parachinarvoice
Follow
Find
42.2K views | +6 today
 
Scooped by Shafiq Ahmed
onto parachinarvoice
Scoop.it!

Mukhtar Ali Shedi | Punjabi, Saraiki, Urdu High Quality MP3 Nohay | ShianeAli.com

Mukhtar Ali Shedi | Punjabi, Saraiki, Urdu High Quality MP3 Nohay | ShianeAli.com | parachinarvoice | Scoop.it

Mukhtar Ali Sheedi

Anjuman Sipah-e-Ali Akbar (A.S)

Khair Pur Miras, Sindh

اردو , پنجابی, سرائيکی, نوحہ دوہڑے

more...
No comment yet.
parachinarvoice
parachinar kurram agency
Curated by Shafiq Ahmed
Your new post is loading...
Your new post is loading...
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

In case you missed Wasat Ullah Khan columns on "Saw Bars Se Jari Jang" سو برس سے جاری جنگ

In case you missed Wasat Ullah Khan columns on "Saw Bars Se Jari Jang" سو برس سے جاری جنگ | parachinarvoice | Scoop.it

In case you missed Wasat Ullah Khan columns on "Saw Bars Se Jari Jang"

سو برس سے جاری جنگ 

you can read it here all ten columns.

Shafiq Ahmed's insight:

In case you missed Wasat Ullah Khan columns on "Saw Bars Se Jari Jang"

سو برس سے جاری جنگ 

you can read it here all ten columns.

 

سو برس سے جاری جنگ ( قسط اول )

وسعت اللہ خان  ہفتہ 27 جون 2015

انگلستان کی عظمت و حرمت کے تحفظ کے نام پر ایک پوری جوان نسل کو بے وقوف جنرلوں کے احمق منصوبوں کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔جو بچ گئے وہ یہ جان کر صدمے اور مایوسی میں دھنستے چلے گئے کہ ان کے اصل دشمن جرمن نہیں بلکہ وہ بڈھے تھے جنھوں نے ان سے جھوٹ بول کے اس جنگ میں جھونکا۔چنانچہ ایک پوری نسل کا اپنی سماجی اقدار پر سے اعتبار اٹھ گیا اور انھوں نے ماضی کے ورثے سے لاتعلق ہو کے ایک نیا راستہ چن لیا۔( برطانوی مورخ سیموئیل ہینز) ‘‘۔

اگر میں کہوں کہ آج ہم جس متشدد سرطان میں مبتلا ہیں اس کی جڑیں پہلی عالمی جنگ میں ہیں تو آپ مان لیں گے ؟ انیس سو چودہ سے اٹھارہ تک کے چار برس نے اس کرہِ ارض کو ایسا تلپٹ کیا کہ سو برس بعد بھی اس کے اثرات بھگتے جا رہے ہیں۔کہا تو یہ گیا تھا کہ یہ جنگ تہذیب ِ انسانی کے تحفظ اور مستقبل کی سب جنگوں کے خاتمے کا سبب بنے گی لیکن یہ فریب تیزاب کا ایسا مرتبان نکلا جس کے ٹوٹنے سے تباہی در تباہی بہتی چلی گئی۔سو برس پہلے شروع ہونے والی یہ جنگ جانے کب تک جاری رہے۔

پہلی جنگِ عظیم سات ہزار سالہ معلوم انسانی تہذیب کا پہلا وحشیانہ عالمی تصادم تھا۔اس میں ایک کروڑ عام شہری اور نوے لاکھ فوجی مارے گئے۔دو کروڑ سے زائد انسان زخمی اور معذور ہوئے۔یہ جنگ جسے یورپی نوآبادیاتی طاقتوں کی ہوسِ برتری نے شروع کیا سوائے براعظم امریکا ہر خطے میں لڑی اور لڑوائی گئی۔یہ جنگ یورپی سامراجیوں کی کمان میں افریقی و ایشیائی غلاموںنے لڑی اور آج بھی ان ھی غلاموں کی کمر پے بیٹھ کے لڑی جارہی ہے۔

جنگِ عظیم اول نے ہمیں پہلے آہنی فوجی ہیلمٹ ، پہلے ٹینک ، پہلے جنگی طیارے ، پہلی آبدوز ، پہلے طیارہ بردار بحری جہاز ، انسان کش زہریلی گیس کے پہلے جنگی استعمال ، پہلے گیس ماسک ، پہلی فوجی عورت ، پہلی جنگی خندق ، پہلے بلڈ بینک اور پہلی ایکسرے مشین سے روشناس کرایا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پہلی بار اس عظیم جنگ کے آخری سال ( انیس سو سترہ – اٹھارہ ) میں کود کر امریکا کے منہ کو دنیا پر حکمرانی کا خونی چسکا لگا۔

یہ جنگ کئی سلطنتیں کھا گئی اور ہلا گئی۔زار کی عظیم الشان پانچ سو سالہ بادشاہت، آسٹرو ہنگیرین ایمپائر، جرمن ایمپائر اور عالی مرتبت سلطنتِ عثمانیہ نقشے سے مٹ گئی۔ برطانیہ عظمیٰ کے آفتابِ عروج پر زوال کی جھریاں پڑنے لگیں کہ جس کی کرنوں سے نصف کرہِ ارض منور تھا۔فرانس کی نصف آبادی نہ صرف ہر طرح سے کھکھل ہو گئی بلکہ سطوتِ آقائیت کی رسی بھی جل گئی البتہ بل پوری طرح دوسری عالمی جنگ نے نکالا۔

پہلی عالمگیر جنگ عالمگیر جھوٹ پے لڑی گئی۔عربوں سے دل فریب وعدے کرکے ان کے ہاتھوں سلطنتِ عثمانیہ پر آخری کاری وار کروایا گیا۔اس کا اجر بس یہ ملا کہ عربوں کی گردن میں پڑا طوقِ عثمانی طوقِ فرانسیسی و برطانوی سے بدل گیا  اور پھر ان کی پیٹھ میں صیہونی خنجر گھونپ کے آپس میں چھیچا لیدر کروا دی گئی۔افریقی نوآبادیوں اور ہندوستان  کو یہ پٹی پڑھائی گئی کہ ہمارا ساتھ دو اور بدلے میں خود مختاری لو۔لیکن جنگ کے بعد ان افریقیوں اور ہندوستانیوں کی مشکیں پہلے سے زیادہ کس دی گئیں۔

اس جنگ میں اپنے ہی سپاہیوں سے جھوٹ بولا گیا۔ بتایا کچھ کروایا کچھ۔اور جب ان سپاہیوں نے اپنے ہی خون سے لکھا وچن نبھا دیا تو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکا گیا۔

پہلی عالمی جنگ نہ ایک عام مغربی کے فائدے میں لڑی گئی، نہ ہی یہ کسی عام مشرقی کے کام کی تھی۔یہ جنگ کسی منصفانہ نظریے ، ٹھوس ملکیتی جواز یا اپنے دفاع کے لیے نہیں تھی بلکہ یورپ کے شاہوں نے تہذیب کے سینے پر سامراجی بندر بانٹ کی بساط بچھا کے کروڑوں انسانوں کو مہرہ بنا کے خونی جوا کھیلا اور پھر ہاتھ جھاڑ کے پرے ہوگئے۔

ایک تاجک کہاوت ہے کہ جہنم کا وزنی دروازہ کھولنے کے لیے ایک چھنگلی ہی بہت ہے۔

ہوا یوں کہ آسٹرو ہنگیرین سلطنت کے ولی عہد فرانز فرڈیننڈ کو کسی سرپھرے نے بوسنیا کے شہر سرائیوو میں قتل کردیا۔آسٹرو ہنگیرین بادشاہ نے سربیا پر اس قتل کا الزام لگا کے بدلہ لینے کا عہد کیا۔زارِ روس نے آسٹرو ہنگیرین سلطنت کو خبردار کیا کہ سربیا میرا اتحادی ہے۔اگر اس پر حملہ ہوا تو میں بھی کود پڑوں گا۔

جرمن بادشاہ ولیلہم نے آسٹرو ہنگیرین بادشاہ کو یقین دلایا کہ کسی بھی فوجی کاروائی کی صورت میں ہم تمہارا ساتھ دیں گے اور جرمنی کے صنعتی و فوجی حریف برطانیہ اور فرانس نے روس کو یقین دلایا کہ اگر سربیا کو بچانے کے لیے تمہاری آسٹرو ہنگیرین اور جرمن سلطنت سے مڈ بھیڑ ہوئی تو ہم تمہاری حمایت میں اعلانِ جنگ کردیں گے۔ترکی کی سلطنتِ عثمانیہ نے جرمن سلطنت کو یقین دلایا کہ جنگ کی صورت میں ہم روس ، برطانیہ اور فرانس کے مقابلے میں حاضر ہیں۔

چنانچہ اٹھائیس جولائی انیس سو چودہ کو آسٹرو ہنگیرین دستوں نے سربیا پر چڑھائی کردی۔سربیا کی حمایت میں روس کودا۔روس کی حمایت میں تین ہفتے بعد فرانس ، برطانیہ اور اٹلی کودے اور ان تینوں کی حمایت میں جاپان کود گیا۔ دوسری جانب آسٹرو ہنگیرین سلطنت کی مدد کے لیے پہلے جرمنی آیا پھر ترکی بھی آ گیا۔

بھیڑیوں کی اس لڑائی میں عرب نژاد عثمانی سپاہی عبداللہ اور چکوال کا ہندوستانی نژاد برطانوی سپاہی عنائیت خان اپنی زمین سے ہزاروں میل پرے یورپ کے اجنبی برفیلی میدانوں اور گرم افریقی بیابانوں میں اپنے اپنے آقاؤں کی نمک خواری میں ایک دوسرے پر چار برس بندوقیں تانے یہی سوچتے رہے کہ وہ کس کے لیے اور کیوں لڑوائے جا رہے ہیں۔

یہ جنگ کھلے میدان اور بند کمروں میں لڑی گئی۔باہر جرنیل ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے پیادے بھڑا رہے  تھے تو بند کمروں میں سامراجی سیاستداں بینکاروں کی مدد سے ممکنہ نوآبادیاتی مالِ غنیمت کی بندر بانٹ کے نقشے پر لکیریں کھینچ رہے تھے۔

اگلے چند کالموں میں کوشش ہوگی کہ ہم سب کا مستقبل بالعموم اور مشرقِ وسطی ، شمالی افریقہ اور ہندوستان کا مستقبل بالخصوص پہلی عالمی جنگ کے خونی قلم سے کس کس نے کیسے کیسے لکھا کہ آج سو برس بعد بھی لہو رس رہا ہے۔مقصد نہ کسی کو کو سنا نہ خود کو مظلوم ثابت کرنا ہے۔بلکہ اس حقیقت تک پہنچنا ہے جس نے ہمیں وہاں پہنچا دیا جہاں کوئی بھی جانا نہیں چاہ رہا تھا۔

نہ کوئی گلہ ہے مجھ کو نہ کوئی شکایت ہے

آج ہوں میں جو کچھ بھی یہ آپ کی عنایت ہے

 

سو برس سے جاری جنگ (قسط دوم)

وسعت اللہ خان  منگل 30 جون 2015

اب سے ایک سو ایک برس پہلے اٹھارہ جولائی انیس سو چودہ کو پہلی جنگِ عظیم کا بگل بجا تو اس روز عالمی جغرافیہ کچھ یوں تھاکہ ہندوستان سے آبنائے ملاکا تک کا علاقہ سلطنتِ برطانیہ کا مقبوضہ تھا۔شام تا یمن کا مشرقِ وسطیٰ سلطنتِ عثمانیہ کا مقبوضہ تھا اور شمالی افریقہ برطانیہ ، فرانس ، اٹلی اور اسپین نے عثمانیوں سے چھین کے بانٹ رکھا تھا۔اس نوآبادیاتی جغرافیے کا سب سے محکوم کردار عام مسلمان تھا۔لہذا کسی بھی دو طرفہ جھگڑے میں اس کے ساتھ بندر کی بلا طویلے کے سر والا معاملہ ناگزیر تھا۔بقول ضمیر جعفری

آقا جو لڑکھڑایا تو نوکر پھسل گیا

نومبر انیس سو چودہ کے دوسرے ہفتے میں سلطنتِ عثمانیہ کے مفتیِ اعظم نے استنبول کی الفتح مسجد کے منبر سے فتویٰ جاری کیا کہ تمام مسلمانوں پر ملعون برطانیہ ، فرانس ، روس اور ان کے دیگر ساجھے داروں کے خلاف جہاد فرض ہوگیا ہے۔ مشکل بس یہ تھی کہ جتنے مسلمان سلطنتِ عثمانیہ میں بستے تھے لگ بھگ اتنے ہی ملعونوں کے مقبوضات میں بھی رہ رہے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں جانب کے مقبوضہ مسلمان سامراجی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان آ گئے۔

برطانیہ نے اپنے زیرِ نگیں مصر سے مختلف جنگی خدمات کے لیے ایک ملین افراد بھرتی کیے۔فرانس نے اپنی نوآبادی الجزائر سے ایک لاکھ ستر ہزار ، تیونس سے اسی ہزار اور مراکش سے پینتالیس ہزار مقامی افراد جبری بھرتی کرکے یورپی محاذ پر روانہ کیے۔جنگ کے خاتمے پر ان میں سے پچیس فیصد سپاہی گھر واپس نہیں لوٹے۔ تیونس کے مورخ خلیل شریف کے مطابق فرانسیسیوں نے نوآبادیاتی سپاہیوں کو اگلے مورچوں پر اور گورے سپاہیوں کو زیادہ تر خندقوں کی جنگ میں استعمال کیا۔اس لیے غلام فوجی زیادہ مرے۔

نوآبادیاتی سپاہی جبراً لڑ رہے تھے، اس لیے فرانسیسی جرنیل ان سپاہیوں کے ڈسپلن کے بارے میں اکثر فکرمند رہتے۔جرمن مسلسل پروپیگنڈہ کر رہے تھے کہ مفتی اعظم کے فتویٰ کے بعد کسی بھی مسلمان کا سلطنت عثمانیہ اور اس کے اتحادیوں (جرمنی وغیرہ) سے لڑنا حرام ہے۔چنانچہ فتوے کے دو ہفتے بعد تیس نومبر انیس سو چودہ کو تیونس کے فوجی قلعے بیضرت میں بغاوت ہوگئی اور مقامی رنگروٹوں نے مارسیلز (فرانسیسی بندرگاہ) جانے والے جہاز میں سوار ہونے سے انکار کردیا۔ اس خبر کو الجزائر اور مراکش کے مقبوضات تک پھیلنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی اور مورخ فیصل شریف کے مطابق سو سے ڈیڑھ سو کے درمیان تیونسی باغیوں کو فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کردیا گیا۔

محاذِ جنگ پر بھی نوآبادیاتی فوجیوں میں ڈسپلن قائم رکھنے کے لیے فرانسیسی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ہر دس میں سے ایک کو نشانِ عبرت بنانے کی قدیم رومن فوجی روایت کو شمالی افریقی رنگروٹوں پر لاگو کیا۔پندرہ دسمبر انیس سو چودہ کو ’’ رجمنٹ دو مکس الجئیرز ’’کی دسویں بٹالین کے بیس الجزائری و تیونسی سپاہیوں نے جرمن پوزیشنوں کی طرف پیش قدمی سے ہچکچاہٹ دکھائی تو جنرل لا کورے نے انھیں نہتا کرکے دشمن مورچوں کی طرف بڑھنے کا حکم دیا اور اگر اس دوران دشمن سے بچ نکلیں تو ان ھی کے کامریڈ انھیں گولی سے اڑا دیں۔ فرانسیسی محقق گلبرٹ مینئر کے مطابق انیس سو پندرہ تک مختلف محاذوں پر ایسی سرسری سزائیں دینے کے تحریری احکامات جنگی ریکارڈ میں موجود ہیں مگر بعد میں ایسے احکامات زبانی جاری ہونے لگے۔

فرانسیسیوں کی جبری بھرتی مہم کے خلاف انیس سو پندرہ، سولہ میں لیبیا کی سرحد کے قریب تیونسی قصبے کبیر میں دو بغاوتیں ہوئیں جو جنگ کے بعد بھی گوریلا مزاحمت کی شکل میں جاری رہیں۔ انھیں دبانے کی کوشش میں سیکڑوں فرانسیسی فوجی ہلاک ہوئے۔ان بغاوتوں کے سرغنہ خلیفہ بن عسکر اور محمد دغباچی تھے۔ دغباچی کو انیس سو چوبیس میں پکڑ کے پھانسی دیدی گئی مگر اس کا نام لوک گیتوں کا حصہ بن گیا۔ایسی بغاوتیں عثمانی مقبوضات میں بھی ہوئیں مگر یہاں وہاں اکا دکا بغاوتوں سے قطع نظر اکثریت کے لیے فوجی بھرتی سے انکار دونوں جانب ممکن نہ تھا۔

اپریل دو ہزار پندرہ میں پہلی بار جرمنوں نے بلجئیم میں فلانڈرز کے محاذ پر کلورین گیس کے پانچ ہزار کنستر استعمال کیے۔لگ بھگ چھ ہزار فوری ہلاکتیں ہوئیں اور سیکڑوں زخمی بینائی کھو بیٹھے۔ فرانس کا پینتالیسواں اور ستاسی واں ٹیریٹوریل ڈویژن اولین کیمیاوی حملے کی زد میں آیا۔دونوں ڈویژنوں میں شمالی افریقی رنگروٹوں کی اکثریت تھی۔برطانوی مورخ ایڈورڈ سپئیرز کے بقول بعد کے گیس حملوں میں برطانوی ، فرانسیسی اور کینیڈین فوجی زیادہ متاثر ہوئے۔

عسکری تاریخ کے اس پہلے کیمیاوی حملے میں استعمال ہونے والی کلورین گیس جنگ سے دو برس پہلے ( انیس سو بارہ) برلن میں قائم ہونے والے کیسر ولیہلم انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل کیمسٹری میں تیار ہوئی۔ انسٹی ٹیوٹ کے پہلے ڈائریکٹر فرٹز ہیبر کو انیس سو اٹھارہ میں امونیا گیس سے مصنوعی کھاد بنانے کے فارمولے پر کیمسٹری کا نوبیل انعام ملا۔ اب تک اس انسٹی ٹیوٹ کے تینتیس سائنسداں نوبیل انعام حاصل کرچکے ہیں۔

یورپ کے وسطی محاذ پر کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد جنگی تعطل پیدا ہوگیا اور فریقین نے خندقوں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو مصروف رکھنے کی حکمتِ عملی اپنالی۔

اس تعطل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برطانوی ایڈمرل ونسٹن چرچل نے جرمن اتحادی ترکی کی فیصلہ کن پٹائی کا منصوبہ بنایا۔مقصد یہ تھا کہ استنبول پر قبضہ کرکے روس تک کمک پہنچانے کے لیے بحیرہ اسود تک کا راستہ کھولا جائے۔ ویسے بھی انیسویں صدی سے کوئی بھی عثمانیوں کو خاطر میں نہیں لا رہا تھا۔اس دوران عثمانیوں سے بلقان اور یونان چھن گئے۔ پھر الجزائر سے مصر تک کے شمالی افریقی مقبوضات یورپئیوں نے ہتھیا لیے۔ انیس سو گیارہ میں لیبیا بھی اٹلی نے جھپٹ لیا۔ لے دے کے شام ، فلسطین ، ولایت بغداد و موصل ، جزیرہ نما عرب اور یمن ہی عثمانیوں کے ہاتھ میں رہ گئے۔ زار نکولس اول کا یہ کہنا کچھ غلط نہ تھا کہ یورپ کے اس مردِ بیمار سے اب کوئی نہیں ڈرتا ورتا۔

چنانچہ پچیس اپریل انیس سو پندرہ کو برطانیہ ، فرانس ، یونان ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی مشترکہ افواج بحیرہ ایجین کے کنارے گیلی پولی کے ساحل پر اترنی شروع ہوئیں تو یہاں بس ایک ترک فوجی یونٹ متعین تھا۔آسٹریلوی مورخ بل سیلرز کے بقول جب تھکا ہارا ترک یونٹ پسپائی کی تیاری کر رہا تھا تو اسے مصطفیٰ کمال نامی ایک اعلی فوجی افسر کا پیغام ملا ’’ میں تمہیں لڑنے کا نہیں مرنے کا حکم دیتا ہوں۔تمہاری موت ہمیں اتنا وقت دے جائے گی کہ ہم تمہاری جگہ لے سکیں‘‘۔

مصطفی کمال کی انیسویں کور کے تین لاکھ فوجیوں میں سے پچھتر فیصد کا تعلق ولائیتِ شام و فلسطین سے تھا۔ تین میں سے دو رجمنٹیں عرب تھیں۔گیلی پولی کا معرکہ سات ماہ جاری رہا اور ترکوں نے اتحادیوں کو اکھاڑ پھینکا۔دونوں طرف سے لگ بھگ ڈھائی لاکھ فوجی کام آئے۔مگر مصطفی کمال کو معروف عرب شاعر خالد شوقی کی طرف سے خالد بن ولیدِ ثانی کا خطاب مل گیا۔

ادھر جرمنی نے یورپ کے وسطی اور مشرقی محاذ پر اتحادیوں کے جو سپاہی جنگی قیدی بنائے ان میں سے روس کی طرف سے لڑنے والے تاتاری مسلمانوں کو دیگر مسلمان جنگی قیدیوں سے الگ رکھا گیا۔شمالی افریقہ اور ہندوستان کے تین سے چار ہزار قیدی برلن کے نزدیک ہوفمین کیمپ پہنچائے گئے۔

شمالی افریقہ اور ہندوستان کے مسلمان قیدیوں کو باقیوں سے الگ رکھنے کی حکمتِ عملی مشرقِ وسطی میں ایک عرصے تک خدمات انجام دینے والے جرمن قانون دان اور ماہرِسفارت میکسویل اوپن ہائم کا آئیڈیا تھا۔( ان صاحب کا ذکر آگے بھی آئے گا)۔ حکمت یہ تھی کہ سرکردہ ترک اور عرب مذہبی رہنما کیمپ کا دورہ کریں اور اپنے ہم مذہب قیدیوں کو سمجھائیں کہ ترکوں اور ان کے اتحادیوں سے نبرد آزما ’’ مسلمان دشمن قوتوں’’ کی حمایت میں لڑنا کتنا بڑا گناہ ہے۔بعد ازاں کئی قیدی جرمنوں کی طرف سے اپنے سابق آقاؤں کے خلاف لڑے بھی۔

ہوفمین کیمپ میں ہی کیسر ولیلہم نے جیبِ خاص سے ایک چوبی مسجد بنوائی جس میں پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش تھی۔جنگ کے بعد ہوفمین کیمپ ختم ہوگیا مگر مسجد کو برلن میں رہنے والے مسلمانوں نے آباد رکھا۔ پھربرلن شہر میں ایک پختہ مسجد بن گئی اور ہوفمین کیمپ والی جرمنی کی اولین مسجد رفتہ رفتہ منہدم ہوگئی۔

سوال یہ ہے کہ برطانیہ ، فرانس اور روس کی طرح جرمنی بھی غیر مسلمان تھا۔تو پھر ایسا کیوں تھا کہ جرمنی کو تو عثمانی سلطان قابلِ اعتماد برادر سمجھتے رہے اور باقی یورپی طاقتوں کو کٹر دشمن ؟ اس پالیسی کے کیا کیا فائدے اور نقصانات ہوئے اور اس پالیسی سے مسلمان دنیا کو کیا ملا اور کیا چھنا؟

 

سو برس سے جاری جنگ ) قسط سوم (

وسعت اللہ خان  ہفتہ 4 جولائ 2015

پہلی عالمی جنگ کے اثرات کے بارے میں بات کرتے کرتے گزشتہ قسط میں یہ سوال بھی اٹھا کہ خلافتِ عثمانیہ چار سو برس تک مسلم سنی اکثریت کی سیاسی و روحانی ترجمانی کی دعوے دار رہی تو پھر جرمنی کے ساتھ اس کی قربت کا کیا راز تھا اور دیگر یورپی طاقتوں سے اس قدر مخاصمت کیوں تھی جب کہ جرمنی سمیت سب ہی یورپی طاقتیں غیر مسلمان تھیں۔

اٹھارہ سو تیس تک خطہِ بلقان ( جنوبی یورپ ) اور میسو پوٹامیا ( عراق ) سے الجزائر تک چاند ستارے والا سرخ عثمانی پرچم لہراتا رہا۔ لیکن اگلے نوے برس کے دوران بلقان کو روسی زاروں کے حمایت یافتہ سلاوک قوم پرستوں نے ترکوں سے واگزار کروا لیا اور شمالی افریقہ ترکی کے ہاتھ سے نکل کر برطانیہ، فرانس، اسپین اور اٹلی میں بٹ بٹا گیا۔ چنانچہ اٹھارہ سو چھہتر سے انیس سو نو تک تخت آرا سلطان عبدالحمید اول کا یہ خدشہ یکسر بے بنیاد  نہ تھا کہ یورپی نوآبادیاتی قوتیں اگلے مرحلے میں غیر ترک عثمانی رعایا کو ورغلا کر بچی کھچی عثمانی سلطنت کا بھی تیا پانچا کرنا چاہتی ہیں۔

مگر جرمنی واحد یورپی طاقت تھا جس نے دیگر یورپی طاقتوں  سے عسکری و نوآبادیاتی مخاصمت کے سبب ترکی سے بنا کے رکھنے میں دلچسپی لی۔ اپنی نوآبادیاتی قبضے کی پالیسی مشرقی اور جنوب ہائے افریقہ تک محدود رکھی  اور عثمانیوں کے زیرِ نگیں علاقوں پر نگاہِ ہوس رکھنے سے گریز کیا اور ترکی سے اسٹرٹیجک، سیاسی و تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی مثبت پالیسی اپنائی۔

کیسر ولیہلم نے اٹھارہ سو نواسی میں استنبول کا اور اٹھارہ سو اٹھانوے میں فلسطین و دمشق کا دورہ کیا۔ حیفہ کی بندرگاہ سے انھیں یروشلم تک جلوس کی شکل میں لایا گیا اور دمشق میں کیسر نے صلاح الدین ایوبی کے مزار پر حاضری دینے کے بعد اعلان کیا کہ میں اپنی جیب سے مزار کی مرمت و تزئین و آرائش کراؤں گا۔ عرب جذباتی ہو گئے اور انھوں نے ولیہلم کو حاجی ولیہلم  کا لقب دے دیا۔ یوں عالمِ اسلام میں سلطنتِ عثمانیہ کے اکثر عقیدت مندوں کو جرمنی سے بھی انسیت ہوتی چلی گئی۔ ویسے بھی دونوں کے مشترکہ دشمن انھیں فطری اتحادی بنانے کے لیے کافی تھے۔ حریف یورپی طاقتوں کے مقابلے میں جرمنی جیسی صنعتی و عسکری قوت کی مدد سے ترکی کو اپنے معاشی و فوجی ادارے کسی حد تک جدیدیانے کا موقع ملا اور جرمنی کو بھی علاقائی توازنِ طاقت برقرار رکھنے کے لیے ترک سلطنت کی اسٹرٹیجک اہمیت کا مسلسل احساس رہا۔

کیسر ویلہلم کے نزدیک یورپ میں ایک ہی طاقت جرمنی کے ہم پلہ تھی۔ یعنی عظیم بحری قوت کا مالک آدھی دنیا کا حکمران برطانیہ۔ جرمن خارجہ پالیسی کا محور بھی برطانوی عزائم کو لگام دینا تھا اور عثمانیوں سے بہتر تعلقات اس پالیسی کا بنیادی پتھر تھا۔ کیسر ویلہلم نے عثمانیوں اور ان کے زیرِ نگیں عربوں کے دل جیتنے کا کام تجربہ کار سفارتکار، قانون داں،  مشرقِ وسطی کے سرکردہ محقق اور آرکیالوجسٹ میکسویل اوپن ہائم کے سپرد کیا۔

اوپن ہائم  نے سلطنتِ عثمانیہ کے مختلف علاقوں کا بطور سیاح وسیع سفر کیا اور پھر شمالی شام میں چھ ہزار قبلِ مسیح کی بستی طل احلاف کے کھنڈرات دریافت کر کے عثمانیوں کو اپنے علمی و تحقیقی وقار کا قائل کیا۔ اوپن ہائم نے برلن تا بغداد ریلوے کا نہ صرف نقشہ بنایا بلکہ جرمن کمپنی سیمنز کو اس منصوبے پر سرمایہ کاری  کے لیے آمادہ کیا۔ جرمن بھانپ چکے تھے کہ انیس سو آٹھ میں ایران میں تیل کی دریافت کے بعد بلادِ شام و عراق میں بھی تیل ملنے کے امکانات روشن ہیں اور برطانیہ کا مقابلہ کرنے کے لیے مستقبل کے ایندھن سے ممکنہ طور پر مالامال اس علاقے پر سیاسی و اسٹرٹیجک اثر و رسوخ پکا کرنا کتنا ضروری ہے۔ برلن بغداد ریلوے منصوبہ سینتیس برس میں مکمل ہوا مگر جنگ شروع ہو گئی اور دنیا ہی بدل گئی۔

انیس سو آٹھ کے بعد سے عثمانی دربار میں جدیدیت کے حامی اصلاح پسندوں المعروف ینگ ٹرکس کا غلبہ بڑھتا گیا۔ بظاہر تو سلطان  کا سکہ چلتا تھا لیکن سب جانتے تھے کہ اصل اختیارات جواں سال وزیرِ جنگ انور پاشا اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھ میں ہیں۔ انور پاشا کی فوجی تربیت جرمنی میں ہوئی۔  وہ بسمارک کا مداح تھا اور روانی سے جرمن بول سکتا تھا۔ انور پاشا کے نزدیک اقتصادی، سائنسی اور عسکری ترقی کا دوسرا نام جرمنی تھا۔

اٹھائیس جولائی انیس سو چودہ کو جنگ شروع ہوئی تو جرمنوں سے انور پاشا کی بات چیت شروع ہو گئی اور صرف چار دن میں دو طرفہ تعاون کا معاہدہ طے پا گیا۔ مگر اس معاہدے کو ترکی کی جانب سے رسمی اعلانِ جنگ تک خفیہ رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ ترک قیادت  کا خیال تھا کہ ہماری افرادی قوت اور جرمن عسکری طاقت  کے مشترکہ استعمال سے جنگ مختصر رہے گی۔ جرمنوں کا بھی یہی خیال تھا کہ مسلمانوں کی اکثریت چونکہ سلطنت ِ عثمانیہ کو سیاسی و روحانی مرکز مانتی ہے  لہذا یورپی نوآبادیات کے مسلمان جہاد کی اپیل کے نتیجے میں اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اور برطانیہ و فرانس کی توجہ اپنی نوآبادیات سنبھالنے میں بٹ جائے گی۔ یوں جنگ آسانی سے جیت لی جائے گی۔

مگر برطانیہ نے جنگ چھڑتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ اٹھارہ سو بیاسی سے اپنے زیرِ اثر نیم خود مختار عثمانی صوبے مصر پر قبضہ کیا اور وہاں جبری بھرتی کا آغاز کر دیا۔ لگ بھگ بارہ لاکھ مصریوں کو برطانیہ نے اگلے چار برس یورپ، شمالی افریقہ اور بلادِ شام کی فوجی مہمات میں خوب استعمال کیا۔ جنگ کے خاتمے کے بعد جرمن جنرل ایرک لوڈنڈوف کے بقول عثمانیوں کی جنگ میں شمولیت کے بعد ہی وسطی یورپی طاقتیں ( آسٹریا اور جرمنی ) جنگ کو طول دینے کے قابل ہو سکیں ورنہ تو دو برس میں ہی خاتمہ ہو جاتا۔

مگر جنگ شروع ہونے تک مغربی مورخین کی رائے کے برعکس عام عربوں کے دل میں عمومی طور پر سلطنتِ عثمانیہ کے لیے معاندانہ جذبات نہیں تھے۔ عرب مورخ عواد حلابی کہتے ہیں کہ اگر عثمانی اقتدار سے عرب اتنے ہی بیزار ہوتے جیسا کے اکثر مغربی مورخین بتاتے ہیں تو جنگ سے پہلے بلادِ شام  ( جدید شام، لبنان، اردن، فلسطین ) اور بلادِ موصل و بغداد کے تین لاکھ عرب سپاہی عثمانی افواج میں خدمات انجام نہ دے رہے ہوتے۔ نو سینئر عثمانی فوجی کمانڈروں میں سے دو البانوی، دو کاکیشیائی، دو عرب اور ترک صرف تین تھے۔ سلطان کا وزیرِ اعظم سعید حلیم پاشا بھی عرب نژاد تھا۔

البتہ جب ترکی جنگ میں کود پڑا تو اس پر برطانیہ و فرانس اور ان کی نوآبادیوں کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کے سبب عربوں کی روزمرہ زندگی اجیرن ہونے لگی اور راشننگ نے اشیائے خور و نوش و ایندھن کی قلت اور بڑھا دی۔ چنانچہ اردنی مورخ علی محافظ کے بقول شریفِ مکہ و مدینہ حسین بن علی نے عثمانی وزیرِ اعظم کو لکھا کہ جنگ میں شمولیت کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی جائے۔ یہ جنگ ترکی، بالخصوص عربوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی۔

جنگ سے پہلے تک سلطنت کی باگ ڈور سنبھالنے والے جدت پسند ینگ ٹرکس اختیارات کی غیر مرکزیت، عثمانی صوبوں کو مرحلہ وار  آئینی خود مختاری دینے اور سماجی جدت کاری کے پرزور حامی تھے۔ اس بارے میں پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچا جا رہا تھا۔ مگر جنگ چھڑتے ہی سب منصوبے ملتوی ہو گئے اور عرب صوبوں کے قوم پرست حلقوں میں مایوسی بڑھنے لگی۔

ینگ ٹرکس کو جنگ سے پہلے ہی شبہ ہونے لگا کہ عرب قوم پرستوں کو برطانیہ اور فرانس کی جانب سے خفیہ شہہ مل رہی ہے۔ چنانچہ جنگِ شروع ہوتے ہی قوم پرستوں اور ان کے حامیوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی۔ مرکزی حکومت نے سخت گیر جنرل جمال پاشا کو بلادِ شام کا گورنر مقرر کیا۔ اسے یہ ذمے داری بھی سونپی گئی کہ مصر کو برطانیہ سے چھڑوایا جائے۔ چنانچہ جنوری انیس سو پندرہ میں ترک دستوں نے صحرائے سینا پار کرتے ہوئے نہر سویز عبور کرنے کی کوشش کی۔ لیکن برطانوی دستوں نے حملہ پسپا کر دیا اور پانچ سو ترک سپاہیوں نے بغیر لڑے ہتھیار بھی ڈال دیے۔ ان میں اکثریت عرب سپاہیوں کی تھی۔

یہی وقت تھا جب برطانیہ اور فرانس نے عام عربوں کو خلافتِ عثمانیہ سے عمومی سطح پر برگشتہ کرنے کے لیے مناسب متبادل کی تلاش شروع کر دی اور ان کی نگاہِ انتخاب حسین  ابن علی عرف شریفِ مکہ پر پڑی جن  کا شجرہ اہلِ بیت تک جاتا تھا اور مکہ اور مدینہ کی کلید برداری بھی دورِ عباسیہ سے ان ھی  کے خاندان کے پاس تھی۔ برطانوی و فرانسیسی منصوبہ ساز سمجھتے تھے کہ ایک عام عرب کو خلافت سے برگشتہ کرنے کے لیے بطور روحانی متبادل شریفِ مکہ کا پروفائیل چاروں خانے فٹ ہے۔ اگر یہ جوا کامیاب ہو گیا تو پھر جنگی میدان میں کامیابی بچوں کا کھیل ہے۔ اور پھر برطانیہ اور فرانس کا غیر اعلانیہ جنگی پلان بی حرکت میں آ گیا۔

 

سو سال سے جاری جنگ ) قسط چہارم(

وسعت اللہ خان  منگل 7 جولائ 2015

گذشتہ مضمون میں تذکرہ ہو ہو چکا ہے کہ جنگِ عظیم اول کا آغاز ہوتے ہی جرمن ترک اتحاد نے فرض کرلیا کہ عثمانی سلطانِ معظم کی جانب سے جہاد کا فتویٰ جاری ہوتے ہی شمالی افریقہ کی مسلمان نوآبادیاں اپنے  یورپی آقاؤں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں گی اور یوں ہمیں مختصر وقت میں فتح نصیب ہوجائے گی۔ برطانیہ اور فرانس کی مسلمان کالونیاںتو خیر کیا بغاوت کرتیں۔الٹا عثمانی حکمران اپنی غیر ترک رعایا کی وفاداری کی بابت شکوک میں مبتلا ہوتے چلے گئے اور مشکوک رعایا کو ساتھ رکھنے کے لیے دل جیتنے کے بجائے سختیوں کا سہارا لیا گیا اور یہی سختیاں وہ دلدل بن گئی جس میں پھنس کے چار سو سالہ سلطنتِ عثمانیہ کو غائب ہونے میں بس چار برس لگے۔ ظاہر ہے ان حالات کا برطانیہ اور فرانس نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔اور کیوں نہ اٹھاتے۔محبت اور جنگ میں تو سب جائز ہی ہوتا ہے۔

مثلاً شریف مکہ حسین ابنِ علی ہوں یا بلادِ شام کے عرب قوم پرست۔ سب کا خیال تھا کہ ترکی اگر جنگ میں کودا تو ہاتھیوں کی لڑائی میں بڑا نقصان عرب گھاس کا ہوگا۔جنگ میں عثمانی سلطان کی جانب سے کودنے کے یکطرفہ فیصلے نے عرب قوم پرستوں کی سیاسی محرومی کو بے چینی میں بدل دیا۔وہ پہلے ہی استنبول میں برسرِ اقتدار ینگ ٹرکس کی جانب سے سیاسی اصلاحات اور غیر مرکزیت کے وعدے انیس سو آٹھ کے بعد سے مسلسل ملتوی ہونے پر تپے بیٹھے تھے اور اب تو یہ وعدے اور امیدیں جنگ کی زد میں آ چکے تھے۔عثمانی اسٹیبلشمنٹ قوم پرستوں کی بے چینی کے اسباب پر غور کرنے اور تحمل سے نمٹنے کے راستے تلاش کرنے کے بجائے ترنت اس نتیجے پر پہنچی کہ ہو نہ ہو اس نازک موقع پر عربوں کو یہ پٹی سلطنت کے حصے بخرے کرنے کے خواہش مند برطانیہ اور فرانس نے پڑھائی ہے۔

نومبر انیس سو چودہ میں جنگ میں ترکی کی شمولیت کے صرف دس روز بعد بحریہ کے سخت گیر وزیر جمال پاشا کو بلادِ شام ( موجودہ شام ، لبنان ، اردن ، فلسطین ) کا گورنر بنا کے بھیجا گیا۔اسے یہ ذمے داری بھی دی گئی کہ اندرونی بے چینی کو دبانے کے ساتھ ساتھ مصر کو بھی برطانیہ سے واپس لے جو گذشتہ تین عشروں سے برطانیہ کے زیرِ اثر ایک رسمی عثمانی صوبہ بن کے رہ گیا تھا۔جمال پاشا نے مصر پر فوج کشی ضرور کی مگر بغیر جنگ کے پسپا ہونا پڑا۔لیکن اس ناکامی کا الزام عرب سپاہیوں کی غداری پر دھر دیا گیا۔

عربوں کی نگاہ سے دیکھا جائے تو گورنر جمال پاشا کادور بدعنوانیوں ، مخبری ، قحط سالی اور تشدد کا تاریک زمانہ تھا۔لبنانی مورخ ایسام خلف کے بقول قوم پرستوں سے ناطے کا جس جس پیذرا بھی شک ہوا دھر لیا گیا۔اس دور کی عثمانی ڈکشنری میں عرب قوم پرست اور برطانیہ و فرانس کا ایجنٹ ایک برابر تھا۔ ہزاروں عرب جلا وطن ہوئے یا زیرِِ زمین چلے گئے۔ سیکڑوں کو طویل قید سنائی گئی۔حیفہ ، بیروت اور دمشق میں بتیس عرب سیاسی کارکنوں اور دانشوروں کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ گویا عرب انٹیلی جینشیا کے خلاف اعلانِ جنگ ہوگیا۔( جمال پاشا کا یہ طرزِ حکمرانی آج تک تک بیشتر عرب قیادت کا منشور بنا ہوا ہے )۔

مگر جنگ صرف عرب قوم پرستوں پر ہی مصیبت نہیں لائی۔جبر اور جنگ کی فضا میں ہر سیر بھر گیہوں کے ساتھ من بھر گھن بھی تو پستا ہے۔پہلی عالمی جنگ میں اگر آبادی وار متاثرین کو دیکھا جائے تو جرمن سلطنت کی نو فیصد ، سلطنتِ فرانس کی گیارہ فیصد اور سلطنتِ عثمانیہ کی لگ بھگ بیس تا پچیس فیصد آبادی جنگی صعوبتوں کا نشانہ بنی۔

مثلاً عثمانی بلادِ شام میں لبنان کے خطے کو ہی لے لیجیے۔صرف چار برس میں وہاں کی ایک تہائی آبادی مر گئی اور ایک تہائی دربدر ہوگئی۔اقتصادی ناکہ بندی کے سبب چونکہ بیرونِ ملک مقیم لبنانی گھر پیسے نہیں بھیج سکتے تھے لہذا قلیل خوراک کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں نے گاؤں کے گاؤںبھک مری اور قحط میں فنا کردیے۔کئی علاقوں میں نوبت عصمت فروشی تک آ گئی۔ سیر بھر غلے کے لیے مہاجن زمین کے کاغذات گروی رکھنے لگے۔ ایک لبنانی خاتون میمونہ الامین کا انتقال حال ہی میں ایک سو ایک برس کی عمر میں ہوا۔میمونہ نے بتایاکہ ’’ ایک بار میری ماں نے سونے کی بالیاں دے کر مٹھی بھر آٹا لیا۔ہم لوگ اپنا پہاڑی گھر چھوڑ کے خوراک کی تلاش میں جنگلات میں آ گئے۔وہاں ہم جیسے بے آسرا خاندان گھاس میں تھوڑا سا آٹا ملا کر روٹی سی بنا لیتے۔ بہت سے بچے یہ غذا برداشت نہ کر پاتے اور سامنے سامنے جان دے دیتے ’’۔

جنگ سے پہلے عرب نوجوان خوشی خوشی عثمانی سپاہ میں بھرتی ہوتے تھے لیکن جب اسٹیبلشمنٹ نے لوگوں کو پکڑ پکڑ کے بھرتی کرنا شروع کیا تو بہت سے جوان زنانہ کپڑوں میں فرار ہونے لگے۔

برطانویوں کا خیال تھا کہ میسو پوٹامیا ( عراق ) نہ صرف لندن اور ہندوستان کے درمیان زمینی راہداری کی کنجی ہے بلکہ دفاعی لحاظ سے یہ جنوبی صوبہ عثمانیوں کی فوجی کمزوری بھی ہے۔ اگر اس پر قبضہ ہوجائے اور دوسری جانب مصر میں موجود برطانوی سپاہ آگے بڑھ کے فلسطین کے راستے دمشق تک پہنچ جائے تو سلطنتِ عثمانیہ کی کہانی ختم۔

برطانوی فوج نے انیس سو سولہ میں بصرہ کی جانب سے ہلا بولا اور قریباً چھ لاکھ سپاہ ( جس میں ہندوستانی سپاہیوں کی اکثریت تھی ) کو عراق سر کرنے کے لیے مختص کیا۔مگر انگریزی اندازے غلط ثابت ہوئے اور قوت الامارہ کی لڑائی میں عثمانیوں نے ڈیڑھ لاکھ انگریزی سپاہ کی طبیعت صاف کردی۔ انگریزی فوج کے جتنے ہندوستانی سپاہی ہلاک و زخمی ہوئے اتنے ہی جنگی قیدی بھی بنے اور پھر ان جنگی قیدیوں کو ہنکال کے ولائت ِموصل اور شام کی جانب لے جایا گیا۔کچھ راستے میں مرے اور باقیوں کو جنگی بیگار پر لگا دیا گیا۔ہندوستانی انگریزی سپاہ کا ایک بڑا حصہ ہیضے ، ملیریا اور جوؤں سے پھیلنے والے ٹائفس سے بھی متاثر ہوا اور پھر ان امراض نے عام عراقیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جتنی انگریزی سپاہ  بیماریوں سے ہلاک ہوئی اتنے ہی عراقی بھی ان سے لگنے والی وباؤں کا رزق ہوئے۔جو عراقی اس ابتلا سے بھاگ کر ملک کے شمال اور پھر کاکیشیا تک پہنچے وہ زادِ راہ میں ٹائفس اور دست کی بیماریاں بھی لے گئے اور انھیں نئے میزبانوں تک بھی پہنچا دیا۔

سلطنتِ عثمانیہ کو دوسرا دھکا مشرق کی جانب سے لگا۔مگر یہ دھکے سے زیادہ ’’خود کردہ را علاج نیست ’’ والامعاملہ تھا۔ اٹھارہ سو اٹہترمیں روسیوں نے سلطنتِ عثمانیہ کی لاغری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آرمینیا اور مشرقی اناطولیہ کا کچھ حصہ چھین لیا۔جب نومبرانیس سو چودہ میں ترکی عالمی جنگ کا حصہ بنا تو وزیرِ جنگ انور پاشا نے روس سے یہ علاقے واپس لینے کے لیے موقع غنیمت جانا۔انور کے اتحادی جرمنوں کو اس پر بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا کیونکہ اگر ترکی روسی فوجوں کا ایک بڑا حصہ آرمینیا اور مشرقی اناطولیہ کے پہاڑوں میں پھنسا لے تو یورپی محاذ پر روس کی قوت اور توجہ بٹ جائے گی اور اس کا فائدہ بہرحال جرمنی کو ہی ہوگا۔جب کہ انور پاشا کا تجزیہ یہ تھا کہ چونکہ روس کا بنیادی دھیان یورپ میں جرمن فوجی ہوے کی جانب ہے لہذا اگر ترک سپاہ مشرقی محاز پر اچانک فوج کشی کر دے تو کم ازکم جانی نقصان کے ساتھ پرانا علاقہ واگذار ہو سکتا ہے۔

اور پھر انور پاشا نے عین انیس سو پندرہ کے موسمِ سرما میں یہ سوچ کر جنگی نقارہ بجا دیا کہ برفباری سے بند راستوں کے سبب روسی بروقت اضافی کمک نہیں پہنچا سکیں گے۔ (کچھ ایسی ہی بات اٹھارہ سو چار میں نپولین نے بھی روس میں گھستے سمے سوچی تھی اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ اس مغالطے کی نپولین نے کیا قیمت چکائی)۔ انور پاشا نے موسمیاتی مفروضے پر جو ہاتھ دشمن کے ساتھ کرنا چاہا وہ ہاتھ الٹا ترکی  کے ساتھ ہو گیا۔سرپرائیز اٹیک کے چکر میں جب ترک تھرڈ آرمی عجلت میں مشرقی اناطولیہ کی جانب روانہ کی گئی تو نہ ہی مناسب ہتھیار تھے اور نہ موسم کی سختیاں جھیلنے کے لیے مناسب وردیاں اور جوتے۔ جب یہ تھکی ہاری سپاہ سرکامش کے مقام پر روسیوں کے مقابل آئی تب تک سرد موسم اور ٹائفس ساٹھ ہزار ترک فوجی کھا چکا تھا اور بقیہ سپاہ روسیوں کے لیے بچوں کا کھیل تھی۔( اس مہم کے ٹھیک تیس برس بعد ہٹلر نے بھی روس پر یہی سوچ کے فوج کشی کی جو نپولین اور پھر انور پاشا بھگت چکا تھا )۔

ترکی کے لیے یہ ناقص فوجی مہم جوئی ایک بہت بڑا عسکری صدمہ تھا۔مگر انور پاشا کا کوئی بال بیکا نہ ہوا اور مہم کی ناکامی کا تمام الزام مشرقی اناطولیہ میں آباد آرمینائیوں کی مبینہ غداری پر جڑ دیا گیا۔اپریل انیس سو پندرہ میں ترکی میں آباد غدار آرمینیائی شہریوں سے بدلے کی مہم شروع ہوئی۔مرد یا تو مار دیے گئے یا پھر بیگار کے لیے لیبر بٹالینوں میں بھیج دیے گئے۔بوڑھوں ، عورتوں اور بچوں کو گھروں سے اکھاڑ کے بلادِ شام کی جانب پاپیادہ ہانک دیا گیا۔بہت سے راستے میں ہی مر گئے۔الغرض لگ بھگ ڈیڑھ برس میں آٹھ لاکھ آرمینیائی موت سے ہم کنار اور ایک ملین دربدر ہوئے۔اس ٹریجڈی کے ہدائت کار وزیرِ داخلہ طلعت پاشا نے حکومت کو بری الزمہ قرار دیتے ہوئے کہا ’’روسیوں نے کاکیشیا کے مسلمانوں کو ترکی میں دھکیلا تو ہم نے آرمینیائیوں کو شام میں دھکیل دیا ’’۔

اور عین اس وقت مشرقِ وسطی کے میدانوں سے دور بہت دور ایک بند کمرے میں دو افراد اس یقین کے ساتھ نقشہ بچھا کے اس پے سرخ اور نیلی لکیریں لگا رہے تھے کہ جب سلطنتِ عثمانیہ ختم ہوگی تو ترکہ کیسے اور کنہیں کنہیں بٹے گا۔

 

سو سال سے جاری جنگ ( قسط پنجم )

وسعت اللہ خان  ہفتہ 11 جولائ 2015

پہلی عالمی جنگ نے مرتی ہوئی سلطنتِ عثمانیہ کے پیٹ سے تین قوم پرست تحریکوں کو جنم دیا۔ ترک قوم پرست تحریک کہ جس نے بعد از جنگ نیم مردہ عثمانی سلطنت کا کفن دفن کیا۔ عرب قوم پرست تحریک کہ جو شریف ِ مکہ و مدینہ حسین ابنِ علی کے ہاتھوں جنم ہوئی اور پھر اس تحریک کے بچوں نے آگے چل کے طرح طرح کی نظریاتی شکلیں اختیار کیں اور صیہونی تحریک کہ جسے ارضِ فلسطین میں پلاٹ الاٹ ہوا۔ ترک قوم پرست تحریک کو چھوڑ کے باقی دونوں ( عرب، صیہونی) تحریکوں کے نقشوں میں ابتدائی رنگ سامراجی ڈرائنگ بورڈ پہ بھرے گئے لیکن بعد میں عرب قوم پرست تحریک سامراجی گرفت سے نکل گئی مگر سامراجیوں نے اس تحریک کو صیہونی تحریک کے ذریعے مسلسل یرغمال  کیے رکھا اور آج تک ایسا ہی ہے۔

جیسے ہی سلطنتِ عثمانیہ نے نومبر انیس سو چودہ میں جرمنوں کی حمایت میں جنگ میں شمولیت اختیار کی۔ روس، برطانیہ اور فرانس نے مستقبل میں ہونے والی ممکنہ بندر بانٹ کے دعوے تیار کرنے شروع کر دیے یعنی حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ کا انتظام ہونے لگا۔ مارچ انیس سو پندرہ میں روس نے اعلان کیا کہ وہ فتح کی صورت میں آبنائے استنبول پر قبضہ رکھے گا تاکہ بحیرہِ روم سے بحیرہِ اسود کو ملانے والا یہ تنگ راستہ آیندہ کبھی بھی روس کی اقتصادی و اسٹرٹیجک کمزوری نہ بن سکے۔ فرانس نے روسی دعوی قبول کرتے ہوئے اپنی فرمائش جاری کردی کہ اسے تو بعد از جنگ ترکے میں صرف بلادِ شام اور ترکی کے جنوب مشرقی ساحل سے دلچسپی ہے۔

جب کہ جون انیس سو پندرہ میں برطانیہ نے اعلان کیا کہ وہ تو بس اتنا چاہتا ہے کہ ترکوں پر فتح کے بعد اسے عدن تا سویز پورا بحیرہ احمر اور خلیجِ فارس تا میسو پوٹامیا ( عراق ) اور پھر فلسطین کی پٹی مل جائے تا کہ جب برطانوی ہندوستان سے آدمی یا مال چلے تو وہ براستہ خلیجِ فارس بغداد پہنچے۔ وہاں سے ریل میں بیٹھ کے ( جو ابھی تعمیر ہونی ہے) فلسطین کی بندرگاہ حیفہ تک جائے اور پھر بحیرہ روم کے ذریعے براعظم یورپ عبور کرتا ہوا آرام سے لندن میں اتر جائے اور یوں ہندوستان تا برطانیہ ہفتوں کا سفر دنوں میں طے ہو جائے۔ اور اگر خوش قسمتی سے خلیج یا میسو پوٹامیا  میں کل کلاں تیل نکل آتا ہے تو وہ بھی اسی راستے سے برطانیہ پہنچ جایا کرے اللہ اللہ خیر صلا۔

یہ تھے اصل سامراجی مقاصد کہ جنھیں حاصل کرنے کے لیے انیس سو پندرہ تا سترہ تین علیحدہ علیحدہ خفیہ محاذوں پر ایک ساتھ کام کیا گیا۔ اور تین متضاد سمجھوتے کیے گئے۔ شریفِ مکہ اور دیگر عرب قوم پرستوں سے وعدہ کیا گیا کہ اگر وہ ترک جُوا اپنے کندھے سے اتارنے کے لیے برطانیہ اور فرانس کی مدد کو تیار ہوں تو پھر شام تا یمن کا علاقہ عربوں کا۔ صیہونیوں سے وعدہ کیا گیا کہ اگر وہ دور بیٹھے امریکا کو جنگ میں کدوانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں تو پھر فلسطین میں ایک عدد یہودی ریاست ان کی۔ عربوں اور صیہونیوں کو اپنے اپنے کام پر لگا کر اور روس کا آبنائے استنبول پر دعوی تسلیم کرنے کے بعد تیسری جانب برطانیہ اور فرانس بندر بانٹ کے اصل ڈرائنگ بورڈ پر سر جوڑ  کے بیٹھ گئے۔

انیس سو پندرہ کے وسط میں جب وسطی یورپ کے محاذ پر جنگ تعطل کا شکار ہوگئی تو مشرقِ وسطی کا محاذ گرم کرنے پر توجہ دینے کے لیے اتحادیوں کو وقت مل گیا۔ شریف حسین کے ساتھ مصر میں متعین برطانوی ہائی کمشنر سر ہنری میکموہن مسلسل رابطے میں رہے ( یہ وہی موصوف ہیں جنہوں نے انیسویں صدی کے آخر میں برٹش انڈیا اور تبت کے درمیان سرحدی حد بندی کی جو آج بھی میک موہن لائن کہلاتی ہے )۔

دمشق میں عرب قوم پرستوں کا خفیہ اجلاس ہوا اور ترک گورنر جمال پاشا کی عرب کش پالیسیوں کی مزاحمت کے لیے برطانیہ اور فرانس کی طرف جھکاؤ کو جائز سمجھتے ہوئے شریفِ مکہ حسین ابنِ علی کی قیادت میں بغاوت ِ عام کا فیصلہ ہوا۔ اس اجلاس میں شریف حسین کا بیٹا فیصل بھی شریک تھا۔ اس نے قوم پرستوں کے مطالبات کاغذ پر لکھ کر جوتے کے تلوے میں چھپائے اور طائف روانہ ہو گیا۔ وہاں پر شریف خاندان کے تصورات پر یمن سے شام تک کا عظیم عرب نقشہ چھایا ہوا تھا کہ جس پر خاندانِ شریف کی حکمرانی کا جھنڈا لہرایا جانا تھا۔

چنانچہ پانچ جون انیس سو سولہ کو شریف حسین نے عرب بغاوت کا بگل بجا دیا۔ اس کے بیٹے فیصل کی قیادت میں ترکوں کی سپلائی لائن یعنی حجاز ریلوے جگہ جگہ سے اکھاڑنے کا کام شروع کر دیا گیا۔ تاہم ٹرانس اردن کے بدو قبائل عثمانی سلطنت سے بدستور وفادار رہے اور انھوں نے عرب قوم پرست دستوں کی شدید مزاحمت کی۔ لیکن انیس سو اٹھارہ میں جنگ کا پانسہ پلٹنا شروع ہوا۔ جب برطانوی جنرل ایلن بی یروشلم میں فاتحانہ داخل ہوا تو امیر فیصل کے دستے بھی اس کے شانہ بشانہ تھے۔ اور پھر جب دو اکتوبر انیس سو اٹھارہ کو ترک ولایت شام کے ہیڈ کوارٹر دمشق میں برطانوی فوجیں داخل ہوئیں تب بھی امیر فیصل ہمراہ تھا۔

گیارہ نومبر انیس سو اٹھارہ کو جرمنی اور ترکی نے ہتھیار ڈال دیے اور جنگ بندی ہو گئی۔ انیس سو انیس میں پیرس امن کانفرنس ( منعقدہ ورسائے پیلس ) میں شریف حسین کا بیٹا امیر فیصل اس امید کے ساتھ شریک ہوا کہ نئے نقشے میں فاتح طاقتیں ( برطانیہ ، فرانس ) اس کے سر پر آزاد عرب مملکت کا تاج خوشی خوشی رکھ دیں گی۔ لیکن فیصل کو اس وقت زندگی کا سب سے بڑا صدمہ پہنچا جب یہ اعلان ہوا کہ سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ رہنے والے عرب علاقوں کو فوری آزادی نہیں ملے گی بلکہ انھیں کچھ عرصے کے لیے برطانیہ اور فرانس کی عارضی مینڈیٹ میں رکھا جائے گا تا کہ عربوں کو رموزِ حکمرانی سکھائے جا سکیں۔ جب وہ یہ امتحان پاس کرلیں گے تو پھر انھیں مکمل آزادی مل جائے گی اور استادی شاگردی کے اس انتظام کا نام مینڈیٹ (نظامِ انتداب ) ہو گا۔ اس انتظام کے تحت مصر اور میسو پوٹامیا برطانوی شاگردی میں رہیں گے اور شام و لبنان فرانسیسی شاگردی میں۔ ظاہر ہے کہ یہ سنتے ہی عرب آپے سے باہر ہو گئے۔

مصر جس نے جنگ میں برطانیہ کو سب سے زیادہ افرادی قوت فراہم کی تھی وہاں بغاوت ہو گئی اور برطانیہ بہت مشکل سے دبا سکا۔ امیر فیصل نے اس استادی شاگردی نظام کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے کھلا دھوکا قرار دیا اور دمشق پہنچ کر یکطرفہ بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان کے صرف چار ماہ بعد پیرس امن کانفرنس کی مینڈیٹ سے مسلح فرانسیسی افواج نے فیصل کے مٹھی بھر دستوں کو جنگِ میسلون میں تباہ کر دیا اور فیصل کو دمشق سے بھاگنا پڑا۔ مگر برطانویوں کو فیصل کی جنگی خدمات پر ترس آ گیا اور انھوں نے بطور اشک شوئی اسے جنگ کے بعد ابھرنے والی نئی مملکتِ عراق کی زیرِ انتداب بادشاہی تھما دی اور اس کے بھائی کو ٹرانس جارڈن کا حکمران بنا دیا اور مکہ و مدینہ پر بھی شریف خاندان کی اجارہ داری اگلے کچھ برس برقرار رکھی گئی حتی کہ برطانیہ کو شریفِ مکہ کی جگہ ایک نیا بااعتماد خاندانِ سعود میسر نہ آ گیا جس نے انیس سو چوبیس کے بعد سے شریفوں کو حجاز سے ہی رخصت کر دیا۔

اب ہم ایک بار ٹیپ ذرا سی ری وائنڈ کرتے ہیں۔

جب انیس سو پندرہ میں مصر میں برطانوی ہائی کمشنر سر ہنری میکموہن شریفِ مکہ کو بعد از جنگ عرب بادشاہت کے سبز باغ دکھا رہے تھے عین اسی وقت ہزاروں کلو میٹر پرے برطانوی کاؤنٹی یارک شائر کے ایک محل نما گھر میں برطانیہ اور فرانس کے دو کھڑپینچ نئے مشرقِ وسطی کی بندر بانٹ کے اصل نقشے میں رنگ بھر رہے تھے۔ جب کہ اس سامراجی سودے بازی سے بے خبر عرب جب برطانیہ کے فراہم کردہ اسلحے سے ترکوں کی سپلائی لائن پر جوش و خروش سے حملے کر رہے تھے تو اس وقت برطانیہ اور فرانس بندربانٹ پلان پر دستخط فرما چکے تھے۔

فرانس کی جانب سے سابق سفارتکار اور وکیل جارج پیکو اور برطانیہ کی جانب سے امورِ مشرقِ وسطی کے مشیر سر مارک سائکس نے اس مشرقِ وسطی کی بندر بانٹ کے نقشے میں نیلا اور سرخ رنگ بھرنا شروع کر دیا جو ابھی ان کے قبضے میں آنا تھا۔ ( سرخ رنگ برطانوی قبضے کے لیے اور نیلا فرانسیسی قبضے کے لیے۔ فلسطین پر بھوری پنسل پھیری گئی یعنی اس کی ملکیت طے ہونا باقی تھی )۔ سائکس پیکو سمجھوتہ شریفِ مکہ اور اس کے بیٹے فیصل کی بغاوت کے چار ماہ بعد اکتوبر انیس سو سولہ میں طے پایا اور اس کی حتمی کاپی صرف روس کی شاہی حکومت کو دکھائی گئی۔

یہ سمجھوتہ آخر تک خفیہ ہی رہتا مگر روس میں کیمونسٹ انقلاب آ گیا اور نومبر انیس سو سترہ میں بالشویک حکومت نے روس کو جنگ سے یکطرفہ طور پر نکال لیا۔ کیمونسٹ پارٹی کے ترجمان اخبار پراودا نے مشرقِ وسطی کی بندر بانٹ کا سائکس پیکو معاہدہ من و عن شایع کر دیا۔ لیکن تب تک دیر ہو چکی تھی اور جنگ پر برطانیہ و فرانس کی گرفت مضبوط ہو چکی تھی۔ عرب قوم پرست بھی اس گمان میں رہے کہ پراودا میں جو مسودہ شایع ہوا ہے دراصل عربوں اور جیتنے والی یورپی طاقتوں میں پھوٹ ڈالنے کی کیمونسٹ سازش ہے۔ وہ تو جب پیرس امن کانفرنس میں مشرقِ وسطی آزاد ہونے کے بجائے برطانیہ و فرانس کو مینڈیٹ کی مستاجری کے نام پر الاٹ ہو گیا تب عربوں کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں اور آج تک پھٹی ہیں۔ اس مضمون کی ابتدا میں ایک اور فریق کا بھی تذکرہ ہوا یعنی صیہونیوں سے کیے گئے وعدوں کا۔ اس پر گفتگو ہوگی اگلی قسط میں (داستان جاری ہے )۔

 

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

شیر دل اور بہادر شہید عباس علی

شیر دل اور بہادر شہید عباس علی | parachinarvoice | Scoop.it
..... علی افضل افضال......
13 فروری 2015 کو پشاور شہر کے پوش علاقے حیات آباد کے امامیہ مسجد میں معمول کے مطابق نماز جمعہ ادا کی جارہی تھی کہ اس دوران مسلح دہشت گرد مسجد میں د
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو نسل کشی کا خطرہ

کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو نسل کشی کا خطرہ | parachinarvoice | Scoop.it
پاکستان کی حکومت نے کرم ایجنسی کے عوام کو اسلحہ تسلیم کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ جنگ زدہ علاقے کو ایک اور سنگین چیلنج ہے کیونکہ یہاں کے شیعہ آبادی کو سو سالوں سے تکفیری دیوبندیوں سے نسل کشی کا خطرہ رہا ہے اور کئی ۱۹۲۹، ۱۹۵۴، ۱۹۷۸، ۱۹۹۶اور ۲۰۰۷ میں خطرناک جنگیں لڑی گئی ہیں جس میں ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ مشران قوم سے مذاکرات کریں اور اسلحہ صرف کرم ملیشیا کو اس وقت سرنڈر کریں اور کرم میلیشیا میں مناسب تناسب سے اقوام کی نمائندگی یقینی بنایا جائے۔ کرم ایجنسی کی تاریخ دیگر ایجنسیوں سے مختلف ہے اور اس ایجنسی کی شیعہ آبادی کو اگر غیر مسلح کیا گیا تو شیعہ قتل عام اور نسل کشی کا خطرہ یقینی ہو جائےگا کیونکہ یہاں قبائلی جنگ بھی مذہبی روپ اختیار کر لیتا ہے اور مذہبی لڑائی نسل کشی میں تبدیل ہوتی ہے اور اس طرح کی مثالیں صدہ اور گوبازانہ میں شیعہ کی صورت میں علاقے کی آبادی پہلے ہی بھگت چکی ہے۔ طوری، بنگش اور دیگر قبائل کا حکومت کو اسلحہ مفت میں تھما دینا اپنے بچوں اور عورتوں کو طالبان کے حوالے کرنے کے مترادف ہے، ان غیور اقوام کو دہشتگردوں کے رحم کرم پر چھوڑ کر حکومت خطرناک کھیل، کھیل رہا ہے، کرم ایجنسی کے غیور فرزندوں کو اپنا اسلحہ حکومت کو اس وقت تک نہیں دینا چاہئے جب تک ہماری تحفظ کا مناسب بندوبست نہ ہو، جیسے کرم میلیشیا کو دوبارہ ۱۹۸۷ کی پوزیشن پر بحال کریں یا سارے قبائل سے مناسب ، تناسب سے نئی بھرتی کریں، اور پھر اسلحہ انہی میلیشیا کے حوالے کریں۔
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Parachinar Fata - Photos du journal | Facebook

Parachinar Fata - Photos du journal | Facebook | parachinarvoice | Scoop.it
? #AtizazHussainBangash #PeshawarAttack #CrushTTP #Taliban #PeshawarUnderAttack #PeshawarBleeds #PARACHINAR Proud2bAntiTaliban #TTP #ASWJ are products of...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

#Parachinar Bleeds with #Peshawar #PeshawarAttack 3 martyres Imran Hussain, Ibra...

#Parachinar Bleeds with #Peshawar #PeshawarAttack 3 martyres Imran Hussain, Ibrar Hussain, Nadeem Hussain so far.
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Takfiri terrorists Maj Mast Gul assassinate Allama Nawaz Irfani in Islamabad

Takfiri terrorists Maj Mast Gul assassinate Allama Nawaz Irfani in Islamabad | parachinarvoice | Scoop.it
Top Shia Scholar who was representative of Grand Ayatollah Syed Ali al-Sistani in Pakistan and pro...
Shafiq Ahmed's insight:


علامہ نواز عرفانی کے قتل کی سازش بے نقاب، طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاراچنار کی معروف شخصیت امام جمعہ و جماعت علامہ شیخ نواز عرفانی کے قتل میں کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق خفیہ اداروں کی جانب سے علامہ نواز عرفانی کی شہادت پر مرتب کی جانے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس واقعہ میں کالعدم تحریک طالبان کا میجر مست گل گروپ ملوث ہے۔ رپورٹ کے مطابق نامعلوم مقام پر داعش کے نمائندے زبیر الکویتی اور میجر مست گل گروپ کے اعلیٰ ذمہ داران کے درمیان ایک خصوصی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان میں داعش کی تشکیل، ابوبکر البغدادی کی بیعت اور فاٹا کی سرزمین کو داعش کا مرکز بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔رپورٹ کے مطابق اس میٹنگ میں پاراچنار کی سرزمین پر موجود شیعہ برادری کو داعش کی آمد میں سب سے بڑی رکاوٹ تسلیم کرتے ہوئے حکمت عملی مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ماضی میں شیعیان پاراچنار کی جانب سے طالبان کو ملنے والی پے در پے شکستوں کا بدلہ لینے اور فاٹا میں داعش کی آمد کا آغاز کرم ایجنسی سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ خفیہ ادارے کی رپورٹ کے مطابق میجر مست گل گرو کے سرکردہ افراد پاراچنار کی اہل تشیع برادری کو داعش کی آمد میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے اس لئے ماضی کا بدلہ لینے کی غرض سے پاراچنار کی اہم شخصیت علامہ نواز عرفانی کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ میجر مست گل گروپ کے افراد یہ بات بھی جانتے تھے کہ پاراچنار میں سادات اور غیر سادات کے فرق نے شیعوں کو تقسیم کیا ہوا ہے، اس ہی لئے پاراچنار کی مجاہد شخصیت علامہ نواز عرفانی جوکہ خود غیر سید تھے کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ان کو قتل کرنے کا ہدف یہ تھا کہ پاراچنار میں شیعہ آپس میں دست و گریباں ہوجائیں اور شیعوں کی اس تقسیم کا فائدہ اٹھا کر پاراچنار پر مکمل چڑھائی کردی جائے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو پاراچنار کی تسخیر کے بعد پورے فاٹا میں داعش کی عملداری کو آسانی کے ساتھ یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اس ہی پلان کے تحت پاراچنار سے جلا وطن کئے جانے والے علامہ شیخ نواز عرفانی کو اسلام آباد میں شہید کیا گیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ مخالف گروپ کی کاروائی ہے، تاہم علامہ نواز عرفانی کی شہادت کے بعد پورے ملک میں شیعہ تنظیموں کے احتجاج نے کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کی کوششوں پر پانی پھیر دیا اور علامہ نواز عرفانی کی شہادت کو ملت جعفریہ کاعظیم نقصان قرار دیا ۔ بعدازاں ملکی سلامتی کے خفیہ اداروں کی رپورٹ نے بھی اس کی حقیقت بیان کردی اور کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کی اس سازش کو بے نقاب کردیا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاراچنار کے شیعہ اس سازش کو بھانپتے ہوئے اپنے اتحاد کو مزید مضبوط کریں تاکہ کالعدم تحریک طالبان کی امیدوں پر پانی پھیرا جاسکے اور امام حسین (ع) ہم سے راضی ہوسکیں

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

زیاراتِ مقدسہ (سامراء،عراق) کی دفاع کرتے ہوئے پاراچنار سے تعلق رکھنے والے سید زاہد حسین، سید مقبول حسین فخری اورسید نقی کاظمی جامِ شہي

"ســــلام بَر شُہـــــــداء"

زیاراتِ مقدسہ (سامراء،عراق) کی دفاع کرتے ہوئے پاراچنار سے تعلق رکھنے والے سید زاہد حسین، سید مقبول حسین فخری اورسید نقی...
Shafiq Ahmed's insight:

ر نوش کرنے کے بعد اُنکے جنازے ایران کے شہرِ مقدس (قم) میں نہائیت عقیدت اور احترام کے ساتھ دفنائے گئے۔ 

رسمِ تدفین میں کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ 

more...
No comment yet.
Rescooped by Shafiq Ahmed from From Parachinar The Pakistani Gaza
Scoop.it!

Shooting spree: Former prayer leader gunned down - The Express Tribune

Shooting spree: Former prayer leader gunned down - The Express Tribune | parachinarvoice | Scoop.it
Irfani was MWM spokes­person for Parach­inar
more...
Shafiq Ahmed's curator insight, November 28, 2014 4:36 AM
New alert 
Parachinar k markazi khateeb allama Muhammad nawaz irfani ky shahadat ki zamadari sipah e sahaba sada ney qabool kar li............... https://www.facebook.com/olb.fatimiyah/posts/707210312688126?fref=nf&pnref=story
Rescooped by Shafiq Ahmed from From Parachinar The Pakistani Gaza
Scoop.it!

MWM leader Allama Nawaz Irfani gunned down in Islamabad

MWM leader Allama Nawaz Irfani gunned down in Islamabad | parachinarvoice | Scoop.it
ISLAMABAD: Unknown gunmen killed a leader of Majlis Wahdatul Muslimeen (MWM) Allama Nawaz Irfani on Wednesday. Police said that the MWM leader was gunned down in Sector E- ...
more...
Shafiq Ahmed's curator insight, November 26, 2014 3:50 PM

پیش نماز علامہ نواز عرفانی کے قتل کی پرزور مذمت کرتا ہوں اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ دہشتگردوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے
علامہ نواز عرفانی کو سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی نے قتل کیا ہے۔

Shafiq Ahmed's curator insight, November 26, 2014 3:56 PM

پیش نماز علامہ نواز عرفانی کے قتل کی پرزور مذمت کرتا ہوں اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ دہشتگردوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے
علامہ نواز عرفانی کو سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی نے قتل کیا ہے۔

Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Two killed as bomb hits school van in Parachinar

Two killed as bomb hits school van in Parachinar | parachinarvoice | Scoop.it
PARACHINAR: Two people including a child were killed and several others injured when a bomb hit a school van on Tuesday, official sources said. The sources said that a roa ...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Pak-Afghan border sealed in Kurram Agency

Pak-Afghan border sealed in Kurram Agency | parachinarvoice | Scoop.it
PARACHINAR: The Pak-Afghan border was sealed and thousands of security personnel were deployed in Kurram Agency to avert any untoward incident in Muharram, said a top official of the Frontier Co ...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Security tightened in Kurram Agency - The News International

Security tightened in Kurram Agency - The News International | parachinarvoice | Scoop.it
PARACHINAR: The political administration beefed up security in connection with Muharram in Kurram Agency on Saturday. The administration has also banned entry of vehicles ...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Grenade attack at Karachi Imambargah kills child, injures seven

Grenade attack at Karachi Imambargah kills child, injures seven | parachinarvoice | Scoop.it
Seven people including women and children are injured in the explosion near Islamic Research Center at Ayesha Manzil.
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Our violent past - Pakistan Today

Our violent past - Pakistan Today | parachinarvoice | Scoop.it
Our violent past Pakistan Today Shias belonging to the Hazara community, including women and children, began to be targeted and killed in the Quetta area and also in the northern areas such as Gilgit-Baltistan, Chelas and Parachinar in addition to...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

قومی اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ نفرتوں اور ایک دوسرے کیخلاف شرنگریزیوں سے باز رہیں شفیق احمد

قومی اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ نفرتوں اور ایک دوسرے کیخلاف شرنگریزیوں سے باز رہیں  شفیق احمد | parachinarvoice | Scoop.it
قومی اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ نفرتوں اور ایک دوسرے کیخلاف شرنگریزیوں سے باز رہیں شفیق احمد پاراچنار: ہمارے تین ہزار شہداء کا خون شاہد ہے کہ ہمیں دشمن نے کھبی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ہمیشہ ہمارے بعض نام نہاد اور بعض ناداں دوست ہمیں بڑی آسانی سے نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔ قومی اتحاد وقت کی ضرورت ہے اور نفرتوں اور ایک دوسرے کیخلاف شرنگریزیوں سے باز رہیں۔ ہمیں اس وقت سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ حکومت سے مذاکرات کے ذریعے اسلحہ تسلیم کرنے کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے اگر ہم آپس میں متحد رہیں اور ایک طبقے کو دیوار سے لگانے کی کوشش نہ کریں۔ میرے دوست سمجھ گئے ہونگے اور میں اسے زیادہ نہیں بتا سکتا۔ میرے خیال میں اور حالات کا مشاہدہ کرنے کے بعد اور کچھ معلومات کی بنیاد پر میں یہ بتا سکتا ہوں کہ پاراچنار کرم ایجنسی میں ایک طبقے کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ آپریشن بھی انہی لوگوں کے خلاف ہوگا جو آپس کے جھگڑوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ تو شرپسند عناصر اس خود بھی ذلیل و خوار اور شرمندہ ہونگے اور ہمیں بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچائینگے۔
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Ahmed Turi sur Twitter

Ahmed Turi sur Twitter | parachinarvoice | Scoop.it
@TahirImran @BBCUrdu 3 students 4m #Parachinar, Ibrar Hussain, Nadeem Hussain & Imran Ali Martyres of #PeshawarAttack pic.twitter.com/MdVi26XPc2
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Shia News on Twitter

Shia News on Twitter | parachinarvoice | Scoop.it
3 Students From #Parachinar also embraced martyrdom along with other 130 children in #TalibanAttacksSchool #Peshawar pic.twitter.com/azk1GuJ2pA
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

I wish R.I.P meant "Return If Possible"
in the memory of Dr Maisam Turi . http:/...

I wish R.I.P meant "Return If Possible" in the memory of Dr Maisam Turi .
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

علامہ نواز عرفانی کے قتل کی سازش بے نقاب، طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا

علامہ نواز عرفانی کے قتل کی سازش بے نقاب، طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاراچنار کی معروف شخصیت امام جمعہ و جماعت علامہ شیخ نواز عرفانی کے قتل میں کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق خفیہ اداروں کی جانب سے علامہ نواز عرفانی کی شہادت پر مرتب کی جانے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس واقعہ میں کالعدم تحریک طالبان کا میجر مست گل گروپ ملوث ہے۔ رپورٹ کے مطابق نامعلوم مقام پر داعش کے نمائندے زبیر الکویتی اور میجر مست گل گروپ کے اعلیٰ ذمہ داران کے درمیان ایک خصوصی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان میں داعش کی تشکیل، ابوبکر البغدادی کی بیعت اور فاٹا کی سرزمین کو داعش کا مرکز بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔رپورٹ کے مطابق اس میٹنگ میں پاراچنار کی سرزمین پر موجود شیعہ برادری کو داعش کی آمد میں سب سے بڑی رکاوٹ تسلیم کرتے ہوئے حکمت عملی مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ماضی میں شیعیان پاراچنار کی جانب سے طالبان کو ملنے والی پے در پے شکستوں کا بدلہ لینے اور فاٹا میں داعش کی آمد کا آغاز کرم ایجنسی سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ خفیہ ادارے کی رپورٹ کے مطابق میجر مست گل گرو کے سرکردہ افراد پاراچنار کی اہل تشیع برادری کو داعش کی آمد میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے اس لئے ماضی کا بدلہ لینے کی غرض سے پاراچنار کی اہم شخصیت علامہ نواز عرفانی کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ میجر مست گل گروپ کے افراد یہ بات بھی جانتے تھے کہ پاراچنار میں سادات اور غیر سادات کے فرق نے شیعوں کو تقسیم کیا ہوا ہے، اس ہی لئے پاراچنار کی مجاہد شخصیت علامہ نواز عرفانی جوکہ خود غیر سید تھے کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ان کو قتل کرنے کا ہدف یہ تھا کہ پاراچنار میں شیعہ آپس میں دست و گریباں ہوجائیں اور شیعوں کی اس تقسیم کا فائدہ اٹھا کر پاراچنار پر مکمل چڑھائی کردی جائے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو پاراچنار کی تسخیر کے بعد پورے فاٹا میں داعش کی عملداری کو آسانی کے ساتھ یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اس ہی پلان کے تحت پاراچنار سے جلا وطن کئے جانے والے علامہ شیخ نواز عرفانی کو اسلام آباد میں شہید کیا گیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ مخالف گروپ کی کاروائی ہے، تاہم علامہ نواز عرفانی کی شہادت کے بعد پورے ملک میں شیعہ تنظیموں کے احتجاج نے کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کی کوششوں پر پانی پھیر دیا اور علامہ نواز عرفانی کی شہادت کو ملت جعفریہ کاعظیم نقصان قرار دیا ۔ بعدازاں ملکی سلامتی کے خفیہ اداروں کی رپورٹ نے بھی اس کی حقیقت بیان کردی اور کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کی اس سازش کو بے نقاب کردیا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاراچنار کے شیعہ اس سازش کو بھانپتے ہوئے اپنے اتحاد کو مزید مضبوط کریں تاکہ کالعدم تحریک طالبان کی امیدوں پر پانی پھیرا جاسکے اور امام حسین (ع) ہم سے راضی ہوسکیں۔

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Ayatollah Sistani's representative assassinated in Pakistan - Iraqi News

Ayatollah Sistani's representative assassinated in Pakistan - Iraqi News | parachinarvoice | Scoop.it
Baghdad (IraqiNews.com) The Representative of the Supreme Religious Authority, Ali al-Sistani,and the headmaster of the Jaafariya Religious School in the P
Shafiq Ahmed's insight:

Ayatollah Sistani's representative assassinated in Pakistan - Iraqi News | @scoopit http://sco.lt/...

more...
No comment yet.
Rescooped by Shafiq Ahmed from From Parachinar The Pakistani Gaza
Scoop.it!

Backlash: Three-day mourning period in Parachinar - The Express Tribune

Backlash: Three-day mourning period in Parachinar - The Express Tribune | parachinarvoice | Scoop.it
Tribal people gather­ed on Thursd­ay to condem­n the the killin­g of MWM cleric Allama Muhamm­ad Nawaz Irfani­
more...
No comment yet.
Rescooped by Shafiq Ahmed from From Parachinar The Pakistani Gaza
Scoop.it!

Two dead, five injured in roadside blast near Parachinar school van - DAWN.com

Two dead, five injured in roadside blast near Parachinar school van - DAWN.com | parachinarvoice | Scoop.it
The driver of the van and a child were killed in the explosion whereas five other children were wounded in the blast.
Shafiq Ahmed's insight:

پیش نماز علامہ نواز عرفانی کے قتل کی پرزور مذمت کرتا ہوں اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ دہشتگردوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے
علامہ نواز عرفانی کو سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی نے قتل کیا ہے۔

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

'Six teachers for 12 students at Kurram school' - DAWN.com

'Six teachers for 12 students at Kurram school' - DAWN.com | parachinarvoice | Scoop.it
A relevant official said neither lab nor science students were there.
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Messum Abbas | Bichaao Farsh E Aza | Muharram 2014 http://t.co/lxX5HVMDkJ

Messum Abbas | Bichaao Farsh E Aza | Muharram 2014 http://t.co/lxX5HVMDkJ Messum Abbas | Bichaao Farsh E Aza | Muharram 2014 youtu.be Messum Abbas | Karbala Karbala Hussain Hussain | Muharram 2014 | Thar Production www.facebook.com/Thar.Production...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Powerful massage by #Pakistani kid! http://t.co/gyOAgKICcA

Powerful massage by #Pakistani kid! http://t.co/gyOAgKICcA #YaHussain (@Shaforama) posted a photo on Twitter pic.twitter.com Get the whole picture - and other photos from #YaHussain
more...
No comment yet.