48.9K views | +1 today
Scooped by Shafiq Ahmed
onto parachinarvoice!

How to become a successful ‘rent-an-expert’ – The Express Tribune

How to become a successful ‘rent-an-expert’ – The Express Tribune | parachinarvoice |
How to become a successful ‘rent-an-expert’
By Ayesha Siddiqa
Published: February 29, 2012
The writer is adviser to the chairman NAB and author of Military Inc. The views expressed here are her own.
If you are a white-skinned foreigner trying to make a career in journalism or academia, here is an opportunity of making it big by becoming an expert on the ‘most dangerous country’ in the world — Pakistan. The colour of the skin is critical for success because those guarding information inside the country about the country do not prefer darker complexion as it reminds them of what they were before being invaded and exposed to genetic re-engineering through processes that are better be kept secret.
Being a female helps tremendously as powerful circles in Pakistan believe that women are most effective in conveying messages to the world. A genuinely pretty face is not a prerequisite as long as the female has a man-attracting-magnetic personality, can speak English well, and falls in the category of a ‘liberal scum’ (most likely she will never be a true liberal). Although domestically numerous versions of females are now available, some of them original and other clones, to communicate the views of the ‘state within the state’, there is always the need for the superior version: the white-skinned female who can naturally speak with an accent and easily make inroads in the western system. A well-dressed woman with airs is certainly a huge advantage.
An appreciation of norms of research and inquiry is certainly not a prerequisite either in the country of origin or in Pakistan. The right instinct as a salesperson, who could sell anything from dishwashing liquid or a used car to a used idea, is essential. However, certain conditions can make the sales pitch extremely impressive. For instance, a couple of generals, senior bureaucrats and politicians in the pocket with whom you can demonstrate familiarity on a first-name basis works really well. It will be naturally assumed that these people have unloaded all national secrets on to your hard drive. Some of this may not be a fallacy as those in position of power feel extremely elated talking to a gora sahib or a mem sahib. They would love to boast about their power and knowledge which is nice since you can write a book after several such conversations. These people, who will willingly become your hosts during visits to Pakistan, will not even bother with what you have written about them and how they have been quoted as long as they are named in an international publication. This, of course, will increase your market at home where you will immediately be invited to talk shows on which Pakistan and the South Asian region are being discussed and taken seriously. Given the concern for security of their nationals in Pakistan, some western countries have started using its (Pakistan’s) non-gora nationals as well. However, the dark-complexioned ones have to work doubly hard for making clients in their countries of residence by first showing off deep contacts in their countries of origin. Of course, dropping names helps a lot as well. But for both, the coloured and white ‘rent-an-expert’ type, it helps to recount certain very private kinds of information. These details, then, help others in foreign capitals assume that the information you have as an expert on the whereabouts of bombs and booby traps is correct.
But the vital personal information requires that you first get close enough to the bigwigs in Pakistan for which a recommended recipe is initial investment in making contacts in the right circles. You will be lucky if you are a female and go through an established introducer in the country of origin. But once past the initial handshake it will be worthwhile to make initial contact successful which you can do by faking a genuine interest in the people, culture and country — and convincing your Pakistani clients of your access to the right circles in important western capitals.
As you get a chance to expand your circle you must remember to say the right things at the right time. For instance, words like ‘feudalism’, ‘clientist’ and so on are a sign of you knowing it all. Also, public claims regarding the state not being a failed one, will bring assured gains. Before long, you will become an author of a few books and an acclaimed expert.
Who says selling the soul to the devil doesn’t have benefits?
Published in The Express Tribune, March 1st, 2012.
No comment yet.
parachinar kurram agency
Curated by Shafiq Ahmed
Your new post is loading...
Your new post is loading...
Scooped by Shafiq Ahmed!

کرم ایجنسی کے قبائل کو درپیش سنگین خطرات اور ریاستی بے حسی! شفیق طوری

کرم ایجنسی کے قبائل کو درپیش سنگین خطرات اور ریاستی بے حسی! شفیق طوری | parachinarvoice |
صدہ شہر میں شیعہ مسلک کے لوگ سرِعام ٹکڑے ٹکڑے کردئیے گئے۔
Shafiq Ahmed's insight:
کرم ایجنسی جغرافیائی اور اسٹریٹیجک لحاظ سے دیگر قبائلی ایجنسیوں سے مختلف ہے۔ اپر کرم جو شیعہ اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے تین سو سال سے یہاں آباد ہیں۔ اس علاقے کی دفاع افغانستان کے حکمرانوں کے وقت بھی ان کے ہاتھ میں تھی اور جب سو سال پہلے اینگلو-افغان جنگوں میں افغانستان شکست کھا گیا تو انگریز نے بھی کرم ایجنسی کی دفاع کرم ایجنسی کے قبائل کے حوالے کردی۔ انگریز کے فیصلے کے دو اہم پہلو تھے۔ ایک یہ کہ انگریز نے افغانستان کو شکست طوری قبیلے کی مدد سے دی تھی اور دوسری یہ کہ طوری قبیلہ اپنا دفاع کسی دوسرے کے حوالے کرنے سے پر تیار نہیں۔ اب کرم ایجنسی کے طوری بنگش قبیلہ اپنا دفاع اپنے ہاتھ میں کیوں رکھتا ہے اسکے بھی دو اہم وجوہات ہیں جس میں سب سے پہلا ان کا قبائلی شناخت ہے۔ جنوبی اور شمالی وزیرستان کے قبائل ہوں یا خیبر و مہمند قبائل، قومی اسلحہ کسی بھی ایجنسی میں مکمل طور پر حکومتی تحویل میں نہیں دیا گیا ہے اور دوسرا انکا مسلک ہے۔ چونکہ کرم ایجنسی کے گرد و نواح میں تقریباً ڈھائی میلین آبادی کے سنی قبائل آباد ہیں اور درمیان میں آدھی میلین آبادی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، تو اس لحاظ سے طوری بنگش شیعہ قبائل اپنی دفاع کیلئے ہر وقت مستعد رہتے ہیں۔ کرم ایجنسی میں جتنی طوری قبیلے کی تاریخ قدیم ہے اتنی شیعہ سنی قبائل اور مسالک کی لڑائی قدیم ہے۔ حالیہ تاریخ میں 1929-1928 سے خون ریز لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو دو ہزار گیارہ تک بیسیوں لڑائیاں لڑی گئیں جس میں دونوں طرف سے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے ہیں اور ہزاروں معذور و زخمی ہوئے ہیں۔ 2007-2011 کے فیصلہ کن جنگ کے بعد اب حالات مکمل تبدیل ہو چکے ہیں اور اکیسویں صدی میں داخل ہو کر اب دونوں فریق مزید ان فرقہ ورانہ لڑائیوں سے تنگ آ گئے ہیں۔ محنت مزدوری کا آدھے سے زیادہ پیسہ انکے اسلحے پر خرچ ہو رہا ہے۔
مذہبی اور مسلکی لڑائیوں کے علاوہ قبائلی جھگڑے ہیں جو صحراؤں، پہاڑوں اور پانیوں پر پیش آتے ہیں اور بعض لڑائیاں صدیوں سے چلتی آرہی ہے۔ مثلاً شبک، اور بالش خیل کے ہزاروں ایکڑ اراضی پر قبضے ہوئے ہیں اور نستی کوٹ کے پہاڑیوں پر ناجائز قبضہ ہے۔ پیواڑ میں پہاڑوں اور پانی پر تصرف کا جنگ عرصہ دراز سے لڑا جا رہا ہے تو روڈ اور راستوں کے مسئلے اور مسائل قابل ذکر ہیں۔
کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو پانچ سال محصور رکھا گیا جب کرم ایجنسی کو پشاور اور پاکستان سے ملانے والے واحد شاہراہ 2007 سے 2011 تک شیعہ آبادی کیلئے طالبان نے بند رکھا تھا۔ لاکھوں کی آبادی غذائی اجناس اور ادویات کی قلت سے متاثر ہوئی، ہزاروں بچے متاثر ہوئے، ہسپتالوں میں تڑپ تڑپ کر جانیں دیں اور سکول جانے سے محروم رہے تب کسی جماعت اسلامی یا دفاع پاکستان نے کوئی احتجاجی ریکی نکالی اور نہ ہی کوئی قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئے۔ بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سرپرستی میں کانوائے لوٹے رہے اور صدہ شہر اور گردو نواح میں طوری بنگش قبیلے کے بیسیوں لوگوں کو اغوا کیا جاتا رہا، اغواشدگان کو اذیتیں دیکر قتل کیا جاتا رہا اور انکے اعضاء کاٹ کر جنازے پارچنار بھیجے جاتے رہے۔ یہ وہ واقعات ہیں جو میرے سامنے ہوئے اور جسے میں کھبی بھلا نہیں سکتا۔ ان سارے دل دہلا دینے والے واقعات کی ویڈیو فوٹیجز موجود ہے جس پر ایک اعلی سطحی انکوائری کی ضرورت ہے۔ کہ ریاست پانچ سال تک ایک قبیلے کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام کیوں رہی؟ ریاست کے سامنے انکے بچوں کا قتل عام کیوں ہوتا رہا؟ ریاست ماں کی جیسی ہوتی ہے! ایک ماں کے سامنے انکے بچوں کے سر قلم ہوتے رہے اور انکے اعضاء کاٹ کاٹ کر گھروں کو بھیجتے رہے۔ آپ یقین کریں ان علاقوں میں آج تک آپریشن ہواہے اور نہ ہی اسلحہ جمع کرنے کا تقاضا کیا جاتا ہے۔
کرم ایجنسی میں شرح خواندگی اسلام آباد کے برابر ہے پاراچنار جیسے چھوٹے شہر میں تقریباً پچاس پبلک سکول و کالجز ہیں جنہوں گزشتہ دس سال میں تقریباً پانچ سو ڈاکٹرز، پروفیسرز، اور دو سو کے قریب فوجی آفیسرز پیدا کیئے ہیں جو ملک کے طول و عرض میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح صدہ قصبے میں بھی بہت اعلی سکول قائم ہیں جو بہترین طلبا اور پروفیشنلز سامنے لا رہے ہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ریاست ان پروفیشنلز کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے اور سید رضی شاہ جیسے قابل قدر ماہر تعلیم ہوں یا یوسف حسین جیسے واپڈا کے اہلکار، سید عسکر علی شاہ جیسے بزرگ ملک ہوں یا ڈاکٹر سید ریاض حسین جیسے سماجی و سیاسی لیڈر سرِعام قتل ہوتے رہے ہیں اور حکومت انہیں تحفظ دینے میں ناکام نظر آرہا ہے۔ حکومت دہشتگرد تنظیموں کے سامنے بے بس نظر آرہا ہے لیکن پُرامن قبائلیوں سے اسلحہ جمع کرنے کا تقاضا کیا جاتا ہے۔
کرم ایجنسی کے طوری بنگش قبائل کے مسائل حل کیئے بغیر ان کو غیر مسلح کرنا دوسری مخصوص قبائل کے ساتھ ہمدردی تصور کی جائے گی کیونکہ وہ طاقت کی زور پر مزید علاقوں پر قابض ہو جائیں گے۔ جس سے حکومت کیلئے مسائل حل نہیں ہونگے۔ بلکہ مزید بڑھ جائیں گے کیونکہ پھر بات یہاں رکے گی نہیں۔
حکومت ایجنسی کے طوری، بنگش قبائل کو غیر مسلح کرنے سے پہلے قبائلیوں کا گرینڈ جرگہ بلا کر انہیں سنیں اور ان کو اعتماد میں لیں۔ کرم ایجنسی کے طوری بنگش قبائل پاکستان کے خلاف ہیں اور نہ ہی کھبی حکومت یا پاک فوج پر بندوقیں تھان کر بغاوت کی ہے، دوسری طرف یہاں طالبان اور داعش جیسے ملک دشمن اور انسانیت دشمن دہشتگرد تنظیمیں موجود ہیں جو آرمی پبلک سکول اور جی ایچ کیو پر حملے جیسے سنگین حملوں میں ملوث رہے ہیں اور خودکش دھماکوں اور بازاروں و مسجدوں میں آندھادھند فائرنگ کے واقعات میں ملوث ہیں پاراچنار میں ایسی کوئی تنظیم نہیں جن کے ہاتھ اسی ہزار بے گناہ پاکستانیوں کے خون سے ہاتھ رنگے ہوں۔ پاکستان حکومت دہشتگردوں اور خودکش بمباروں کی تحقیقاتی رپورٹس سامنے لائیں تو اس میں پاراچنار کے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والا ایک بھی دہشتگرد نہیں ہوگا۔
جہاں داعش اور طالبان کی موجودگی ہے وہاں حکومت نے آپریشن کا فیصلہ بھی نہیں کیا ہے مثلاً صدہ، بوشہرہ، تری منگل، غوزگڑیئ اور چند اور علاقے جہاں شدت پسند کالعدم تنظیموں کا نٹ ورک موجود ہے اور وہاں پاک آرمی کی کوئی چیک پوسٹیں ہیں اور نہ ہی وہاں ان کو جانے کی اجازت ہے۔ لیکن سب سے پہلا پیواڑ، بوڑکی اور خرلاچی جیسے سرحدی گاؤں جا کر قبائلیوں سے اسلحہ جمع کا تقاضا کرتا ہے۔ ان گاؤں کے لوگ ہمیشہ حالت جنگ میں ہوتے ہیں اور ہتھیار کے بغیر ایک گھنٹہ بھی وہاں رہنا محال ہے۔ کیونکہ اسلحہ ایک توازن پیدا کرتا ہے۔ اگر یہ توازن بگڑ جائے تو تو ایک قبیلہ دوسرے پر حملہ آور ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے کرم ایجنسی میں پہاڑ، صحرا اور پانی کے جھگڑے بھی دیکھتے ہی دیکھتے مذہبی لڑائیوں میں تبدیل ہو کر پورے وادئ کرم کو اپنے لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
قومی اسلحہ تحویل میں لینے کا مناسب حل۔
جس طرح ہر ملک کو اپنے دفاع کا حق ہے اسی طرح ہر شخص اور ہر قبیلے کو بھی اپنی دفاع کا حق حاصل ہے۔ حکومت مندرجہ بالا حالات اور واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے طوری قوم کے سیاسی، سماجی اور علاقائی تحفظ کی ذمہ داری اُٹھاتے ہوئے پہلے ٹھوس اقدامات کریں اور تین صدیوں سے وادئ کرم میں مقیم ان حساس قبائل کو تحفظ کا احساس دلائے تاکہ اس قبیلے کو موجود خطرات سے بچانے کا کوئی تو سامان ہو۔ اگر کل طوری قبیلے کو غیر مسلح کیا جائے تو دوسرے ہی دن القاعدہ، طالبان اور دیگر دشمن قوتیں حملہ آور ہوجائیں گی۔ کیونکہ تری منگل، شلوزان تنگی، غوزگڑیئ اور بوشہرہ طالبان اور داعش کا گڑھ بن چکا ہے اور یہ یہ سارے علاقے بوشھرہ کے علاوہ پہاڑی علاقے ہیں جہاں حکومت پاکستان کی رٹ نہیں لیکن پیواڑ، بوڑکی، خرلاچی، نستی کوٹ سمیت پاراچنار شہر انکے راکٹ لانچرز اور توپ خانے کی زد پر ہے۔ حکومت پاکستان اور پاک فوج نے طوری قبیلے کو کھبی بھی تحفظ فراہم نہیں کیا ہے۔ پچھلے مہینے افغانستان کی طرف سے پاک فوج کے گوی چیک پوسٹ پر حملہ ہوا تھا تو کرم ملیشیا کے جوانوں نے بھاگنے میں عافیت جانی، لیکن طوری۔ قبیلے کے جوانوں نے جا کر افغان فورسز سے زبردست جنگ کی اور پوسٹ واگزار کرایا۔ کیونکہ اس پوسٹ کے بعد پیواڑ گاؤں آتا ہے اور یہ لوگ ہمیشہ پہاڑوں کے چھوٹیوں پر الرٹ رہتے ہیں اور اندرونی و بیرونی دشمن پر نظر رکھتے ہیں۔ انگریز نے طوری قوم کی تحفظ یقینی بنانے کیلئے نہ صرف کرم ملیشیا کھڑا کردیا تھا بلکہ قبائل میں مفت اسلحہ بھی تقسیم کیا تھا، 1986 میں ضیاالحق نے کرم ملیشیا کو پورے پاکستان میں تقسیم کرکے طوری بنگش قبائل کو طویل جنگوں میں جھونک دیا اور اب طوری قوم سے اسلحہ اکھٹا کرکے دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاہتے ہیں؟
آئین اسلامیہ جمہوری پاکستان نے قبائلی علاقوں کو مکمل تحفظ دیا ہے اور کسی بھی آپریشن سے پہلے قبائلی عمائدین کو اعتماد میں لیا جاتا ہے۔ اس آئینی شک پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا جاتا ہے؟ بعض ادارے آئین سے ماورا اقدامات کرکے آئین پاکستان اور پاکستان کے بنیادی اکائیوں کو کمزور کرنے کی سازشی تھیوری کو مزید تقویت پہنچانے پر کیوں تلی ہوئی ہیں؟ قائداعظم محمد علی جناح نے پاراچنار آکر قبائلی عوام کو پاکستان میں شامل ہونے کی دعوت دی تو ان قبائل نے قائداعظم کی درخواست پر لبیک کہتے ہوئے پاکستان کیساتھ الحاق کیا تھا اور تحریک آزادی کشمیر سمیت 1965 اور 1971 کی جنگوں میں ان قبائل کا کردار ڈھکا چھپا نہیں۔ یہ محب وطن پاکستانی اسلام آباد اور لاھور و کراچی کے پاکستانیوں سے کسی بھی حوالے سے کم نہیں۔
ان قبائلیوں کو مین سٹریم میں کیوں نہیں لایا جا رہا۔ تین ملین پشتونوں کو ایک مولانا فضل رحمن نے اغوا کرکے ایف سی آر کے پنجرے میں دوبارہ بند کرنے کی کوشش کی۔
بہت سارے تجاویز میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کرم ملیشیا میں متناسب بھرتی کی جائے اور طوری، بنگش، منگل، مقبل وغیرہ قبائل کو آبادی کے لحاظ سے بھرتی کرکے انہی قبائل کی تحفظ پر مامور کیئے جائیں۔ یہ ملیشیا صرف کرم ایجنسی میں امن کی فضا برقرار رکھنے کیلئے استعمال ہوگی پیواڑ، بوڑکی، نستی کوٹ، شلوزان سمیت سرحدی علاقوں کی نگرانی کرم ملیشیا کے اسی ونگ کے حوالے کرکے طوری، بنگش قبائل کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ اس ملیشیا کو پہلے کی طرح کسی دوسری طرف تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ تاکہ ان قبائل کو احساسِ تحفظ ہو۔
طوری قبائل کیساتھ جو بھی اسلحہ ہے انکی تعداد اور مقدار کی لسٹیں حکومت کو فراہم کی گئیں ہیں۔ جس جگہ پر اسلحہ رکھا گیا ہے اور جن افراد کے پاس اسلحہ رکھا گیا ہے وہ معلومات بھی حکومت کو فراہم کی گئی ہیں۔ یہ سارا صرف اسلیئے کیا گیا ہے کہ کہ ان مخصوص قبائل کا اسلحہ صرف دفاعی نوعیت کا ہے اور یہ قبائل حکومت پاکستان یا دوسرے قبائل پر کھبی بھی حملہ آور نہیں ہوئیں۔ ان مخصوص قبائل کو درپیش مشکلات کو حل کیئے بغیر، انکے تجویز سننے بغیر، انکو تحفظ اور احساس تحفظ دیئے بغیر اسلحہ تحویل میں لینا حکومت کی غیر دانشمندی ہے۔ قبائلی اور مذہبی جنگوں کی ایک طویل تاریخ سے آگاہ ہوتے ہوئے ایک مخصوص قبیلے، قوم اور مسلک سے تعلق رکھنے والوں سے اسلحہ جمع کرنا غیر دانشمندی سے زیادہ بدنیتی پر مبنی نظر آتی ہے ایک ایسے وقت میں جب طالبان اور داعش ان قبائل کے سروں پر کھڑے ہیں۔ سارے صورتحال کے باوجود اسلحہ جمع کرنے کا تقاضا سمجھ سے بالا تر ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوش کے ناخن لیں اور قبائلیوں کے ساتھ بیٹھ کر لائحہ عمل ترتیب دیں۔

No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

پاراچنار سے تعلق رکھنے والے واپڈاکے ایکسین یوسف حسین طوری ایبٹ آباد میں قتل

پاراچنار سے تعلق رکھنے والے واپڈاکے ایکسین یوسف حسین طوری ایبٹ آباد میں قتل | parachinarvoice |
ABBOTTABAD: 10Dec2016 - Body of Xyen PESCO Yousaf Hussein laying on Spot, after Unknown men firing near Shama Bakery Murree road, Sheikh Ul Bandi.
Shafiq Ahmed's insight:
پاراچنار سے تعلق رکھنے والے واپڈاکے ایکسین یوسف حسین طوری کو سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے تکفیری دہشتگردوں نے شیخ البانڈی (ایبٹ آباد) میں گولیاں مار کر قتل کردیاگیا۔
اللہ تعالی مرحوم سمیت ہم سب پر رہم فرمائیں۔
کوئی لیڈر نہیں جو بکھرے ہوئے قوم کو اکھٹا کریں اور ایک متفقہ لائحہ عمل ترتیب دیں تاکہ اس قسم کے المناک اور دردناک واقعات کو روک لیں۔
#ASWJ #SSP #LeJ #ShiaGenocide
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

انسانی حقوق کے علمبردار خرم ذکی بھرے بازار میں شہید۔ از شفیق طوری

انسانی حقوق کے علمبردار خرم ذکی بھرے بازار میں شہید۔ از شفیق طوری | parachinarvoice |
Religious, political, terrorism.
Shafiq Ahmed's insight:
 پاکستان کے "مالک" خرم ذکی کو تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے پاکستان میں قتل کرکے پاکستان دشمنی کا ثبوت دے دیا ہے۔
انسانی حقوق کے علمبردار خرم ذکی کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں خون میں نہلا کرکے انسانیت کا جنازہ نکال دیا ہے۔
سول سوسائٹی کے دبنگ آواز خرم ذکی کو تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے بھرے بازار میں قتل کرکے سول سوسائٹی کا جنازہ نکال دیا ہے۔
شیعہ نسل کشی کے وکیل خرم ذکی کو تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے کھلے عام قتل کرکے انکے دعوے پر مہر تصدیق ثبت کر دیا ہے۔
شیعہ نوجوان خرم ذکی (جو ان کی سب سے بڑی گناہ بھی تھی) کو تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے رات کی تاریکی میں قتل کرکے اپنا بد نُما چہرہ چُھپانے کی ناکام کوشش کی ہے۔
صحافی خرم ذکی کو تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے سرِعام قتل کرکے آزادئِ صحافت کا گلا گھونٹنے کی ناکام کوشش کی ہے۔
مذہبی سکالر خرم ذکی کو تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کرکے شدت پسندی اور قتل و قتال کا ثبوت پیش کردیا ہے۔
تعمیر پاکستان میگزین کے ایڈیٹر خرم ذکی کو قتل کرکے تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے تعمیرِ پاکستان میں رخنہ ڈالنے کی مذموم کوشش کی ہے۔
بے گناہ لوگوں کے قتل پر پاکستان کے ہر چوراہے پر کھڑے ہوکر دبنگ احتجاج کرنے والے خرم ذکی کو ہمیشہ کے لیئے خاموش کردیا گیا ہے۔
خرم ذکی کے سینے پر انسانی و سماجی خدمت کے جتنے تمغے سجے ہوئے تھے، تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے ہر ایک تمغے پر گولی چلا کر انسانیت دُشمن اور سماج دُشمن ہو نے کا ثبوت دے کر ظلم و بربریت کی ہے۔
تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کے باپ نے آج سے چودہ سو سال پہلے ایک سنسان ریگستان میں نواسہِ رسول کو قتل کیا تھا تاکہ قتل کو چھپا سکے کہ اس لک و دک صحرا اور بے آب و گیاہ ریگستان میں کوئی امام کے مدد کیلئے نہیں اُٹھے گا لیکن ایک عورت اُٹھی، جنہوں نے نام نہاد اسلامی خلافت کو چیلنج کیا اور شہر، شہر، گاؤں، گاؤں، سڑکوں اور درباروں میں ظالم کو آشکار اور شرمندہ کرکے نیست و نابودی کی راہ پر گامزن کردیا، تو آج کے ظالم اولادِ یزید کے مقابلے میں دنیا کے کونے کونے میں کروڑوں لوگ سڑکوں پر لبیک یا حسین کی صدائے حق بلند کرکے احتجاج نظر آتے ہیں، ان تکفیری دہشتگردوں کو سمجھنا چاہئیے کہ ہم ان کی قتل و غارت گری اور ظلم و بربریت سے ڈرنے والے نہیں۔ تم نے ایک خرم ذکی کو شہید کردیا ہے ہم لاکھوں خرم ذکی اور پیدا کرکے دکھا ئیں گے۔
چلو حسین کی تقلید بھی کرے کوئی
کہ صرف سوگ منانے سے کچھ نہیں ہو گا
اٹھو کہ ہم بھی جھکا دیں کسی یزید کا سر
لہو کے اشک بہانے سے کچھ نہیں ہو گا
عرصہ دراز سے مملکت خداد پاکستان میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا ہے جس میں ایک اور شہید کا اضافہ ہوا۔
اطلاعات کے مطابق ہفتہ سات مئی کے رات دو موٹر سائیکل سواروں نے نارتھ کراچی میں ایک ہوٹل میں موجود تین نوجوانوں پر خود کار اسلحہ سے اندھا دھند گولیاں برسائیں، فائرنگ سے تینوں نوجوان شدید زخمی ہوگئے، ان زخمیوں میں ایک نوجوان جناب خرم ذکی بھی شامل تھے، جن کے سینے میں پانچ گولیاں پیوست کی گئی تھیں۔ خرم ذکی کو پہلے عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا اور بعد میں آغا خان ہسپتال پہنچا دیا گیا لیکن زخموں کی تاب نہ لا کر خرم ذکی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
پاکستان میں سیاسی پارٹیوں سمیت مختلف مافیاؤں کے خلاف کریک ڈاؤن کرکے ان کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن اگر پاکستان، خصوصاً کراچی، لاہور، گلگت، کوئٹہ اور پشاور میں کسی کے خلاف کوئی منظم کارروائی نہیں ہوئی ہے تو وہ مذہبی جنونی، مذہبی انتہا پسند اور تکفیری دیوبندی دہشتگرد ہیں جن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ تکفیری دیوبندی دہشتگرد کھلے عام ہتھیاروں سمیت دندناتے پھرتے ہیں اور جس کسی کو بھی جب چاہے قتل کرتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ روکنے کا نام نہیں لیتا۔ تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے پاکستان کے تقریباً اسی ہزار پاکستانی شہری شہید کئیے ہیں۔ پاکستان آرمی اور پولیس کے ہزاروں شہیدوں سمیت انسانی حقوق کے نمائندوں، صحافیوں، ڈاکٹرز اور شیعہ مسلک کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پروفیشنل کے شہادتوں کی ایک طویل داستان ہے، اور اس طویل داستان میں داستان گو خرم ذکی بھی شامل ہوئے۔
پاکستان کے تکفیری دیوبندی دہشتگرد القاعدہ، شام و عراق کے داعش، پاکستان و افغانستان کے طالبان نائجیریا کے بوکو حرام، اور صومالیہ کے الشباب سے کسی طور بھی کم نہیں۔ مذکورہ بالا دہشتگرد تنظیموں کا بغور جائزہ لیں تو ان سب کا عقیدے ایک جیسے، ان سب کا طریقہ واردات ایک جیسے اور ان سب کا ٹارگٹ ایک جیسا۔
پاکستان میں کالعدم لشکرِ جھنگوی، کالعدم سپاہ صحابہ، کالعدم اہل سنت والجماعت سمیت درجن بھر تکفیری دیوبندی جماعتیں جہاد فی سبیل شیطان میں مصروف عمل ہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ سمیت ملک کے دو درجن سے زیادہ جاسوسی کے ادارے، پاکستان آرمی، رینجرز، پولیس سمیت ایک درجن کے قریب لاء انفورسمنٹ
کے ادارے، عدالتیں ان تکفیری دہشتگردوں کے ہاتھ روکنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ پاکستان کے مختلف لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کے پاس تکفیری دہشتگردوں کا مکمل ڈیٹا موجود ہے کہ انتہا پسند،تشدد پسند اور شدت پسند تکفیری دیوبندی دہشتگرد پاکستان کے مختلف اقلیتوں اور اقلیتی فرقوں، سول سوسائیٹی، ڈاکٹرز، صحافیوں، پروفیسرز سمیت زندگی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے نمایاں شخصیات کو چُن چُن کر قتل کرہے ہیں۔
جب تک پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور لاء انفورسمنٹ اجنسیاں خاموش تماشائی بیٹھے رہیں گے، پاکستان میں قتل و قتال روکنے والا نہیں۔ جب تک پاکستان اور کراچی میں جامعہ بنوریہ، لال مسجد جیسے مدارس موجود ہیں جن کے دہشتگرد خودکش حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں، پاکستان اور کراچی میں مذہبی اور مسلکی بنیادوں پر قتل ہوتے رہیں گے۔ جب تک کراچی میں اورنگزیب فاروقی جیسے تکفیری دیوبندی دہشتگرد حکومتی سیکیوریٹی میں کھلے عام پھرتے رہتے رہے کراچی میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ ہوتی رہیگی۔ جب تک سپاہ صحابہ کے سابق سیکریٹری جنرل طاہر اشرفی جیسے لوگ بیس بدل کر پاکستان کے مین سٹریم میڈیا پر جلوہ گر ہوتے رہیں گے، پاکستان میں فرقہ واریت ہوتی رہی گی اور اقیلتیں قتل ہوتی رہیں گی۔ طاہر اشرفی کا ذکر اسلئے کیا گیا ہے کہ طاہر اشرفی تعمیر پاکستان میگزین کو بند کرنے کی بھرپور کوشش کرتے رہے ہیں۔
اور جب تک پاکستان میں کالعدم سپاہ صحابہ کے مولانا محمد احمد لُدھیانوی جیسے لوگ پارٹی کا نام بدل بدل کر انتخابات میں حصہ لیتے رہے اور عدالتیں خاموش تماشائی بنی رہی تو پاکستان میں فرقہ واریت کی عفریت سے نجات ناممکن ہے۔
پاکستان میں تکفیری دیوبندی دہشتگرد قابو سے باہر ہوگئے ہیں، پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور مختلف لاء انفورسمنٹ ایجنسیاں تکفیری دہشتگردوں کو نکیل ڈالنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سمیت پاکستان آرمی و رینجرز سمیت مختلف لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کی طرف تکفیری دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہ کرنا تکفیری دہشتگردوں کو ٹارگٹ کلنگ کا لائسنس دینے کے مترادف ہے۔
خرم ذکی شیعہ نسل کشی کرنے پر کالعدم سپاہ صحابہ، کالعدم لشکر جھنگوی اور کالعدم اہل سنت والجماعت سمیت دیگر تکفیری دہشتگرد تنظیموں کے خلاف میدان عمل میں شدید احتجاج کرتے رہے اور لال مسجد اور مولوی عبدالعزیز کے کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے رہے جس پر ان تکفیری دہشتگردوں کی طرف سے روزانہ قتل کی دھمکیاں ملتی رہی جن کا اظہار خرم ذکی مختلف فورم پر کرتے رہے اور مطلقہ اداروں کو دھمکیوں کے متعلق معلومات فراہم کرتے رہے۔
اب سندھ حکومت، رینجرز اور پولیس سمیت دیگر ایجنسیوں کی ذمہ داری ہے کہ خرم ذکی کی فراہم کردہ قتل کی دھمکیوں اور معلومات کے عین مطابق قتل کی تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے ملزمان کو قانون کے شکنجے میں لائیں اور قرار واقعی سزا دی جائے تا کہ شہید خرم ذکی کے غمزدہ خاندان کی تشفی ہو جائے اور دہشتگردوں کے عزائم خاک میں ملا کر مملکت خداد پاکستان کو دہشتگردی کے لعنت سے پاک ہوجائے۔
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

پاراچنار کرم ایجنسی میں سنی شیعہ اتحاد کا عملی مظاہرہ

پاراچنار کرم ایجنسی میں سنی شیعہ اتحاد کا عملی مظاہرہ | parachinarvoice |
Politics, religion 
Shafiq Ahmed's insight:
کرم ایجنسی: پاراچنار سے بہت بڑی خبر۔ اس سے بڑی خوشی نہیں ہو سکتی جب سنی اور شیعہ علماء متفق طور پر جلسوں سے خطاب فرمائیں۔
کرم ایجنسی پاراچنار میں سنی اور شیعہ علماء نے دس قدم آگے بڑھتے ہوئے اس اتفاق اور اتحاد کا عملی مظاہرہ کیا ہے اور دونوں مکتبہ فکر کے علماء سمیت انجمن حسینیہ نے بے نظیر مثال پیش کی ہے۔
اب اس اتفاق اور اتحاد کو مضبوط تر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ حسین و جمیل وادئ کرم ایجنسی میں امن و آشتی کی فضا برقرار رہ سکے۔
مرکزی امام بارگاہ پاراچنار میں تین روزہ جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے اہل سنت و الجماعت کے مشہور عالم سردار احمد بریلوی مرکزی چیئرمین قومی امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی، علامہ محمدشعیب ، علامہ گلزار حسین اور دیگر علماء سمیت ایجنسی بھر سے ہزاروں کی تعداد میں سامعین نے شرکت کی۔
علماء نے داماد رسول نے دین اسلام کی سربلندی کے لئے شجاعت اور بہادری کے وہ کارنامے انجام دیئے جو رہتی دنیا تک یاد رکهے جائیں گے. علماء نے کہا کہ مسلمانوں کو اتفاق و اتحاد اور حضرت علی علیہ السلام شیر خدا کے نقشِ قدم پر چلنے کی ضرورت ہے۔
جلسے میں انتظامیہ کے اعلی حکام اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اپر کرم ، تحصیلدار اور سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔ جلسے کیلئے پولیٹیکل انتظامیہ سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔
تصاویر اور معلومات بشکریہ صحافی دوست محمد علی طوری
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

فاٹا ریفارمز کمیٹی کا دورہِ کرم ایجنسی : عمائدین، ٹریڈ یونینز، سیاسی جماعتوں سمیت مختلف طبقات نے بدنام زمانہ ایف سی آر کیخلاف فیصلہ دے دیا، گورنر ہاؤس گو ایف سی آر گو کے نعروں سے گونج اُٹھا۔

Political FCR
Shafiq Ahmed's insight:
فاٹا ریفارمز کمیٹی کا دورہِ کرم ایجنسی : عمائدین، ٹریڈ یونینز، سیاسی جماعتوں سمیت مختلف طبقات نے بدنام زمانہ ایف سی آر کیخلاف فیصلہ دے دیا، گورنر ہاؤس گو ایف سی آر گو کے نعروں سے گونج اُٹھا۔ 
 پاراچنار: (شفیق طوری کا رپورٹ اور تجزیہ) اعلیٰ سطح فاٹا ریفارمز کمیٹی نے وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور جناب سرتاج عزیز کے سربراہی میں پیر اٹھائیس مارچ کو گورنر ہاؤس پاراچنار میں عمائدین کیساتھ جرگہ کیا کمیٹی کے ممبران گورنر خیبر پختونخواہ جناب اقبال ظفر جھگڑا، وفاقی وزیر سفیران جناب عبدالقادر بلوچ وفاقی وزیر زید حامد، قومی سلامتی کے مشیر جناب ناصر جنجوعہ سیکریٹری سفیران جناب ارباب شہزاد کیساتھ ساتھ ایک اعلی سطح ملٹری وفد بھی کمیٹی کیساتھ موجود تھا۔ جبکہ کرم ایجنسی کے منتخب نمائندے ممبر قومی اسمبلی جناب ساجد حسین طوری اور سینیٹر سجاد حسین طوری بھی سٹیج پر براجمان تھے۔ باقاعدہ اجلاس تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا مولانا امیر حمزہ نے قارئین کے دلوں کو تلاوت کلام پاک منور فرمایا۔ جس کے بعد ریفارمز کمیٹی کے ممبران کو فرداً فرداً روایتی قبائلی لونگی پیش کی۔ اسکے بعد سٹیج سیکریٹری جناب پروفیسر جمیل حسین شیرازی نے گورنر خیبر پختونخواہ کو اجلاس سے خطاب کیلئے بلایا۔
گورنر خیبر پختونخواہ نے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایک تاریخی جرگہ ہے جو قبائل کے مستقبل کا تعین کریگی اور وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کو کریدیٹ دیتے ہوئے ارلی
فاٹا اصلاحاتی کمیٹی نے عمائدین سے ایف سی آر قانون، قبائلی علاقوں کو صوبہ سرحد میں ضم کرنے یا علیحدہ صوبہ بنانے سے متعلق تجاویز پر سیر حاصل بحث کی۔
اصلاحاتی کمیٹی سے کرم ایجنسی کے سرکردہ عمائدین نے خطاب کیا اور اکثریت نے فاٹا سے ایف سی آر جیسے فرسودہ قانون اور کالے قانون کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے سید سجاد سید میاں نے الفاظ میں ایف سی آر میں آ،انسانی حقوق کیخلاف قوانین میں ترامیم کا مطالبہ کیا اور وقت کیساتھ ساتھ اس قانون کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی، پیر صاحب کی ان تجاویز کو قبائلی عمائدین نے یکسر مسترد کردیا۔
اصلاحاتی کمیٹی سے دوسرا اور اہم خطاب منیر خان اورکزئی نے فرمایا کہ کرم ایجنسی سمیت فاٹا کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور ایف سی آر کو قبائلی عوام مزید برداشت نہیں کرینگے۔ منیر خان صاحب کے خطاب کو قبائلی عوام نے پسند کیا اور تائید کی۔
کرم ایجنسی کے عمائدین میں سے صرف حوالدار بخت جمال بنگش نے ایف سی آر کے حق میں دلائل دینے کی ناکام کوشش کی۔ حوالدار بخت جمال بنگش انجمن فاروقیہ پاراچنار کے سابقہ سیکریٹری جنرل اور اہل سنت والجماعت کے سرکردہ رہنماؤں میں سے ہیں۔ حوالدار بخت جمال نے کہا کہ اگر ایف سی آر ختم ہوئی تو پاراچنار کے عوام صدہ کے راستے سفر نہیں کرسکیں گے اور اسی طرح بوشہرہ سمیت دیگر علاقوں کے لوگ پاراچنار آنے جانے کے قابل نہیں رہیں گے جو نہایت جاہلانہ اور شر پسندانہ تجویز تھی، حوالدار کو نہایت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب قبائلی مشران نے یک زبان ہوکر بخت جمال کی مخالفت کی اور پورے گورنر ہاؤس نے اعلی سطحی اصلاحاتی کمیٹی کے سامنے کھڑے ہو کر گو ایف سی آر گو کے نعرے لگائے اور بخت جمال کو اپنی تقریر ختم کرکے سٹیج سے بھاگنا پڑا۔
اصلاحاتی کمیٹی سے انجمن حسینیہ پاراچنار کے سیکریٹری جنرل جناب سراج حسین نے خطاب کرتے ہوئے شرکا کی توجہ ایک اہم نقطہ کی طرف مبذول کرائی اور کرم ایجنسی کے منفرد جغرافیہ جو تین اطراف سے ڈیورنڈ لائن یعنی افغانستان نے گھیرا ہے اور کئی دہائیوں سے وقتاً فوقتاً مسلکی جھگڑے سر اُٹھاتے رہے ہیں جن سے کرم ایجنسی کے تحفظ کا مسئلہ لا حق رہتا ہے اور ایجنسی غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہا ہے۔ اپنی تقریر میں انجمن حسینیہ کے سیکریٹری جنرل نے ایف سی آر کے خاتمے پر زور دیا اور مل بیٹھ کر نئے اور متفق نظام وضع کرنے کی تجویز پیش کی۔
جرگہ سے فخر زمان بنگش کے علاوہ دیگر چند عمائدین نے بھی خطاب کیا لیکن جرگہ کی فیصلہ کن تقریر اقبال حسین طوری (بستو) نے کی اور جسے کرم ایجنسی کی ترجمان تقریر کہا جا سکتا ہے۔ اقبال حسین طوری نے فرمایا کہ ایف سی آر ایک ظالمانہ قانون ہے جو اکیسویں صدی میں انسانوں پر نافذ کرنا انسانیت کی تذلیل ہے۔ اقبال حسین طوری نے اصلاحاتی کمیٹی کو تجویز دی کہ اگر ایف سی آر اتنی اچھی قانون ہے تو پورے پاکستان پر نافذ کریں اگر پاکستان کیلئے یہ قانون قابل قبول نہیں تو پھر قبائلی عوام کسی بھی حوالے سے دیگر پاکستانی عوام سے کم نہیں اور قبائل کو مرکزی دھارے میں شامل کرکے ترقی اور خوشحالی کے مواقع پیدا فراہم کریں۔ اقبال حسین طوری نے پاکستان میں کمیٹیوں کے کردار پر اعتراض کرتے ہوئے اسے ایک لاحاصل مشق قرار دیا اور فرمایا کہ پاکستان میں جو معاملہ حل نہ کرنے کا سوچ ہو اور معاملات اُلجھانے کا اور فائلوں میں دفن کا پروگرام ہو تو پھر کمیٹی بنائی جاتی ہے لیکن توقع ظاہر کی کہ فاٹا اصلاحاتی کمیٹی اس ٹرینڈ کو ختم کرکے جلد از جلد فیصلہ اور لائحہ عمل تیار کریگی۔ عمائدین کرم ایجنسی نے اقبال حسین طوری کی جرگہ سے خطاب کو تاریخی اور فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے داد دی۔
جرگے سے اختتامی خطاب فاٹا ریفارمز کمیٹی کے سربراہ اور وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور جناب سرتاج عزیز نے کی۔ سرتاج عزیز نے قبائلی عمائدین کو یقین دلایا کہ فاٹا کے مستقبل کا تعین انکے اُمنگوں، تجاویز اور مشاورت کیمطابق کیا جائے گا۔
جرگہ کے بعد ایم این اے ساجد حسین سے تفصیلی بات چیت کی جو جرگہ کے انعقاد اور کامیابی سے کافی خوش دکھائی دئیے اور کہا کہ کرم ایجنسی کے عوام نے ایف سی آر کے خاتمے کا مطالبہ دہرایا ہے۔ ساجد طوری نے فرمایا کہ قبائلی عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور قومی اسمبلی سمیت مختلف کمیٹیوں اور قومی سلامتی کے اداروں کیساتھ ملاقاتوں میں ایف سی آر کیخلاف آواز اُٹھایا ہے۔
سینیٹر سجاد حسین طوری سے بات چیت تو نہیں ہوئی لیکن سٹیج پر بیٹھے انکے حشاش بشاش چہرے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ جرگے کے نتیجے سے کافی خوش تھے۔ ایک ہفتہ پہلے اسلام آباد میں سینیٹر سجاد سے تفصیلی بات چیت ہوئی تھی اور انہوں نے فرمایا کہ وہ ہر فورم پر ایف سی آر قانون کیخلاف آواز اٹھاتے رہینگے۔
No comment yet.
Rescooped by Shafiq Ahmed from NewsOnline!

Blast in Shia Mosque in Saudi Arabia, AlAhsa "Ali Raza Mosque" Kills Three

Blast in Shia Mosque in Saudi Arabia, AlAhsa "Ali Raza Mosque" Kills Three | parachinarvoice |
DUBAI: An attack on a mosque in al-Ahsa ineastSaudi Arabia killed three people on Friday, Saudi-owned al-Arabiya television reported. An...

Via omermirza
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

پاکستانی طالبان بمقابلہ افغانی طالبان! اور پاکستانی داعشور، صحافی

پاکستانی طالبان بمقابلہ افغانی طالبان! اور پاکستانی داعشور، صحافی | parachinarvoice |

پاکستانی طالبان بمقابلہ افغانی طالبان!
آرمی پبلک سکول پشاور بمقابلہ باچا خان یونیورسٹی چارسدہ
باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے ذمے داری ملا عمر منصور والے طالبان گروپ نے قبول کی ہے، جبکہ ملا فضل اللہ گروپ کے خراسانی نے کہا ہے کہ اس حملے سے انکا کوئی تعلق نہیں۔ سلیم صافی نے جیو نیوز پر عائشہ بخش کے پروگرام میں کہا! مزید لنک
یاد رہے آرمی پبلک سکول پر حملہ پاکستانی طالبان نے 16 دسمبر 2015 کو کیا تھا جس میں بچوں سمیت 140 افراد شہید ہوئے تھے۔
اور آج 20 جنوری 2016 کو افغانی طالبان نے باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر حملہ کرکے طالبعلموں سمیت بیس افراد کو شہید کیا گیا۔
کوئی سلیم صافی کو بتائیں کہ آرمی پبلک سکول پر حملہ پاکستانی طالبان ملا فضل اللہ نے کیا تھا اور باچا خان یونیورسٹی پر حملہ افغانستان کے طالبان ملا اختر منصور گروپ نے قبول کی ہے تو پاکستانی اور افغانی طالبان میں فرق کیا ہے؟
ہم تو روز اوّل سے بتا رہے ہیں کہ افغانی طالبان یا پاکستانی طالبان میں کوئی فرق نہیں لیکن آپ جیسے نام نہاد سینئیر صحافی ہو یا اوریا مقبول یا وزیراعظم کے مشیر اعظم عرفان صدیقی جیسے دانشور (داعشور) پوری قوم کو گمراہ کرتے رہے اور افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کے بیانیہ کے مؤجد ہیں
اب اوریا مقبول ہوں یا انصار عباسی، جاوید چوہدری ، خود سلیم صافی ہو یا حامد میر جو افغانستان طالبان کے شیدائی ہیں اور ملا عمر کو امیرالمؤمنین کہتے رہے ان سب کیخلاف ضرب غضب شروع کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔
حکومت کو چاہئیے کہ مندرجہ بالا افراد کے پچھلے پانچ سال کے کالم اور ٹی وی پروگراموں کا تجزیہ کریں اور افغانی طالبان کے حق میں دلائل دینے والوں سے حساب لیا جائے۔
باچا خان یونیورسٹی کے پروفیسر اور طالبعلموں کا خون ان سب کے ہاتھ پر صاف دیکھا جا سکتا ہے جو افغانی طالبان اور ملا عمر کے شیدائی تھے۔
شام اور عراق کا داعش، دنیا بھر میں پھیلی القاعدہ، نائجیریا کے بوکو حرام، صومالیہ کے الشباب سمیت پاکستانی طالبان سپاہ صحابہ، اہل سنت والجماعت ، لشکر جھنگوی اور افغانی طالبان تکفیری وہابی، تکفیری سلفی، اور تکفیری دیوبندی ہیں، اور ان میں کوئی فرق نہیں، سب خونخوار وحشی درندے ہیں، انکی تعریف کے لیئے مجھے الفاظ نہیں مل رہے۔

No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

پشاور میں شیعہ مسلمانوں کے ساتھ صوبائی حکومت کا سوتیلی ماں جیسا سلوک، وزیراعلی پرویز خٹک کی ہٹ دھرمی

پشاور میں شیعہ مسلمانوں کے ساتھ صوبائی حکومت کا سوتیلی ماں جیسا سلوک، وزیراعلی پرویز خٹک کی ہٹ دھرمی | parachinarvoice |

پشاور میں شیعہ مسلمانوں کے ساتھ صوبائی حکومت کا سوتیلی ماں جیسا سلوک۔۔۔۔

تیرہ فروری دوہزار پندرہ کو حیات آباد پشاور میں واقع شیعہ مسلمانوں کی مسجد ،امامیہ مسجد پر یکے بعد تین خود کش حملے ہوئے جس میں دو درجن سے زائد افراد شہید اور پانچ درجن سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔۔ حملے کے بعد صوبائی حکومت نے امامیہ مسجد انتظامیہ کیساتھ کئی مطالبات پر اتفاق کیا اور وعدہ کیا کہ تما م تر مطالبات بہت جلد پورے کئے جائینگے لیکن آج تک وہ مطالبات پورے نہیں کئے گئے بلکہ ستم ظریفی تو یہ ہے۔ کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا جناب پرویز خٹک کو ملاقات کے لئے کئی بار درخواستیں لکھے لیکن وزیر اعلی صاحب کے پاس امامیہ مسجد انتظامیہ کے ساتھ ملاقات کے لئے ٹائم ہی نہیں۔ امامیہ مسجد پر حملےکو ایک سال پورا ہونے کو ہے۔ لیکن صوبائی حکومت ہر وعدے سے تقریبا پیچھے ہٹ چکی ہے۔

میں عوامی نیشنل پارٹی کا اس لئے حامی ہو۔ کہ اگر وہ وعدہ پورا نہیں کرسکتے ملاقات تو کر لیتے ہیں۔ لیکن پروٹوکول اور کرپشن ختم کرنے کے نام پر ووٹ حاصل کرنے والے عوام سے ملاقات کے لئے بھی ٹائم نہیں دیتے جو کہ صوبائی حکومت کی منہ پر طمانچے کے مترادف ہے۔

ہم صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کے سربراہ سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں۔ کہ وہ امامیہ مسجد حیات آباد انتظامیہ کے ساتھ کئے گئے وعدے پورا کریں۔ ایسا نہ ہو کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے کوئی دوسرا واقع رونما ہوجائے۔

ہم اُمید کرتے ہیں۔ کہ صوبائی حکومت اور عمران خان صاحب اس نازک معاملے کو توجہ دیں گے
اور شیعہ مسلمانوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک نہیں کرینگے۔۔۔

تفرقہ بازی مٹاؤ۔۔۔۔ انسانیت اور امن پھیلاؤ

بخدا۔۔۔۔ مزہ تفرقہ بازی اورایک دوسرے کے خلاف فتوے دینے میں نہیں جتنا کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر جینے میں ہے۔ آئیں ایک دوسرے کے ساتھ نیک سلوک کریں نہ کہ مذہب اور فرقے کے نام پر شجرکاری کریں۔۔۔۔

No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

پاراچنار کے دہشتگرد تکفیری ہزاروں کی تعداد میں داعش کیساتھ ملکر لڑ رہے ہیں۔ شفیق طوری

پاراچنار کے دہشتگرد تکفیری ہزاروں کی تعداد میں داعش کیساتھ ملکر لڑ رہے ہیں۔  شفیق طوری | parachinarvoice |

پاراچنار کے دہشتگرد تکفیری ہزاروں کی تعداد میں داعش کیساتھ ملکر لڑ رہے ہیں۔ جن کے سہولت کار نام ولدیت اور مستقل پتہ درجہ ذیل ہیں !

پاکستان سے داعش کیلئے بھرتی جاری ہے اور پھر شام، یمن اور دوسرے ممالک بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے اور کوہاٹ، کرک، شمالی اور جنوبی وزیرستان، خیبر اور دیگر علاقوں سے بڑے پیمانے پر لوگوں ان جنگ زدہ علاقوں میں بھیجا جا رہا ہے۔
اس سارے سلسلے کا ٹھیکہ مولانا شاہ عبدالعزیز نے لیا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو تکفیری دہشتگرد گروہوں کی مدد کیلئے بھیجا جا رہا ہے۔

مولانا شاہ عبدالعزیز کا نام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، نامی گرامی تکفیری دہشتگر ہیں اور بہت سارے دہشتگردوں کے علاوہ سابق صدر اور آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر حملے اور جی ایچ کیو پر حملے کے سہولت کا اور مددگار بھی تھا۔
کیونکہ مولانا کے طالبان سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی سمیت لال مسجد کے تکفیری مولانا عبدالعزیز سے قریبی مراسم ہیں اسلیئے اب یہ سب تعلقات استعمال کرتے ہوئے داعش کیلئے بھرتیا کررہا ہے۔

کرم ایجنسی سے مندرجہ ذیل لوگ بھرتیوں اور برین واشنگ کے ذمہ دار ہیں۔

پاراچنار کے گاؤں بوشہرہ کا رہائیشی حاجی بخت جمال بنگش دولت اسلامیہ کا پہلا سہولت کار ہے جو دولت اسلامیہ کیلئے بھرتی کرتا ہے

پاراچنار کے گاؤں گوبازنہ کے رہائشی عید نظر المعروف یزید نظر دوسرا داعش سہولت کار ہے جو داعش کیلئے بھرتی کرتا ہے، یاد رہے یزید نظر کا تعلق کالعدم اہل سنت والجماعت سے ہے اور اسے پہلے سپاہ صحابہ کے سرگرم رکن رہے ہیں جنہوں نے دو ہزار سات کے پاراچنار فسادات کے بیج بوئے ۔

کرم ایجنسی کا دولت خان تکفیری گروپ دولت اسلامیہ خراسان کا نیا کمانڈر ہے وہ بھرتی کرتا ہے۔

میجر مست گل جو پہلے لشکر طیبہ کیساتھ کشمیر میں جہاد کرتے رہے اب دولت اسلامیہ کیساتھ مل چکا ہے اور پاراچنار بم دھماکوں سمیت پاکستان فوج کے اہلکاروں کے قتل میں بھی ملوث ہے۔

پاراچنار کے گاؤں اُچت کا فضل سعید حقانی طالبان کے سرغنہ اور داعشی سہولت کار ہے جو داعش کیلئے بھرتی کرتا ہے اور ⁦پاکستان آرمی اور دیگر ایجنسیوں نے انکے ذمے سارے خون معاف کئیے ہیں⁩ جو نہتے پاراچنار والوں کو اغوا کے بعد قتل کرتا رہا اور شیعہ نوجوانوں کے سر ، پیر اور ہاتھ کاٹ کر پاراچنار ارسال کرتا رہا، جبکہ کرم ملیشیا اور لیویز خاموش تماشائی بنے رہے، یاد رہے کرم ملیشیا کے کرنل ۔۔۔۔۔ بھی فضل سعید حقانی کیساتھ ملا ہوا تھا۔ اس وقت!
گاؤں بوشہرہ سے تعلق رکھنے والے ایڈوکیٹ میر زمان بنگش تقریباً تمام دہشتگردوں کے قانونی مشیر ہیں ۔
مزید معلومات درکار ہیں کمنٹ میں لکھیں۔

Shafiq Ahmed's insight:

جیو نیوز کے شاہزیب خانزادہ کے کرم ایجنسی اور ہنگو میں داعش بھرتی کے حوالے سے انکشافات

See GEO News Shahzeb Khanzada story about DAESH (ISIS) recruitment in Kurram Angency and Hagu

No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

Geo News | Blast in ParaChinar Bazar

Geo News is Pakistan's most trusted and watched news source for authentic, on time news, breaking news updates, forum discussions, talk shows and much more.

No comment yet.
Rescooped by Shafiq Ahmed from From Parachinar The Pakistani Gaza!

کرم ایجنسی، پاراچنار میں دہشتگردی فرقہ واریت اور قبائلی دشمنی مختصر تاریخ اور حقیقت ۔ شفیق احمد طوری

کرم ایجنسی، پاراچنار میں دہشتگردی فرقہ واریت اور قبائلی دشمنی مختصر تاریخ اور حقیقت ۔ شفیق احمد طوری | parachinarvoice |

پاراچنار کے عیدگاہ میں دھماکے سے ۲۳ افراد جاں بحق ہوئے اور دسیوں زخمی ہوگئے۔

کالعدم لشکر جھنگوی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی اور اسے شام کے لڑائی سے جڑنے کی کوشش کی لیکن لشکر جھنگوی لوگوں کو گمراہ کررہی ہے جو ہر دھماکے کے بعد کرتے رہتے ہیں۔
کرم ایجنسی میں شیعہ آبادی کو تین سو سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے اور یہاں کے اکثریتی شیعہ آبادی کو مسلکی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، شام کی لڑائی تو صرف چار سال سے شروع ہوئی ہے۔ تو اسے پہلے کس وجہ سے نشانہ بنایا جاتا رہا؟
اور ایران میں خمینی انقلاب بھی صرف ۳۵ سال پہلے کا واقعہ ہے۔
دراصل اس جنگ کی ابتداء جنگ چودہ سو سال پہلے کربلا سے شروع ہوتی ہے بلکہ اسے بھی پہلے! بدر اور اُحد سے۔ لنک
یہ دھماکہ اہلسنت کی عیدگاہ میں ہوا جہاں لنڈہ بازار لگا ہوا تھا ،اور یہاں عیدگاہ کے ایک کونے میں ہمیشہ سے یہ بازار لگتا رہا ہے۔ جہاں سنی ہوتا ہے نہ شیعہ وہاں صرف غریب لوگ جاتے ہیں، کیونکہ پاراچنار کا موسم نہایت شدید سرد ہوا کرتا ہے اور درجہ حرارت منفی بیس تک چلا جاتا ہے تو غریب اور مسکین لوگ اپنے لیئے اور اپنے بچوں کیلئے لنڈے کے کپڑے اور سردی سے بچنے کے لوازمات خریدتے ہیں۔
پاراچنار میں دہشتگردی کی اصل کہانی ہے کیا؟
اصل کہانی فرقہ ورانہ منافرت ہے اور کرم ایجنسی میں موجود اکثریتی طوری قبیلہ جو شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں آبادی پر مشتمل ہے یہ نہ ملک کے اسٹیبلشمٹ کو قبول ہے اور نہ ہی علاقے کی دیگر سنی قبائل کو قابل قبول ہے۔
مذہبی منافرت کے علاوہ یہاں چونکہ شیعہ سنی ساتھ ساتھ رہے ہیں تو زمین ، پہاڑ اور پانی کے جھگڑے بھی ہوتے رہے ہیں جو بعد میں مذہبی اور مسلکی لڑائی میں بدل کر علاقے کو میدان جنگ میں تبدیل کرتے رہے ہیں۔
افغانستان متعصب حکمرانوں بچہ سقا اور امان اللہ خان کے ظلم ستم سے تنگ آکر طوری قبیلے نے طویل جدوجہد کے بعد انگریزوں کیساتھ ملکر کرم ایجنسی کو متحدہ ہندوستان میں شامل کرلیا اورڈیورنڈ لائن کی اس پار انگریزوں نے طوری قبیلے کے حفاظت کیلئے ۱۸۹۲ میں طوری میلشیا کے نام سے قبائلی ملیشیا بنایا جو بعد میں کرم ملیشیا بن گیا اور پاکستان کا حصہ بن گیا۔
بدقسمتی سے ضیااء لحق کے فرقہ ورانہ پالیسیوں کا شکار ہو کر کرم ملیشیا کو برطرف کرکے پورے پاکستان میں پھیلایا گیا، علاقے کو آگ و خون میں نہلایا گیا اور سرسبز وشاداب ، حسین و جمیل اور جنت نظیر علاقے کو دہشتگردی اور فرقہ واریت کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا جو آج تک نہیں نکل سکا۔
۱۹۲۹-۲۸، ۱۹۵۰ اور ۱۹۵۶ کے خونریز لڑائیوں کے علاوہ میرے سامنے جو خونریز لڑائی ہوئیں انکا مختصر تاریخ یہ ہے
۱۹۸۱-۸۲ میں صدہ قصبہ میں شیعہ آبادی پر ہلہ بول دیا اور دادو حاجی کے سارے خاندان کو ہلاک کیا گیا اور صدہ قصبے سے شیعہ آبادی کو مکمل طور پر بے دخل کر دیاگیا جو آج تک آباد نہیں ہو سکے۔
۱۹۸۷-۸۸ ضیاءالحق کے دور میں پاکستان شیعہ مسلک کے روح رواں اور ملت جعفر یہ کے صف اوّل کے رہنما علامہ عارف حسین الحسینی کو شہید کیا گیا اور علاقے کے سنی قبائل نے افغان مہاجرین کیساتھ ملکر مقامی شیعہ آبادی پر حملہ کردیا اور مہینوں پر محیط لڑائی میں ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے۔ اور اسٹیبلیشمنٹ تماشا دیکھتی رہی۔

۱۹۹۶ میں رسول اللہ کے چچا اور حضرت علی کے والد حضرت ابو طالب کی توہین کی گئی اور مقامی شیعہ آبادی کو اشتعال دلا کر خونریز جنگ کا آغاز کیا گیا جو پانچ سال تک جاری رہا اور اسکے بعد کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو محصور کیا گیا اور انکے لئے پاراچنار تک رسائی کے صرف ایک راستے ٹل پاراچنار روڈ کو بند کیا گیا اور پاراچنار پاکستانی غزا میں تبدیل ہوا۔
جو ہزاروں لوگوں کی ہلاکت پر ختم ہوا۔

۲۰۰۷ میں طالبان نے انجمن اہل سنت والجماعت کے پاراچنار کے سیکریٹری جنرل عید نظر المعروف "یزید نظر" کیساتھ ملکر ۱۲ ربیع الاول کے عید میلاد النبی کے جلوس میں "حسین مردہ باد اور یزید زندہ باد" کے نعرے لگا کر جنگ کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھے پورے پورا علاقہ میدان جنگ میں تبدیل ہوا اور پانچ ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

یاد رہے عید نظر کالعدم سپاہ صحابہ کا سرگرم رکن تھا اور اب اہل سنت والجماعت کا سرگرم رکن ہے جسطرح دیگر سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے لوگ اہل سنت والجماعت کے چھتری تلے جمع ہوئے ہیں ۔
اسکے علاوہ لشکر طیبہ کے میجر مست گل بھی آجکل پاراچنار سے متعلق خبروں میں جلوہ گر ہو رہے ہیں اور مرکزی مسجد و امام بارگاہ کے پیش امام نواز عرفانی کے اسلام آباد میں ہونے والے قتل میں دیگر دہشتگردوں کیساتھ انکا بھی نام لیا جاتا رہا ہے۔

گزشتہ آربعین میں یعنی صرف دس دن پہلے کرم ایجنسی کے علاقے بوشہرہ میں شر انگریزی کی کوشش کی گئی اور انتظامیہ نے آنکھیں بند کردیں کہ بلا ٹل جائے گا۔
اس دھماکے میں ایک طرف چوبیس افراد شہید ہوئے لیکن ایک گھرانہ پورے کا پورا برباد ہوا، بغکی نامی گاؤں کے گوہر علی اپنے دو بیٹوں قیصر علی اور نعمان علی سمیت شہید ہوئے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہر کوئی اپنی گریبان میں جھانکیں اور مزید حالات سے آنکھیں چرانا بند کریں!
آنکھیں چرانے سے آپکے حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے، سازشوں ، دہشتگردی اور فرقہ واریت کا ملکر مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کریں اور حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے لوگوں میں شعور پیدا کریں۔
آپس میں اتحاد کا موقع ضائع نہ کریں۔
تاریخ میں وہ قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو مشکل حالات میں اپنے آپ پر قابو پا کر بہتر فیصلے کریں اور ہماری قوم شہادتوں کی ایک طویل داستان رکھتی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور کوئی مسلک نہیں ہوتا، البتہ دہشتگردی کی بھینٹ چڑھنے والوں کا تعلق اکثر شیعہ مسلک سے ہی ہوتا ہے چاہے کوئٹہ میں ہو یا کراچی لاھور، ڈی آئی خان یا پاراچنار۔
‏پاکستانی کے صف اوّل کے تجزیہ کاروں کیمطابق پاکستان میں ہونے والی ہر دہشتگردی میں بیرونی ہاتھ ملوث رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاؤں ہمیشہ پاکستانی ہوتے ہیں اور دماغ کا کبھی کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔
اللہ تعالی ہماری قوم کو آئیندہ ہر قسم کے آفتوں اور دہشتگردی سے محفوظ رکھیں۔ آمین۔

No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

In case you missed Wasat Ullah Khan columns on "Saw Bars Se Jari Jang" سو برس سے جاری جنگ

In case you missed Wasat Ullah Khan columns on "Saw Bars Se Jari Jang" سو برس سے جاری جنگ | parachinarvoice |

In case you missed Wasat Ullah Khan columns on "Saw Bars Se Jari Jang"

سو برس سے جاری جنگ 

you can read it here all ten columns.

Shafiq Ahmed's insight:

In case you missed Wasat Ullah Khan columns on "Saw Bars Se Jari Jang"

سو برس سے جاری جنگ 

you can read it here all ten columns.


سو برس سے جاری جنگ ( قسط اول )

وسعت اللہ خان  ہفتہ 27 جون 2015

انگلستان کی عظمت و حرمت کے تحفظ کے نام پر ایک پوری جوان نسل کو بے وقوف جنرلوں کے احمق منصوبوں کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔جو بچ گئے وہ یہ جان کر صدمے اور مایوسی میں دھنستے چلے گئے کہ ان کے اصل دشمن جرمن نہیں بلکہ وہ بڈھے تھے جنھوں نے ان سے جھوٹ بول کے اس جنگ میں جھونکا۔چنانچہ ایک پوری نسل کا اپنی سماجی اقدار پر سے اعتبار اٹھ گیا اور انھوں نے ماضی کے ورثے سے لاتعلق ہو کے ایک نیا راستہ چن لیا۔( برطانوی مورخ سیموئیل ہینز) ‘‘۔

اگر میں کہوں کہ آج ہم جس متشدد سرطان میں مبتلا ہیں اس کی جڑیں پہلی عالمی جنگ میں ہیں تو آپ مان لیں گے ؟ انیس سو چودہ سے اٹھارہ تک کے چار برس نے اس کرہِ ارض کو ایسا تلپٹ کیا کہ سو برس بعد بھی اس کے اثرات بھگتے جا رہے ہیں۔کہا تو یہ گیا تھا کہ یہ جنگ تہذیب ِ انسانی کے تحفظ اور مستقبل کی سب جنگوں کے خاتمے کا سبب بنے گی لیکن یہ فریب تیزاب کا ایسا مرتبان نکلا جس کے ٹوٹنے سے تباہی در تباہی بہتی چلی گئی۔سو برس پہلے شروع ہونے والی یہ جنگ جانے کب تک جاری رہے۔

پہلی جنگِ عظیم سات ہزار سالہ معلوم انسانی تہذیب کا پہلا وحشیانہ عالمی تصادم تھا۔اس میں ایک کروڑ عام شہری اور نوے لاکھ فوجی مارے گئے۔دو کروڑ سے زائد انسان زخمی اور معذور ہوئے۔یہ جنگ جسے یورپی نوآبادیاتی طاقتوں کی ہوسِ برتری نے شروع کیا سوائے براعظم امریکا ہر خطے میں لڑی اور لڑوائی گئی۔یہ جنگ یورپی سامراجیوں کی کمان میں افریقی و ایشیائی غلاموںنے لڑی اور آج بھی ان ھی غلاموں کی کمر پے بیٹھ کے لڑی جارہی ہے۔

جنگِ عظیم اول نے ہمیں پہلے آہنی فوجی ہیلمٹ ، پہلے ٹینک ، پہلے جنگی طیارے ، پہلی آبدوز ، پہلے طیارہ بردار بحری جہاز ، انسان کش زہریلی گیس کے پہلے جنگی استعمال ، پہلے گیس ماسک ، پہلی فوجی عورت ، پہلی جنگی خندق ، پہلے بلڈ بینک اور پہلی ایکسرے مشین سے روشناس کرایا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پہلی بار اس عظیم جنگ کے آخری سال ( انیس سو سترہ – اٹھارہ ) میں کود کر امریکا کے منہ کو دنیا پر حکمرانی کا خونی چسکا لگا۔

یہ جنگ کئی سلطنتیں کھا گئی اور ہلا گئی۔زار کی عظیم الشان پانچ سو سالہ بادشاہت، آسٹرو ہنگیرین ایمپائر، جرمن ایمپائر اور عالی مرتبت سلطنتِ عثمانیہ نقشے سے مٹ گئی۔ برطانیہ عظمیٰ کے آفتابِ عروج پر زوال کی جھریاں پڑنے لگیں کہ جس کی کرنوں سے نصف کرہِ ارض منور تھا۔فرانس کی نصف آبادی نہ صرف ہر طرح سے کھکھل ہو گئی بلکہ سطوتِ آقائیت کی رسی بھی جل گئی البتہ بل پوری طرح دوسری عالمی جنگ نے نکالا۔

پہلی عالمگیر جنگ عالمگیر جھوٹ پے لڑی گئی۔عربوں سے دل فریب وعدے کرکے ان کے ہاتھوں سلطنتِ عثمانیہ پر آخری کاری وار کروایا گیا۔اس کا اجر بس یہ ملا کہ عربوں کی گردن میں پڑا طوقِ عثمانی طوقِ فرانسیسی و برطانوی سے بدل گیا  اور پھر ان کی پیٹھ میں صیہونی خنجر گھونپ کے آپس میں چھیچا لیدر کروا دی گئی۔افریقی نوآبادیوں اور ہندوستان  کو یہ پٹی پڑھائی گئی کہ ہمارا ساتھ دو اور بدلے میں خود مختاری لو۔لیکن جنگ کے بعد ان افریقیوں اور ہندوستانیوں کی مشکیں پہلے سے زیادہ کس دی گئیں۔

اس جنگ میں اپنے ہی سپاہیوں سے جھوٹ بولا گیا۔ بتایا کچھ کروایا کچھ۔اور جب ان سپاہیوں نے اپنے ہی خون سے لکھا وچن نبھا دیا تو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکا گیا۔

پہلی عالمی جنگ نہ ایک عام مغربی کے فائدے میں لڑی گئی، نہ ہی یہ کسی عام مشرقی کے کام کی تھی۔یہ جنگ کسی منصفانہ نظریے ، ٹھوس ملکیتی جواز یا اپنے دفاع کے لیے نہیں تھی بلکہ یورپ کے شاہوں نے تہذیب کے سینے پر سامراجی بندر بانٹ کی بساط بچھا کے کروڑوں انسانوں کو مہرہ بنا کے خونی جوا کھیلا اور پھر ہاتھ جھاڑ کے پرے ہوگئے۔

ایک تاجک کہاوت ہے کہ جہنم کا وزنی دروازہ کھولنے کے لیے ایک چھنگلی ہی بہت ہے۔

ہوا یوں کہ آسٹرو ہنگیرین سلطنت کے ولی عہد فرانز فرڈیننڈ کو کسی سرپھرے نے بوسنیا کے شہر سرائیوو میں قتل کردیا۔آسٹرو ہنگیرین بادشاہ نے سربیا پر اس قتل کا الزام لگا کے بدلہ لینے کا عہد کیا۔زارِ روس نے آسٹرو ہنگیرین سلطنت کو خبردار کیا کہ سربیا میرا اتحادی ہے۔اگر اس پر حملہ ہوا تو میں بھی کود پڑوں گا۔

جرمن بادشاہ ولیلہم نے آسٹرو ہنگیرین بادشاہ کو یقین دلایا کہ کسی بھی فوجی کاروائی کی صورت میں ہم تمہارا ساتھ دیں گے اور جرمنی کے صنعتی و فوجی حریف برطانیہ اور فرانس نے روس کو یقین دلایا کہ اگر سربیا کو بچانے کے لیے تمہاری آسٹرو ہنگیرین اور جرمن سلطنت سے مڈ بھیڑ ہوئی تو ہم تمہاری حمایت میں اعلانِ جنگ کردیں گے۔ترکی کی سلطنتِ عثمانیہ نے جرمن سلطنت کو یقین دلایا کہ جنگ کی صورت میں ہم روس ، برطانیہ اور فرانس کے مقابلے میں حاضر ہیں۔

چنانچہ اٹھائیس جولائی انیس سو چودہ کو آسٹرو ہنگیرین دستوں نے سربیا پر چڑھائی کردی۔سربیا کی حمایت میں روس کودا۔روس کی حمایت میں تین ہفتے بعد فرانس ، برطانیہ اور اٹلی کودے اور ان تینوں کی حمایت میں جاپان کود گیا۔ دوسری جانب آسٹرو ہنگیرین سلطنت کی مدد کے لیے پہلے جرمنی آیا پھر ترکی بھی آ گیا۔

بھیڑیوں کی اس لڑائی میں عرب نژاد عثمانی سپاہی عبداللہ اور چکوال کا ہندوستانی نژاد برطانوی سپاہی عنائیت خان اپنی زمین سے ہزاروں میل پرے یورپ کے اجنبی برفیلی میدانوں اور گرم افریقی بیابانوں میں اپنے اپنے آقاؤں کی نمک خواری میں ایک دوسرے پر چار برس بندوقیں تانے یہی سوچتے رہے کہ وہ کس کے لیے اور کیوں لڑوائے جا رہے ہیں۔

یہ جنگ کھلے میدان اور بند کمروں میں لڑی گئی۔باہر جرنیل ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے پیادے بھڑا رہے  تھے تو بند کمروں میں سامراجی سیاستداں بینکاروں کی مدد سے ممکنہ نوآبادیاتی مالِ غنیمت کی بندر بانٹ کے نقشے پر لکیریں کھینچ رہے تھے۔

اگلے چند کالموں میں کوشش ہوگی کہ ہم سب کا مستقبل بالعموم اور مشرقِ وسطی ، شمالی افریقہ اور ہندوستان کا مستقبل بالخصوص پہلی عالمی جنگ کے خونی قلم سے کس کس نے کیسے کیسے لکھا کہ آج سو برس بعد بھی لہو رس رہا ہے۔مقصد نہ کسی کو کو سنا نہ خود کو مظلوم ثابت کرنا ہے۔بلکہ اس حقیقت تک پہنچنا ہے جس نے ہمیں وہاں پہنچا دیا جہاں کوئی بھی جانا نہیں چاہ رہا تھا۔

نہ کوئی گلہ ہے مجھ کو نہ کوئی شکایت ہے

آج ہوں میں جو کچھ بھی یہ آپ کی عنایت ہے


سو برس سے جاری جنگ (قسط دوم)

وسعت اللہ خان  منگل 30 جون 2015

اب سے ایک سو ایک برس پہلے اٹھارہ جولائی انیس سو چودہ کو پہلی جنگِ عظیم کا بگل بجا تو اس روز عالمی جغرافیہ کچھ یوں تھاکہ ہندوستان سے آبنائے ملاکا تک کا علاقہ سلطنتِ برطانیہ کا مقبوضہ تھا۔شام تا یمن کا مشرقِ وسطیٰ سلطنتِ عثمانیہ کا مقبوضہ تھا اور شمالی افریقہ برطانیہ ، فرانس ، اٹلی اور اسپین نے عثمانیوں سے چھین کے بانٹ رکھا تھا۔اس نوآبادیاتی جغرافیے کا سب سے محکوم کردار عام مسلمان تھا۔لہذا کسی بھی دو طرفہ جھگڑے میں اس کے ساتھ بندر کی بلا طویلے کے سر والا معاملہ ناگزیر تھا۔بقول ضمیر جعفری

آقا جو لڑکھڑایا تو نوکر پھسل گیا

نومبر انیس سو چودہ کے دوسرے ہفتے میں سلطنتِ عثمانیہ کے مفتیِ اعظم نے استنبول کی الفتح مسجد کے منبر سے فتویٰ جاری کیا کہ تمام مسلمانوں پر ملعون برطانیہ ، فرانس ، روس اور ان کے دیگر ساجھے داروں کے خلاف جہاد فرض ہوگیا ہے۔ مشکل بس یہ تھی کہ جتنے مسلمان سلطنتِ عثمانیہ میں بستے تھے لگ بھگ اتنے ہی ملعونوں کے مقبوضات میں بھی رہ رہے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں جانب کے مقبوضہ مسلمان سامراجی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان آ گئے۔

برطانیہ نے اپنے زیرِ نگیں مصر سے مختلف جنگی خدمات کے لیے ایک ملین افراد بھرتی کیے۔فرانس نے اپنی نوآبادی الجزائر سے ایک لاکھ ستر ہزار ، تیونس سے اسی ہزار اور مراکش سے پینتالیس ہزار مقامی افراد جبری بھرتی کرکے یورپی محاذ پر روانہ کیے۔جنگ کے خاتمے پر ان میں سے پچیس فیصد سپاہی گھر واپس نہیں لوٹے۔ تیونس کے مورخ خلیل شریف کے مطابق فرانسیسیوں نے نوآبادیاتی سپاہیوں کو اگلے مورچوں پر اور گورے سپاہیوں کو زیادہ تر خندقوں کی جنگ میں استعمال کیا۔اس لیے غلام فوجی زیادہ مرے۔

نوآبادیاتی سپاہی جبراً لڑ رہے تھے، اس لیے فرانسیسی جرنیل ان سپاہیوں کے ڈسپلن کے بارے میں اکثر فکرمند رہتے۔جرمن مسلسل پروپیگنڈہ کر رہے تھے کہ مفتی اعظم کے فتویٰ کے بعد کسی بھی مسلمان کا سلطنت عثمانیہ اور اس کے اتحادیوں (جرمنی وغیرہ) سے لڑنا حرام ہے۔چنانچہ فتوے کے دو ہفتے بعد تیس نومبر انیس سو چودہ کو تیونس کے فوجی قلعے بیضرت میں بغاوت ہوگئی اور مقامی رنگروٹوں نے مارسیلز (فرانسیسی بندرگاہ) جانے والے جہاز میں سوار ہونے سے انکار کردیا۔ اس خبر کو الجزائر اور مراکش کے مقبوضات تک پھیلنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی اور مورخ فیصل شریف کے مطابق سو سے ڈیڑھ سو کے درمیان تیونسی باغیوں کو فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کردیا گیا۔

محاذِ جنگ پر بھی نوآبادیاتی فوجیوں میں ڈسپلن قائم رکھنے کے لیے فرانسیسی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ہر دس میں سے ایک کو نشانِ عبرت بنانے کی قدیم رومن فوجی روایت کو شمالی افریقی رنگروٹوں پر لاگو کیا۔پندرہ دسمبر انیس سو چودہ کو ’’ رجمنٹ دو مکس الجئیرز ’’کی دسویں بٹالین کے بیس الجزائری و تیونسی سپاہیوں نے جرمن پوزیشنوں کی طرف پیش قدمی سے ہچکچاہٹ دکھائی تو جنرل لا کورے نے انھیں نہتا کرکے دشمن مورچوں کی طرف بڑھنے کا حکم دیا اور اگر اس دوران دشمن سے بچ نکلیں تو ان ھی کے کامریڈ انھیں گولی سے اڑا دیں۔ فرانسیسی محقق گلبرٹ مینئر کے مطابق انیس سو پندرہ تک مختلف محاذوں پر ایسی سرسری سزائیں دینے کے تحریری احکامات جنگی ریکارڈ میں موجود ہیں مگر بعد میں ایسے احکامات زبانی جاری ہونے لگے۔

فرانسیسیوں کی جبری بھرتی مہم کے خلاف انیس سو پندرہ، سولہ میں لیبیا کی سرحد کے قریب تیونسی قصبے کبیر میں دو بغاوتیں ہوئیں جو جنگ کے بعد بھی گوریلا مزاحمت کی شکل میں جاری رہیں۔ انھیں دبانے کی کوشش میں سیکڑوں فرانسیسی فوجی ہلاک ہوئے۔ان بغاوتوں کے سرغنہ خلیفہ بن عسکر اور محمد دغباچی تھے۔ دغباچی کو انیس سو چوبیس میں پکڑ کے پھانسی دیدی گئی مگر اس کا نام لوک گیتوں کا حصہ بن گیا۔ایسی بغاوتیں عثمانی مقبوضات میں بھی ہوئیں مگر یہاں وہاں اکا دکا بغاوتوں سے قطع نظر اکثریت کے لیے فوجی بھرتی سے انکار دونوں جانب ممکن نہ تھا۔

اپریل دو ہزار پندرہ میں پہلی بار جرمنوں نے بلجئیم میں فلانڈرز کے محاذ پر کلورین گیس کے پانچ ہزار کنستر استعمال کیے۔لگ بھگ چھ ہزار فوری ہلاکتیں ہوئیں اور سیکڑوں زخمی بینائی کھو بیٹھے۔ فرانس کا پینتالیسواں اور ستاسی واں ٹیریٹوریل ڈویژن اولین کیمیاوی حملے کی زد میں آیا۔دونوں ڈویژنوں میں شمالی افریقی رنگروٹوں کی اکثریت تھی۔برطانوی مورخ ایڈورڈ سپئیرز کے بقول بعد کے گیس حملوں میں برطانوی ، فرانسیسی اور کینیڈین فوجی زیادہ متاثر ہوئے۔

عسکری تاریخ کے اس پہلے کیمیاوی حملے میں استعمال ہونے والی کلورین گیس جنگ سے دو برس پہلے ( انیس سو بارہ) برلن میں قائم ہونے والے کیسر ولیہلم انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل کیمسٹری میں تیار ہوئی۔ انسٹی ٹیوٹ کے پہلے ڈائریکٹر فرٹز ہیبر کو انیس سو اٹھارہ میں امونیا گیس سے مصنوعی کھاد بنانے کے فارمولے پر کیمسٹری کا نوبیل انعام ملا۔ اب تک اس انسٹی ٹیوٹ کے تینتیس سائنسداں نوبیل انعام حاصل کرچکے ہیں۔

یورپ کے وسطی محاذ پر کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد جنگی تعطل پیدا ہوگیا اور فریقین نے خندقوں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو مصروف رکھنے کی حکمتِ عملی اپنالی۔

اس تعطل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برطانوی ایڈمرل ونسٹن چرچل نے جرمن اتحادی ترکی کی فیصلہ کن پٹائی کا منصوبہ بنایا۔مقصد یہ تھا کہ استنبول پر قبضہ کرکے روس تک کمک پہنچانے کے لیے بحیرہ اسود تک کا راستہ کھولا جائے۔ ویسے بھی انیسویں صدی سے کوئی بھی عثمانیوں کو خاطر میں نہیں لا رہا تھا۔اس دوران عثمانیوں سے بلقان اور یونان چھن گئے۔ پھر الجزائر سے مصر تک کے شمالی افریقی مقبوضات یورپئیوں نے ہتھیا لیے۔ انیس سو گیارہ میں لیبیا بھی اٹلی نے جھپٹ لیا۔ لے دے کے شام ، فلسطین ، ولایت بغداد و موصل ، جزیرہ نما عرب اور یمن ہی عثمانیوں کے ہاتھ میں رہ گئے۔ زار نکولس اول کا یہ کہنا کچھ غلط نہ تھا کہ یورپ کے اس مردِ بیمار سے اب کوئی نہیں ڈرتا ورتا۔

چنانچہ پچیس اپریل انیس سو پندرہ کو برطانیہ ، فرانس ، یونان ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی مشترکہ افواج بحیرہ ایجین کے کنارے گیلی پولی کے ساحل پر اترنی شروع ہوئیں تو یہاں بس ایک ترک فوجی یونٹ متعین تھا۔آسٹریلوی مورخ بل سیلرز کے بقول جب تھکا ہارا ترک یونٹ پسپائی کی تیاری کر رہا تھا تو اسے مصطفیٰ کمال نامی ایک اعلی فوجی افسر کا پیغام ملا ’’ میں تمہیں لڑنے کا نہیں مرنے کا حکم دیتا ہوں۔تمہاری موت ہمیں اتنا وقت دے جائے گی کہ ہم تمہاری جگہ لے سکیں‘‘۔

مصطفی کمال کی انیسویں کور کے تین لاکھ فوجیوں میں سے پچھتر فیصد کا تعلق ولائیتِ شام و فلسطین سے تھا۔ تین میں سے دو رجمنٹیں عرب تھیں۔گیلی پولی کا معرکہ سات ماہ جاری رہا اور ترکوں نے اتحادیوں کو اکھاڑ پھینکا۔دونوں طرف سے لگ بھگ ڈھائی لاکھ فوجی کام آئے۔مگر مصطفی کمال کو معروف عرب شاعر خالد شوقی کی طرف سے خالد بن ولیدِ ثانی کا خطاب مل گیا۔

ادھر جرمنی نے یورپ کے وسطی اور مشرقی محاذ پر اتحادیوں کے جو سپاہی جنگی قیدی بنائے ان میں سے روس کی طرف سے لڑنے والے تاتاری مسلمانوں کو دیگر مسلمان جنگی قیدیوں سے الگ رکھا گیا۔شمالی افریقہ اور ہندوستان کے تین سے چار ہزار قیدی برلن کے نزدیک ہوفمین کیمپ پہنچائے گئے۔

شمالی افریقہ اور ہندوستان کے مسلمان قیدیوں کو باقیوں سے الگ رکھنے کی حکمتِ عملی مشرقِ وسطی میں ایک عرصے تک خدمات انجام دینے والے جرمن قانون دان اور ماہرِسفارت میکسویل اوپن ہائم کا آئیڈیا تھا۔( ان صاحب کا ذکر آگے بھی آئے گا)۔ حکمت یہ تھی کہ سرکردہ ترک اور عرب مذہبی رہنما کیمپ کا دورہ کریں اور اپنے ہم مذہب قیدیوں کو سمجھائیں کہ ترکوں اور ان کے اتحادیوں سے نبرد آزما ’’ مسلمان دشمن قوتوں’’ کی حمایت میں لڑنا کتنا بڑا گناہ ہے۔بعد ازاں کئی قیدی جرمنوں کی طرف سے اپنے سابق آقاؤں کے خلاف لڑے بھی۔

ہوفمین کیمپ میں ہی کیسر ولیلہم نے جیبِ خاص سے ایک چوبی مسجد بنوائی جس میں پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش تھی۔جنگ کے بعد ہوفمین کیمپ ختم ہوگیا مگر مسجد کو برلن میں رہنے والے مسلمانوں نے آباد رکھا۔ پھربرلن شہر میں ایک پختہ مسجد بن گئی اور ہوفمین کیمپ والی جرمنی کی اولین مسجد رفتہ رفتہ منہدم ہوگئی۔

سوال یہ ہے کہ برطانیہ ، فرانس اور روس کی طرح جرمنی بھی غیر مسلمان تھا۔تو پھر ایسا کیوں تھا کہ جرمنی کو تو عثمانی سلطان قابلِ اعتماد برادر سمجھتے رہے اور باقی یورپی طاقتوں کو کٹر دشمن ؟ اس پالیسی کے کیا کیا فائدے اور نقصانات ہوئے اور اس پالیسی سے مسلمان دنیا کو کیا ملا اور کیا چھنا؟


سو برس سے جاری جنگ ) قسط سوم (

وسعت اللہ خان  ہفتہ 4 جولائ 2015

پہلی عالمی جنگ کے اثرات کے بارے میں بات کرتے کرتے گزشتہ قسط میں یہ سوال بھی اٹھا کہ خلافتِ عثمانیہ چار سو برس تک مسلم سنی اکثریت کی سیاسی و روحانی ترجمانی کی دعوے دار رہی تو پھر جرمنی کے ساتھ اس کی قربت کا کیا راز تھا اور دیگر یورپی طاقتوں سے اس قدر مخاصمت کیوں تھی جب کہ جرمنی سمیت سب ہی یورپی طاقتیں غیر مسلمان تھیں۔

اٹھارہ سو تیس تک خطہِ بلقان ( جنوبی یورپ ) اور میسو پوٹامیا ( عراق ) سے الجزائر تک چاند ستارے والا سرخ عثمانی پرچم لہراتا رہا۔ لیکن اگلے نوے برس کے دوران بلقان کو روسی زاروں کے حمایت یافتہ سلاوک قوم پرستوں نے ترکوں سے واگزار کروا لیا اور شمالی افریقہ ترکی کے ہاتھ سے نکل کر برطانیہ، فرانس، اسپین اور اٹلی میں بٹ بٹا گیا۔ چنانچہ اٹھارہ سو چھہتر سے انیس سو نو تک تخت آرا سلطان عبدالحمید اول کا یہ خدشہ یکسر بے بنیاد  نہ تھا کہ یورپی نوآبادیاتی قوتیں اگلے مرحلے میں غیر ترک عثمانی رعایا کو ورغلا کر بچی کھچی عثمانی سلطنت کا بھی تیا پانچا کرنا چاہتی ہیں۔

مگر جرمنی واحد یورپی طاقت تھا جس نے دیگر یورپی طاقتوں  سے عسکری و نوآبادیاتی مخاصمت کے سبب ترکی سے بنا کے رکھنے میں دلچسپی لی۔ اپنی نوآبادیاتی قبضے کی پالیسی مشرقی اور جنوب ہائے افریقہ تک محدود رکھی  اور عثمانیوں کے زیرِ نگیں علاقوں پر نگاہِ ہوس رکھنے سے گریز کیا اور ترکی سے اسٹرٹیجک، سیاسی و تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی مثبت پالیسی اپنائی۔

کیسر ولیہلم نے اٹھارہ سو نواسی میں استنبول کا اور اٹھارہ سو اٹھانوے میں فلسطین و دمشق کا دورہ کیا۔ حیفہ کی بندرگاہ سے انھیں یروشلم تک جلوس کی شکل میں لایا گیا اور دمشق میں کیسر نے صلاح الدین ایوبی کے مزار پر حاضری دینے کے بعد اعلان کیا کہ میں اپنی جیب سے مزار کی مرمت و تزئین و آرائش کراؤں گا۔ عرب جذباتی ہو گئے اور انھوں نے ولیہلم کو حاجی ولیہلم  کا لقب دے دیا۔ یوں عالمِ اسلام میں سلطنتِ عثمانیہ کے اکثر عقیدت مندوں کو جرمنی سے بھی انسیت ہوتی چلی گئی۔ ویسے بھی دونوں کے مشترکہ دشمن انھیں فطری اتحادی بنانے کے لیے کافی تھے۔ حریف یورپی طاقتوں کے مقابلے میں جرمنی جیسی صنعتی و عسکری قوت کی مدد سے ترکی کو اپنے معاشی و فوجی ادارے کسی حد تک جدیدیانے کا موقع ملا اور جرمنی کو بھی علاقائی توازنِ طاقت برقرار رکھنے کے لیے ترک سلطنت کی اسٹرٹیجک اہمیت کا مسلسل احساس رہا۔

کیسر ویلہلم کے نزدیک یورپ میں ایک ہی طاقت جرمنی کے ہم پلہ تھی۔ یعنی عظیم بحری قوت کا مالک آدھی دنیا کا حکمران برطانیہ۔ جرمن خارجہ پالیسی کا محور بھی برطانوی عزائم کو لگام دینا تھا اور عثمانیوں سے بہتر تعلقات اس پالیسی کا بنیادی پتھر تھا۔ کیسر ویلہلم نے عثمانیوں اور ان کے زیرِ نگیں عربوں کے دل جیتنے کا کام تجربہ کار سفارتکار، قانون داں،  مشرقِ وسطی کے سرکردہ محقق اور آرکیالوجسٹ میکسویل اوپن ہائم کے سپرد کیا۔

اوپن ہائم  نے سلطنتِ عثمانیہ کے مختلف علاقوں کا بطور سیاح وسیع سفر کیا اور پھر شمالی شام میں چھ ہزار قبلِ مسیح کی بستی طل احلاف کے کھنڈرات دریافت کر کے عثمانیوں کو اپنے علمی و تحقیقی وقار کا قائل کیا۔ اوپن ہائم نے برلن تا بغداد ریلوے کا نہ صرف نقشہ بنایا بلکہ جرمن کمپنی سیمنز کو اس منصوبے پر سرمایہ کاری  کے لیے آمادہ کیا۔ جرمن بھانپ چکے تھے کہ انیس سو آٹھ میں ایران میں تیل کی دریافت کے بعد بلادِ شام و عراق میں بھی تیل ملنے کے امکانات روشن ہیں اور برطانیہ کا مقابلہ کرنے کے لیے مستقبل کے ایندھن سے ممکنہ طور پر مالامال اس علاقے پر سیاسی و اسٹرٹیجک اثر و رسوخ پکا کرنا کتنا ضروری ہے۔ برلن بغداد ریلوے منصوبہ سینتیس برس میں مکمل ہوا مگر جنگ شروع ہو گئی اور دنیا ہی بدل گئی۔

انیس سو آٹھ کے بعد سے عثمانی دربار میں جدیدیت کے حامی اصلاح پسندوں المعروف ینگ ٹرکس کا غلبہ بڑھتا گیا۔ بظاہر تو سلطان  کا سکہ چلتا تھا لیکن سب جانتے تھے کہ اصل اختیارات جواں سال وزیرِ جنگ انور پاشا اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھ میں ہیں۔ انور پاشا کی فوجی تربیت جرمنی میں ہوئی۔  وہ بسمارک کا مداح تھا اور روانی سے جرمن بول سکتا تھا۔ انور پاشا کے نزدیک اقتصادی، سائنسی اور عسکری ترقی کا دوسرا نام جرمنی تھا۔

اٹھائیس جولائی انیس سو چودہ کو جنگ شروع ہوئی تو جرمنوں سے انور پاشا کی بات چیت شروع ہو گئی اور صرف چار دن میں دو طرفہ تعاون کا معاہدہ طے پا گیا۔ مگر اس معاہدے کو ترکی کی جانب سے رسمی اعلانِ جنگ تک خفیہ رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ ترک قیادت  کا خیال تھا کہ ہماری افرادی قوت اور جرمن عسکری طاقت  کے مشترکہ استعمال سے جنگ مختصر رہے گی۔ جرمنوں کا بھی یہی خیال تھا کہ مسلمانوں کی اکثریت چونکہ سلطنت ِ عثمانیہ کو سیاسی و روحانی مرکز مانتی ہے  لہذا یورپی نوآبادیات کے مسلمان جہاد کی اپیل کے نتیجے میں اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اور برطانیہ و فرانس کی توجہ اپنی نوآبادیات سنبھالنے میں بٹ جائے گی۔ یوں جنگ آسانی سے جیت لی جائے گی۔

مگر برطانیہ نے جنگ چھڑتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ اٹھارہ سو بیاسی سے اپنے زیرِ اثر نیم خود مختار عثمانی صوبے مصر پر قبضہ کیا اور وہاں جبری بھرتی کا آغاز کر دیا۔ لگ بھگ بارہ لاکھ مصریوں کو برطانیہ نے اگلے چار برس یورپ، شمالی افریقہ اور بلادِ شام کی فوجی مہمات میں خوب استعمال کیا۔ جنگ کے خاتمے کے بعد جرمن جنرل ایرک لوڈنڈوف کے بقول عثمانیوں کی جنگ میں شمولیت کے بعد ہی وسطی یورپی طاقتیں ( آسٹریا اور جرمنی ) جنگ کو طول دینے کے قابل ہو سکیں ورنہ تو دو برس میں ہی خاتمہ ہو جاتا۔

مگر جنگ شروع ہونے تک مغربی مورخین کی رائے کے برعکس عام عربوں کے دل میں عمومی طور پر سلطنتِ عثمانیہ کے لیے معاندانہ جذبات نہیں تھے۔ عرب مورخ عواد حلابی کہتے ہیں کہ اگر عثمانی اقتدار سے عرب اتنے ہی بیزار ہوتے جیسا کے اکثر مغربی مورخین بتاتے ہیں تو جنگ سے پہلے بلادِ شام  ( جدید شام، لبنان، اردن، فلسطین ) اور بلادِ موصل و بغداد کے تین لاکھ عرب سپاہی عثمانی افواج میں خدمات انجام نہ دے رہے ہوتے۔ نو سینئر عثمانی فوجی کمانڈروں میں سے دو البانوی، دو کاکیشیائی، دو عرب اور ترک صرف تین تھے۔ سلطان کا وزیرِ اعظم سعید حلیم پاشا بھی عرب نژاد تھا۔

البتہ جب ترکی جنگ میں کود پڑا تو اس پر برطانیہ و فرانس اور ان کی نوآبادیوں کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کے سبب عربوں کی روزمرہ زندگی اجیرن ہونے لگی اور راشننگ نے اشیائے خور و نوش و ایندھن کی قلت اور بڑھا دی۔ چنانچہ اردنی مورخ علی محافظ کے بقول شریفِ مکہ و مدینہ حسین بن علی نے عثمانی وزیرِ اعظم کو لکھا کہ جنگ میں شمولیت کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی جائے۔ یہ جنگ ترکی، بالخصوص عربوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی۔

جنگ سے پہلے تک سلطنت کی باگ ڈور سنبھالنے والے جدت پسند ینگ ٹرکس اختیارات کی غیر مرکزیت، عثمانی صوبوں کو مرحلہ وار  آئینی خود مختاری دینے اور سماجی جدت کاری کے پرزور حامی تھے۔ اس بارے میں پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچا جا رہا تھا۔ مگر جنگ چھڑتے ہی سب منصوبے ملتوی ہو گئے اور عرب صوبوں کے قوم پرست حلقوں میں مایوسی بڑھنے لگی۔

ینگ ٹرکس کو جنگ سے پہلے ہی شبہ ہونے لگا کہ عرب قوم پرستوں کو برطانیہ اور فرانس کی جانب سے خفیہ شہہ مل رہی ہے۔ چنانچہ جنگِ شروع ہوتے ہی قوم پرستوں اور ان کے حامیوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی۔ مرکزی حکومت نے سخت گیر جنرل جمال پاشا کو بلادِ شام کا گورنر مقرر کیا۔ اسے یہ ذمے داری بھی سونپی گئی کہ مصر کو برطانیہ سے چھڑوایا جائے۔ چنانچہ جنوری انیس سو پندرہ میں ترک دستوں نے صحرائے سینا پار کرتے ہوئے نہر سویز عبور کرنے کی کوشش کی۔ لیکن برطانوی دستوں نے حملہ پسپا کر دیا اور پانچ سو ترک سپاہیوں نے بغیر لڑے ہتھیار بھی ڈال دیے۔ ان میں اکثریت عرب سپاہیوں کی تھی۔

یہی وقت تھا جب برطانیہ اور فرانس نے عام عربوں کو خلافتِ عثمانیہ سے عمومی سطح پر برگشتہ کرنے کے لیے مناسب متبادل کی تلاش شروع کر دی اور ان کی نگاہِ انتخاب حسین  ابن علی عرف شریفِ مکہ پر پڑی جن  کا شجرہ اہلِ بیت تک جاتا تھا اور مکہ اور مدینہ کی کلید برداری بھی دورِ عباسیہ سے ان ھی  کے خاندان کے پاس تھی۔ برطانوی و فرانسیسی منصوبہ ساز سمجھتے تھے کہ ایک عام عرب کو خلافت سے برگشتہ کرنے کے لیے بطور روحانی متبادل شریفِ مکہ کا پروفائیل چاروں خانے فٹ ہے۔ اگر یہ جوا کامیاب ہو گیا تو پھر جنگی میدان میں کامیابی بچوں کا کھیل ہے۔ اور پھر برطانیہ اور فرانس کا غیر اعلانیہ جنگی پلان بی حرکت میں آ گیا۔


سو سال سے جاری جنگ ) قسط چہارم(

وسعت اللہ خان  منگل 7 جولائ 2015

گذشتہ مضمون میں تذکرہ ہو ہو چکا ہے کہ جنگِ عظیم اول کا آغاز ہوتے ہی جرمن ترک اتحاد نے فرض کرلیا کہ عثمانی سلطانِ معظم کی جانب سے جہاد کا فتویٰ جاری ہوتے ہی شمالی افریقہ کی مسلمان نوآبادیاں اپنے  یورپی آقاؤں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں گی اور یوں ہمیں مختصر وقت میں فتح نصیب ہوجائے گی۔ برطانیہ اور فرانس کی مسلمان کالونیاںتو خیر کیا بغاوت کرتیں۔الٹا عثمانی حکمران اپنی غیر ترک رعایا کی وفاداری کی بابت شکوک میں مبتلا ہوتے چلے گئے اور مشکوک رعایا کو ساتھ رکھنے کے لیے دل جیتنے کے بجائے سختیوں کا سہارا لیا گیا اور یہی سختیاں وہ دلدل بن گئی جس میں پھنس کے چار سو سالہ سلطنتِ عثمانیہ کو غائب ہونے میں بس چار برس لگے۔ ظاہر ہے ان حالات کا برطانیہ اور فرانس نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔اور کیوں نہ اٹھاتے۔محبت اور جنگ میں تو سب جائز ہی ہوتا ہے۔

مثلاً شریف مکہ حسین ابنِ علی ہوں یا بلادِ شام کے عرب قوم پرست۔ سب کا خیال تھا کہ ترکی اگر جنگ میں کودا تو ہاتھیوں کی لڑائی میں بڑا نقصان عرب گھاس کا ہوگا۔جنگ میں عثمانی سلطان کی جانب سے کودنے کے یکطرفہ فیصلے نے عرب قوم پرستوں کی سیاسی محرومی کو بے چینی میں بدل دیا۔وہ پہلے ہی استنبول میں برسرِ اقتدار ینگ ٹرکس کی جانب سے سیاسی اصلاحات اور غیر مرکزیت کے وعدے انیس سو آٹھ کے بعد سے مسلسل ملتوی ہونے پر تپے بیٹھے تھے اور اب تو یہ وعدے اور امیدیں جنگ کی زد میں آ چکے تھے۔عثمانی اسٹیبلشمنٹ قوم پرستوں کی بے چینی کے اسباب پر غور کرنے اور تحمل سے نمٹنے کے راستے تلاش کرنے کے بجائے ترنت اس نتیجے پر پہنچی کہ ہو نہ ہو اس نازک موقع پر عربوں کو یہ پٹی سلطنت کے حصے بخرے کرنے کے خواہش مند برطانیہ اور فرانس نے پڑھائی ہے۔

نومبر انیس سو چودہ میں جنگ میں ترکی کی شمولیت کے صرف دس روز بعد بحریہ کے سخت گیر وزیر جمال پاشا کو بلادِ شام ( موجودہ شام ، لبنان ، اردن ، فلسطین ) کا گورنر بنا کے بھیجا گیا۔اسے یہ ذمے داری بھی دی گئی کہ اندرونی بے چینی کو دبانے کے ساتھ ساتھ مصر کو بھی برطانیہ سے واپس لے جو گذشتہ تین عشروں سے برطانیہ کے زیرِ اثر ایک رسمی عثمانی صوبہ بن کے رہ گیا تھا۔جمال پاشا نے مصر پر فوج کشی ضرور کی مگر بغیر جنگ کے پسپا ہونا پڑا۔لیکن اس ناکامی کا الزام عرب سپاہیوں کی غداری پر دھر دیا گیا۔

عربوں کی نگاہ سے دیکھا جائے تو گورنر جمال پاشا کادور بدعنوانیوں ، مخبری ، قحط سالی اور تشدد کا تاریک زمانہ تھا۔لبنانی مورخ ایسام خلف کے بقول قوم پرستوں سے ناطے کا جس جس پیذرا بھی شک ہوا دھر لیا گیا۔اس دور کی عثمانی ڈکشنری میں عرب قوم پرست اور برطانیہ و فرانس کا ایجنٹ ایک برابر تھا۔ ہزاروں عرب جلا وطن ہوئے یا زیرِِ زمین چلے گئے۔ سیکڑوں کو طویل قید سنائی گئی۔حیفہ ، بیروت اور دمشق میں بتیس عرب سیاسی کارکنوں اور دانشوروں کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ گویا عرب انٹیلی جینشیا کے خلاف اعلانِ جنگ ہوگیا۔( جمال پاشا کا یہ طرزِ حکمرانی آج تک تک بیشتر عرب قیادت کا منشور بنا ہوا ہے )۔

مگر جنگ صرف عرب قوم پرستوں پر ہی مصیبت نہیں لائی۔جبر اور جنگ کی فضا میں ہر سیر بھر گیہوں کے ساتھ من بھر گھن بھی تو پستا ہے۔پہلی عالمی جنگ میں اگر آبادی وار متاثرین کو دیکھا جائے تو جرمن سلطنت کی نو فیصد ، سلطنتِ فرانس کی گیارہ فیصد اور سلطنتِ عثمانیہ کی لگ بھگ بیس تا پچیس فیصد آبادی جنگی صعوبتوں کا نشانہ بنی۔

مثلاً عثمانی بلادِ شام میں لبنان کے خطے کو ہی لے لیجیے۔صرف چار برس میں وہاں کی ایک تہائی آبادی مر گئی اور ایک تہائی دربدر ہوگئی۔اقتصادی ناکہ بندی کے سبب چونکہ بیرونِ ملک مقیم لبنانی گھر پیسے نہیں بھیج سکتے تھے لہذا قلیل خوراک کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں نے گاؤں کے گاؤںبھک مری اور قحط میں فنا کردیے۔کئی علاقوں میں نوبت عصمت فروشی تک آ گئی۔ سیر بھر غلے کے لیے مہاجن زمین کے کاغذات گروی رکھنے لگے۔ ایک لبنانی خاتون میمونہ الامین کا انتقال حال ہی میں ایک سو ایک برس کی عمر میں ہوا۔میمونہ نے بتایاکہ ’’ ایک بار میری ماں نے سونے کی بالیاں دے کر مٹھی بھر آٹا لیا۔ہم لوگ اپنا پہاڑی گھر چھوڑ کے خوراک کی تلاش میں جنگلات میں آ گئے۔وہاں ہم جیسے بے آسرا خاندان گھاس میں تھوڑا سا آٹا ملا کر روٹی سی بنا لیتے۔ بہت سے بچے یہ غذا برداشت نہ کر پاتے اور سامنے سامنے جان دے دیتے ’’۔

جنگ سے پہلے عرب نوجوان خوشی خوشی عثمانی سپاہ میں بھرتی ہوتے تھے لیکن جب اسٹیبلشمنٹ نے لوگوں کو پکڑ پکڑ کے بھرتی کرنا شروع کیا تو بہت سے جوان زنانہ کپڑوں میں فرار ہونے لگے۔

برطانویوں کا خیال تھا کہ میسو پوٹامیا ( عراق ) نہ صرف لندن اور ہندوستان کے درمیان زمینی راہداری کی کنجی ہے بلکہ دفاعی لحاظ سے یہ جنوبی صوبہ عثمانیوں کی فوجی کمزوری بھی ہے۔ اگر اس پر قبضہ ہوجائے اور دوسری جانب مصر میں موجود برطانوی سپاہ آگے بڑھ کے فلسطین کے راستے دمشق تک پہنچ جائے تو سلطنتِ عثمانیہ کی کہانی ختم۔

برطانوی فوج نے انیس سو سولہ میں بصرہ کی جانب سے ہلا بولا اور قریباً چھ لاکھ سپاہ ( جس میں ہندوستانی سپاہیوں کی اکثریت تھی ) کو عراق سر کرنے کے لیے مختص کیا۔مگر انگریزی اندازے غلط ثابت ہوئے اور قوت الامارہ کی لڑائی میں عثمانیوں نے ڈیڑھ لاکھ انگریزی سپاہ کی طبیعت صاف کردی۔ انگریزی فوج کے جتنے ہندوستانی سپاہی ہلاک و زخمی ہوئے اتنے ہی جنگی قیدی بھی بنے اور پھر ان جنگی قیدیوں کو ہنکال کے ولائت ِموصل اور شام کی جانب لے جایا گیا۔کچھ راستے میں مرے اور باقیوں کو جنگی بیگار پر لگا دیا گیا۔ہندوستانی انگریزی سپاہ کا ایک بڑا حصہ ہیضے ، ملیریا اور جوؤں سے پھیلنے والے ٹائفس سے بھی متاثر ہوا اور پھر ان امراض نے عام عراقیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جتنی انگریزی سپاہ  بیماریوں سے ہلاک ہوئی اتنے ہی عراقی بھی ان سے لگنے والی وباؤں کا رزق ہوئے۔جو عراقی اس ابتلا سے بھاگ کر ملک کے شمال اور پھر کاکیشیا تک پہنچے وہ زادِ راہ میں ٹائفس اور دست کی بیماریاں بھی لے گئے اور انھیں نئے میزبانوں تک بھی پہنچا دیا۔

سلطنتِ عثمانیہ کو دوسرا دھکا مشرق کی جانب سے لگا۔مگر یہ دھکے سے زیادہ ’’خود کردہ را علاج نیست ’’ والامعاملہ تھا۔ اٹھارہ سو اٹہترمیں روسیوں نے سلطنتِ عثمانیہ کی لاغری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آرمینیا اور مشرقی اناطولیہ کا کچھ حصہ چھین لیا۔جب نومبرانیس سو چودہ میں ترکی عالمی جنگ کا حصہ بنا تو وزیرِ جنگ انور پاشا نے روس سے یہ علاقے واپس لینے کے لیے موقع غنیمت جانا۔انور کے اتحادی جرمنوں کو اس پر بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا کیونکہ اگر ترکی روسی فوجوں کا ایک بڑا حصہ آرمینیا اور مشرقی اناطولیہ کے پہاڑوں میں پھنسا لے تو یورپی محاذ پر روس کی قوت اور توجہ بٹ جائے گی اور اس کا فائدہ بہرحال جرمنی کو ہی ہوگا۔جب کہ انور پاشا کا تجزیہ یہ تھا کہ چونکہ روس کا بنیادی دھیان یورپ میں جرمن فوجی ہوے کی جانب ہے لہذا اگر ترک سپاہ مشرقی محاز پر اچانک فوج کشی کر دے تو کم ازکم جانی نقصان کے ساتھ پرانا علاقہ واگذار ہو سکتا ہے۔

اور پھر انور پاشا نے عین انیس سو پندرہ کے موسمِ سرما میں یہ سوچ کر جنگی نقارہ بجا دیا کہ برفباری سے بند راستوں کے سبب روسی بروقت اضافی کمک نہیں پہنچا سکیں گے۔ (کچھ ایسی ہی بات اٹھارہ سو چار میں نپولین نے بھی روس میں گھستے سمے سوچی تھی اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ اس مغالطے کی نپولین نے کیا قیمت چکائی)۔ انور پاشا نے موسمیاتی مفروضے پر جو ہاتھ دشمن کے ساتھ کرنا چاہا وہ ہاتھ الٹا ترکی  کے ساتھ ہو گیا۔سرپرائیز اٹیک کے چکر میں جب ترک تھرڈ آرمی عجلت میں مشرقی اناطولیہ کی جانب روانہ کی گئی تو نہ ہی مناسب ہتھیار تھے اور نہ موسم کی سختیاں جھیلنے کے لیے مناسب وردیاں اور جوتے۔ جب یہ تھکی ہاری سپاہ سرکامش کے مقام پر روسیوں کے مقابل آئی تب تک سرد موسم اور ٹائفس ساٹھ ہزار ترک فوجی کھا چکا تھا اور بقیہ سپاہ روسیوں کے لیے بچوں کا کھیل تھی۔( اس مہم کے ٹھیک تیس برس بعد ہٹلر نے بھی روس پر یہی سوچ کے فوج کشی کی جو نپولین اور پھر انور پاشا بھگت چکا تھا )۔

ترکی کے لیے یہ ناقص فوجی مہم جوئی ایک بہت بڑا عسکری صدمہ تھا۔مگر انور پاشا کا کوئی بال بیکا نہ ہوا اور مہم کی ناکامی کا تمام الزام مشرقی اناطولیہ میں آباد آرمینائیوں کی مبینہ غداری پر جڑ دیا گیا۔اپریل انیس سو پندرہ میں ترکی میں آباد غدار آرمینیائی شہریوں سے بدلے کی مہم شروع ہوئی۔مرد یا تو مار دیے گئے یا پھر بیگار کے لیے لیبر بٹالینوں میں بھیج دیے گئے۔بوڑھوں ، عورتوں اور بچوں کو گھروں سے اکھاڑ کے بلادِ شام کی جانب پاپیادہ ہانک دیا گیا۔بہت سے راستے میں ہی مر گئے۔الغرض لگ بھگ ڈیڑھ برس میں آٹھ لاکھ آرمینیائی موت سے ہم کنار اور ایک ملین دربدر ہوئے۔اس ٹریجڈی کے ہدائت کار وزیرِ داخلہ طلعت پاشا نے حکومت کو بری الزمہ قرار دیتے ہوئے کہا ’’روسیوں نے کاکیشیا کے مسلمانوں کو ترکی میں دھکیلا تو ہم نے آرمینیائیوں کو شام میں دھکیل دیا ’’۔

اور عین اس وقت مشرقِ وسطی کے میدانوں سے دور بہت دور ایک بند کمرے میں دو افراد اس یقین کے ساتھ نقشہ بچھا کے اس پے سرخ اور نیلی لکیریں لگا رہے تھے کہ جب سلطنتِ عثمانیہ ختم ہوگی تو ترکہ کیسے اور کنہیں کنہیں بٹے گا۔


سو سال سے جاری جنگ ( قسط پنجم )

وسعت اللہ خان  ہفتہ 11 جولائ 2015

پہلی عالمی جنگ نے مرتی ہوئی سلطنتِ عثمانیہ کے پیٹ سے تین قوم پرست تحریکوں کو جنم دیا۔ ترک قوم پرست تحریک کہ جس نے بعد از جنگ نیم مردہ عثمانی سلطنت کا کفن دفن کیا۔ عرب قوم پرست تحریک کہ جو شریف ِ مکہ و مدینہ حسین ابنِ علی کے ہاتھوں جنم ہوئی اور پھر اس تحریک کے بچوں نے آگے چل کے طرح طرح کی نظریاتی شکلیں اختیار کیں اور صیہونی تحریک کہ جسے ارضِ فلسطین میں پلاٹ الاٹ ہوا۔ ترک قوم پرست تحریک کو چھوڑ کے باقی دونوں ( عرب، صیہونی) تحریکوں کے نقشوں میں ابتدائی رنگ سامراجی ڈرائنگ بورڈ پہ بھرے گئے لیکن بعد میں عرب قوم پرست تحریک سامراجی گرفت سے نکل گئی مگر سامراجیوں نے اس تحریک کو صیہونی تحریک کے ذریعے مسلسل یرغمال  کیے رکھا اور آج تک ایسا ہی ہے۔

جیسے ہی سلطنتِ عثمانیہ نے نومبر انیس سو چودہ میں جرمنوں کی حمایت میں جنگ میں شمولیت اختیار کی۔ روس، برطانیہ اور فرانس نے مستقبل میں ہونے والی ممکنہ بندر بانٹ کے دعوے تیار کرنے شروع کر دیے یعنی حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ کا انتظام ہونے لگا۔ مارچ انیس سو پندرہ میں روس نے اعلان کیا کہ وہ فتح کی صورت میں آبنائے استنبول پر قبضہ رکھے گا تاکہ بحیرہِ روم سے بحیرہِ اسود کو ملانے والا یہ تنگ راستہ آیندہ کبھی بھی روس کی اقتصادی و اسٹرٹیجک کمزوری نہ بن سکے۔ فرانس نے روسی دعوی قبول کرتے ہوئے اپنی فرمائش جاری کردی کہ اسے تو بعد از جنگ ترکے میں صرف بلادِ شام اور ترکی کے جنوب مشرقی ساحل سے دلچسپی ہے۔

جب کہ جون انیس سو پندرہ میں برطانیہ نے اعلان کیا کہ وہ تو بس اتنا چاہتا ہے کہ ترکوں پر فتح کے بعد اسے عدن تا سویز پورا بحیرہ احمر اور خلیجِ فارس تا میسو پوٹامیا ( عراق ) اور پھر فلسطین کی پٹی مل جائے تا کہ جب برطانوی ہندوستان سے آدمی یا مال چلے تو وہ براستہ خلیجِ فارس بغداد پہنچے۔ وہاں سے ریل میں بیٹھ کے ( جو ابھی تعمیر ہونی ہے) فلسطین کی بندرگاہ حیفہ تک جائے اور پھر بحیرہ روم کے ذریعے براعظم یورپ عبور کرتا ہوا آرام سے لندن میں اتر جائے اور یوں ہندوستان تا برطانیہ ہفتوں کا سفر دنوں میں طے ہو جائے۔ اور اگر خوش قسمتی سے خلیج یا میسو پوٹامیا  میں کل کلاں تیل نکل آتا ہے تو وہ بھی اسی راستے سے برطانیہ پہنچ جایا کرے اللہ اللہ خیر صلا۔

یہ تھے اصل سامراجی مقاصد کہ جنھیں حاصل کرنے کے لیے انیس سو پندرہ تا سترہ تین علیحدہ علیحدہ خفیہ محاذوں پر ایک ساتھ کام کیا گیا۔ اور تین متضاد سمجھوتے کیے گئے۔ شریفِ مکہ اور دیگر عرب قوم پرستوں سے وعدہ کیا گیا کہ اگر وہ ترک جُوا اپنے کندھے سے اتارنے کے لیے برطانیہ اور فرانس کی مدد کو تیار ہوں تو پھر شام تا یمن کا علاقہ عربوں کا۔ صیہونیوں سے وعدہ کیا گیا کہ اگر وہ دور بیٹھے امریکا کو جنگ میں کدوانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں تو پھر فلسطین میں ایک عدد یہودی ریاست ان کی۔ عربوں اور صیہونیوں کو اپنے اپنے کام پر لگا کر اور روس کا آبنائے استنبول پر دعوی تسلیم کرنے کے بعد تیسری جانب برطانیہ اور فرانس بندر بانٹ کے اصل ڈرائنگ بورڈ پر سر جوڑ  کے بیٹھ گئے۔

انیس سو پندرہ کے وسط میں جب وسطی یورپ کے محاذ پر جنگ تعطل کا شکار ہوگئی تو مشرقِ وسطی کا محاذ گرم کرنے پر توجہ دینے کے لیے اتحادیوں کو وقت مل گیا۔ شریف حسین کے ساتھ مصر میں متعین برطانوی ہائی کمشنر سر ہنری میکموہن مسلسل رابطے میں رہے ( یہ وہی موصوف ہیں جنہوں نے انیسویں صدی کے آخر میں برٹش انڈیا اور تبت کے درمیان سرحدی حد بندی کی جو آج بھی میک موہن لائن کہلاتی ہے )۔

دمشق میں عرب قوم پرستوں کا خفیہ اجلاس ہوا اور ترک گورنر جمال پاشا کی عرب کش پالیسیوں کی مزاحمت کے لیے برطانیہ اور فرانس کی طرف جھکاؤ کو جائز سمجھتے ہوئے شریفِ مکہ حسین ابنِ علی کی قیادت میں بغاوت ِ عام کا فیصلہ ہوا۔ اس اجلاس میں شریف حسین کا بیٹا فیصل بھی شریک تھا۔ اس نے قوم پرستوں کے مطالبات کاغذ پر لکھ کر جوتے کے تلوے میں چھپائے اور طائف روانہ ہو گیا۔ وہاں پر شریف خاندان کے تصورات پر یمن سے شام تک کا عظیم عرب نقشہ چھایا ہوا تھا کہ جس پر خاندانِ شریف کی حکمرانی کا جھنڈا لہرایا جانا تھا۔

چنانچہ پانچ جون انیس سو سولہ کو شریف حسین نے عرب بغاوت کا بگل بجا دیا۔ اس کے بیٹے فیصل کی قیادت میں ترکوں کی سپلائی لائن یعنی حجاز ریلوے جگہ جگہ سے اکھاڑنے کا کام شروع کر دیا گیا۔ تاہم ٹرانس اردن کے بدو قبائل عثمانی سلطنت سے بدستور وفادار رہے اور انھوں نے عرب قوم پرست دستوں کی شدید مزاحمت کی۔ لیکن انیس سو اٹھارہ میں جنگ کا پانسہ پلٹنا شروع ہوا۔ جب برطانوی جنرل ایلن بی یروشلم میں فاتحانہ داخل ہوا تو امیر فیصل کے دستے بھی اس کے شانہ بشانہ تھے۔ اور پھر جب دو اکتوبر انیس سو اٹھارہ کو ترک ولایت شام کے ہیڈ کوارٹر دمشق میں برطانوی فوجیں داخل ہوئیں تب بھی امیر فیصل ہمراہ تھا۔

گیارہ نومبر انیس سو اٹھارہ کو جرمنی اور ترکی نے ہتھیار ڈال دیے اور جنگ بندی ہو گئی۔ انیس سو انیس میں پیرس امن کانفرنس ( منعقدہ ورسائے پیلس ) میں شریف حسین کا بیٹا امیر فیصل اس امید کے ساتھ شریک ہوا کہ نئے نقشے میں فاتح طاقتیں ( برطانیہ ، فرانس ) اس کے سر پر آزاد عرب مملکت کا تاج خوشی خوشی رکھ دیں گی۔ لیکن فیصل کو اس وقت زندگی کا سب سے بڑا صدمہ پہنچا جب یہ اعلان ہوا کہ سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ رہنے والے عرب علاقوں کو فوری آزادی نہیں ملے گی بلکہ انھیں کچھ عرصے کے لیے برطانیہ اور فرانس کی عارضی مینڈیٹ میں رکھا جائے گا تا کہ عربوں کو رموزِ حکمرانی سکھائے جا سکیں۔ جب وہ یہ امتحان پاس کرلیں گے تو پھر انھیں مکمل آزادی مل جائے گی اور استادی شاگردی کے اس انتظام کا نام مینڈیٹ (نظامِ انتداب ) ہو گا۔ اس انتظام کے تحت مصر اور میسو پوٹامیا برطانوی شاگردی میں رہیں گے اور شام و لبنان فرانسیسی شاگردی میں۔ ظاہر ہے کہ یہ سنتے ہی عرب آپے سے باہر ہو گئے۔

مصر جس نے جنگ میں برطانیہ کو سب سے زیادہ افرادی قوت فراہم کی تھی وہاں بغاوت ہو گئی اور برطانیہ بہت مشکل سے دبا سکا۔ امیر فیصل نے اس استادی شاگردی نظام کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے کھلا دھوکا قرار دیا اور دمشق پہنچ کر یکطرفہ بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان کے صرف چار ماہ بعد پیرس امن کانفرنس کی مینڈیٹ سے مسلح فرانسیسی افواج نے فیصل کے مٹھی بھر دستوں کو جنگِ میسلون میں تباہ کر دیا اور فیصل کو دمشق سے بھاگنا پڑا۔ مگر برطانویوں کو فیصل کی جنگی خدمات پر ترس آ گیا اور انھوں نے بطور اشک شوئی اسے جنگ کے بعد ابھرنے والی نئی مملکتِ عراق کی زیرِ انتداب بادشاہی تھما دی اور اس کے بھائی کو ٹرانس جارڈن کا حکمران بنا دیا اور مکہ و مدینہ پر بھی شریف خاندان کی اجارہ داری اگلے کچھ برس برقرار رکھی گئی حتی کہ برطانیہ کو شریفِ مکہ کی جگہ ایک نیا بااعتماد خاندانِ سعود میسر نہ آ گیا جس نے انیس سو چوبیس کے بعد سے شریفوں کو حجاز سے ہی رخصت کر دیا۔

اب ہم ایک بار ٹیپ ذرا سی ری وائنڈ کرتے ہیں۔

جب انیس سو پندرہ میں مصر میں برطانوی ہائی کمشنر سر ہنری میکموہن شریفِ مکہ کو بعد از جنگ عرب بادشاہت کے سبز باغ دکھا رہے تھے عین اسی وقت ہزاروں کلو میٹر پرے برطانوی کاؤنٹی یارک شائر کے ایک محل نما گھر میں برطانیہ اور فرانس کے دو کھڑپینچ نئے مشرقِ وسطی کی بندر بانٹ کے اصل نقشے میں رنگ بھر رہے تھے۔ جب کہ اس سامراجی سودے بازی سے بے خبر عرب جب برطانیہ کے فراہم کردہ اسلحے سے ترکوں کی سپلائی لائن پر جوش و خروش سے حملے کر رہے تھے تو اس وقت برطانیہ اور فرانس بندربانٹ پلان پر دستخط فرما چکے تھے۔

فرانس کی جانب سے سابق سفارتکار اور وکیل جارج پیکو اور برطانیہ کی جانب سے امورِ مشرقِ وسطی کے مشیر سر مارک سائکس نے اس مشرقِ وسطی کی بندر بانٹ کے نقشے میں نیلا اور سرخ رنگ بھرنا شروع کر دیا جو ابھی ان کے قبضے میں آنا تھا۔ ( سرخ رنگ برطانوی قبضے کے لیے اور نیلا فرانسیسی قبضے کے لیے۔ فلسطین پر بھوری پنسل پھیری گئی یعنی اس کی ملکیت طے ہونا باقی تھی )۔ سائکس پیکو سمجھوتہ شریفِ مکہ اور اس کے بیٹے فیصل کی بغاوت کے چار ماہ بعد اکتوبر انیس سو سولہ میں طے پایا اور اس کی حتمی کاپی صرف روس کی شاہی حکومت کو دکھائی گئی۔

یہ سمجھوتہ آخر تک خفیہ ہی رہتا مگر روس میں کیمونسٹ انقلاب آ گیا اور نومبر انیس سو سترہ میں بالشویک حکومت نے روس کو جنگ سے یکطرفہ طور پر نکال لیا۔ کیمونسٹ پارٹی کے ترجمان اخبار پراودا نے مشرقِ وسطی کی بندر بانٹ کا سائکس پیکو معاہدہ من و عن شایع کر دیا۔ لیکن تب تک دیر ہو چکی تھی اور جنگ پر برطانیہ و فرانس کی گرفت مضبوط ہو چکی تھی۔ عرب قوم پرست بھی اس گمان میں رہے کہ پراودا میں جو مسودہ شایع ہوا ہے دراصل عربوں اور جیتنے والی یورپی طاقتوں میں پھوٹ ڈالنے کی کیمونسٹ سازش ہے۔ وہ تو جب پیرس امن کانفرنس میں مشرقِ وسطی آزاد ہونے کے بجائے برطانیہ و فرانس کو مینڈیٹ کی مستاجری کے نام پر الاٹ ہو گیا تب عربوں کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں اور آج تک پھٹی ہیں۔ اس مضمون کی ابتدا میں ایک اور فریق کا بھی تذکرہ ہوا یعنی صیہونیوں سے کیے گئے وعدوں کا۔ اس پر گفتگو ہوگی اگلی قسط میں (داستان جاری ہے )۔


No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

شیر دل اور بہادر شہید عباس علی

شیر دل اور بہادر شہید عباس علی | parachinarvoice |
..... علی افضل افضال......
13 فروری 2015 کو پشاور شہر کے پوش علاقے حیات آباد کے امامیہ مسجد میں معمول کے مطابق نماز جمعہ ادا کی جارہی تھی کہ اس دوران مسلح دہشت گرد مسجد میں د
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

بریگیڈئیر صاحب طوری قبیلہ کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑوگے کیا ؟! شفیق طوری

بریگیڈئیر صاحب طوری قبیلہ کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑوگے کیا ؟! شفیق طوری | parachinarvoice |
بریگیڈئیر امیر خان کرم ایجنسی کے مشران کیساتھ 
Shafiq Ahmed's insight:
 طوری قبیلہ، وادئِ کرم میں دریائے کرم کے دونوں جانب سرسبز و شاداب قطعہ زمین پر تقریباً پانچ سو سال سے آباد ہے۔
بنیادی طور پر خانہ بدوش قبیلہ جب وادئِ کرم میں آباد ہوا تو اپنی محنت و مشقت سے وادئِ کرم کے جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ وادئ کی تقدیر بھی بدل ڈالی اور وادئِ کے زرخیز زمین سے بھر پور فائدہ اُٹھا کر معاشی اور معاشرتی حالات میں انقلابی ترقی لائے۔
وادئِ کرم کے جنوب میں خوست اور شمال میں کوہِ سفید واقع ہے اور کوہ سفید کے اُس پار تورا بورا کی مشہور و معروف پہاڑی سلسلہ جہاں مبینہ طور پر دنیا کے خطرناک ترین دہشتگرد گروہ القاعدہ اور ان کے سربراہ اُسامہ بن لادن کھبی ڈھیرے ڈالے ہوئے تھے۔
مغرب میں افغانستان کے صوبے پکتیکا کے شہرینا اور مختلف گاؤں سمیت پہاڑی سلسلے ہیں جبکہ مشرق میں پاڑہ چمکنی اور اورکزئی ایجنسی واقع ہیں۔
اٹھارہ سو پچاس کے دہائی میں پیواڑ کے ملک ظریف افغانستان کے سردار محمد اعظم خان کے نہایت اہم حمایتی تھے اور شلوزان کے ملک افغانستان کے امیر دوست محمد خان سے ایک شادی کے ذریعے منسلک رہے۔ افغانستان کے امیر دوست محمد خان کے وقت کابل میں کرم ایجنسی شورش کی آوازیں گونجتی رہی اور 1851 میں طوری قبیلے نے پیواڑ قلعے پر قبضہ کرکے افغان امیر کو آنکھیں دکھائیں جو بعد میں بہت بھاری پڑ گئیں جب 1856 افغان امیر نے سردار محمد اعظم کی سربراہی میں مجاھدین بھیج کر طوری قبیلے کو جانی اور مالی نقصان سے دوچار کیا۔ طوری قبیلے کی اس شکست سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اردگرد کے سنی قبائل نے خوستوال اور وزیر قبائل نے کرم ایجنسی پر حملہ کیا جو خوستوال اور وزیر قبائل سمیت دیگر سنی قبائل کے عبرت ناک شکست پر ختم ہوئی۔ طوری قبیلہ سیاسی اور میدان جنگ دونوں محاذ پر ڈٹی رہی اور کامیاب و کامران رہی۔ پھر افغانستان میں امیر شیر علی برسراقتدار آئے اور کرم وادی میں انکے بھائی والی محمد خان گورنر رہے جس کی ماں کا تعلق وادی کرم سے تھا لیکن وادی کرم کے ملک نے وفد کابل بھیج کر امیر شیر علی سے والی محمد کے شکایت کی اور یوں گورنر والی محمد معزول کردئیے گئے۔ انیس سو تیس میں کرم ایجنسی کے تمام سنی قبائل نے شیعہ آبادی پر لشکر کشی کی اور قتل عام کیا۔ یہ وہ دور تھا جب افغانستان میں بچا سقاؤ جیسا سفاک نیم خواندہ مولوی حکمرانی کررہا تھا، بچا سقاؤ کا دور افغانستان میں طالبان کے مُلا عمر کے دور سے بھی زیادہ رجعت پسند اور ظالم دور تھا اور افغانستان ظلم کے زنجیروں میں جھکڑا ہوا تھا، عین اسی وقت پر نادرشاہ، باچا سقاؤ کے افغانستان امارت پر حملہ آور ہوئے تو طوری اور بنگش قبائل نے نادرشاہ کا ساتھ دیا اور طوری قبیلہ مزید مشکلات سے دوچار رہا۔یوں کابل حکومت کی شیعہ دشمنی اور فرقہ ورانہ حکومتوں سے تنگ آکر وادی کرم کے طوری قبیلے نے 1879 میں دوسری افغان جنگ کے وقت برطانوی راج کو خوش آمدید کہا۔ ایک سال بعد برطانوی فوج وادی کرم سے نکل گئی اور وادی کرم کو طوری قبیلے کے حوالے کیا لیکن 1892 میں برطانوی افواج پھر وادی کرم پر قبضہ کر گئے۔ طوری قبیلے کے مشران نے سیاسی، سماجی اور علاقائی تحفظات کے مطالبے کیئے جو سارے کے سارے انگریز حکومت نے تسلیم کیئے یوں رواج اور کرم ملیشیا جیسے دور رس معاہدے طے پا گئے جس کے تحت آج سو سال بعد بھی ہمارے مسائل حل کیئے جا رہے ہیں اور کسی کو اس سو سالہ نظام بدلنے کی اہلیت نہیں اور نہ ہی حوصلہ ہے۔
علاقائی تحفظ کیلئے 1892 میں ایک شاندار طوری ملیشیا کھڑی کر دی گئی جو 1892 اور 1897 جیسے خطرناک ترین جنگوں میں بھی ثابت قدم رہی جبکہ خیبر رائفلز سمیت شمالی اور جنوبی وزیرستان کے ملیشیا کا نام و نشان مٹ گیا تھا۔
۱۹۴۸ء میں قائد اعظم کے اصرار پر دیگر ایجنسیوں کی طرح پاکستان کیساتھ الحاق کیا ۔ طوری قبیلہ کرم ایجنسی کا سب سے بڑا قبیلہ ہے اور واحد پشتون قبیلہ ہے جو شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور شیعہ بنگش قبیلے کیساتھ مل کر کرم ایجنسی واضح اکثریت میں ہیں۔ لہٰذا یہ ضیاالحق کے سخت گیر اسٹیبلشمٹ کو قبول رہے اور نہ ہی علاقے کی دیگر سنی قبائل کو قابل قبول رہے۔ مذہبی اور مسلکی منافرت کے علاوہ یہاں چونکہ شیعہ سنی ساتھ ساتھ رہے ہیں تو زمین ، پہاڑ اور پانی کے جھگڑے بھی ہوتے رہے ہیں جو بعد میں مذہبی اور مسلکی لڑائی میں بدل کر علاقے کو میدان جنگ میں تبدیل کرتے رہے ہیں۔ کرم ایجنسی میں شیعہ آبادی کو تین سو سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے اور یہاں کے اکثریتی شیعہ آبادی کو مسلکی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، لہٰذا کرم ایجنسی میں دہشتگردی صرف ایرانی انقلاب یا افغانستان انقلاب سے جوڑنا حقیقت نہیں لیکن "مردِ مومن مردِ حق" ضیاالحق کے پالیسیوں اور ایران انقلاب کے بعد اس میں تیزی ضرور آئی ہے۔ پاکستان میں ایران اور خمینی کے پہلے نمائیندہ عارف حسین الحسینی کا تعلق پاراچنار سے تھا جو پاکستان کے اُفق پر ضیاالحق کے دور میں نمودار ہوئے جبکہ عارف الحسینی سے پہلے زکواة کے معاملے پر اسلام آباد کے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کا فیصلہ کن معرکہ مفتی جعفر حسین نے سر کیا جب مطلق العنان آمر نے گھٹنے ٹیک دئیے اور مفتی جعفر حسین اور ساتھیوں نے ہی پاکستان میں سیاسی جدودجہد جاری رکھنے کیلئے تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ کی بنیاد رکھی، جبکہ عارف الحسینی انکے دست راست بنے رہے۔ بعض نام نہاد مبصرین اور کالم کار تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ کا مفہوم یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں موجود اقلیتی شیعہ مسلک نے یہ تحریک پاکستان میں ایران طرز کا خمینی انقلاب لانے کیلئے بنایا تھا جو تاریخی بددیانتی ہے۔ تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ پاکستان میں صرف شیعہ اقلیتی مسلک کی تحفظ اور خدمت کیلئے بنایا گیا پہلا پلیٹ فارم تھا۔ اور تحریک کا مقصد اور نعرہ پاکستان پر قابض ہونا کھبی نہیں رہا۔
۱۹۲۹-۲۸، ۱۹۵۰ اور ۱۹۵۶ء کے خونریز لڑائیوں کے علاوہ میرے سامنے وادی کرم میں جو خونریز لڑائی گئیں انکا مختصر تاریخ یہ ہے۔
۱۹۸۱-۸۲ میں کرم ایجنسی کے سارے سنی قبائل نے افغان مہاجرین کیساتھ ملکر صدہ قصبہ میں شیعہ آبادی پر ہلہ بول دیا اور دادو حاجی کے سارے خاندان کو ہلاک کیا گیا اور صدہ قصبے سے شیعہ آبادی کو مکمل طور پر بے دخل کر دیاگیا جو آج تک آباد نہیں ہو سکے۔ کیونکہ اس وقت تک انگریز کا بنایا گیا کرم ملیشیا وادی کرم میں موجود تھا لہٰذا جنگ صدہ تک ہی محدود رہی اور ایجنسی کے دیگر علاقوں تک نہیں پھیلنے دی گئی۔ یاد رہے کرم ملیشیا صرف طوری قبیلہ پر مشتمل نہیں تھا بلکہ اس میں منگل، مقبل، بنگش سمیت ایجنسی کے سارے قبائل کو متناسب نمائیندگی موجود تھی جو کہ اپنے، اپنے علاقے کے امن قائم رکھنے کے ذمہ تھی۔ اس وقت تک ایران کا کوئی مولوی پاکستان میں موجود تھا اور نہ ہی پاراچنار میں۔ بدقسمتی سے ضیااء لحق کے فرقہ ورانہ پالیسیوں کا شکار ہو کر کرم ملیشیا کو برطرف کرکے پورے پاکستان میں پھیلایا گیا، علاقے کو آگ و خون میں نہلایا گیا اور سرسبز وشاداب ، حسین و جمیل اور جنت نظیر وادئِ کرم کو دہشتگردی اور فرقہ واریت کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا جو آج تک نہیں نکل سکا۔
۱۹۸۷-۸۸ ضیاءالحق کے دور میں شیعہ مسلک کے روح رواں اور ملت جعفر یہ کے صف اوّل کے رہنما تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ کے روح رواں علامہ عارف حسین الحسینی کو شہید کیا گیا اور علاقے کے سنی قبائل نے افغان مہاجرین کیساتھ ملکر مقامی شیعہ آبادی پر حملہ کردیا جو صدہ قصبے سے ہوتے ہوئے بالش خیل اور ابراہیم زئی جیسے بڑے گاؤں کو روندتے اور جلاتے ہوئے سمیر گاؤں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور بعد میں طوری لشکر نے پسپا کرکے واپس صدہ کی طرف دھکیل دیا لیکن دسیوں گاؤں جلائے گئے اور لوٹے گئے، امام بارگاہیں اور مساجد مسمار کردی گئیں۔ ۱۷ دن پر محیط لڑائی میں ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے جبکہ پاک فوج اور پاکستان کی اسٹیبلیشمنٹ تماشا دیکھتی رہی۔
۱۹۹۶ء میں رسول اللہ صلعم کے چچا اور حضرت علی کے والد حضرت ابو طالب کی توہین کی گئی اور مقامی شیعہ آبادی کو اشتعال دلا کر خونریز جنگ کا آغاز کیا گیا جو کئی ہفتے تک جاری رہا ہائی سکول پاراچنار میں اسکے پرنسپل اسرار حسین کو قتل کیا گیا جسے بعد صدارتی تمغہ دیا گیا، اسکے بعد کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو محصور کیا گیا اور انکے لئے پاراچنار تک رسائی کے صرف ایک راستے ٹل پاراچنار روڈ کو بند کیا گیا اور پاراچنار پاکستانی غزا میں تبدیل ہوا۔
۲۰۰۱ء میں پھر فرقہ ورانہ فسادات شروع ہوئے اور پیواڑ پھر لشکر کشی کی گئ، پیواڑ کے مختلف گاؤں سمیت مرکزی امام بارگاہ پر بمباری کئ گئی جس میں درجنوں لوگ قتل کیئے گئے۔
۲۰۰۷ میں ۱۲ ربیع الاول کے عید میلاد النبی کے جلوس میں "حسین مردہ باد اور یزید زندہ باد" کے نعرے لگا کر فرقہ ورانہ جنگ کا آغاز کیا گیا یہ ایک منظم اور منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا حملہ تھا جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوئے، بڑی تعداد میں القاعدہ جنگجوؤں کیساتھ ساتھ طالبان کے حکیم اللہ محسود اور منگل باغ نے جنگ کی کمان سنبھالی اور وزیرستان سے لیکر خیبر تک کے سنی قبائل کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی پر حملہ آور ہوئے۔ القاعدہ اور طالبان کے سینکڑوں نہایت مستعد اور ماہر نشانہ بازوں نے پارچنار شہر میں اہل سنت والجماعت کے مسجد کو سب سے بڑا مورچہ نہیں بلکہ قلعے میں تبدیل کردیا تھا جس سے پاراچنار کے مرکزی امام بارگاہ پر بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری شروع کر دی گئی اور ارد گرد کے سارے شہر کیلئے مسجد کے میناروں میں لگائی گئی مشین گنیں ہی کافی تھیں۔ لہذا سینکڑوں قتل ہوئے اور امام بارگاہ سمیت آدھے پاراچنار شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پوری وادی میدان جنگ میں تبدیل ہوئی اور پانچ ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ صدہ کے مین بازار میں شیعہ افراد گاڑیوں سے اتارے گئے اور انکے ہاتھ پیر کاٹ کر پاراچنار بھیج دیئے گئے جنہوں آگ پر پٹرول کا کام کیا اور خونریز لڑائیاں شروع ہوئیں جو پانچ سال تک جاری رہی۔ پاراچنار کو پاکستان سے ملانے والا واحد شاہراہ کئی سال تک بند رہا اور پاراچنار فلسطین اور غزا میں تبدیل ہوا۔ تین سال پاراچنار کا محاصرہ جاری رہا اور طوری بنگش قبائل افغانستان کے راستے تیس گھنٹے پُرخطر سفر کرنے پر مجبور ہوئے تھے، بہت سے لوگ راستے سے اغوا کرکے قتل کئے گئے، بعض لوگ بھاری تاوان دیکر چھڑائے گئے اور کچھ ابھی بازیاب نہیں ہوئے ہیں۔ بچے ادویات اور خوراک نہ ملنے کی وجہ سے مرنے لگے اور لوگ فاقے کاٹنے پر مجبور ہوئے۔ اسکے بعد پاراچنار میں پے درپے خودکش دھماکے شروع کردئیے گئے جس میں سینکڑوں لوگ قتل کئے گئے جس میں ۲۰۰۸ کے انتخابات کے دوران پیپلزپارٹی کے اُمیدوار ڈاکٹر ریاض حسین شاہ کے جلسے پر خودکش حملہ بھی شامل ہے جس میں ڈاکٹر ریاض تو بچ گئے لیکن ایک سو سے زیادہ لوگ قتل ہوئے، ڈاکٹر ریاض شاہ کو بعد میں پشاور کے بھرے بازار میں دن دیہاڑے قتل کیا گیا۔ اور پاراچنار کے مشہور ماہر تعلیم سید رضی شاہ اور پیر عسکر علی شاہ کو اغوا کرکے قتل کیا گیا۔ پارچنار کے علاوہ کراچی، پشاور اور افغانستان کے راستے پاراچنار جاتے ہوئے لوگوں کو بھی خودکش دھماکوں، نسب شدہ بموں اور ٹارگٹ جاری رہی۔
۲۰۱۱ میں آخری فرقہ ورانہ فسادات شلوزان تنگی اور خیواص میں ہوئے جب خیواص گاؤں پر حملہ کرکے جلایا گیا، ایک سو سے زیادہ لوگ قتل کئے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
آخری خودکش دھماکہ عیدگاہ میں ہوا جس میں ۲۳ افراد جاں بحق ہوئے اور دسیوں زخمی ہوئے۔
۲۷ دسمبر ۲۰۱۶ کو گورنر ہاؤس پاراچنار میں جرگے سے خطاب کرتے ہوئے 73 بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈیئر ملک امیر محمد خان نے کہا کہ کرم ایجنسی میں بهاری اسلحے کی موجودگی علاقے کی امن کے لئے خطرہ ہو سکتا ہے قومی اسلحہ ( راکٹ لانچر، ماٹر، توپ ، زیڑاکئے، وغیرہ) رکھنا غیر قانونی ہوگا اور اس کو متعین جگہ پر جمع کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ ماہ میں سارا اسلحہ جمع کیاجائے اگر قومی اسلحے کو جمع نہیں کیا گیا تو ہم خود تحویل میں لیں گے. اس کے بعد اگر کسی کے پاس ایک گرنیڈ یا آئی ڈی بھی نکلا تو اس پر قانون کا اطلاق ہوگا اور دہشت گردی کے زمرے میں آئے گا۔ ہم سب کا نیت ہے کہ ملک میں امن اور سلامتی رہے۔
بریگیڈئیر صاحب کی باتیں بجا ہیں اور کوئی ذی شعور شخص اس دلیل کر مسترد نہیں کرسکتا۔ لیکن جس طرح ہر ملک کو اپنے دفاع کا حق ہے اسی طرح ہر شخص اور ہر قبیلے کو بھی اپنی دفاع کا حق حاصل ہے۔ حکومت مندرجہ بالا حالات اور واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے طوری قوم کے سیاسی، سماجی اور علاقائی تحفظ کی ذمہ داری اُٹھاتے ہوئے پہلے ٹھوس اقدامات کریں تاکہ اس قبیلے کو موجود خطرات سے بچانے کا کوئی تو سامان ہو۔ ایسا نہ ہو کہ کل پاک فوج طوری قبیلے سے اسلحہ اکھٹا کریں اور پھر القاعدہ، طالبان اور دیگر دشمن قوتیں حملہ آور ہوجائیں۔ حکومت پاکستان اور پاک فوج نے طوری قبیلے کو کھبی بھی تحفظ فراہم نہیں کیا ہے۔ اور انگریز نے طوری قوم کی تحفظ یقینی بنانے کیلئے نہ صرف کرم ملیشیا کھڑا کردیا تھا بلکہ قبائل میں مفت اسلحہ بھی تقسیم کیا تھا، 1986 میں ضیاالحق نے کرم ملیشیا کو پورے پاکستان میں تقسیم کرکے طوری بنگش قبائل کو طویل جنگوں میں جھونک دیا اور اب پاک فوج طوری قوم سے اسلحہ اکھٹا کرکے دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاہتے ہیں؟
کرم ملیشیا میں متناسب بھرتی کرکے ایک ونگ بنایا جائے اور اسلحہ انکے سپرد کیا جائے۔ پیواڑ، بوڑکی، نستی کوٹ، شلوزان سمیت سرحدی علاقوں کی نگرانی کرم ملیشیا کے اسی ونگ کے حوالے کرکے طوری، بنگش قبائل کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ 
 ‏جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان سمیت خیبر و دیگر ایجنسیز میں ایک منظم دہشتگردی کی تحریک موجود تھی اور آج بھی ہے۔ پاک فوج نے جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان اور خیبر میں دسیوں آپریشنز کیئے ہیں۔ "آپریشن ضرب عضب" " آپریشن راہ راست" " آپریشن درغلم" آپریشن بیا درغلم" "آپریشن خوخ به دہ شم" آپریشن خیبر1" آپریشن خیبر 2" آپریشن کوہ سفید" آپریشن خیبر3" جہاں تک مجھے علم ہے کہیں بھی قومی اسلحہ تحویل میں نہیں لیا گیا ہے۔
کسی بھی ایجنسی میں رضاکارانہ طور پر اسلحہ جمع کرایاگیا ہے اور نہ ہی فوج نے کسی قوم سے اسلحہ آپریشن کے ذریعے جمع کروایا ہے۔ صرف وہ اسلحہ چھین لیاگیا ہے جو دہشتگردوں نے پاک فوج سے چھین لیا تھا۔ یا دہشتگردوں کے زیر استعمال تھا۔
پاک فوج نے ان ایجنسیوں میں آپریشن کے بعد امن کمیٹیاں بنا کر انکو سرکاری اسلحہ اور ایمیونیشن فراہم کیا تھا۔
تہتر بریگیڈ کے انڈر لوئر کرم اور ٹل بھی آتا ہے بریگیڈئیر صاحب سے گزارش ہے کہ پارچنار آتے ہوئے ٹل سے لیکر صدہ تک سارے اقوام اور تنظیموں سے اسلحہ جمع کرائیں کیونکہ نہ تو وہاں کوئی بارڈر ہے اور نہ ہی انکو کسی سے خطرہ ہے۔ ٹل پاراچنار روڈ ان دہشتگردوں نے پانچ سال تک بند کیئے رکھا تھا اسلیئے ان سے اسلحہ پہلے جمع کیا جائے۔
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

عالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری شہید کے قاتل کون؟ از شفیق طوری

عالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری شہید کے قاتل کون؟ از شفیق طوری | parachinarvoice |
عالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری شہید کے قاتل کون؟ از شفیق طوری
Shafiq Ahmed's insight:
عالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری شہید کے قاتل کون؟ از شفیق طوری
⁧#امجدصابری⁩ کے قتل میں سیاسی جماعتوں و مذہبی اور کالعدم تنظیموں کیساتھ قانون نافذ کرنے والوں کی نااہلی اور چشم پوشی بھی شامل ہے۔⁩
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

کرم ایجنسی، پاراچنار: عثمانیہ مارکیٹ پر دو کریکر دھماکوں کی سازش پر لاکھوں قبائل کو دھمکی۔

کرم ایجنسی، پاراچنار: عثمانیہ مارکیٹ پر دو کریکر دھماکوں کی سازش پر لاکھوں قبائل کو دھمکی۔ | parachinarvoice |
Political, religious 
Shafiq Ahmed's insight:
کرم ایجنسی، پاراچنار: اطلاعات کے مطابق اے پی اے لوئر کرم نصراللہ خان کا بالش خیل چیک پوسٹ پر مشران ماہورہ ، بالش خیل اور صدہ کے ساتھ جرگہ ہوا ہے اور عثمانیہ پلازہ کریکر دھماکہ سازش کے سلسلے میں ملزمان کی حوالگی کا مطالبہ کرتے ہوئے قبائلی مشران کو دھمکی دی ہے کہ اگر ملزمان کو کل بارہ بجے تک حوالے نہ کیا گیا تو اہلیان بالشخیل ،صدہ اور ماہورہ سے گرفتاریاں شروع کی جائیں گی اور ان قبائل جنکا تعلق اکثریت شیعہ مکتبہ فکر سے ہے کے خلاف سخت ترین کاروائی آغاز ہوگا۔
پولیٹیکل انتظامیہ نے کرم ایجنسی میں طالبان، داعش اور لشکر جھنگوی کیخلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے جو ایجنسی میں دہشتگردانہ کارروائی کرتے آ رہے ہیں جنہوں نے انہی شیعہ قبائل کے ہزاروں لوگ قتل کئے ہیں اور پرسوں غوزگڑھی مقبل سی بارودی مواد گاڑی میں بھر کر پاراچنار شہر لایا جا رہا تھا کہ راستے میں ہی پھٹ گیا۔ ان سے پوچھ گچھ ہوئی ہے، نہ کوئی قوم کو ملزمان کی حوالگی کا مطالبہ اور نہ ہی کسی کو گرفتار کیا گیا ہے۔
سپاہ صحابہ (والجماعت) کے عید نظر مینگل اور حوالدار بخت جمال بنگش کرم ایجنسی سے ہزاروں لوگ داعش میں بھرتی کروا رہے ہیں اور پاراچنار کے پاسپورٹ آفس سے روزانہ ان گنت پاسپورٹ بنوا کر یمن، شام اور عراق بھیج رہے ان سے کوئی تحقیق اور نہ کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔
لیکن عثمانیہ مارکیٹ پر دو کریکر دھماکوں کی سازش پر لاکھوں قبائل کو سنگین نتائج دھمکی دے ڈالی۔
کرم ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ کو پاراچنار کے مرکزی امام بارگاہ میں فقید المثال شیعہ سنی اتحاد راس نہیں آیا اور ایجنسی کے حالات خراب کرنے کی سازشیں شروع کر دی گئیں۔
اے پی اے صاحب لوئر کرم نصراللہ خان پر پاراچنار میں کل والا جلسہ ناگوار گزارا ہے اسلئے اب دھمکیوں پر اتر آئے ہیں۔ اور پولیٹیکل انتظامیہ فرقہ واریت کی بیج بونا بند کرے۔
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

پاک-افغان بارڈر پر حالات سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ شفیق طوری

پاک-افغان بارڈر پر حالات سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ شفیق طوری | parachinarvoice |
Political, war
Shafiq Ahmed's insight:
 کرم ایجنسی، پاراچنار پر اگر افغانستان کی طرف سے کسی بھی تکفیری گروہ یا ملی افغان اردو کی طرف سے خدا نخواستہ حملہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہاں پر موجود کرم ملیشیا اور کرم لیویز ذمہ دار ہیں اور بعد میں پاک فوج ذمہ دار ہے لیکن اب تو پاک فوج کو حالات کی سنگینی کا پتہ لگ چکا ہے تو ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔ اور ہم قبائل پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
بوڑکی اور خرلاچی چیک پوسٹوں پر بیٹھے یہ اہلکار روزانہ لاکھوں کروڑوں بنا رہے ہیں اور غیور قبائل کیلئے ایک بوری کھاد بھی چھوڑنے پر راضی نہیں! پھر بھی ہم طوری۔بنگش قبائل اپنی سرزمین کے ایک، ایک انچ کا دفاع کرینگے، کیونکہ کرم ایجنسی کا دفاع ہم تین سو سالوں سے کررہے ہیں، جب پاک فوج نہیں تھی، لیکن پاک فوج کے ہوتے ہوئے طوری بنگش قبائل کو نقصان کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے اور 1980, 1987, 1996, 2001 اور 2007 سے لیکر 2011 تک پاراچنار کے خراب ترین صورتحال اور پاراچنار کا طویل محاصرہ اس بات کا واضح ثبوت ہے۔
افغان ملی اردو قبائل کیخلاف کوئی عزائم نہیں رکھتے اور اگر کوئی عزائم ہیں بھی تو انکا تعلق قبائل کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ پاکستان ریاست کو نقصان پہنچانا ہے کیونکہ افغانستان سمجھتا ہے کہ پاکستانی ریاست افغان طالبان کو سپورٹ کرتے ہیں اور افغان طالبان پاکستان کی مدد سے افغانستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور افغانستان میں انتشار پھیلا رہے ہیں لیکن طالبان اور داعش جیسے بدنام زمانہ تکفیری گروہ کسی بھی کارروائی سے دریغ نہیں کرینگے اور معاشرے کہ یہ ناسور ( طالبان، داعش) اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہونگے۔ اسکی وجہ ہے۔
پہلی وجہ یہ کہ تککفیری گروہ اپنی ظالمانہ طرز عمل کی وجہ سے دنیا میں کہیں بھی کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ دوسری یہ کہ کرم ایجنسی میں ہمیشہ انکو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
تیسری یہ کہ پہلے پوری پاک فوج انکے ساتھ کھڑی تھی لیکن اب ضیائی باقیات اور تبلیغی جراثیم آلود فوجیوں کے علاوہ پاک فوج انکے خلاف ہے، اور اسکی بھی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان گروہوں نے پاک فوج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ انکا ٹاکرا سب سے پہلے فوج سے ہوگا۔
پہلے طوری بنگش تکفیری گروہوں کے نشانے پر تھے اب فوج بھی انکے نشانے پر ہے بلکہ اب تکفیری گروہوں کا پہلا نشانہ پاک فوج ہی ہے اور فوجیوں کو قتل کرکے انکے سروں سے فٹبال کھیلتے کون بھول سکتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ اگر افغان ملی اردو حملہ آور ہوتا ہے یا تکفیری گروہ طالبان و داعش دونوں کا پہلا نشانہ پاک فوج ہوگا، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ قبائل نے نہ انگریز فوج پر تکیہ کیا ہے، نہ افغان اور نہ ہی پاکستان فوج پر، بلکہ مذکورہ بالا افواج نے قبائل کو نقصان کے علاوہ کچھ دیا بھی نہیں اسلئے ان پر تکیہ نہیں کیا جا سکتا۔
اہم بات یہ کہ پاک فوج پہلے سب طالبان کو اپنے بگڑے ہوئے بچے سمجھ رہے تھے لیکن جب انکے سر کاٹ کر فٹبال کھیلا گیا تو پاک فوج کو اندازہ ہوا کہ طالبان اب صرف ہمارے بچے نہیں رہے بلکہ ہندوستان اور بہت سے اوروں کے بھی بچے ہیں۔
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

‮پاکستان ‬ ‮متحدہ ہندوستان اور شیعہ سنی کشمکش‬

‮پاکستان ‬ ‮متحدہ ہندوستان اور شیعہ سنی کشمکش‬ | parachinarvoice |
برِصغیر میں شیعہ سنی تعلقات کا گراف اگر بنایا جائے تو وہ خطِ مستقیم کے بجائے خطِ منہنی کی طرح ٹیڑھا میڑھا بنے گا۔کبھی مثالی تعلقات ، کبھی برے تو کبھی نیم برے تو کبھی نیم اچھے۔۔۔
Shafiq Ahmed's insight:

متحدہ ہندوستان اور شیعہ سنی کشمکش
وسعت اللہ خان
برِصغیر میں شیعہ سنی تعلقات کا گراف اگر بنایا جائے تو وہ خطِ مستقیم کے بجائے خطِ منہنی کی طرح ٹیڑھا میڑھا بنے گا۔کبھی مثالی تعلقات ، کبھی برے تو کبھی نیم برے تو کبھی نیم اچھے۔۔۔
ہندوستان میں مسلمان افغانستان ، ایران اور بحرِ ہند کے راستے داخل ہوئے۔ ان میں عرب ، ترک ، ایرانی حملہ آور اور فاتحین بھی تھے اور جابر عربی و عجمی حکومتوں سے تنگ مفرور ملزم ، فن کار ، علما ، صوفی اور بہتر معاشی و سماجی مستقبل کے خواہاں عام مسلمان بھی۔
آنے والوں کو دو بنیادی چیلنج درپیش تھے۔ اول یہ کہ اقلیت ہونے کے سبب مقامی ہندو اکثریت کے درمیان اپنا تشخص اور دبدبہ کیسے قائم رکھیں دوم یہ کہ خود مسلم سماج کے اندر سماجی، سیاسی، نسلی اور فرقہ وارانہ تضادات کو کیسے قابو میں رکھیں۔
اس تناظر میں ہندوستان میں شیعہ سنی تعلقات کو تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے یعنی ابتدائی دور ، مغلیہ دور اور انگریزی دور۔
* ابتدائی دور
محمد بن قاسم کے بعد سندھ میں لگ بھگ ڈھائی سو برس تک قائم رہنے والا سنی عرب اقتدار پہلے دمشق کی خلافتِ بنو امیہ اور پھر بغداد کی خلافتِ عباسیہ کی خوشنودی پر منحصر رہا۔
جب نویں اور دسویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں مبلغین اور صوفیوں کی آمد کا سلسلہ بڑھنا شروع ہوا تب تک سنیوں کے چار فقہی مکاتیب ( حنفی ، حنبلی ، مالکی ، شافعی ) تشکیل پا چکے تھے اور اہلِ تشیع تین شاخوں ( زیدی ، اثنا عشری ، اسماعیلی ) میں بٹ چکے تھے۔
سنیوں میں امام ابو حنیفہ کے حنفی مکتبِ فکر کے پیروکاروں کی اکثریت تھی اور شیعوں میں چھٹے امام جعفر صادق کے مرتب کردہ فقہِ جعفریہ کے اثنا عشری پیروکار زیادہ تھے۔ چونکہ اس زمانے میں فقہی اختلافات زیادہ تر علمی مباحث کی حدود میں تھے لہذا تحصیلِ علم مشترکہ میراث تھی چنانچہ یہ کوئی انہونی بات نہیں تھی کہ دو سنی فقہا امام مالک اور امام ابوحنیفہ امام جعفر صادق سے بھی درس لیتے رہے۔
( اثنا عشری شیعہ جانشینی و امامت کے مسئلے پر امام جعفر صادق کے دو بیٹوں اسماعیل ابنِ جعفر اور موسی کاظم کے حامیوں میں تقسیم ہوگئے۔ اسماعیل ابنِ جعفر کے حامی اسماعیلی کہلائے۔ اسی شاخ نے دسویں صدی عیسوی میں مراکش تا سندھ فاطمی اسماعیلی سلطنت قائم کی جس کا دارلحکومت قاہرہ تھا۔ جب فاطمی سلطنت کمزور ہوئی تو اسماعیلی دو مزید گروہوں میں بٹ گئے ایک شاخ نزاری کہلائی اور دوسری مستعصلی۔(داؤدی بوہرہ مستعصلی گروہ کی ہی شاخ در شاخ ہے)۔
اسماعیلی مبلغین ملتان تک پھیل گئے چنانچہ دسویں صدی کے وسط میں وہاں اسماعیلی قرامطہ حکومت قائم ہوئی مگر گیارہویں صدی کے شروع میں محمود غزنوی کے دو حملوں میں ملتان سے سیہون تک پھیلی قرامطہ حکومت ختم ہوگئی۔ ان حملوں میں ملتان کی اسماعیلی آبادی کا قتلِ عام ہوا۔ قرامطہ حکمران ابوفتح داؤد کو قیدی بنایا گیا۔ ملتان کے شہریوں سے لگ بھگ دو کروڑ دینار تاوان وصول کیا گیا اور بچے کچھے اسماعیلی بالائی پنجاب اور زیریں سندھ کے مختلف علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
محمود غزنوی کے بعد قرامطہ حکومت پھرمختصر عرصے کے لیے قائم ہوئی تاہم بارہویں صدی میں شہاب الدین غوری نے اس کا مستقل قلع قمع کر دیا اور بعد ازاں صوبہ ملتان دہلی سلطنت کا حصہ بن گیا۔

آج بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں صرف کارگل اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بلتستان اور گلگت ہی وہ علاقے ہیں جہاں شیعہ اکثریت ہے
اس دوران کشمیر میں ایک نئی پیش رفت شروع ہوگئی۔ کشمیر میں اسلام چودھویں صدی کے شروع میں ترکستان سے صوفی بلبل شاہ قلندر اور انکے ایک ہزار مریدوں کے ساتھ پہنچا۔ بودھ راجہ رنچن نے دینی افکار سے متاثر ہو کر بلبل شاہ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔یوں راجہ رنچن سلطان صدر الدین کے نام سے کشمیر کا پہلا مسلمان حکمران بنا۔بعد ازاں ایک ایرانی صوفی سید علی ہمدانی سات سو مبلغوں ، ہنرمندوں اور فن کاروں کی جماعت لے کر کشمیر پہنچے اور اس ثقافت کا جنم ہوا جس نے جدید کشمیر کو شناخت مہیا کی۔
لگ بھگ اسی دور میں شمس الدین عراقی اور انکے پیروکاروں نے کشمیر میں قدم رکھا۔ انہوں نے چک خاندان کی مدد سے ہزاروں ہندوؤں کو شیعہ اسلام میں داخل کیا۔ ایک ترک جنگجو سردار مرزا حیدر دگلت نے پندرہ سو چالیس میں کشمیر پر حملہ کیا اور شیعہ فرقے کا قتلِ عام کیا۔ مرزا دگلت کی واپسی کے بعد چک خاندان کا اقتدار پھر سے بحال ہوگیا ۔ چک حکمرانوں کے تبلیغی جوش وخروش کے ردِ عمل میں سن سولہ سو بائیس سے سولہ سو پچاسی تک کشمیر میں چار بڑے شیعہ سنی بلوے ہوئے۔
ایک سرکردہ مقامی سنی عالم شیخ یعقوب سرفی نے مغلِ اعظم اکبر کو کشمیر پر فوج کشی کی دعوت دی ۔ یوں کشمیر کی آخری آزاد حکومت اپنی ہی فرقہ پرستی کا لقمہ بن گئی۔جب اٹھارویں صدی میں مغل سلطنت زوال پذیر ہونے لگی تو کشمیریوں نے احمد شاہ ابدالی کو مدعو کیا لیکن یہ دعوت بھی ایک مصیبت بن گئی۔
لوٹ مار کا ایک دور ختم ہوتا تو دوسرا شروع ہوجاتا۔پھر کشمیر رنجیت سنگھ کے تختِ لاہور کے زیرِ نگیں آگیا۔مگر انیسویں صدی کے وسط میں انگریز وں نے کشمیر رنجیت سنگھ کے ورثا سے لے کر ڈوگروں کے ہاتھ فروخت کردیا۔ ڈوگرہ دور میں کشمیری مسلمانوں کے فرقہ وارانہ اختلافات وقتی طور پر دب گئے اور تین سو برس بعد سری نگر میں عاشورے کا جلوس نکلا۔
آج بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں صرف کارگل اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بلتستان اور گلگت ہی وہ علاقے ہیں جہاں شیعہ اکثریت ہے۔
* مغلیہ دور
جو بھی ہندوستان جیسے عظیم ملک پر طویل عرصہ حکومت کرنا چاہتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ تمام مذہبی طبقات و مذاہب سے کشادہ دلی برتے۔ جب تک مغلوں نے اس اصول پر عمل کیا ان کی سلطنت مستحکم رہی ۔تنگ نظری بڑھتی گئی تو سلطنت کی عمر گھٹتی گئی۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بابر سے لے کر شاہ جہاں تک مغلوں کا طرزِ حکومت کم و بیش نرمی و گرمی کی مرکب سیکولر پالیسی کے محور پر رہا۔ جب اورنگ زیب نے اس پالیسی سے روگردانی کی تو نتیجہ شورش اور ٹوٹ پھوٹ کی شکل میں نکلا۔
جن دنوں بابر وسطی ایشیا میں فرغانہ کی کھوئی ہوئی سلطنت حاصل کرنے کی تگ و دو میں تھا تو مشکل وقت میں ایران کے صفوی بادشاہ اسماعیل نے قزلباش جنگجوؤں کو بابر کی مدد کے لیے بھیجا۔ بابر یہ بات نہیں بھولا اور جب اس نے ہندوستان میں مغلیہ اقتدار کی بنیاد رکھی تو اپنے ساتھ ایرانی مشاورت بھی لایا۔ اس نے ولی عہد ہمایوں کو وصیت کی کہ ایرانیوں سے تعلقات اچھے رکھنا۔خود کو فرقہ واریت اور مذہبی تعصبات سے بالا رکھتے ہوئے ہر طبقے کے ساتھ اس کی روایات کے مطابق انصاف کرنا۔
جس طرح بابر سے فرغانہ کی سلطنت چھنی اور اس نے ایران کے شاہ اسماعیل کی مدد سے اقتدار دوبارہ حاصل کیا۔اسی طرح ہمایوں سے بھی جب شیرشاہ سوری نے مغل سلطنت چھین لی تو شاہ اسماعیل کے بیٹے طہماسپ نے بھرپور مدد دی۔ ہمایوں نے عالمِ غربت میں لگ بھگ پندرہ برس ایران میں گذارے۔ بعض روایات کے مطابق ہمایوں نے بادلِ نخواستہ شاہ طہماسپ کے اصرار پر مصلحتاً وقتی شیعت اختیار کرلی ۔ شاہ طہماسپ نے بارہ ہزار ایرانی سپاہیوں کا لشکر ہمایوں کے سپرد کیا ۔یوں ہمایوں نے مغل سلطنت دوبارہ حاصل کی۔ہمایوں ایران سے اپنے ہمراہ فارسی ، درباری روایات ، فنونِ لطیفہ کے ماہرین اور انتظامی و فوجی انصرام کے طریقے لایا۔یوں ایرانی اثر و نفوز مغلیہ خاندان میں رچتا بستا چلا گیا۔
ہمایوں کے بیٹے اکبر کے زمانے میں مذہبی رواداری نے نیا رخ اختیار کیا۔اکبر نے صلحِ کل کی پالیسی کے تحت راجپوتوں سے سیاسی تقاضوں کے سبب رشتے ناطے کیے۔ اکبر کے رتنوں میں دو اہم رتن ابوالفضل فیضی اور عبدلرحیم خانِ خاناں شیعہ تھے۔ تاہم اکبر کی فراخدلانہ مذہبی پالیسی کے ردِ عمل میں درباری علما کے مابین عقائد کی سرد جنگ چھڑ گئی جو وقت کے ساتھ ساتھ نت نئی شکلیں اختیار کرتی گئی۔
اکبر کے وارث جہانگیر کی محبوب ایرانی نژاد ملکہ نور جہاں اور اس کے بھائی آصف خان کے اثرو نفوز نے دربارِ جہانگیری پر ایرانی رنگ اور چڑھا دیا۔چنانچہ ایک سرکردہ غیر درباری سنی عالم شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی نے دربار پر بڑھتے ہوئے شیعہ اثرات کے ردِ عمل میں ردِ روافظ کے نام سے کتاب لکھی لیکن شیخ احمد سرہندی نے جب قیوم ہونے کا دعوی کیا تو جہانگیر نے زنداں میں ڈال دیا۔
مگریہ کہنا بھی درست نہ ہوگا کہ ابتدائی مغل بادشاہ مکمل طور سے ایرانی اثرات کے سحر میں تھے کیونکہ انہیں جب کوئی سیاسی و بقائی فیصلہ درپیش ہوتا تو وہ رواداریاں باآسانی لپیٹ بھی دیتے تھے۔
جیسے شروع شروع میں اکبر کا مذہبی رویہ خاصا سخت گیر رہا۔ اس نے بااثر سنی درباری عالم شیخ عبدالنبی کے مشورے پر حضرت امیر خسرو کے پہلو میں دفن ایک ایرانی شیعہ عالم میر مرتضی شیرازی کی قبر اکھڑوا دی۔ بعد ازاں یہی اکبر مذہبی و فرقہ وارانہ لحاظ سے غیر جانبدار ہوگیا۔
اسی دور میں ایک شیعہ عالم نور اللہ شستری ایران سے آگرہ آئے اور مختصر عرصے میں اپنی علمیت و فراست سے بادشاہ کا اعتماد حاصل کرلیا۔ اکبر نے انہیں قاضی القضاۃ کا درجہ دیا۔ جب کشمیر کی شیعہ چک سلطنت میں زیادتیوں کے شکار سنی علما دہائی دینے لگے تو اکبر نے حالات معلوم کرنے کے لئے نور اللہ شستری کو ہی بطور شاہی ایلچی کشمیر بھیجا۔
اکبر کی وفات کے بعد جہانگیر نے نور اللہ شستری کو چیف قاضی کے منصب پر برقرار رکھا۔ لیکن جب شیعہ عقائد پر سنی اعتراضات کے جوابات پر مبنی انکی کتاب احقاق الحقائق ( سچ کی توضیح ) سامنے آئی تو دربار کے سنی علما نے نور اللہ شستری پر شرک کا فتوی جاری کیا۔یوں ستر سالہ شستری شاہی غضب کا نشانہ بنے اور کوڑوں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئے۔ اہلِ تشیع انہیں بطور شہیدِ ثالث یاد کرتے ہیں۔
شاہجہاں کی فرقہ وارانہ پالیسی بھی کم و بیش اپنے پیشروؤں کی طرح ہی رہی۔ شاہجہاں کی محبوب بیوی اور ملکہ نور جہاں کی بھتیجی ممتاز محل تاج محل میں محوِ آرام ہے۔دورِ شاہجہانی کا ایک ایسا واقعہ ملتا ہے جب ایک اسماعیلی مبلغ سیدنا شجاع الدین کے عقائد ناپسند کرتے ہوئے لاہور کے شاہی اصطبل میں ڈال دیا گیا۔
روایت ہے کہ اصطبل کے اردگرد آتشزدگی ہوئی لیکن اصطبل محفوظ رہا۔۔چنانچہ شاہجہاں نے سیدنا شجاع الدین کو رہا کر کے عزت و احترام سے صوبہ گجرات روانہ کردیا گیا۔
تاہم اسی شاہ جہاں کا بیٹا اورنگ زیب جب گجرات کا گورنر بنا تو اس نے ایک اور اسماعیلی مبلغ سیدنا قطب الدین کو شرک کے فتوی پر سزائے موت دے ڈالی۔ تینتیس جلدوں پر مشتمل جو فتاویِ عالمگیری مرتب کیا گیا اس میں شیعہ عقیدے کو مشرکانہ بتایا گیا ۔اورنگ زیب کے دور میں تعزیے اور ماتمی جلوس کی ممانعت ہوئی ۔وہ چوبیس برس جنوبی ہندوستان کی ترکمان شیعہ قطب شاہی حکومت سے برسرِ پیکار رہا اور اس ڈیڑھ سو سالہ سلطنت کا خاتمہ کرکے ہی دم لیا۔
خود قطب شاہی دور بھی جنوبی ہندوستان کی پہلی تاجک شیعہ بہمنی سلطنت کے پونے دو سو سالہ اقتدار کے کھنڈرات پر قائم ہوا تھا۔لیکن اورنگ زیب کے ہاتھوں سولہ سو ستاسی میں قطب شاہیوں کے خاتمے کا ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ جنوبی ہندوستان سے ایک مضبوط مسلمان بادشاہت ہٹنے کے بعد ہندو مرہٹے اور مغل آمنے سامنے ہو گئے۔
رفتہ رفتہ اس چپقلش نےمغل حکومت کے استحکام کو ہی کھوکھلا کردیا اور اورنگ زیب کی وفات کے بعد مغلیہ اختیار تیزی سے مٹتا چلا گیا۔ جس تخت پر بااختیار بادشاہ بیٹھتے تھے اس پر بادشاہ نما کٹھ پتلیاں بٹھائی اٹھائی جانے لگیں۔
اٹھارویں صدی میں دو سگے بھائی مغل جرنیلوں نے بادشاہ گر کی شہرت پائی۔ تاریخ انہیں سید برادران کے نام سے جانتی ہے۔ سید حسن علی خاں اور حسین علی خاں ایرانی ساداتِ بارہہ میں سے تھے۔ اورنگ زیب کے بعد جب طوائف الملوکی پھیلی تو اصل اقتدار سید برادران کے ہاتھ آگیا۔ انہوں نے پندرہ برس میں چھ بادشاہوں ( بہادر شاہ ، جہاندار شاہ ، فرخ سیر ، رفیع الدرجات ، رفیع الدولہ ، محمد شاہ ) کو تخت پر بٹھایا ۔ان میں سے ایک کو قتل ، دوسرے کو نابینا اور تین کو معزول کیا۔بالاخر چھٹے بادشاہ محمد شاہ ( رنگیلا ) نے سید برادران کا کام اتار ڈالا۔
سلطنتِ اودھ
جس دور میں مغل بادشاہ محمد شاہ نے بادشاہ گر سید برادران کو ٹھکانے لگایا ۔انہی برسوں میں اودھ کے مغل گورنر برہان الملک سعادت علی خاں نیشا پوری نے کمزور تختِ دہلی سے زبانی وفاداری نبھاتے ہوئے فیض آباد سے خاندانِ اودھ کی حکمرانی کا آغاز کیا۔اودھ کی شیعہ سلطنت دراصل اس علاقے میں لگ بھگ تین سو برس پہلے قائم جون پور کی شرقی شیعہ سلطنت کے کھنڈرات پر قائم ہونے والی ایک بڑی شیعہ حکومت تھی جو سترہ سو بائیس سے اٹھارہ سو اٹھاون تک ایک سو چھتیس برس قائم رہی ۔ دس نوابین نے اودھ پر حکمرانی کی ۔ان میں سے نواب آصف الدولہ ، غازی الدین حیدر اور واجد علی شاہ نے بالخصوص سلطنتِ اودھ کے سیاسی ، سماجی و ثقافتی عروج و زوال میں اہم کردار ادا کیا۔
آصف الدولہ کے زمانے میں ایران سے اصولی شیعہ علما کی آمد شروع ہوئی جنہوں نے اخباری شیعہ رواج کے برعکس اس پر زور دیا کہ فقہی حوالے سے کسی ایک مرجع ( وہ عالم جس سے فقہی رہنمائی لی جا سکے ) کی تقلید ضروری ہے۔ آصف الدولہ کے وزیرِ اعظم حسن رضا خان نے شیعہ مبلغین کی نا صرف خصوصی سرپرستی کی بلکہ عراق میں نجف اور کربلا کی دیکھ بھال کے لئے بھی اودھی خزانے سے لگ بھگ دس لاکھ روپے سالانہ بجھوائے جانے لگے جبکہ پانچ لاکھ کے صرفے سے دریائے فرات سے نہرِ ہندی نکلوائی گئی جس نے نجف تا کربلا کا علاقہ سرسبز کردیا۔خانہ بدوش عرب قبائل نے یہاں سکونت اختیار کرنے لگے اور شیعت فروغ پانے لگی۔
ایران کے اصولی شیعہ علما کی آمد سے قبل اودھ بالخصوص فیض آباد میں سنی اور شیعہ مقامی ہندووں کے ساتھ مل کے عاشورہ کا انتظام و انصرام کرتے اور رسومات میں شریک ہوتے تھے ۔مگر کٹر علما کی آمد سے کٹرپن اور مذہبی فاصلہ بھی بڑھتا گیا۔ اودھ بالخصوص لکھنئو میں فرقہ ورانہ کشیدگی اسی دور کا تحفہ ہے۔ اٹھارہ سو ستاون کی جنگِ آزادی میں اودھ میں انگریزوں کے خلاف مزاحمت کے غیر موثر ہونے کا ایک اہم سبب بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ خلیج بھی تھی۔
تاہم سترہ سو چوہتر میں فیض اللہ خان نے رام پور میں جو چھوٹی سی شیعہ ریاست قائم کی اس میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی مقابلتاً بہتر رہی۔جبکہ سب سے بڑی مسلمان ریاست حیدرآباد میں بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی زہر آلود نہیں ہوئی۔
* انگریز کا دور
اودھ کی ریاست بعد از زوال اترپردیش کا حصہ ہو گئی اور فرقہ واریت بھی انیسویں سے بیسویں صدی میں داخل ہوگئی۔ مقامی شیعہ اور سنی عالموں کے بڑھتی مذہبی مخاصمت کے سبب انیس سو چار اور آٹھ کے درمیان یو پی بالخصوص لکھنئو اور گردونواح میں شیعہ سنی تصادم کی کئی دفعہ نوبت آئی۔چنانچہ انیس سو نو میں پورے صوبے میں عاشورہ اور چہلم کے جلوس ممنوع ہوگئے لیکن سن تیس کے عشرے میں تین بڑے فرقہ وارانہ تصادم ہوئے اور اس مسئلے نے آزادی کے بعد بھی جان نہیں چھوڑی۔
تاہم انگریزی دور میں یو پی کو چھوڑ ہندوستان کے دیگر علاقوں بالخصوص رجواڑوں میں شیعہ سنی کشیدگی زیادہ تر زبانی حد تک ہی رہی ۔دونوں فرقوں سے تعلق رکھنے والے مغربی تعلیم یافتہ سیاسی رہنماؤں نے اس مسئلے کو اپنی سیاست اور انا کا محور بنانے سے گریز کیا ۔اس دور میں کانگریس اور مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاستدانوں ، عام لوگوں اور بیشتر علما کی زیادہ توجہ انگریزی اقتدار کے خلاف بڑی لڑائی پر ہی مرکوز رہی۔
* شیعہ، بریلوی، دیوبندی اور وہابی
انیس سو سینتالیس میں جن علاقوں میں پاکستان بنا وہاں صوبہ سرحد کو چھوڑ کر ہر جگہ سنی بریلوی مکتبہِ فکر کے پیروکاروں کی اکثریت تھی ۔چونکہ بریلوی مسلک میں تصوف کو خاصی اہمیت حاصل ہے اور تصوف کا روحانی سلسلہ حضرت علی سے شروع ہوتا ہے ۔لہذا بریلویوں اور اہلِ تشیع کے درمیان کم و بیش مذہبی رواداری کی فضا ہی رہی۔البتہ دیگر مکاتیبِ فکر بمقابلہ شیعہ مکتبِ فکر ایسی صورتِ حال نہ تھی۔
شاہ ولی اللہ اور محمد بن عبدالوہاب
سترہ سو تین عیسوی ہیں جزیرہ نما عرب میں محمد بن عبدالوہاب اور ہندوستان میں شاہ ولی اللہ کی پیدائش ہوئی۔ دونوں نے اگلے تین سو برس میں مسلمان دنیا پر گہرے نقوش چھوڑے۔
شاہ ولی اللہ کی تعلیمات نے ان کی وفات کے سو برس بعد دیوبند مکتبِ فکر کی صورت اختیار کی اور محمد بن عبدالوہاب کی دین کو تمام علتوں سے پاک کرنے کی تحریک و تشریح نے ایک طرف خاندانِ سعود کی فکری تعمیر کی اور دوسری طرف خالص پن کے نظریے نے شدت اختیار کرتے کرتے سلفی رخ لے لیا جس نے آگے چل کر تکفیری فلسفے کی شکل میں القاعدہ کو جنم دیا اور پھر اس دھارے میں دیگر شیعہ مخالف دھارے بھی ملتے چلے گئے۔
شاہ ولی اللہ دہلوی شاہ عبدالرحیم کے صاحبزادے تھے اور شاہ عبدالرحیم اورنگ زیب عالمگیر کے فتاویِ عالمگیری کے مرتبین میں شامل تھے۔جب شاہ ولی اللہ نے آنکھ کھولی تو ہندوستان میں مغل سورج ڈوب رہا تھا۔ شاہ ولی اللہ نے لگ بھگ دس برس کا عرصہ عرب میں گذارا۔ اگرچہ انکی محمد بن عبدالوہاب سے براہِ راست ملاقات نہیں ہوئی تاہم دونوں کے کچھ اساتذہ مشترک ضرور رہے۔
شاہ ولی اللہ ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی و حکومتی زوال پر خاصے مضطرب تھے ۔انہوں نے اہلِ سنت کے چاروں مکاتیب میں فکری و فقہی ہم آہنگی کی پرزور وکالت کی تاہم فقہِ جعفریہ اس ہم آہنگی سے خارج رکھا گیا۔ انہوں نے مختلف مذہبی موضوعات و مسائل پر اکیاون تصنیفات رقم کیں۔ ایک کتاب قرت العینین میں اہلِ تشیع کو کمزور عقیدے کا فرقہ ثابت کیا گیا۔
شاہ ولی اللہ نے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پر حملہ آور ہونے کی جو دعوت دی اس کا مدعا و مقصد نہ صرف بڑھتی ہوئی مرہٹہ طاقت کا زور توڑنا بلکہ دہلی سے رافضی اثرات ختم کرنا بھی تھا۔چنانچہ جب ابدالی حملہ آور ہوا تو اس نے دہلی میں اہلِ تشیع کو بطورِ خاص نشانہ بنایا۔ شاہ ولی اللہ کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی بھی بلند پایہ عالم تھے لیکن اثنا عشری عقائد کے بارے میں انکے خیالات اپنے والد کی نسبت زیادہ سخت تھے ۔اس کا اندازہ انکی تصنیف تحفہِ اثنا عشریہ پڑھ کے بھی ہوسکتا ہے۔
جہاں تک ہندوستان میں وہابی عقائد کی ترویج کا معاملہ ہے تو ان کی اشاعت بہت بعد میں شروع ہوئی اور پہلا اہم مرکز ریاست بھوپال بنا جب محمد بن عبدالوہاب کے افکار سے متاثر ایک سرکردہ عالم صدیق علی خان کی انیسویں صدی کی آخری چوتھائی میں بھوپال کی حکمراں شاہجہاں بیگم سے شادی ہوئی اور وہابی فکر کو ریاستی سرپرستی میسر آگئی تاہم بریلوی اور دیوبندی مکتبِ فکر کو ہندوستان کی سرزمین جتنی راس آئی ویسی مقبولیت وہابی نظریات کو حاصل نا ہوسکی۔
البتہ آزادی کے بعد شیعہ سنی تعلقات کے تناظر میں وہابی مکتبِ فکر نے عمومی زہن پر مخصوص اثرات مرتب کیے وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ آج تک وہ اثرات کس کس شکل میں ظاہر ہوئے ہیں۔یہ کوئی راز نہیں ہے۔

No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

عمر میڈیا پروڈکشن ویڈیو! تحریک طالبان درہ آدم خیل اور اسکے کمانڈر عمر منصور چار حملہ آوروں کیساتھ

جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد مسلمان نہیں ہو سکتے! جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد پاکستانی نہیں ہو سکتے! جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد پختون نہیں ہو سکتے! وہ کان کھل ک...
Shafiq Ahmed's insight:

جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد مسلمان نہیں ہو سکتے!
جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد پاکستانی نہیں ہو سکتے!
جو لوگ کہتے ہیں کہ دہشتگرد پختون نہیں ہو سکتے!
وہ کان کھل کر سن لیں۔۔
عمر میڈیا پروڈکشن کا تیار کردہ ویڈیو! تحریک طالبان درہ آدم خیل اور اسکے کمانڈر عمر منصور ان چار حملہ آوروں کیساتھ جنہوں نے باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر حملہ کرکے ہماری مستقبل کو خاک و خون میں نہلا دیا اور بے گناہ پروفیسر اور طالبعلموں سمیت اکیس افراد کو شہید کردیا۔ یہ ویڈیو باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر حملے سے پہلے تیار کی گئی اور ریاست پاکستان اور پاک افواج کیخلاف غلیظ ترین الفاظ استعمال کرتے ہوئے اپنے ناپاک ارادے دہرائے گئے۔
یہ نہ اسریئل سے آئے یہودی ہیں اور نہ ہی ہندوستان سے آئے ہندو!
بلکہ یہ سب مسلمان، پاکستانی اور پختون ہیں۔
آپ بھی دیکھ لیں کہیں آپکا باپ، بھائی یا کوئی رشتہ دار تو ان کیساتھ نہیں ملا ہوا!

No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

پاراچنار، مرکزی جامع مسجد کے خطیب جمعہ کا مسئلہ حل ہوگیا۔ مولانا فدا حسین مظاہری نئے پیش نماز مرکزی امام بارگاہ مقرر

پاراچنار، مرکزی جامع مسجد کے خطیب جمعہ کا مسئلہ حل ہوگیا۔ مولانا فدا حسین مظاہری نئے پیش نماز مرکزی امام بارگاہ مقرر | parachinarvoice |

پاراچنار، مرکزی جامع مسجد کے خطیب جمعہ کا مسئلہ حل ہوگیا" ۔"

شفقنا اردو: پاراچنار مرکزی امام بارگاہ و مسجد پورے پاراچنار کے عوام کا مرکز ہے، جس میں خطیب جامع مسجد پورے کرم ایجنسی کے عوام کا روحانی شخصیت کے علاوہ تمام اندرونی و بیرونی مسائل کیلئے اپنے لئے رہبر سمجھتے ہیں۔ اور اسی خطیب کو اسلام آباد میں مقیم آیت اللہ سید علی سیستانی کے نمائندہ علامہ شیخ محسن منتخب کرتاہے۔ گزشتہ انتخابات کے دوران جامع مسجد پاراچنار کے خطیب جمعہ علامہ شیخ محمد نواز عرفانی انتخابات میں مداخلت کرکے پاراچنار کے عوام کے درمیان کشید گی پیدا ہوگئی تھی۔ پاراچنار کے عوام دو حصوں (ایم این اے ساجد طوری اور امیدوار ائیرمارشل(ر) قیصر حسین ) میں منقسم ہوا۔ بعد ازاں علامہ شیخ نواز عرفانی کو ایجنسی بدر کیا گیا، اور 2014 کے دسمبر کے مہینے میں اسلام آباد میں شہید کردیا گیا۔ انکے شہادت کے بعد پاراچنار کے مرکزی مسجد کے خطیب کے مسئلے نے شور پکڑا۔ تاہم مقامی مولانا عارف حسین جعفری کو کشیدہ حالات سنبھالنے کیلئے خطیب جمعہ مقرر کیا گیا۔ لیکن کرم ایجنسی کے اکثر عوام اسے نہیں چاہتے تھے۔ آخر کار اسی نئے سال کے شروع میں ہی پاراچنار کے عمائدین کا وفد اسلام آباد پہنچ گیا جہاں مولانا شیخ محسن سے پاراچنار کے مرکزی جامع مسجد کے خطیب کے فیصلے کا مطالبہ کیا۔ وفد میں ایم این اے ساجد طوری، سینیٹر سجاد حسین اور دیگر اراکین انجمن شامل ہیں۔ کل رات کو مولانا شیخ محسن نے فیصلہ کرکے گلگت سے تعلق رکھنے والے علامہ فداحسین مظاہری کو پاراچنار کے جامع مسجد کے خطیب اور مدرسہ جعفریہ کے مدیر اعلی کیلئے منتخب کردیا۔
جب پاراچنار مرکزی جامع مسجد میں خطیب کا مسئلہ چلا آرہاتھا۔ اس موقع پر پاراچنار کے شیعیوں کا بیرونی دشمن ناپاک عزائم بنا کر کوئی بھی نقصان پہنچا سکتاہے۔ اور دشمن اس خوشفہمی تھے کہ اب پاراچنار کے عوام آپس میں لڑیں گے۔ لیکن پھر بھی پاراچنار کے عمائدین نے سوچ سمجھ کر خطیب کا مسئلہ حل کرکے عوام کو آپس میں لڑنے سے بچالیا۔

Shafiq Ahmed's insight:

رپورٹ بشکریہ شفقنا نیوز ایجنسی

No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

Scores of Takfiri militants have left for Syria from Kurram Agency to join ISIL, Daesh through their local facilitators. By Shafique Ahmed Turi

Scores of Takfiri militants have left for Syria from Kurram Agency to join ISIL, Daesh through their local facilitators. By Shafique Ahmed Turi | parachinarvoice |

Scores of Takfiri militants have left for Syria from Kurram Agency to join Daesh through their local facilitators and are fighting against the forces loyal to Syrian President Bashar al-Assdad.

From Karak,  Kpk province the well known Takfir Deobandi cleric Maulana Shah AbdulAziz from karak is hiring pe from north and south Waziristan agencies, Khyber Angency, Kohat, Hangu, Duaba and the whole Khyber Pukhtoonkhwa provinc. Maulana Shah AbdulAziz standing close to the red mosque Takfir cleric in the image is well known terrorist supporated by some agencies in the past and inv in too many terrorist activities including facilitate, support and assistance to the terrorists Attacks on former president and Army chief General ret Parviz Musharaf.

Because of close relations with Lashkar e jhangvi, Sepah e Sahaba, Taliban and the red mosque Takfiri cleric Maulana AbdulAziz he is recruiting people very easily.

According to reliable information, a local chapter of the banned sectarian outfit, Lashk-e-Janghvi (LeJ) is playing a key role in sending the local people to Syria for the so-called Jihad and so far more than 1000 people have joined Daesh in war-torn Syria.

Haji Bakht Jamal Bangash, a resident of Boshehra, Parachinar Kurram Agency is the key facilitator who is secretly facilitating and sending the militants to Syria. Bakht Jamal, formerly associated with TTP is now secretly heading the local chapter of LeJ to engineer sectarian conflict in Parachinar, a Shia majority tribal belt bordering Afghanistan.

Eid Nazar, resident of Gobazana, who has a history for his notorious role in creating 1996 and 2007 sectarian conflicts in Parachinar, is another important character who has developed links with Daesh across the border in Afghanistan. Nazar, who was previous heading the local chapter of Sipah-e-Sahaba is now recruiting the locals for Daesh.

Dawlat Khan, a member of the Khorasan chapter of Daesh and is also playing an important role in recruiting and sending the militants to Syria to fight against the Syrian Arab Army.

Major Mast Gul, previous associated with Lashkar-e-Taiba has now joined forces with Daesh. Gul has been involved in terrorists attacks and bomb blasts against the local Shiites in Parachinar.

Fazal Saeed Haqqani, previous TTP Amir for Kurram Agency and later formed his own terror faction, is also recruiting the local people for Daesh and is a potential threat to the country’s security.

Haqqani who belongs to Uchat village of Lower Kurram Agency has a history of killing and kidnapping Shiites community members and was pardoned by the security establishment when an operation was launched in central Kurram against TTP.

Advocate Mir Zaman Bangash, resident of village Boshehra, is the legal council for almost all local militants who pursue the cases of terrorism against them in the courts.

Shafiq Ahmed's insight:

See GEO News Shahzeb Khanzada story about DAESH (ISIS) recruitment in Kurram Angency and Hagu

No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

At least 25 dead in clothes market blast in Parachinar Northwest Pakistan

At least 25 dead in clothes market blast in Parachinar Northwest Pakistan

No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

16 Dead in Bomb Blast at Parachinar Market, Pakistan

At least 25 people have been killed and more than 30 wounded in a blast at used clothes market in Parachinar on Sunday. As per details, the explosion occurre...

No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

"A thousand 9/11s" Who was Behind the 9/1 By Nafeez Ahmed "PhD i

"A thousand 9/11s"  Who was Behind the 9/1 By Nafeez Ahmed "PhD i | parachinarvoice |
The 9/11 attack was just the beginning of the bloodletting and the wanton abuse of law to extend unaccountable state authority
Shafiq Ahmed's insight:

Who was Behind the 9/11
By Nafeez Ahmed "PhD is an investigative journalist".
Yet the US knew Prince Bandar was linked to the 9/11 attacks, according to press leaks on the notoriously classified 28 pages from the 2002 report of the Congressional inquiry.

In his book, Intelligence Matters (2004), inquiry co-chair Senator Bob Graham discusses a top secret CIA memo about two 9/11 hijackers, Khalid Almihdhar and Nawaf Alhazmi, which found “incontrovertible evidence that there is support for these terrorists within the Saudi government”.

Almidhar and Alhazmi were "handled" in the US by several Saudi nationals with close ties to Saudi government officials, who received tens of thousands of dollars in cashier’s cheques in total – about $3,500 a month – from Prince Bandar and his wife, Princess Haifa bint Faisal. Princess Haifa later claimed the money was charity, although Senator Graham and the CIA clearly believed otherwise.

The Obama administration, which has scorned the 9/11 families’ demands to declassify the 28 pages, tapped Prince Bandar yet again in relation to the 2011 bin Laden raid. The US had called him in months before the raid to help negotiate the strategic agreement with Pakistan that led to the Abbottabad operation.

The CIA and bin Laden

The ongoing Saudi relationship with al-Qaeda is masterfully documented in The Eleventh Day (2012), a book by Vanity Fair journalists Anthony Summers and Robbyn Swan.

As early as 1995, they reported, the Saudi royal family paid “protection money” to bin Laden on condition that he avoided targeting the Kingdom. The deal was brokered by then intelligence chief Prince Turki al-Faisal.

According to the French daily Le Figaro, French intelligence sources revealed that two months before 9/11 under Prince Turki’s patronage, bin Laden was flown to the American hospital in Dubai for kidney treatment, where the al-Qaeda chief met CIA officials.

Although denied by Washington, Summers and Swan found intriguing corroboration for the story from credible sources who “described the visit independently, in detail, and at the same time”.

They also interviewed Alain Chouet, a DGSE intelligence chief at the time of the alleged meeting:

"Did Chouet credit the account of the contact in Dubai? He replied, ‘Yes.’ Did the DGSE have knowledge at the time that CIA officers met with bin Laden? ‘Yes,’ Chouet said. ‘Before 9/11,’ Chouet observed. ‘It was not a scoop for us – we weren’t surprised.'"
- See more at

No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed!

Our violent past - Pakistan Today

Our violent past - Pakistan Today | parachinarvoice |
Our violent past Pakistan Today Shias belonging to the Hazara community, including women and children, began to be targeted and killed in the Quetta area and also in the northern areas such as Gilgit-Baltistan, Chelas and Parachinar in addition to...
No comment yet.