال تھا کہ میسو پوٹامیا ( عراق ) نہ صرف لندن اور ہندوستان کے درمیان زمینی راہداری کی کنجی ہے بلکہ دفاعی لحاظ سے یہ جنوبی صوبہ عثمانیوں کی فوجی کمزوری بھی ہے۔ اگر اس پر قبضہ ہوجائے اور دوسری جانب مصر میں موجود برطانوی سپاہ آگے بڑھ کے فلسطین کے راستے دمشق تک پہنچ جائے تو سلطنتِ عثمانیہ کی کہانی ختم۔

برطانوی فوج نے انیس سو سولہ میں بصرہ کی جانب سے ہلا بولا اور قریباً چھ لاکھ سپاہ ( جس میں ہندوستانی سپاہیوں کی اکثریت تھی ) کو عراق سر کرنے کے لیے مختص کیا۔مگر انگریزی اندازے غلط ثابت ہوئے اور قوت الامارہ کی لڑائی میں عثمانیوں نے ڈیڑھ لاکھ انگریزی سپاہ کی طبیعت صاف کردی۔ انگریزی فوج کے جتنے ہندوستانی سپاہی ہلاک و زخمی ہوئے اتنے ہی جنگی قیدی بھی بنے اور پھر ان جنگی قیدیوں کو ہنکال کے ولائت ِموصل اور شام کی جانب لے جایا گیا۔کچھ راستے میں مرے اور باقیوں کو جنگی بیگار پر لگا دیا گیا۔ہندوستانی انگریزی سپاہ کا ایک بڑا حصہ ہیضے ، ملیریا اور جوؤں سے پھیلنے والے ٹائفس سے بھی متاثر ہوا اور پھر ان امراض نے عام عراقیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جتنی انگریزی سپاہ  بیماریوں سے ہلاک ہوئی اتنے ہی عراقی بھی ان سے لگنے والی وباؤں کا رزق ہوئے۔جو عراقی اس ابتلا سے بھاگ کر ملک کے شمال اور پھر کاکیشیا تک پہنچے وہ زادِ راہ میں ٹائفس اور دست کی بیماریاں بھی لے گئے اور انھیں نئے میزبانوں تک بھی پہنچا دیا۔

سلطنتِ عثمانیہ کو دوسرا دھکا مشرق کی جانب سے لگا۔مگر یہ دھکے سے زیادہ ’’خود کردہ را علاج نیست ’’ والامعاملہ تھا۔ اٹھارہ سو اٹہترمیں روسیوں نے سلطنتِ عثمانیہ کی لاغری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آرمینیا اور مشرقی اناطولیہ کا کچھ حصہ چھین لیا۔جب نومبرانیس سو چودہ میں ترکی عالمی جنگ کا حصہ بنا تو وزیرِ جنگ انور پاشا نے روس سے یہ علاقے واپس لینے کے لیے موقع غنیمت جانا۔انور کے اتحادی جرمنوں کو اس پر بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا کیونکہ اگر ترکی روسی فوجوں کا ایک بڑا حصہ آرمینیا اور مشرقی اناطولیہ کے پہاڑوں میں پھنسا لے تو یورپی محاذ پر روس کی قوت اور توجہ بٹ جائے گی اور اس کا فائدہ بہرحال جرمنی کو ہی ہوگا۔جب کہ انور پاشا کا تجزیہ یہ تھا کہ چونکہ روس کا بنیادی دھیان یورپ میں جرمن فوجی ہوے کی جانب ہے لہذا اگر ترک سپاہ مشرقی محاز پر اچانک فوج کشی کر دے تو کم ازکم جانی نقصان کے ساتھ پرانا علاقہ واگذار ہو سکتا ہے۔

اور پھر انور پاشا نے عین انیس سو پندرہ کے موسمِ سرما میں یہ سوچ کر جنگی نقارہ بجا دیا کہ برفباری سے بند راستوں کے سبب روسی بروقت اضافی کمک نہیں پہنچا سکیں گے۔ (کچھ ایسی ہی بات اٹھارہ سو چار میں نپولین نے بھی روس میں گھستے سمے سوچی تھی اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ اس مغالطے کی نپولین نے کیا قیمت چکائی)۔ انور پاشا نے موسمیاتی مفروضے پر جو ہاتھ دشمن کے ساتھ کرنا چاہا وہ ہاتھ الٹا ترکی  کے ساتھ ہو گیا۔سرپرائیز اٹیک کے چکر میں جب ترک تھرڈ آرمی عجلت میں مشرقی اناطولیہ کی جانب روانہ کی گئی تو نہ ہی مناسب ہتھیار تھے اور نہ موسم کی سختیاں جھیلنے کے لیے مناسب وردیاں اور جوتے۔ جب یہ تھکی ہاری سپاہ سرکامش کے مقام پر روسیوں کے مقابل آئی تب تک سرد موسم اور ٹائفس ساٹھ ہزار ترک فوجی کھا چکا تھا اور بقیہ سپاہ روسیوں کے لیے بچوں کا کھیل تھی۔( اس مہم کے ٹھیک تیس برس بعد ہٹلر نے بھی روس پر یہی سوچ کے فوج کشی کی جو نپولین اور پھر انور پاشا بھگت چکا تھا )۔

ترکی کے لیے یہ ناقص فوجی مہم جوئی ایک بہت بڑا عسکری صدمہ تھا۔مگر انور پاشا کا کوئی بال بیکا نہ ہوا اور مہم کی ناکامی کا تمام الزام مشرقی اناطولیہ میں آباد آرمینائیوں کی مبینہ غداری پر جڑ دیا گیا۔اپریل انیس سو پندرہ میں ترکی میں آباد غدار آرمینیائی شہریوں سے بدلے کی مہم شروع ہوئی۔مرد یا تو مار دیے گئے یا پھر بیگار کے لیے لیبر بٹالینوں میں بھیج دیے گئے۔بوڑھوں ، عورتوں اور بچوں کو گھروں سے اکھاڑ کے بلادِ شام کی جانب پاپیادہ ہانک دیا گیا۔بہت سے راستے میں ہی مر گئے۔الغرض لگ بھگ ڈیڑھ برس میں آٹھ لاکھ آرمینیائی موت سے ہم کنار اور ایک ملین دربدر ہوئے۔اس ٹریجڈی کے ہدائت کار وزیرِ داخلہ طلعت پاشا نے حکومت کو بری الزمہ قرار دیتے ہوئے کہا ’’روسیوں نے کاکیشیا کے مسلمانوں کو ترکی میں دھکیلا تو ہم نے آرمینیائیوں کو شام میں دھکیل دیا ’’۔

اور عین اس وقت مشرقِ وسطی کے میدانوں سے دور بہت دور ایک بند کمرے میں دو افراد اس یقین کے ساتھ نقشہ بچھا کے اس پے سرخ اور نیلی لکیریں لگا رہے تھے کہ جب سلطنتِ عثمانیہ ختم ہوگی تو ترکہ کیسے اور کنہیں کنہیں بٹے گا۔

 

سو سال سے جاری جنگ ( قسط پنجم )

وسعت اللہ خان  ہفتہ 11 جولائ 2015

پہلی عالمی جنگ نے مرتی ہوئی سلطنتِ عثمانیہ کے پیٹ سے تین قوم پرست تحریکوں کو جنم دیا۔ ترک قوم پرست تحریک کہ جس نے بعد از جنگ نیم مردہ عثمانی سلطنت کا کفن دفن کیا۔ عرب قوم پرست تحریک کہ جو شریف ِ مکہ و مدینہ حسین ابنِ علی کے ہاتھوں جنم ہوئی اور پھر اس تحریک کے بچوں نے آگے چل کے طرح طرح کی نظریاتی شکلیں اختیار کیں اور صیہونی تحریک کہ جسے ارضِ فلسطین میں پلاٹ الاٹ ہوا۔ ترک قوم پرست تحریک کو چھوڑ کے باقی دونوں ( عرب، صیہونی) تحریکوں کے نقشوں میں ابتدائی رنگ سامراجی ڈرائنگ بورڈ پہ بھرے گئے لیکن بعد میں عرب قوم پرست تحریک سامراجی گرفت سے نکل گئی مگر سامراجیوں نے اس تحریک کو صیہونی تحریک کے ذریعے مسلسل یرغمال  کیے رکھا اور آج تک ایسا ہی ہے۔

جیسے ہی سلطنتِ عثمانیہ نے نومبر انیس سو چودہ میں جرمنوں کی حمایت میں جنگ میں شمولیت اختیار کی۔ روس، برطانیہ اور فرانس نے مستقبل میں ہونے والی ممکنہ بندر بانٹ کے دعوے تیار کرنے شروع کر دیے یعنی حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ کا انتظام ہونے لگا۔ مارچ انیس سو پندرہ میں روس نے اعلان کیا کہ وہ فتح کی صورت میں آبنائے استنبول پر قبضہ رکھے گا تاکہ بحیرہِ روم سے بحیرہِ اسود کو ملانے والا یہ تنگ راستہ آیندہ کبھی بھی روس کی اقتصادی و اسٹرٹیجک کمزوری نہ بن سکے۔ فرانس نے روسی دعوی قبول کرتے ہوئے اپنی فرمائش جاری کردی کہ اسے تو بعد از جنگ ترکے میں صرف بلادِ شام اور ترکی کے جنوب مشرقی ساحل سے دلچسپی ہے۔

جب کہ جون انیس سو پندرہ میں برطانیہ نے اعلان کیا کہ وہ تو بس اتنا چاہتا ہے کہ ترکوں پر فتح کے بعد اسے عدن تا سویز پورا بحیرہ احمر اور خلیجِ فارس تا میسو پوٹامیا ( عراق ) اور پھر فلسطین کی پٹی مل جائے تا کہ جب برطانوی ہندوستان سے آدمی یا مال چلے تو وہ براستہ خلیجِ فارس بغداد پہنچے۔ وہاں سے ریل میں بیٹھ کے ( جو ابھی تعمیر ہونی ہے) فلسطین کی بندرگاہ حیفہ تک جائے اور پھر بحیرہ روم کے ذریعے براعظم یورپ عبور کرتا ہوا آرام سے لندن میں اتر جائے اور یوں ہندوستان تا برطانیہ ہفتوں کا سفر دنوں میں طے ہو جائے۔ اور اگر خوش قسمتی سے خلیج یا میسو پوٹامیا  میں کل کلاں تیل نکل آتا ہے تو وہ بھی اسی راستے سے برطانیہ پہنچ جایا کرے اللہ اللہ خیر صلا۔

یہ تھے اصل سامراجی مقاصد کہ جنھیں حاصل کرنے کے لیے انیس سو پندرہ تا سترہ تین علیحدہ علیحدہ خفیہ محاذوں پر ایک ساتھ کام کیا گیا۔ اور تین متضاد سمجھوتے کیے گئے۔ شریفِ مکہ اور دیگر عرب قوم پرستوں سے وعدہ کیا گیا کہ اگر وہ ترک جُوا اپنے کندھے سے اتارنے کے لیے برطانیہ اور فرانس کی مدد کو تیار ہوں تو پھر شام تا یمن کا علاقہ عربوں کا۔ صیہونیوں سے وعدہ کیا گیا کہ اگر وہ دور بیٹھے امریکا کو جنگ میں کدوانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں تو پھر فلسطین میں ایک عدد یہودی ریاست ان کی۔ عربوں اور صیہونیوں کو اپنے اپنے کام پر لگا کر اور روس کا آبنائے استنبول پر دعوی تسلیم کرنے کے بعد تیسری جانب برطانیہ اور فرانس بندر بانٹ کے اصل ڈرائنگ بورڈ پر سر جوڑ  کے بیٹھ گئے۔

انیس سو پندرہ کے وسط میں جب وسطی یورپ کے محاذ پر جنگ تعطل کا شکار ہوگئی تو مشرقِ وسطی کا محاذ گرم کرنے پر توجہ دینے کے لیے اتحادیوں کو وقت مل گیا۔ شریف حسین کے ساتھ مصر میں متعین برطانوی ہائی کمشنر سر ہنری میکموہن مسلسل رابطے میں رہے ( یہ وہی موصوف ہیں جنہوں نے انیسویں صدی کے آخر میں برٹش انڈیا اور تبت کے درمیان سرحدی حد بندی کی جو آج بھی میک موہن لائن کہلاتی ہے )۔

دمشق میں عرب قوم پرستوں کا خفیہ اجلاس ہوا اور ترک گورنر جمال پاشا کی عرب کش پالیسیوں کی مزاحمت کے لیے برطانیہ اور فرانس کی طرف جھکاؤ کو جائز سمجھتے ہوئے شریفِ مکہ حسین ابنِ علی کی قیادت میں بغاوت ِ عام کا فیصلہ ہوا۔ اس اجلاس میں شریف حسین کا بیٹا فیصل بھی شریک تھا۔ اس نے قوم پرستوں کے مطالبات کاغذ پر لکھ کر جوتے کے تلوے میں چھپائے اور طائف روانہ ہو گیا۔ وہاں پر شریف خاندان کے تصورات پر یمن سے شام تک کا عظیم عرب نقشہ چھایا ہوا تھا کہ جس پر خاندانِ شریف کی حکمرانی کا جھنڈا لہرایا جانا تھا۔

چنانچہ پانچ جون انیس سو سولہ کو شریف حسین نے عرب بغاوت کا بگل بجا دیا۔ اس کے بیٹے فیصل کی قیادت میں ترکوں کی سپلائی لائن یعنی حجاز ریلوے جگہ جگہ سے اکھاڑنے کا کام شروع کر دیا گیا۔ تاہم ٹرانس اردن کے بدو قبائل عثمانی سلطنت سے بدستور وفادار رہے اور انھوں نے عرب قوم پرست دستوں کی شدید مزاحمت کی۔ لیکن انیس سو اٹھارہ میں جنگ کا پانسہ پلٹنا شروع ہوا۔ جب برطانوی جنرل ایلن بی یروشلم میں فاتحانہ داخل ہوا تو امیر فیصل کے دستے بھی اس کے شانہ بشانہ تھے۔ اور پھر جب دو اکتوبر انیس سو اٹھارہ کو ترک ولایت شام کے ہیڈ کوارٹر دمشق میں برطانوی فوجیں داخل ہوئیں تب بھی امیر فیصل ہمراہ تھا۔

گیارہ نومبر انیس سو اٹھارہ کو جرمنی اور ترکی نے ہتھیار ڈال دیے اور جنگ بندی ہو گئی۔ انیس سو انیس میں پیرس امن کانفرنس ( منعقدہ ورسائے پیلس ) میں شریف حسین کا بیٹا امیر فیصل اس امید کے ساتھ شریک ہوا کہ نئے نقشے میں فاتح طاقتیں ( برطانیہ ، فرانس ) اس کے سر پر آزاد عرب مملکت کا تاج خوشی خوشی رکھ دیں گی۔ لیکن فیصل کو اس وقت زندگی کا سب سے بڑا صدمہ پہنچا جب یہ اعلان ہوا کہ سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ رہنے والے عرب علاقوں کو فوری آزادی نہیں ملے گی بلکہ انھیں کچھ عرصے کے لیے برطانیہ اور فرانس کی عارضی مینڈیٹ میں رکھا جائے گا تا کہ عربوں کو رموزِ حکمرانی سکھائے جا سکیں۔ جب وہ یہ امتحان پاس کرلیں گے تو پھر انھیں مکمل آزادی مل جائے گی اور استادی شاگردی کے اس انتظام کا نام مینڈیٹ (نظامِ انتداب ) ہو گا۔ اس انتظام کے تحت مصر اور میسو پوٹامیا برطانوی شاگردی میں رہیں گے اور شام و لبنان فرانسیسی شاگردی میں۔ ظاہر ہے کہ یہ سنتے ہی عرب آپے سے باہر ہو گئے۔

مصر جس نے جنگ میں برطانیہ کو سب سے زیادہ افرادی قوت فراہم کی تھی وہاں بغاوت ہو گئی اور برطانیہ بہت مشکل سے دبا سکا۔ امیر فیصل نے اس استادی شاگردی نظام کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے کھلا دھوکا قرار دیا اور دمشق پہنچ کر یکطرفہ بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان کے صرف چار ماہ بعد پیرس امن کانفرنس کی مینڈیٹ سے مسلح فرانسیسی افواج نے فیصل کے مٹھی بھر دستوں کو جنگِ میسلون میں تباہ کر دیا اور فیصل کو دمشق سے بھاگنا پڑا۔ مگر برطانویوں کو فیصل کی جنگی خدمات پر ترس آ گیا اور انھوں نے بطور اشک شوئی اسے جنگ کے بعد ابھرنے والی نئی مملکتِ عراق کی زیرِ انتداب بادشاہی تھما دی اور اس کے بھائی کو ٹرانس جارڈن کا حکمران بنا دیا اور مکہ و مدینہ پر بھی شریف خاندان کی اجارہ داری اگلے کچھ برس برقرار رکھی گئی حتی کہ برطانیہ کو شریفِ مکہ کی جگہ ایک نیا بااعتماد خاندانِ سعود میسر نہ آ گیا جس نے انیس سو چوبیس کے بعد سے شریفوں کو حجاز سے ہی رخصت کر دیا۔

اب ہم ایک بار ٹیپ ذرا سی ری وائنڈ کرتے ہیں۔

جب انیس سو پندرہ میں مصر میں برطانوی ہائی کمشنر سر ہنری میکموہن شریفِ مکہ کو بعد از جنگ عرب بادشاہت کے سبز باغ دکھا رہے تھے عین اسی وقت ہزاروں کلو میٹر پرے برطانوی کاؤنٹی یارک شائر کے ایک محل نما گھر میں برطانیہ اور فرانس کے دو کھڑپینچ نئے مشرقِ وسطی کی بندر بانٹ کے اصل نقشے میں رنگ بھر رہے تھے۔ جب کہ اس سامراجی سودے بازی سے بے خبر عرب جب برطانیہ کے فراہم کردہ اسلحے سے ترکوں کی سپلائی لائن پر جوش و خروش سے حملے کر رہے تھے تو اس وقت برطانیہ اور فرانس بندربانٹ پلان پر دستخط فرما چکے تھے۔

فرانس کی جانب سے سابق سفارتکار اور وکیل جارج پیکو اور برطانیہ کی جانب سے امورِ مشرقِ وسطی کے مشیر سر مارک سائکس نے اس مشرقِ وسطی کی بندر بانٹ کے نقشے میں نیلا اور سرخ رنگ بھرنا شروع کر دیا جو ابھی ان کے قبضے میں آنا تھا۔ ( سرخ رنگ برطانوی قبضے کے لیے اور نیلا فرانسیسی قبضے کے لیے۔ فلسطین پر بھوری پنسل پھیری گئی یعنی اس کی ملکیت طے ہونا باقی تھی )۔ سائکس پیکو سمجھوتہ شریفِ مکہ اور اس کے بیٹے فیصل کی بغاوت کے چار ماہ بعد اکتوبر انیس سو سولہ میں طے پایا اور اس کی حتمی کاپی صرف روس کی شاہی حکومت کو دکھائی گئی۔

یہ سمجھوتہ آخر تک خفیہ ہی رہتا مگر روس میں کیمونسٹ انقلاب آ گیا اور نومبر انیس سو سترہ میں بالشویک حکومت نے روس کو جنگ سے یکطرفہ طور پر نکال لیا۔ کیمونسٹ پارٹی کے ترجمان اخبار پراودا نے مشرقِ وسطی کی بندر بانٹ کا سائکس پیکو معاہدہ من و عن شایع کر دیا۔ لیکن تب تک دیر ہو چکی تھی اور جنگ پر برطانیہ و فرانس کی گرفت مضبوط ہو چکی تھی۔ عرب قوم پرست بھی اس گمان میں رہے کہ پراودا میں جو مسودہ شایع ہوا ہے دراصل عربوں اور جیتنے والی یورپی طاقتوں میں پھوٹ ڈالنے کی کیمونسٹ سازش ہے۔ وہ تو جب پیرس امن کانفرنس میں مشرقِ وسطی آزاد ہونے کے بجائے برطانیہ و فرانس کو مینڈیٹ کی مستاجری کے نام پر الاٹ ہو گیا تب عربوں کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں اور آج تک پھٹی ہیں۔ اس مضمون کی ابتدا میں ایک اور فریق کا بھی تذکرہ ہوا یعنی صیہونیوں سے کیے گئے وعدوں کا۔ اس پر گفتگو ہوگی اگلی قسط میں (داستان جاری ہے )۔

 

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

شیر دل اور بہادر شہید عباس علی

شیر دل اور بہادر شہید عباس علی | parachinarvoice | Scoop.it
..... علی افضل افضال......
13 فروری 2015 کو پشاور شہر کے پوش علاقے حیات آباد کے امامیہ مسجد میں معمول کے مطابق نماز جمعہ ادا کی جارہی تھی کہ اس دوران مسلح دہشت گرد مسجد میں د
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو نسل کشی کا خطرہ

کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو نسل کشی کا خطرہ | parachinarvoice | Scoop.it
پاکستان کی حکومت نے کرم ایجنسی کے عوام کو اسلحہ تسلیم کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ جنگ زدہ علاقے کو ایک اور سنگین چیلنج ہے کیونکہ یہاں کے شیعہ آبادی کو سو سالوں سے تکفیری دیوبندیوں سے نسل کشی کا خطرہ رہا ہے اور کئی ۱۹۲۹، ۱۹۵۴، ۱۹۷۸، ۱۹۹۶اور ۲۰۰۷ میں خطرناک جنگیں لڑی گئی ہیں جس میں ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ مشران قوم سے مذاکرات کریں اور اسلحہ صرف کرم ملیشیا کو اس وقت سرنڈر کریں اور کرم میلیشیا میں مناسب تناسب سے اقوام کی نمائندگی یقینی بنایا جائے۔ کرم ایجنسی کی تاریخ دیگر ایجنسیوں سے مختلف ہے اور اس ایجنسی کی شیعہ آبادی کو اگر غیر مسلح کیا گیا تو شیعہ قتل عام اور نسل کشی کا خطرہ یقینی ہو جائےگا کیونکہ یہاں قبائلی جنگ بھی مذہبی روپ اختیار کر لیتا ہے اور مذہبی لڑائی نسل کشی میں تبدیل ہوتی ہے اور اس طرح کی مثالیں صدہ اور گوبازانہ میں شیعہ کی صورت میں علاقے کی آبادی پہلے ہی بھگت چکی ہے۔ طوری، بنگش اور دیگر قبائل کا حکومت کو اسلحہ مفت میں تھما دینا اپنے بچوں اور عورتوں کو طالبان کے حوالے کرنے کے مترادف ہے، ان غیور اقوام کو دہشتگردوں کے رحم کرم پر چھوڑ کر حکومت خطرناک کھیل، کھیل رہا ہے، کرم ایجنسی کے غیور فرزندوں کو اپنا اسلحہ حکومت کو اس وقت تک نہیں دینا چاہئے جب تک ہماری تحفظ کا مناسب بندوبست نہ ہو، جیسے کرم میلیشیا کو دوبارہ ۱۹۸۷ کی پوزیشن پر بحال کریں یا سارے قبائل سے مناسب ، تناسب سے نئی بھرتی کریں، اور پھر اسلحہ انہی میلیشیا کے حوالے کریں۔
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Parachinar Fata - Photos du journal | Facebook

Parachinar Fata - Photos du journal | Facebook | parachinarvoice | Scoop.it
? #AtizazHussainBangash #PeshawarAttack #CrushTTP #Taliban #PeshawarUnderAttack #PeshawarBleeds #PARACHINAR Proud2bAntiTaliban #TTP #ASWJ are products of...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

#Parachinar Bleeds with #Peshawar #PeshawarAttack 3 martyres Imran Hussain, Ibra...

#Parachinar Bleeds with #Peshawar #PeshawarAttack 3 martyres Imran Hussain, Ibrar Hussain, Nadeem Hussain so far.
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Takfiri terrorists Maj Mast Gul assassinate Allama Nawaz Irfani in Islamabad

Takfiri terrorists Maj Mast Gul assassinate Allama Nawaz Irfani in Islamabad | parachinarvoice | Scoop.it
Top Shia Scholar who was representative of Grand Ayatollah Syed Ali al-Sistani in Pakistan and pro...
Shafiq Ahmed's insight:


علامہ نواز عرفانی کے قتل کی سازش بے نقاب، طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاراچنار کی معروف شخصیت امام جمعہ و جماعت علامہ شیخ نواز عرفانی کے قتل میں کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق خفیہ اداروں کی جانب سے علامہ نواز عرفانی کی شہادت پر مرتب کی جانے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس واقعہ میں کالعدم تحریک طالبان کا میجر مست گل گروپ ملوث ہے۔ رپورٹ کے مطابق نامعلوم مقام پر داعش کے نمائندے زبیر الکویتی اور میجر مست گل گروپ کے اعلیٰ ذمہ داران کے درمیان ایک خصوصی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان میں داعش کی تشکیل، ابوبکر البغدادی کی بیعت اور فاٹا کی سرزمین کو داعش کا مرکز بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔رپورٹ کے مطابق اس میٹنگ میں پاراچنار کی سرزمین پر موجود شیعہ برادری کو داعش کی آمد میں سب سے بڑی رکاوٹ تسلیم کرتے ہوئے حکمت عملی مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ماضی میں شیعیان پاراچنار کی جانب سے طالبان کو ملنے والی پے در پے شکستوں کا بدلہ لینے اور فاٹا میں داعش کی آمد کا آغاز کرم ایجنسی سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ خفیہ ادارے کی رپورٹ کے مطابق میجر مست گل گرو کے سرکردہ افراد پاراچنار کی اہل تشیع برادری کو داعش کی آمد میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے اس لئے ماضی کا بدلہ لینے کی غرض سے پاراچنار کی اہم شخصیت علامہ نواز عرفانی کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ میجر مست گل گروپ کے افراد یہ بات بھی جانتے تھے کہ پاراچنار میں سادات اور غیر سادات کے فرق نے شیعوں کو تقسیم کیا ہوا ہے، اس ہی لئے پاراچنار کی مجاہد شخصیت علامہ نواز عرفانی جوکہ خود غیر سید تھے کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ان کو قتل کرنے کا ہدف یہ تھا کہ پاراچنار میں شیعہ آپس میں دست و گریباں ہوجائیں اور شیعوں کی اس تقسیم کا فائدہ اٹھا کر پاراچنار پر مکمل چڑھائی کردی جائے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو پاراچنار کی تسخیر کے بعد پورے فاٹا میں داعش کی عملداری کو آسانی کے ساتھ یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اس ہی پلان کے تحت پاراچنار سے جلا وطن کئے جانے والے علامہ شیخ نواز عرفانی کو اسلام آباد میں شہید کیا گیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ مخالف گروپ کی کاروائی ہے، تاہم علامہ نواز عرفانی کی شہادت کے بعد پورے ملک میں شیعہ تنظیموں کے احتجاج نے کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کی کوششوں پر پانی پھیر دیا اور علامہ نواز عرفانی کی شہادت کو ملت جعفریہ کاعظیم نقصان قرار دیا ۔ بعدازاں ملکی سلامتی کے خفیہ اداروں کی رپورٹ نے بھی اس کی حقیقت بیان کردی اور کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کی اس سازش کو بے نقاب کردیا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاراچنار کے شیعہ اس سازش کو بھانپتے ہوئے اپنے اتحاد کو مزید مضبوط کریں تاکہ کالعدم تحریک طالبان کی امیدوں پر پانی پھیرا جاسکے اور امام حسین (ع) ہم سے راضی ہوسکیں

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

زیاراتِ مقدسہ (سامراء،عراق) کی دفاع کرتے ہوئے پاراچنار سے تعلق رکھنے والے سید زاہد حسین، سید مقبول حسین فخری اورسید نقی کاظمی جامِ شہي

"ســــلام بَر شُہـــــــداء"

زیاراتِ مقدسہ (سامراء،عراق) کی دفاع کرتے ہوئے پاراچنار سے تعلق رکھنے والے سید زاہد حسین، سید مقبول حسین فخری اورسید نقی...
Shafiq Ahmed's insight:

ر نوش کرنے کے بعد اُنکے جنازے ایران کے شہرِ مقدس (قم) میں نہائیت عقیدت اور احترام کے ساتھ دفنائے گئے۔ 

رسمِ تدفین میں کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ 

more...
No comment yet.
Rescooped by Shafiq Ahmed from NewsOnline
Scoop.it!

Blast in Shia Mosque in Saudi Arabia, AlAhsa "Ali Raza Mosque" Kills Three

Blast in Shia Mosque in Saudi Arabia, AlAhsa "Ali Raza Mosque" Kills Three | parachinarvoice | Scoop.it
DUBAI: An attack on a mosque in al-Ahsa ineastSaudi Arabia killed three people on Friday, Saudi-owned al-Arabiya television reported. An...

Via omermirza
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

پاکستانی طالبان بمقابلہ افغانی طالبان! اور پاکستانی داعشور، صحافی

پاکستانی طالبان بمقابلہ افغانی طالبان! اور پاکستانی داعشور، صحافی | parachinarvoice | Scoop.it

پاکستانی طالبان بمقابلہ افغانی طالبان!
آرمی پبلک سکول پشاور بمقابلہ باچا خان یونیورسٹی چارسدہ
باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے ذمے داری ملا عمر منصور والے طالبان گروپ نے قبول کی ہے، جبکہ ملا فضل اللہ گروپ کے خراسانی نے کہا ہے کہ اس حملے سے انکا کوئی تعلق نہیں۔ سلیم صافی نے جیو نیوز پر عائشہ بخش کے پروگرام میں کہا! مزید لنک

http://www.dawnnews.tv/news/1032319/
یاد رہے آرمی پبلک سکول پر حملہ پاکستانی طالبان نے 16 دسمبر 2015 کو کیا تھا جس میں بچوں سمیت 140 افراد شہید ہوئے تھے۔
اور آج 20 جنوری 2016 کو افغانی طالبان نے باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر حملہ کرکے طالبعلموں سمیت بیس افراد کو شہید کیا گیا۔
کوئی سلیم صافی کو بتائیں کہ آرمی پبلک سکول پر حملہ پاکستانی طالبان ملا فضل اللہ نے کیا تھا اور باچا خان یونیورسٹی پر حملہ افغانستان کے طالبان ملا اختر منصور گروپ نے قبول کی ہے تو پاکستانی اور افغانی طالبان میں فرق کیا ہے؟
ہم تو روز اوّل سے بتا رہے ہیں کہ افغانی طالبان یا پاکستانی طالبان میں کوئی فرق نہیں لیکن آپ جیسے نام نہاد سینئیر صحافی ہو یا اوریا مقبول یا وزیراعظم کے مشیر اعظم عرفان صدیقی جیسے دانشور (داعشور) پوری قوم کو گمراہ کرتے رہے اور افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کے بیانیہ کے مؤجد ہیں
اب اوریا مقبول ہوں یا انصار عباسی، جاوید چوہدری ، خود سلیم صافی ہو یا حامد میر جو افغانستان طالبان کے شیدائی ہیں اور ملا عمر کو امیرالمؤمنین کہتے رہے ان سب کیخلاف ضرب غضب شروع کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔
حکومت کو چاہئیے کہ مندرجہ بالا افراد کے پچھلے پانچ سال کے کالم اور ٹی وی پروگراموں کا تجزیہ کریں اور افغانی طالبان کے حق میں دلائل دینے والوں سے حساب لیا جائے۔
باچا خان یونیورسٹی کے پروفیسر اور طالبعلموں کا خون ان سب کے ہاتھ پر صاف دیکھا جا سکتا ہے جو افغانی طالبان اور ملا عمر کے شیدائی تھے۔
شام اور عراق کا داعش، دنیا بھر میں پھیلی القاعدہ، نائجیریا کے بوکو حرام، صومالیہ کے الشباب سمیت پاکستانی طالبان سپاہ صحابہ، اہل سنت والجماعت ، لشکر جھنگوی اور افغانی طالبان تکفیری وہابی، تکفیری سلفی، اور تکفیری دیوبندی ہیں، اور ان میں کوئی فرق نہیں، سب خونخوار وحشی درندے ہیں، انکی تعریف کے لیئے مجھے الفاظ نہیں مل رہے۔

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

پشاور میں شیعہ مسلمانوں کے ساتھ صوبائی حکومت کا سوتیلی ماں جیسا سلوک، وزیراعلی پرویز خٹک کی ہٹ دھرمی

پشاور میں شیعہ مسلمانوں کے ساتھ صوبائی حکومت کا سوتیلی ماں جیسا سلوک، وزیراعلی پرویز خٹک کی ہٹ دھرمی | parachinarvoice | Scoop.it

پشاور میں شیعہ مسلمانوں کے ساتھ صوبائی حکومت کا سوتیلی ماں جیسا سلوک۔۔۔۔

تیرہ فروری دوہزار پندرہ کو حیات آباد پشاور میں واقع شیعہ مسلمانوں کی مسجد ،امامیہ مسجد پر یکے بعد تین خود کش حملے ہوئے جس میں دو درجن سے زائد افراد شہید اور پانچ درجن سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔۔ حملے کے بعد صوبائی حکومت نے امامیہ مسجد انتظامیہ کیساتھ کئی مطالبات پر اتفاق کیا اور وعدہ کیا کہ تما م تر مطالبات بہت جلد پورے کئے جائینگے لیکن آج تک وہ مطالبات پورے نہیں کئے گئے بلکہ ستم ظریفی تو یہ ہے۔ کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا جناب پرویز خٹک کو ملاقات کے لئے کئی بار درخواستیں لکھے لیکن وزیر اعلی صاحب کے پاس امامیہ مسجد انتظامیہ کے ساتھ ملاقات کے لئے ٹائم ہی نہیں۔ امامیہ مسجد پر حملےکو ایک سال پورا ہونے کو ہے۔ لیکن صوبائی حکومت ہر وعدے سے تقریبا پیچھے ہٹ چکی ہے۔

میں عوامی نیشنل پارٹی کا اس لئے حامی ہو۔ کہ اگر وہ وعدہ پورا نہیں کرسکتے ملاقات تو کر لیتے ہیں۔ لیکن پروٹوکول اور کرپشن ختم کرنے کے نام پر ووٹ حاصل کرنے والے عوام سے ملاقات کے لئے بھی ٹائم نہیں دیتے جو کہ صوبائی حکومت کی منہ پر طمانچے کے مترادف ہے۔

ہم صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کے سربراہ سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں۔ کہ وہ امامیہ مسجد حیات آباد انتظامیہ کے ساتھ کئے گئے وعدے پورا کریں۔ ایسا نہ ہو کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے کوئی دوسرا واقع رونما ہوجائے۔

ہم اُمید کرتے ہیں۔ کہ صوبائی حکومت اور عمران خان صاحب اس نازک معاملے کو توجہ دیں گے
اور شیعہ مسلمانوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک نہیں کرینگے۔۔۔

تفرقہ بازی مٹاؤ۔۔۔۔ انسانیت اور امن پھیلاؤ

بخدا۔۔۔۔ مزہ تفرقہ بازی اورایک دوسرے کے خلاف فتوے دینے میں نہیں جتنا کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر جینے میں ہے۔ آئیں ایک دوسرے کے ساتھ نیک سلوک کریں نہ کہ مذہب اور فرقے کے نام پر شجرکاری کریں۔۔۔۔

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

At least 25 dead in clothes market blast in Parachinar Northwest Pakistan

At least 25 dead in clothes market blast in Parachinar Northwest Pakistan

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

16 Dead in Bomb Blast at Parachinar Market, Pakistan

At least 25 people have been killed and more than 30 wounded in a blast at used clothes market in Parachinar on Sunday. As per details, the explosion occurre...

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

"A thousand 9/11s" Who was Behind the 9/1 By Nafeez Ahmed "PhD i

"A thousand 9/11s"  Who was Behind the 9/1 By Nafeez Ahmed "PhD i | parachinarvoice | Scoop.it
The 9/11 attack was just the beginning of the bloodletting and the wanton abuse of law to extend unaccountable state authority
Shafiq Ahmed's insight:

Who was Behind the 9/11
By Nafeez Ahmed "PhD is an investigative journalist".
Yet the US knew Prince Bandar was linked to the 9/11 attacks, according to press leaks on the notoriously classified 28 pages from the 2002 report of the Congressional inquiry.

In his book, Intelligence Matters (2004), inquiry co-chair Senator Bob Graham discusses a top secret CIA memo about two 9/11 hijackers, Khalid Almihdhar and Nawaf Alhazmi, which found “incontrovertible evidence that there is support for these terrorists within the Saudi government”.

Almidhar and Alhazmi were "handled" in the US by several Saudi nationals with close ties to Saudi government officials, who received tens of thousands of dollars in cashier’s cheques in total – about $3,500 a month – from Prince Bandar and his wife, Princess Haifa bint Faisal. Princess Haifa later claimed the money was charity, although Senator Graham and the CIA clearly believed otherwise.

The Obama administration, which has scorned the 9/11 families’ demands to declassify the 28 pages, tapped Prince Bandar yet again in relation to the 2011 bin Laden raid. The US had called him in months before the raid to help negotiate the strategic agreement with Pakistan that led to the Abbottabad operation.

The CIA and bin Laden

The ongoing Saudi relationship with al-Qaeda is masterfully documented in The Eleventh Day (2012), a book by Vanity Fair journalists Anthony Summers and Robbyn Swan.

As early as 1995, they reported, the Saudi royal family paid “protection money” to bin Laden on condition that he avoided targeting the Kingdom. The deal was brokered by then intelligence chief Prince Turki al-Faisal.

According to the French daily Le Figaro, French intelligence sources revealed that two months before 9/11 under Prince Turki’s patronage, bin Laden was flown to the American hospital in Dubai for kidney treatment, where the al-Qaeda chief met CIA officials.

Although denied by Washington, Summers and Swan found intriguing corroboration for the story from credible sources who “described the visit independently, in detail, and at the same time”.

They also interviewed Alain Chouet, a DGSE intelligence chief at the time of the alleged meeting:

"Did Chouet credit the account of the contact in Dubai? He replied, ‘Yes.’ Did the DGSE have knowledge at the time that CIA officers met with bin Laden? ‘Yes,’ Chouet said. ‘Before 9/11,’ Chouet observed. ‘It was not a scoop for us – we weren’t surprised.'"
- See more at http://www.middleeasteye.net/columns/thousand-911s-1602359316

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Our violent past - Pakistan Today

Our violent past - Pakistan Today | parachinarvoice | Scoop.it
Our violent past Pakistan Today Shias belonging to the Hazara community, including women and children, began to be targeted and killed in the Quetta area and also in the northern areas such as Gilgit-Baltistan, Chelas and Parachinar in addition to...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

قومی اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ نفرتوں اور ایک دوسرے کیخلاف شرنگریزیوں سے باز رہیں شفیق احمد

قومی اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ نفرتوں اور ایک دوسرے کیخلاف شرنگریزیوں سے باز رہیں  شفیق احمد | parachinarvoice | Scoop.it
قومی اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ نفرتوں اور ایک دوسرے کیخلاف شرنگریزیوں سے باز رہیں شفیق احمد پاراچنار: ہمارے تین ہزار شہداء کا خون شاہد ہے کہ ہمیں دشمن نے کھبی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ہمیشہ ہمارے بعض نام نہاد اور بعض ناداں دوست ہمیں بڑی آسانی سے نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔ قومی اتحاد وقت کی ضرورت ہے اور نفرتوں اور ایک دوسرے کیخلاف شرنگریزیوں سے باز رہیں۔ ہمیں اس وقت سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ حکومت سے مذاکرات کے ذریعے اسلحہ تسلیم کرنے کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے اگر ہم آپس میں متحد رہیں اور ایک طبقے کو دیوار سے لگانے کی کوشش نہ کریں۔ میرے دوست سمجھ گئے ہونگے اور میں اسے زیادہ نہیں بتا سکتا۔ میرے خیال میں اور حالات کا مشاہدہ کرنے کے بعد اور کچھ معلومات کی بنیاد پر میں یہ بتا سکتا ہوں کہ پاراچنار کرم ایجنسی میں ایک طبقے کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ آپریشن بھی انہی لوگوں کے خلاف ہوگا جو آپس کے جھگڑوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ تو شرپسند عناصر اس خود بھی ذلیل و خوار اور شرمندہ ہونگے اور ہمیں بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچائینگے۔
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Ahmed Turi sur Twitter

Ahmed Turi sur Twitter | parachinarvoice | Scoop.it
@TahirImran @BBCUrdu 3 students 4m #Parachinar, Ibrar Hussain, Nadeem Hussain & Imran Ali Martyres of #PeshawarAttack pic.twitter.com/MdVi26XPc2
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Shia News on Twitter

Shia News on Twitter | parachinarvoice | Scoop.it
3 Students From #Parachinar also embraced martyrdom along with other 130 children in #TalibanAttacksSchool #Peshawar pic.twitter.com/azk1GuJ2pA
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

I wish R.I.P meant "Return If Possible"
in the memory of Dr Maisam Turi . http:/...

I wish R.I.P meant "Return If Possible" in the memory of Dr Maisam Turi .
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

علامہ نواز عرفانی کے قتل کی سازش بے نقاب، طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا

علامہ نواز عرفانی کے قتل کی سازش بے نقاب، طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاراچنار کی معروف شخصیت امام جمعہ و جماعت علامہ شیخ نواز عرفانی کے قتل میں کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق خفیہ اداروں کی جانب سے علامہ نواز عرفانی کی شہادت پر مرتب کی جانے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس واقعہ میں کالعدم تحریک طالبان کا میجر مست گل گروپ ملوث ہے۔ رپورٹ کے مطابق نامعلوم مقام پر داعش کے نمائندے زبیر الکویتی اور میجر مست گل گروپ کے اعلیٰ ذمہ داران کے درمیان ایک خصوصی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان میں داعش کی تشکیل، ابوبکر البغدادی کی بیعت اور فاٹا کی سرزمین کو داعش کا مرکز بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔رپورٹ کے مطابق اس میٹنگ میں پاراچنار کی سرزمین پر موجود شیعہ برادری کو داعش کی آمد میں سب سے بڑی رکاوٹ تسلیم کرتے ہوئے حکمت عملی مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ماضی میں شیعیان پاراچنار کی جانب سے طالبان کو ملنے والی پے در پے شکستوں کا بدلہ لینے اور فاٹا میں داعش کی آمد کا آغاز کرم ایجنسی سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ خفیہ ادارے کی رپورٹ کے مطابق میجر مست گل گرو کے سرکردہ افراد پاراچنار کی اہل تشیع برادری کو داعش کی آمد میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے اس لئے ماضی کا بدلہ لینے کی غرض سے پاراچنار کی اہم شخصیت علامہ نواز عرفانی کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ میجر مست گل گروپ کے افراد یہ بات بھی جانتے تھے کہ پاراچنار میں سادات اور غیر سادات کے فرق نے شیعوں کو تقسیم کیا ہوا ہے، اس ہی لئے پاراچنار کی مجاہد شخصیت علامہ نواز عرفانی جوکہ خود غیر سید تھے کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ان کو قتل کرنے کا ہدف یہ تھا کہ پاراچنار میں شیعہ آپس میں دست و گریباں ہوجائیں اور شیعوں کی اس تقسیم کا فائدہ اٹھا کر پاراچنار پر مکمل چڑھائی کردی جائے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو پاراچنار کی تسخیر کے بعد پورے فاٹا میں داعش کی عملداری کو آسانی کے ساتھ یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اس ہی پلان کے تحت پاراچنار سے جلا وطن کئے جانے والے علامہ شیخ نواز عرفانی کو اسلام آباد میں شہید کیا گیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ مخالف گروپ کی کاروائی ہے، تاہم علامہ نواز عرفانی کی شہادت کے بعد پورے ملک میں شیعہ تنظیموں کے احتجاج نے کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کی کوششوں پر پانی پھیر دیا اور علامہ نواز عرفانی کی شہادت کو ملت جعفریہ کاعظیم نقصان قرار دیا ۔ بعدازاں ملکی سلامتی کے خفیہ اداروں کی رپورٹ نے بھی اس کی حقیقت بیان کردی اور کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کی اس سازش کو بے نقاب کردیا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاراچنار کے شیعہ اس سازش کو بھانپتے ہوئے اپنے اتحاد کو مزید مضبوط کریں تاکہ کالعدم تحریک طالبان کی امیدوں پر پانی پھیرا جاسکے اور امام حسین (ع) ہم سے راضی ہوسکیں۔

more...
No comment yet.