From Parachinar The Pakistani Gaza
20.3K views | +0 today
Follow
Your new post is loading...
Your new post is loading...
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

کرم ایجنسی، پاراچنار میں دہشتگردی فرقہ واریت اور قبائلی دشمنی مختصر تاریخ اور حقیقت ۔ شفیق احمد طوری

کرم ایجنسی، پاراچنار میں دہشتگردی فرقہ واریت اور قبائلی دشمنی مختصر تاریخ اور حقیقت ۔ شفیق احمد طوری | From Parachinar The Pakistani Gaza | Scoop.it

پاراچنار کے عیدگاہ میں دھماکے سے ۲۳ افراد جاں بحق ہوئے اور دسیوں زخمی ہوگئے۔

کالعدم لشکر جھنگوی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی اور اسے شام کے لڑائی سے جڑنے کی کوشش کی لیکن لشکر جھنگوی لوگوں کو گمراہ کررہی ہے جو ہر دھماکے کے بعد کرتے رہتے ہیں۔
کرم ایجنسی میں شیعہ آبادی کو تین سو سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے اور یہاں کے اکثریتی شیعہ آبادی کو مسلکی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، شام کی لڑائی تو صرف چار سال سے شروع ہوئی ہے۔ تو اسے پہلے کس وجہ سے نشانہ بنایا جاتا رہا؟
اور ایران میں خمینی انقلاب بھی صرف ۳۵ سال پہلے کا واقعہ ہے۔
دراصل اس جنگ کی ابتداء جنگ چودہ سو سال پہلے کربلا سے شروع ہوتی ہے بلکہ اسے بھی پہلے! بدر اور اُحد سے۔
http://nyti.ms/1lYl8Wy لنک
یہ دھماکہ عیدگاہ میں ہوا جہاں لنڈہ بازار لگا ہوا تھا ،اور یہاں عیدگاہ کے ایک کونے میں ہمیشہ سے یہ بازار لگتا رہا ہے۔ جہاں سنی ہوتا ہے نہ شیعہ وہاں صرف غریب لوگ جاتے ہیں، کیونکہ پاراچنار کا موسم نہایت شدید سرد ہوا کرتا ہے اور درجہ حرارت منفی بیس تک چلا جاتا ہے تو غریب اور مسکین لوگ اپنے لیئے اور اپنے بچوں کیلئے لنڈے کے کپڑے اور سردی سے بچنے کے لوازمات خریدتے ہیں۔
پاراچنار میں دہشتگردی کی اصل کہانی ہے کیا؟
اصل کہانی فرقہ ورانہ منافرت ہے اور کرم ایجنسی میں موجود اکثریتی طوری قبیلہ جو شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں آبادی پر مشتمل ہے یہ نہ ملک کے اسٹیبلشمٹ کو قبول ہے اور نہ ہی علاقے کی دیگر سنی قبائل کو قابل قبول ہے۔
مذہبی منافرت کے علاوہ یہاں چونکہ شیعہ سنی ساتھ ساتھ رہے ہیں تو زمین ، پہاڑ اور پانی کے جھگڑے بھی ہوتے رہے ہیں جو بعد میں مذہبی اور مسلکی لڑائی میں بدل کر علاقے کو میدان جنگ میں تبدیل کرتے رہے ہیں۔
افغانستان متعصب حکمرانوں بچہ سقا اور امان اللہ خان کے ظلم ستم سے تنگ آکر طوری قبیلے نے طویل جدوجہد کے بعد انگریزوں کیساتھ ملکر کرم ایجنسی کو متحدہ ہندوستان میں شامل کرلیا اورڈیورنڈ لائن کی اس پار انگریزوں نے طوری قبیلے کے حفاظت کیلئے ۱۸۹۲ میں طوری میلشیا کے نام سے قبائلی ملیشیا بنایا جو بعد میں کرم ملیشیا بن گیا اور پاکستان کا حصہ بن گیا۔
بدقسمتی سے ضیااء لحق کے فرقہ ورانہ پالیسیوں کا شکار ہو کر کرم ملیشیا کو برطرف کرکے پورے پاکستان میں پھیلایا گیا، علاقے کو آگ و خون میں نہلایا گیا اور سرسبز وشاداب ، حسین و جمیل اور جنت نظیر علاقے کو دہشتگردی اور فرقہ واریت کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا جو آج تک نہیں نکل سکا۔
۱۹۲۹-۲۸، ۱۹۵۰ اور ۱۹۵۶ کے خونریز لڑائیوں کے علاوہ میرے سامنے جو خونریز لڑائی ہوئیں انکا مختصر تاریخ یہ ہے
۱۹۸۱-۸۲ میں صدہ قصبہ میں شیعہ آبادی پر ہلہ بول دیا اور دادو حاجی کے سارے خاندان کو ہلاک کیا گیا اور صدہ قصبے سے شیعہ آبادی کو مکمل طور پر بے دخل کر دیاگیا جو آج تک آباد نہیں ہو سکے۔
۱۹۸۷-۸۸ ضیاءالحق کے دور میں پاکستان شیعہ مسلک کے روح رواں اور ملت جعفر یہ کے صف اوّل کے رہنما علامہ عارف حسین الحسینی کو شہید کیا گیا اور علاقے کے سنی قبائل نے افغان مہاجرین کیساتھ ملکر مقامی شیعہ آبادی پر حملہ کردیا اور مہینوں پر محیط لڑائی میں ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے۔ اور اسٹیبلیشمنٹ تماشا دیکھتی رہی۔

۱۹۹۶ میں رسول اللہ کے چچا اور حضرت علی کے والد حضرت ابو طالب کی توہین کی گئی اور مقامی شیعہ آبادی کو اشتعال دلا کر خونریز جنگ کا آغاز کیا گیا جو پانچ سال تک جاری رہا اور اسکے بعد کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو محصور کیا گیا اور انکے لئے پاراچنار تک رسائی کے صرف ایک راستے ٹل پاراچنار روڈ کو بند کیا گیا اور پاراچنار پاکستانی غزا میں تبدیل ہوا۔
جو ہزاروں لوگوں کی ہلاکت پر ختم ہوا۔

۲۰۰۷ میں طالبان نے انجمن اہل سنت والجماعت کے پاراچنار کے سیکریٹری جنرل عید نظر المعروف "یزید نظر" کیساتھ ملکر ۱۲ ربیع الاول کے عید میلاد النبی کے جلوس میں "حسین مردہ باد اور یزید زندہ باد" کے نعرے لگا کر جنگ کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھے پورے پورا علاقہ میدان جنگ میں تبدیل ہوا اور پانچ ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

یاد رہے عید نظر کالعدم سپاہ صحابہ کا سرگرم رکن تھا اور اب اہل سنت والجماعت کا سرگرم رکن ہے جسطرح دیگر سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے لوگ اہل سنت والجماعت کے چھتری تلے جمع ہوئے ہیں ۔
اسکے علاوہ لشکر طیبہ کے میجر مست گل بھی آجکل پاراچنار سے متعلق خبروں میں جلوہ گر ہو رہے ہیں اور مرکزی مسجد و امام بارگاہ کے پیش امام نواز عرفانی کے اسلام آباد میں ہونے والے قتل میں دیگر دہشتگردوں کیساتھ انکا بھی نام لیا جاتا رہا ہے۔


گزشتہ آربعین میں یعنی صرف دس دن پہلے کرم ایجنسی کے علاقے بوشہرہ میں شر انگریزی کی کوشش کی گئی اور انتظامیہ نے آنکھیں بند کردیں کہ بلا ٹل جائے گا۔
اس دھماکے میں ایک طرف چوبیس افراد شہید ہوئے لیکن ایک گھرانہ پورے کا پورا برباد ہوا، بغکی نامی گاؤں کے گوہر علی اپنے دو بیٹوں قیصر علی اور نعمان علی سمیت شہید ہوئے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہر کوئی اپنی گریبان میں جھانکیں اور مزید حالات سے آنکھیں چرانا بند کریں!
آنکھیں چرانے سے آپکے حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے، سازشوں ، دہشتگردی اور فرقہ واریت کا ملکر مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کریں اور حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے لوگوں میں شعور پیدا کریں۔
آپس میں اتحاد کا موقع ضائع نہ کریں۔
تاریخ میں وہ قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو مشکل حالات میں اپنے آپ پر قابو پا کر بہتر فیصلے کریں اور ہماری قوم شہادتوں کی ایک طویل داستان رکھتی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور کوئی مسلک نہیں ہوتا، البتہ دہشتگردی کی بھینٹ چڑھنے والوں کا تعلق اکثر شیعہ مسلک سے ہی ہوتا ہے چاہے کوئٹہ میں ہو یا کراچی لاھور، ڈی آئی خان یا پاراچنار۔
‏پاکستانی کے صف اوّل کے تجزیہ کاروں کیمطابق پاکستان میں ہونے والی ہر دہشتگردی میں بیرونی ہاتھ ملوث رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاؤں ہمیشہ پاکستانی ہوتے ہیں اور دماغ کا کبھی کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔
اللہ تعالی ہماری قوم کو آئیندہ ہر قسم کے آفتوں اور دہشتگردی سے محفوظ رکھیں۔ آمین۔

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

سرزمین حجاز اور ایران سے ہوتی ہوئی کرم ایجنسی پاراچنار تک پھیلی دہشتگردی کی مختصر کہانی۔ شفیق احمد

سرزمین حجاز اور ایران سے ہوتی ہوئی کرم ایجنسی پاراچنار تک پھیلی دہشتگردی کی مختصر کہانی۔ شفیق احمد | From Parachinar The Pakistani Gaza | Scoop.it
مذہب پرستی، فرقہ پرستی، نسل پرستی اور قبائلی جھگڑے کوئی نئی بات نہیں، حق اور باطل کی پہلی لڑائی حضرت آدم کے بیٹوں قابیل اور ہابیل سے شروع ہو کر ابراہیم و نمرود اور آنحضرت صلی اللہ و صلعم اور ابوجہل سے ہوتا ہوا کربلا پر ختم نہیں ہوئی بلکہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں دنیا کے کونے کونے میں لڑی جا رہی ہے اور جب تک دنیا میں ظلم اور جہل باقی ہے یہ لڑائی جاری رہی گی۔
اسلام میں فرقہ پرستی اور نسل پرستی ساتھ ساتھ چلتی آ رہی ہے۔ جو جنگ بدر سے شروع ہو کر کربلا میں عروج کی حدود چھونی والی لڑائی ایک نئی سمت اختیار کر گئی اور بنی ہاشم اور بنی امیہ کی جنگ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں مسلمانوں کے درمیان اُسی شدت سے لڑی جا رہی ہے جیسے کہ اُحد میں رسول اللہ صلعم کے چچا جناب آمیر حمزہ کا کلیجہ چھبانے والے آج بھی کلیجے چھبانے میں ہچہچاہٹ محسوس نہیں کرتے اور یزید نے کربلا واقعے کے بعد دیگر ممالک کے سفیروں کے سامنے رسول اللہ کے نواسے امام حسین کے دانت چھڑی سے چھیڑتے ہوئے شعر پڑھتے رہے کہ آج اپنے اباء و اجداد کے بدر میں قتل کا بدلا لے لیا ہے۔ جسکی تازہ مثال شام میں داعش نے تازہ کردی اور کربلا میں تنوں سے سر جدا کرنے والے آج بھی قسم قسم کے آرے، چھری، چاقو، چھاڑے اور تلواروں سے گردنی زنی کرتے نظر آتے ہیں جو پاکستان اور افغانستان سے لیکر شام، عراق، نائجیریا، لیبیا وغیرہ اور ایک برادر اسلامی ملک میں سرکاری سطح پر ہوتی نظر آتی ہے۔
برصغیر پاک و ہند میں یہ بیج اُموی دور میں بونے شروع کردئیے گئے جب حجاج بن یوسف کے دور میں محمد بن قاسم، بنی ہاشم کے بچے کچے افراد کا پیچھا کرتے ہوئے سندھ تک پہنچے تو اسلام بھی یہاں پہنچا اور اسلام کے جھگڑے بھی۔
محمود غزنوی کے والد سبکتگین کے دورِ حکومت میں جب ہندوستان کے راجہ جے پال نے افغانستان پر لشکر کشی کی تو وادئِ کرم میں انہیں طوری اور بنگش قبائل نے روک کر زبردست جنگ لڑی اور راجہ جے پال کی افواج نہ صرف وادئِ کرم سے غزنی اور کابل میں داخل ہونے میں ناکام رہے بلکہ انہیں بدترین شکست سے دوچار کرکے واپس پنجاب بھاگنا پڑا۔ لیکن محمود غزنوی نے پہلے دو حملوں میں ملتان اور گرد و نواح میں قائم اسماعیلی قرامطہ سلطنت ختم کرکے ہندوستان میں شیعہ آبادی کا پہلی بار قتل عام کیا، اور بچی کچی آبادی کا صفایا شہاب الدین غوری نے کیا۔
مغلیہ دور ابتداء میں تعصبات سے اسلئے بالاتر تھا کیونکہ ایران کی صفوی بادشاہ نے قزلباش جنگجو بھیج کر بابر کی بھرپور معاونت کی اور مغل حکمران ایک وسیع و عریض سلطنت قائم کرنے کے قابل ہوئے، لیکن بأثر تکفیری علماء کے ایما پر کھبی کھبی مغل بادشاہ مقبرے اُکھاڑتے رہے جیسے کہ اکبر بادشاہ نے میر مرتضی شیرازی کا مقبرہ اُکھاڑا اور شیعہ ٹارگٹ کلنگ کرتے رہے جیسے کہ جہانگیر بادشاہ نے نور اللہ شُستری جو کافی عرصہ ہندوستان کے چیف جسٹس رہے لیکن پھر بھی شاہی غضب کا شکار ہوئے اور قتل کر دیئے گئے۔
مغل بادشاہ محمد شاہ کے وقت اودھ کے شیعہ گورنر برہان الملک سعادت علی خاں نیشاپوری بہت طاقتور ثابت ہوئے اور فیض آباد سے خاندانِ اودھ کے حکمرانی کی بنیادیں رکھ دیں جو مغل سلطنت کیساتھ ساتھ زوال پزیر ہوتی ہوئی انگریزوں کے ہاتھوں میں چلی گئی۔
انگریز دور میں چونکہ سنی شیعہ دونوں برابر غلام تھے اسلئے حالات بہتر رہے لیکن انگریزوں نے کھبی بھی قبائلی علاقوں میں قدم نہیں جمائے، انگریز آتے رہے اور وزیر، محسود، یوسفزئی، مہمند اور طوری قبائل سے مار کھاتے رہے۔ لکھنؤ میں انیسویں صدی کے پہلے تین عشروں میں پانچ دفعہ بڑے پیمانے پر شیعہ سنی فسادات ہوئے اور ان فسادات کی آگ نے اس وقت کرم ایجنسی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جب لکھنؤ سے وہ سنی اور شیعہ واپس ہوئے جو ان فسادات میں حصہ لینے گئے تھے، لہٰذا انیس سو تیس میں کرم ایجنسی کے تمام سنی قبائل نے شیعہ آبادی پر لشکر کشی کی اور قتل عام کیا۔ یہ وہ دور تھا جب افغانستان میں بچا سقاؤ جیسا سفاک نیم خواندہ مولوی حکمرانی کررہا تھا، بچا سقاؤ کا دور افغانستان میں طالبان کے مُلا عمر کے دور سے بھی زیادہ رجعت پسند اور ظالم دور تھا اور افغانستان ظلم کے زنجیروں میں جھکڑا ہوا تھا، عین اسی وقت پر نادرشاہ، باچا سقاؤ کے افغانستان امارت پر حملہ آور ہوئے تو طوری اور بنگش قبائل نے نادرشاہ کا ساتھ دیا اور طوری قبیلہ مزید مشکلات سے دوچار رہا۔
۱۸۹۰ء میں افغانستان کے متعصب حکمرانوں بچہ سقا اور امان اللہ خان کے مسلسل ظلم ستم سے تنگ آکر طوری قبیلے نے طویل جدوجہد کے بعد انگریزوں کیساتھ مل کر کرم ایجنسی کو متحدہ ہندوستان میں شامل کرلیا تھا اورڈیورنڈ لائن کی اس پار انگریزوں نے طوری قبیلے کے حفاظت کیلئے ۱۸۹۳ء میں طوری میلشیا کے نام سے قبائلی ملیشیا بنایا جو بعد میں کرم ملیشیا بن گیا اور ۱۹۴۸ء میں قائد اعظم کے اصرار پر دیگر ایجنسیوں کی طرح پاکستان کیساتھ الحاق کیا ۔
کرم ایجنسی میں موجود سب سے بڑا قبیلہ طوری قبیلہ جو شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور بنگش بھائیوں کیساتھ مل کر اکثریت میں ہیں، ضیاالحق کے سخت گیر اسٹیبلشمٹ کو قبول رہے اور نہ ہی علاقے کی دیگر سنی قبائل کو قابل قبول رہے۔ مذہبی اور مسلکی منافرت کے علاوہ یہاں چونکہ شیعہ سنی ساتھ ساتھ رہے ہیں تو زمین ، پہاڑ اور پانی کے جھگڑے بھی ہوتے رہے ہیں جو بعد میں مذہبی اور مسلکی لڑائی میں بدل کر علاقے کو میدان جنگ میں تبدیل کرتے رہے ہیں۔ کرم ایجنسی میں شیعہ آبادی کو تین سو سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے اور یہاں کے اکثریتی شیعہ آبادی کو مسلکی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، لہٰذا کرم ایجنسی میں دہشتگردی صرف ایرانی انقلاب یا افغانستان انقلاب سے جوڑنا حقیقت نہیں لیکن "مردِ مومن مردِ حق" ضیاالحق کے پالیسیوں اور ایران انقلاب کے بعد اس میں تیزی ضرور آئی ہے۔ پاکستان میں ایران اور خمینی کے پہلے نمائیندہ عارف حسین الحسینی کا تعلق پاراچنار سے تھا جو پاکستان کے اُفق پر ضیاالحق کے دور میں نمودار ہوئے جبکہ عارف الحسینی سے پہلے زکواة کے معاملے پر اسلام آباد کے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کا فیصلہ کن معرکہ مفتی جعفر حسین نے سر کیا جب مطلق العنان آمر نے گھٹنے ٹیک دئیے اور مفتی جعفر حسین اور ساتھیوں نے ہی پاکستان میں سیاسی جدودجہد جاری رکھنے کیلئے تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ کی بنیاد رکھی، جبکہ عارف الحسینی انکے دست راست بنے رہے۔ بعض نام نہاد مبصرین اور کالم کار تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ کا مفہوم یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں موجود اقلیتی شیعہ مسلک نے یہ تحریک پاکستان میں ایران طرز کا خمینی انقلاب لانے کیلئے بنایا تھا جو تاریخی بددیانتی ہے۔ تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ پاکستان میں صرف شیعہ اقلیتی مسلک کی تحفظ اور خدمت کیلئے بنایا گیا پہلا پلیٹ فارم تھا۔
۱۹۲۹-۲۸، ۱۹۵۰ اور ۱۹۵۶ء کے خونریز لڑائیوں کے علاوہ میرے سامنے جو خونریز لڑائی ہوئیں انکا مختصر تاریخ یہ ہے۔
۱۹۸۱-۸۲ میں کرم ایجنسی کے سارے سنی قبائل نے افغان مہاجرین کیساتھ ملکر صدہ قصبہ میں شیعہ آبادی پر ہلہ بول دیا اور دادو حاجی کے سارے خاندان کو ہلاک کیا گیا اور صدہ قصبے سے شیعہ آبادی کو مکمل طور پر بے دخل کر دیاگیا جو آج تک آباد نہیں ہو سکے۔ کیونکہ اس وقت تک انگریز کا بنایا گیا کرم ملیشیا وادی کرم میں موجود تھا لہٰذا جنگ صدہ تک ہی محدود رہی اور ایجنسی کے دیگر علاقوں تک نہیں پھیلنے دی گئی۔ یاد رہے کرم ملیشیا صرف طوری قبیلہ پر مشتمل نہیں تھا بلکہ اس میں منگل، مقبل، بنگش سمیت ایجنسی کے سارے قبائل کو متناسب نمائیندگی موجود تھی جو کہ اپنے، اپنے علاقے کے امن قائم رکھنے کے ذمہ تھی۔ اس وقت تک ایران کا کوئی مولوی پاکستان میں موجود تھا اور نہ ہی پاراچنار میں۔ بدقسمتی سے ضیااء لحق کے فرقہ ورانہ پالیسیوں کا شکار ہو کر کرم ملیشیا کو برطرف کرکے پورے پاکستان میں پھیلایا گیا، علاقے کو آگ و خون میں نہلایا گیا اور سرسبز وشاداب ، حسین و جمیل اور جنت نظیر وادئِ کرم کو دہشتگردی اور فرقہ واریت کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا جو آج تک نہیں نکل سکا۔
۱۹۸۷-۸۸ ضیاءالحق کے دور میں شیعہ مسلک کے روح رواں اور ملت جعفر یہ کے صف اوّل کے رہنما تحریک نفاذ فقہ جعفر یہ کے روح رواں علامہ عارف حسین الحسینی کو شہید کیا گیا اور علاقے کے سنی قبائل نے افغان مہاجرین کیساتھ ملکر مقامی شیعہ آبادی پر حملہ کردیا جو صدہ قصبے سے ہوتے ہوئے بالش خیل اور ابراہیم زئی جیسے بڑے گاؤں کو روندتے اور جلاتے ہوئے سمیر گاؤں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور بعد میں طوری لشکر نے پسپا کرکے واپس صدہ کی طرف دھکیل دیا لیکن دسیوں گاؤں جلائے گئے اور لوٹے گئے، امام بارگاہیں اور مساجد مسمار کردی گئیں۔ ۱۷ دن پر محیط لڑائی میں ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے جبکہ پاک فوج اور پاکستان کی اسٹیبلیشمنٹ تماشا دیکھتی رہی۔
۱۹۹۶ء میں رسول اللہ صلعم کے چچا اور حضرت علی کے والد حضرت ابو طالب کی توہین کی گئی اور مقامی شیعہ آبادی کو اشتعال دلا کر خونریز جنگ کا آغاز کیا گیا جو کئی ہفتے تک جاری رہا ہائی سکول پاراچنار میں اسکے پرنسپل اسرار حسین کو قتل کیا گیا جسے بعد صدارتی تمغہ دیا گیا، اسکے بعد کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو محصور کیا گیا اور انکے لئے پاراچنار تک رسائی کے صرف ایک راستے ٹل پاراچنار روڈ کو بند کیا گیا اور پاراچنار پاکستانی غزا میں تبدیل ہوا۔
۲۰۰۱ء میں پھر فرقہ ورانہ فسادات شروع ہوئے اور پیواڑ پھر لشکر کشی کی گئ، پیواڑ کے مختلف گاؤں سمیت مرکزی امام بارگاہ پر بمباری کئ گئی جس میں درجنوں لوگ قتل کیئے گئے۔
۲۰۰۷ میں طالبان نے انجمن سپاہ صحابہ (جو کہ اب اہل سنت والجماعت کے نام سے مصروف بہ جہاد ہے) پاراچنار کے سیکریٹری جنرل عید نظر المعروف "یزید نظر" کیساتھ ملکر ۱۲ ربیع الاول کے عید میلاد النبی کے جلوس میں "حسین مردہ باد اور یزید زندہ باد" کے نعرے لگا کر فرقہ ورانہ جنگ کا آغاز کیا یہ ایک منظم اور منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا حملہ تھا جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوئے، بڑی تعداد میں القاعدہ جنگجوؤں کیساتھ ساتھ طالبان کے حکیم اللہ محسود اور منگل باغ نے جنگ کی کمان سنبھالی اور وزیرستان سے لیکر خیبر تک کے سنی قبائل کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی پر حملہ آور ہوئے۔ القاعدہ اور طالبان کے سینکڑوں نہایت مستعد اور ماہر نشانہ بازوں نے پارچنار شہر میں اہل سنت والجماعت کا واحد مسجد سب سے بڑا مورچہ نہیں بلکہ قلعے میں تبدیل کردیا تھا جس سے پاراچنار کے مرکزی امام بارگاہ پر بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری شروع کر دی گئی اور ارد گرد کے سارے شہر کیلئے مسجد کے میناروں میں لگائی گئی مشین گنیں ہی کافی تھیں۔ لہذا سینکڑوں قتل ہوئے اور امام بارگاہ سمیت آدھے پاراچنار شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پوری وادی میدان جنگ میں تبدیل ہوئی اور پانچ ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ صدہ کے مین بازار میں شیعہ افراد گاڑیوں سے اتارے گئے اور انکے ہاتھ پیر کاٹ کر پاراچنار بھیج دیئے گئے جنہوں آگ پر پٹرول کا کام کیا اور خونریز لڑائیاں شروع ہوئیں جو پانچ سال تک جاری رہی۔ پاراچنار کو پاکستان سے ملانے والا واحد شاہراہ کئی سال تک بند رہا اور پاراچنار فلسطین اور غزا میں تبدیل ہوا۔ تین سال پاراچنار کا محاصرہ جاری رہا اور طوری بنگش قبائل افغانستان کے راستے تیس گھنٹے پُرخطر سفر کرنے پر مجبور ہوئے تھے، بہت سے لوگ راستے سے اغوا کرکے قتل کئے گئے، بعض لوگ بھاری تاوان دیکر چھڑائے گئے اور کچھ ابھی بازیاب نہیں ہوئے ہیں۔ بچے ادویات اور خوراک نہ ملنے کی وجہ سے مرنے لگے اور لوگ فاقے کاٹنے پر مجبور ہوئے۔ یاد رہے عید نظر کالعدم سپاہ صحابہ کا سرگرم رکن تھا اور اب اہل سنت والجماعت کا سرگرم رکن ہے جس طرح دیگر سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے لوگ اہل سنت والجماعت کے چھتری تلے جمع ہوئے ہیں ۔ اسکے علاوہ جہاد کشمیر کے ہیرو اور لشکر طیبہ کے میجر مست گل بھی آجکل پاراچنار سے متعلق خبروں میں جلوہ گر ہو رہے ہیں اور مرکزی مسجد و امام بارگاہ کے پیش امام نواز عرفانی کے اسلام آباد میں ہونے والے قتل میں دیگر دہشتگردوں کیساتھ انکا بھی نام لیا جاتا رہا ہے۔
اسکے بعد پاراچنار میں ہے درپے خودکش دھماکے شروع کردئیے گئے جس میں سینکڑوں لوگ قتل کئے گئے جس میں ۲۰۰۸ کے انتخابات کے دوران پیپلزپارٹی کے اُمیدوار ڈاکٹر ریاض حسین شاہ کے جلسے پر خودکش حملہ بھی شامل ہے جس میں ڈاکٹر ریاض تو بچ گئے لیکن ایک سو سے زیادہ لوگ قتل ہوئے، ڈاکٹر ریاض شاہ کو بعد میں پشاور کے بھرے بازار میں دن دیہاڑے قتل کیا گیا۔ اور پاراچنار کے مشہور ماہر تعلیم سید رضی شاہ اور پیر عسکر علی شاہ کو اغوا کرکے قتل کیا گیا۔ پارچنار کے علاوہ کراچی، پشاور اور افغانستان کے راستے پاراچنار جاتے ہوئے لوگوں کو بھی خودکش دھماکوں، نسب شدہ بموں اور ٹارگٹ جاری رہی۔
۲۰۱۱ میں آخری فرقہ ورانہ فسادات شلوزان تنگی اور خیواص میں ہوئے جب خیواص گاؤں پر حملہ کرکے جلایا گیا، ایک سو سے زیادہ لوگ قتل کئے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
آخری خودکش دھماکہ عیدگاہ میں ہوا جس میں ۲۳ افراد جاں بحق ہوئے اور دسیوں زخمی ہوئے تو کالعدم لشکر جھنگوی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے شام کے لڑائی سے جڑنے کی ناکام کوشش کی لیکن صرف لشکر جھنگوی نہیں جو لوگوں کو گمراہ کررہی ہے بلکہ پاکستان اور ہندوستان میں بلاگرز اور کالم نگاروں کا ایک کھیپ تیار ہوا ہے جو شدت پسند دیوبندی نظریات کے حامل ہیں اور ضیاالحق دور میں ان کالم نگاروں کی خوب آبیاری کی گئی، جو ہر دھماکے کے بعد ایران اور شام کا ورد کرتے رہتے ہیں جبکہ شام کی لڑائی ۲۰۱۱ سے شروع ہوئی ہے اور ایران کا انقلاب ۱۹۸۹ کا قصہ ہے، جبکہ کرم ایجنسی میں دہشتگردی سینکڑوں سال سے ہو رہی۔ اس دھماکے میں ایک طرف چوبیس افراد شہید ہوئے لیکن ایک گھرانہ پورے کا پورا برباد ہوا، بغکی نامی گاؤں کے گوہر علی اپنے دو بیٹوں قیصر علی اور نعمان علی سمیت شہید ہوئے۔
کہتے ہیں کہ پاراچنار سے شیعہ بڑی تعداد میں ایران کی مدد کیلئے شام میں لڑنے جا رہے ہیں۔ تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ پاراچنار کے دہشتگرد تکفیری ہزاروں کی تعداد میں طالبان، لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ سمیت جہادی تنظیموں، القاعدہ اور داعش کیساتھ ملکر لڑ رہے ہیں۔ جن کے سہولت کار نامی گرامی اور مختلف سیاسی اور مذہبی پارٹیوں سے تعلق رکھتے ہیں اور کھبی اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار تھے۔ ‎پاکستان سے داعش کیلئے بھرتی جاری ہے اور بھرتی کے بعد شام، یمن اور دوسرے ممالک بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے اور کرم ایجنسی سمیت کوہاٹ، کرک، شمالی اور جنوبی وزیرستان، خیبر اور دیگر علاقوں سے بڑے پیمانے پر لوگوں جنگ زدہ ممالک شام، عراق، لیبیا اور یمن میں بھیجا جا رہا ہے۔ اس سارے سلسلے کا ٹھیکہ مولانا شاہ عبدالعزیز نے لیا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو تکفیری دہشتگرد گروہوں کی مدد کیلئے بھیجا جا رہا ہے۔ مولانا شاہ عبدالعزیز اور جاوید ابراہیم پراچہ کا نام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، کیونکہ مولانا کے طالبان، سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی سمیت لال مسجد کے تکفیری مولانا عبدالعزیز سے قریبی مراسم ہیں اسلیئے اب یہ سب تعلقات استعمال کرتے ہوئے داعش کیلئے بھرتیا کررہا ہے۔کرم ایجنسی، پاراچنار کے گاؤں بوشہرہ کا رہائیشی حوالدار بخت جمال بنگش دولت اسلامیہ کا پہلا سہولت کار ہے جو دولت اسلامیہ کیلئے بھرتی کرتا ہے، ‎پاراچنار کے گاؤں گوبازنہ کے رہائشی عید نظر دوسرا داعش سہولت کار ہے جو داعش کیلئے بھرتی کرتا ہے، یاد رہے
‏‎کرم ایجنسی کا دولت خان تکفیری گروپ دولت اسلامیہ خراسان کا نیا کمانڈر ہے وہ بھرتی کرتا ہے۔ میجر مست گل جو پہلے لشکر طیبہ کیساتھ کشمیر میں جہاد کرتے رہے اب دولت اسلامیہ کیساتھ مل چکا ہے اور پاراچنار بم دھماکوں سمیت پاکستان فوج کے اہلکاروں کے قتل میں بھی ملوث ہے۔ لوئر کرم کے گاؤں اُچت کا فضل سعید حقانی طالبان کے سرغنہ اور داعشی سہولت کار ہے جو داعش کیلئے بھرتی کرتا ہے اور پاکستان آرمی اور دیگر ایجنسیوں نے انکے ذمے سارے خون معاف کئیے ہیں جو نہتے پاراچنار والوں کو اغوا کے بعد قتل کرتا رہا اور شیعہ نوجوانوں کے سر ، پیر اور ہاتھ کاٹ کر پاراچنار ارسال کرتا رہا، جبکہ کرم ملیشیا اور لیویز خاموش تماشائی بنے رہے۔ گاؤں بوشہرہ سے تعلق رکھنے والے ایڈوکیٹ میر زمان بنگش تقریباً تمام دہشتگردوں کے قانونی مشیر ہیں۔
پاراچنار کے طوری اور بنگش قبائل (شیعہ) اب پرانے زمانے کے بدو قبائل نہیں رہے، کرم ایجنسی میں تعلیم پاکستان کے مقابلے کافی زیادہ ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں شخصیات پیدا کیئے ہیں اور پاک افواج کے جنرل جمال سید میاں سے لے کر ائیر چیف مارشل (ریٹائرڈ) سید قیصر حسین شاہ کے علاوہ نامور عالم دین عارف الحسینی، بیوروکریسی میں علی بیگم اور ڈاکٹر غیور اور بہت سارے انکی واضح مثالیں ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں ڈاکٹرز، بنکرز، انجینئرز اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے امریکہ سے لے آسٹریلیا اور خلیجی ممالک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اسکے علاوہ محنت کش لوگ ہیں اور وادئِ کرم کی زرخیز زمین سے آلو، گندم، مکئ، ٹماٹر شلجم سمیت مختلف اجناس اور سبزیاں پیدا کرنے میں اپنی مثال آپ ہیں۔
روٹی روزی کے پیچھے ڈرائیورز سمیت مزدور طبقہ بڑی تعداد میں خلیجی ممالک کیساتھ ساتھ یورپ، ایران اور عراق میں بھی برسر روزگار ہیں جو رقم کما کر گھر بھیجتے رہتے ہیں اور زرمبادلہ کی صورت میں ملک و قوم کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ اور ایران و عراق میں مزدور طبقے سے کچھ بے روزگار اور کچھ اہلبیتؑ پر مر مٹنے والے آخرت سنوارنے کے واسطے شام بھی پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
اسلیئے کہتے ہیں کہ غریب کا مذہب روٹی ہے، اگر ان بے روزگار اور غریب و نادار لوگوں کو پاکستان میں روٹی میسر ہوتی تو یہ لوگ ایران جاتے اور نا شام کی خونین لڑائی میں جان ڈالنے کیلئے ایندھن بن جاتے۔
اگر اس پوری تاریخ اور پاکستان کے تاریخ پر سرسری نظر دوڑائیں تو آپ کو پاراچنار کی طوری اور بنگش قبائل کا ایک بھی دہشتگرد نہیں ملے گا۔ پندرہ ہزار کی تعداد میں طوری۔بنگش قبائل متحدہ عرب امارات میں محنت مزدوری کی غرض سے رہائش پزیر ہیں لیکن گزشتہ تیس سالوں سے ایک بھی دہشتگردی کے جرم میں ملوث نہیں پائے گئے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہر کوئی اپنی گریبان میں جھانکیں اور مزید حالات سے آنکھیں چرانا بند کریں! آنکھیں چرانے سے آپکے حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے، سازشوں ، دہشتگردی اور فرقہ واریت کا مل کر مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کریں اور حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے لوگوں میں شعور پیدا کریں۔
کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور کوئی مسلک نہیں ہوتا، البتہ دہشتگردی کی بھینٹ چڑھنے والوں کی اکثریت شیعہ مسلک سے ہی ہوتا ہے چاہے کوئٹہ میں ہو یا کراچی لاھور، ڈی آئی خان یا پاراچنار، اور چن چن کر شیعہ سینئیر آفیسرز کو قتل کیا جا رہا ہے۔
‏پاکستانی کے صف اوّل کے تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں ہونے والے ہر دہشتگردی میں بیرونی ہاتھ ملوث رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاؤں ہمیشہ پاکستانی ہوتے ہیں اور دماغ کا کبھی کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔

‏Political, religious 
Shafiq Ahmed's insight:
سرزمین حجاز اور ایران سے ہوتی ہوئی کرم ایجنسی پاراچنار تک پھیلی دہشتگردی کی مختصر کہانی۔ شفیق احمد
more...
No comment yet.
Rescooped by Shafiq Ahmed from parachinarvoice
Scoop.it!

Ayatollah Sistani's representative assassinated in Pakistan - Iraqi News

Ayatollah Sistani's representative assassinated in Pakistan - Iraqi News | From Parachinar The Pakistani Gaza | Scoop.it
Baghdad (IraqiNews.com) The Representative of the Supreme Religious Authority, Ali al-Sistani,and the headmaster of the Jaafariya Religious School in the P
more...
Shafiq Ahmed's curator insight, November 28, 2014 4:44 AM

Ayatollah Sistani's representative assassinated in Pakistan - Iraqi News | @scoopit http://sco.lt/...

Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Shooting spree: Former prayer leader gunned down - The Express Tribune

Shooting spree: Former prayer leader gunned down - The Express Tribune | From Parachinar The Pakistani Gaza | Scoop.it
Irfani was MWM spokes­person for Parach­inar
Shafiq Ahmed's insight:
New alert 
Parachinar k markazi khateeb allama Muhammad nawaz irfani ky shahadat ki zamadari sipah e sahaba sada ney qabool kar li............... https://www.facebook.com/olb.fatimiyah/posts/707210312688126?fref=nf&pnref=story
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

MWM leader Allama Nawaz Irfani gunned down in Islamabad

MWM leader Allama Nawaz Irfani gunned down in Islamabad | From Parachinar The Pakistani Gaza | Scoop.it
ISLAMABAD: Unknown gunmen killed a leader of Majlis Wahdatul Muslimeen (MWM) Allama Nawaz Irfani on Wednesday. Police said that the MWM leader was gunned down in Sector E- ...
Shafiq Ahmed's insight:

پیش نماز علامہ نواز عرفانی کے قتل کی پرزور مذمت کرتا ہوں اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ دہشتگردوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے
علامہ نواز عرفانی کو سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی نے قتل کیا ہے۔

more...
Shafiq Ahmed's curator insight, November 26, 2014 3:56 PM

پیش نماز علامہ نواز عرفانی کے قتل کی پرزور مذمت کرتا ہوں اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ دہشتگردوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے
علامہ نواز عرفانی کو سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی نے قتل کیا ہے۔

Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Parachinar jirga denies cleric's return - DAWN.com

Parachinar jirga denies cleric's return - DAWN.com | From Parachinar The Pakistani Gaza | Scoop.it
Parachinar jirga denies cleric's return DAWN.com PARACHINAR: A local jirga has contradicted a news item appeared in this newspaper regarding return of a cleric to the tribal area before Eidul Azha.
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

The Kurram dharna: all politics is regional - Daily Times

The Kurram dharna: all politics is regional - Daily Times | From Parachinar The Pakistani Gaza | Scoop.it
The Kurram dharna: all politics is regional Daily Times A dharna (sit-in) by the Shia Pashtuns of the Turi and Bangash tribes in Upper Kurram Agency's capital, Parachinar, is in its second week now. The row, prima facie, is between two Shia factions.
more...
No comment yet.
Rescooped by Shafiq Ahmed from parachinarvoice
Scoop.it!

Hassan Turi: Blaming The Victims, targeting students of Parachinar

Hassan Turi: Blaming The Victims, targeting students of Parachinar | From Parachinar The Pakistani Gaza | Scoop.it

Tuesday, 19 November 2013 On 16 November, Mr Inamullah Khattak wrote an article in dawn on Rawalpindi tragedy. The title of which was ‘’Outsiders involved in clashes” in that article Mr Khattak put entire blame on Turi’s of Kurram Agency and in whole article he has termed entire Turi tribe “Hardliners”. He has solely depended on report prepared by intelligence agencies and then starts how all these savage Pashtun tribesmen from the FATA are responsible for whole this tragedy. His whole article revolves around how Turis came to Islamabad and Pindi and how their influx is the sole reason behind this tragedy. He constantly terms Turi’s as hardliners in order to humanize the terrorist outfit Ahle sunat ul Jumat. While most of the jaloss was comprised of Punjabis, Gilgits. He excludes Punjabis and other ethnicities and put entire blame on Pashtun shias of Kurram Agency. As Turi’s land (Kurram Agency) has been used by establishment from decades and Turi’s have always fought their survival war. Turi’s are paying price of being shia living in the wrong place. So every conflict with its rival tribe is termed as sectarian conflict. So it provided better scapegoat for the writer to put whole blame on Turi’s. He is appealing to terrorist outfits and general public that Pashtun shia is the main reason behind this tragedy. It is their war which is reflecting in Pindi. While he forgets that all these terrorists and religious organization were created in Punjab, like SSP was conjured into existence in 1985 in response to Tehreek-i-Nifaz-i-Sharia. Punjab spread this fire under military establishment into whole Pakistan and been fought allover Pakistan. When the fire which Punjab created has reached its home, now they are blaming other for its own mess. The 10,000 which are now settled in Twin cities migrated due to these wars, I would not call it sectarian but they are colored by our establishment as sectarian to achieve its wider interests in the country. The class war which started in southern Punjab between shia landlords and suni lower class, the Iranian revolution and after influx of wahabi ideology in Zia era gave birth to such sentiments and and since then it has been used by our establishment to achieve its nefarious objectives in the region . 10,000 mostly comprised of students and families who had their business in Peshawar. Which were continuously targeted in Peshawar was forced to take refuge in Islamabad and Pindi. What can one expect, while living in a country in which terrorists are termed as ‘’Shaheed’’ and those who fought against them are called Hardliner. If by fighting against Taliban can make one hardliner, then yes, we are HARDLINERS. This is the position with which our establishment has issue with Turi’s and they do not waste any single moment to equate Turis to Taliban. While writing this I am receiving news that hundreds of Kurrmiwal Turis are being arrested in Pindi. For the last few years thousands of Shias are being killed in allover three provinces, including Gilgit-Baltistan, no one is arrested so far. But this is the first time in recent few years that shias have retaliated, that too in Punjab. Punjab is sending message to other provinces that it will not tolerate any retaliation against their state proxies that too from other ethnicities. The Blogger can be reached through http://hassanturi.blogspot.com/2013/11/blaming-victims.html

Shafiq Ahmed's insight:
Shafiq Ahmed's insight:

Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 18 Nov راولپنڈی 150 پارہ چنار اور گلگت بلتستان والے سٹوڈنٹس گرفتار ڈان کے رپورٹر انام اللہ خٹک کے بے بنیاد رپورٹ پر Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov اپکا @CMPervez شکل ملعون یزید جیسا ہے_ اور لعنت ہے شیعوں پر جو آج سے #PTI کو طلاق نہ دے یہ ب چ ہمارے حکمران ہیں اور یہ عمران کا سونامی Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov پاکستان بھر میں فوج اور شریف برادران حکومت کے تعاون سے امام بارگاہوں کو جلانے کا سلسلہ جاری 6 جل گئے #لبيك_ياحسين یا حسین Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov جب اشفاق آرمی نہیں تکفیری دیوبندیوں کے، نواز سپاہ یزید، شہبازلشکر یزید کے سربراہ ہوں تو امام بارگاہ جلنے رہینگے Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov اشفاق پرویز کیانی تکفیری دیوبندی نواز شریف سپاہ یزید کے اور شہباز شریف لشکر یزید کے سربراہ کیوں نہیں جن کے ہوتے ہوئے امام بارگاہ جلائے گئے Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov پاکستان میں کوئی شیعہ سنی لڑائی نہیں بلکہ لڑائی حسینیوں اور یزیدیوں کے درمیاں ہے بدقسمتی سے یزید کے حواری اور وکیل زیادہ ہو گئے ہیں Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov پاکستان میں روزانہ معصوم لوگ اور بےگناہ لوگ مارے جاتے ہیں ان کیلئے کوئی آواز نہیں اٹھتا اب سپاہ یزید کے دس بارہ گنڈوں پر اتنا واویلا!؟ Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov شیعوں کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے _ حکومتی اور اسٹیبلشمنٹ کے اتحادی دہشتگرد سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کو لگام دیا جائے Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov اگر پاکستان میں شیعوں کو ماتم اور جلوسوں سے روکنے کی کوشش کی گئی جو ہو رہی تو شام کیطرح خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں

more...
Shafiq Ahmed's curator insight, November 19, 2013 12:54 PM

Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 18 Nov راولپنڈی 150 پارہ چنار اور گلگت بلتستان والے سٹوڈنٹس گرفتار ڈان کے رپورٹر انام اللہ خٹک کے بے بنیاد رپورٹ پر Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov اپکا @CMPervez شکل ملعون یزید جیسا ہے_ اور لعنت ہے شیعوں پر جو آج سے #PTI کو طلاق نہ دے یہ ب چ ہمارے حکمران ہیں اور یہ عمران کا سونامی Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov پاکستان بھر میں فوج اور شریف برادران حکومت کے تعاون سے امام بارگاہوں کو جلانے کا سلسلہ جاری 6 جل گئے #لبيك_ياحسين یا حسین Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov جب اشفاق آرمی نہیں تکفیری دیوبندیوں کے، نواز سپاہ یزید، شہبازلشکر یزید کے سربراہ ہوں تو امام بارگاہ جلنے رہینگے Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov اشفاق پرویز کیانی تکفیری دیوبندی نواز شریف سپاہ یزید کے اور شہباز شریف لشکر یزید کے سربراہ کیوں نہیں جن کے ہوتے ہوئے امام بارگاہ جلائے گئے Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov پاکستان میں کوئی شیعہ سنی لڑائی نہیں بلکہ لڑائی حسینیوں اور یزیدیوں کے درمیاں ہے بدقسمتی سے یزید کے حواری اور وکیل زیادہ ہو گئے ہیں Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov پاکستان میں روزانہ معصوم لوگ اور بےگناہ لوگ مارے جاتے ہیں ان کیلئے کوئی آواز نہیں اٹھتا اب سپاہ یزید کے دس بارہ گنڈوں پر اتنا واویلا!؟ Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov شیعوں کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے _ حکومتی اور اسٹیبلشمنٹ کے اتحادی دہشتگرد سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کو لگام دیا جائے Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov اگر پاکستان میں شیعوں کو ماتم اور جلوسوں سے روکنے کی کوشش کی گئی جو ہو رہی تو شام کیطرح خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں

Shafiq Ahmed's curator insight, November 19, 2013 1:48 PM
Shafiq Ahmed's insight:

Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 18 Nov راولپنڈی 150 پارہ چنار اور گلگت بلتستان والے سٹوڈنٹس گرفتار ڈان کے رپورٹر انام اللہ خٹک کے بے بنیاد رپورٹ پر Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov اپکا @CMPervez شکل ملعون یزید جیسا ہے_ اور لعنت ہے شیعوں پر جو آج سے #PTI کو طلاق نہ دے یہ ب چ ہمارے حکمران ہیں اور یہ عمران کا سونامی Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov پاکستان بھر میں فوج اور شریف برادران حکومت کے تعاون سے امام بارگاہوں کو جلانے کا سلسلہ جاری 6 جل گئے #لبيك_ياحسين یا حسین Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov جب اشفاق آرمی نہیں تکفیری دیوبندیوں کے، نواز سپاہ یزید، شہبازلشکر یزید کے سربراہ ہوں تو امام بارگاہ جلنے رہینگے Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 17 Nov اشفاق پرویز کیانی تکفیری دیوبندی نواز شریف سپاہ یزید کے اور شہباز شریف لشکر یزید کے سربراہ کیوں نہیں جن کے ہوتے ہوئے امام بارگاہ جلائے گئے Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov پاکستان میں کوئی شیعہ سنی لڑائی نہیں بلکہ لڑائی حسینیوں اور یزیدیوں کے درمیاں ہے بدقسمتی سے یزید کے حواری اور وکیل زیادہ ہو گئے ہیں Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov پاکستان میں روزانہ معصوم لوگ اور بےگناہ لوگ مارے جاتے ہیں ان کیلئے کوئی آواز نہیں اٹھتا اب سپاہ یزید کے دس بارہ گنڈوں پر اتنا واویلا!؟ Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov شیعوں کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے _ حکومتی اور اسٹیبلشمنٹ کے اتحادی دہشتگرد سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کو لگام دیا جائے Ahmed ‏@Shafique110 Protected Tweets 16 Nov اگر پاکستان میں شیعوں کو ماتم اور جلوسوں سے روکنے کی کوشش کی گئی جو ہو رہی تو شام کیطرح خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں

Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Thousands Pakistanis now in Australia seeking asylum

Thousands Pakistanis now in Australia seeking asylum : video posted by Asif Uddin on the way to Australia via Facebook https://www.facebook.com/asifuddin76
Shafiq Ahmed's insight:

Thousands Pakistanis now in Australia seeking asylum : video posted by Asif Uddin on the way to Australia via Facebook https://www.facebook.com/asifuddin76

more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Tribute t0 Shaheed Mir Murtaza Bhutto ( From youth shaheed Bhutto Hyderabad)

Lagta he Shahadat BHUTOs ka bhi wersa he, tribute to Shaheed Mir Murtaza Bhutto on 17 death anniversary of the Late son of Late ZAB.
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Parachinar blasts: Shia clerics demand 'Swat-like operation' in Kurram Agency - The Express Tribune

Parachinar blasts: Shia clerics demand 'Swat-like operation' in Kurram Agency - The Express Tribune | From Parachinar The Pakistani Gaza | Scoop.it
The Express Tribune Parachinar blasts: Shia clerics demand 'Swat-like operation' in Kurram Agency The Express Tribune Shia clerics and leaders on Saturday demanded a military operation against the perpetrators of the twin blasts that tore through...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Who were the Suicide Bombers in Parachinar?

Who were the Suicide Bombers in Parachinar? | From Parachinar The Pakistani Gaza | Scoop.it
News: Who were the Suicide Bombers in Parachinar?: Clearly these are not foreigners or Jews or Christians or... http://t.co/i9DCwFEQnB
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

جائیداد میں حق کےلئے آواز اٹھانے اور کزن سےشادی نہ کرنے پر "حوا" کی بیٹی قتل۔

جائیداد میں حق کےلئے آواز اٹھانے اور کزن سےشادی نہ کرنے پر "حوا" کی بیٹی قتل۔ | From Parachinar The Pakistani Gaza | Scoop.it
حنا شاہنواز جو جائیداد کے تنازعے پر استرزئی میں قتل کی گئیں
Shafiq Ahmed's insight:
حنا شاہنواز کا تعلق استرزئی سے ہے اور یہ واقعہ بھی استرزئی میں ہی پیش آیا ہے۔ حنا کا والد شانہواز ایک کامیاب بزنس میں تھا اور کوئلے کا کاروبار کررہا تھا۔ کینسر کی مرض سے وفات پائے اور پھر حنا شاہنواز کی ماں بھی کچھ عرصہ بعد وفات پائیں۔ گاؤں میں کسی جھگڑے میں حنا کا بھائی بھی مارا گیا اور حنا درندوں کی اس دنیا میں اکیلی رہ گئیں۔
خواتین کے حقوق کو کچلنے والے رواج, روایات کے علمبرداروں! جن کو رواج میں ایک خامی بھی نہیں دکھتی, آج کی تازہ خبر سے اپنے کلیجے پھر سے ٹھنڈے کر لو. ہوا کچھ یوں کہ ہماری ایک ایم فل پاس بہن نے کچھ عرصہ پہلے ایک این جی ا و کے ساتھ نوکری شروع کی. اس سے پہلے کہ آپکی برائے نام غیرت جاگ اٹھے اور اسے این جی او کی آنٹی, مغرب کے مفادات کی خاطر بکنے والی خاتون کے القابات سے نواز دیں تو سنتے جاییں کہ اس کے والد کی وفات کینسر سے ہوئی اور موت کے آخری دنوں میں علاج کی خاطر مقروض ہو چکے تھے اور پھر وفات پا گئے. بھائی کو محلے کی معمولی لڑایی میں قتل کیا گیا تو بیوہ بھابی اور دو یتیم بچے پیچھے چھوڑ گئے. پھر چھوٹی بہن گیارہ ماہ شادی کو ہوئے اور بیوہ ہوئی تو اس کی ذمداری اور ایک اور ایک یتیم بچے کی ذمداری بھی ہماری اس بہن کے کںدھوں پر آگیی کہ گھر میں کویئ مرد نہیں تھا اور ہماری یہ بہن خاندان کی واحد پڑھی لکھی لڑکی ہے۔
چھ ماہ قبل والدہ کا بھی انتقال ہو گیا. ایسے حالات میں جب رواج، روایت اور قانون نے ان یتیم اور بیوہ بہنوں کی کفالت کا بندوبست نہ کیا تو ایک این جی و نے 80,000 کی تنخواہ میں کام دیا جس سے ان بیواؤں اور یتیم بچوں کی کفلات کا بندوبست کیا گیا. یوں ہمارے قبایلی رواج اور روایت کو خطرہ لاحق ہو گیا. ہمارے غیرت مند چند افراد کی غیرت نے جوش مارا اور نوکری کرنے کے جرم کی پاداش میں ان کے خلاف مھم سازی کی۔
اس بہن نے ماں کے علاج کے لئے بھی قرضہ لیا جس کو ادا کرنے کے لئے کچھ جائیداد بیچنے کا ارادہ رکھتی تھیں اور اسی ارادے کے ساتھ اپنے گھر روانہ ہوئی. ساتھ میں پریشان بھی تھی کہ بیوہ بہن کے یتیم بچے کی کسٹڈی کے لئے ہائی کورٹ سے جیتے گئے کیس کے خلاف بچے کے دادا ابّو نے پھر سے درخواست دی تھی لیکن یہ باہمّت بہن مشکلات کا مقابلہ کرتی رہی۔
پچھلے ہفتے گھر کو لوٹنے والی ہماری پیاری بہن اب ہم میں نہیں ہے. جائیداد میں حق کے لئے آواز اٹھانے اور اپنا شعبہ چننے کے حق کو استعمال کرنے کی پاداش میں چچا زاد بھائی نے اسے کل قتل کر دیا ہے۔
اس جرم میں، اس قتل میں ہروہ شخص شامل ہے اور اسکا ذمہ دار ہے کہ جس نے ان غیر اسلامی اور غیر انسانی رواج اور روایات کے تحفظ کا بیڑا اٹھایا ہے اور جو قبایلی خواتین کو آج تک حقوق نہیں دے رہے. ہماری بہنوں کو تحفظ دیا جائے! ایسے افراد کوسخت سزاییں دے کر مثال بنایا جائے تا کہ پھر کسی کی ہمت نہ ہو کہ خواتین کے خلاف رواج کا سہارا لے کر ظلم کر سکے۔
اس سے پہلے کہ کسی رسم پہ وارے جایئں
آؤ کسی خواب کی تکمیل میں مارے جایئں

سوشل میڈیا پر خبر پھیل گئی ہے کہ حنا شاہنواز کو پاراچنار میں غیرت کے نام ہر قتل کیا جو سراسر جھوٹ ہے۔
کہانی بشکریہ دوست لیاقت حسین جو اس واقعے اور خاندان کے متعلق معلومات رکھتے ہیں اور ایک دوست نے کسی این جی او کا تحریر بھیجا!
more...
No comment yet.
Rescooped by Shafiq Ahmed from parachinarvoice
Scoop.it!

Takfiri terrorists Maj Mast Gul assassinate Allama Nawaz Irfani in Islamabad

Takfiri terrorists Maj Mast Gul assassinate Allama Nawaz Irfani in Islamabad | From Parachinar The Pakistani Gaza | Scoop.it
Top Shia Scholar who was representative of Grand Ayatollah Syed Ali al-Sistani in Pakistan and pro...
more...
Shafiq Ahmed's curator insight, December 11, 2014 9:28 AM


علامہ نواز عرفانی کے قتل کی سازش بے نقاب، طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاراچنار کی معروف شخصیت امام جمعہ و جماعت علامہ شیخ نواز عرفانی کے قتل میں کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق خفیہ اداروں کی جانب سے علامہ نواز عرفانی کی شہادت پر مرتب کی جانے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس واقعہ میں کالعدم تحریک طالبان کا میجر مست گل گروپ ملوث ہے۔ رپورٹ کے مطابق نامعلوم مقام پر داعش کے نمائندے زبیر الکویتی اور میجر مست گل گروپ کے اعلیٰ ذمہ داران کے درمیان ایک خصوصی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان میں داعش کی تشکیل، ابوبکر البغدادی کی بیعت اور فاٹا کی سرزمین کو داعش کا مرکز بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔رپورٹ کے مطابق اس میٹنگ میں پاراچنار کی سرزمین پر موجود شیعہ برادری کو داعش کی آمد میں سب سے بڑی رکاوٹ تسلیم کرتے ہوئے حکمت عملی مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ماضی میں شیعیان پاراچنار کی جانب سے طالبان کو ملنے والی پے در پے شکستوں کا بدلہ لینے اور فاٹا میں داعش کی آمد کا آغاز کرم ایجنسی سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ خفیہ ادارے کی رپورٹ کے مطابق میجر مست گل گرو کے سرکردہ افراد پاراچنار کی اہل تشیع برادری کو داعش کی آمد میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے اس لئے ماضی کا بدلہ لینے کی غرض سے پاراچنار کی اہم شخصیت علامہ نواز عرفانی کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ میجر مست گل گروپ کے افراد یہ بات بھی جانتے تھے کہ پاراچنار میں سادات اور غیر سادات کے فرق نے شیعوں کو تقسیم کیا ہوا ہے، اس ہی لئے پاراچنار کی مجاہد شخصیت علامہ نواز عرفانی جوکہ خود غیر سید تھے کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ان کو قتل کرنے کا ہدف یہ تھا کہ پاراچنار میں شیعہ آپس میں دست و گریباں ہوجائیں اور شیعوں کی اس تقسیم کا فائدہ اٹھا کر پاراچنار پر مکمل چڑھائی کردی جائے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو پاراچنار کی تسخیر کے بعد پورے فاٹا میں داعش کی عملداری کو آسانی کے ساتھ یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اس ہی پلان کے تحت پاراچنار سے جلا وطن کئے جانے والے علامہ شیخ نواز عرفانی کو اسلام آباد میں شہید کیا گیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ مخالف گروپ کی کاروائی ہے، تاہم علامہ نواز عرفانی کی شہادت کے بعد پورے ملک میں شیعہ تنظیموں کے احتجاج نے کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کی کوششوں پر پانی پھیر دیا اور علامہ نواز عرفانی کی شہادت کو ملت جعفریہ کاعظیم نقصان قرار دیا ۔ بعدازاں ملکی سلامتی کے خفیہ اداروں کی رپورٹ نے بھی اس کی حقیقت بیان کردی اور کالعدم تحریک طالبان کے میجر مست گل گروپ کی اس سازش کو بے نقاب کردیا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاراچنار کے شیعہ اس سازش کو بھانپتے ہوئے اپنے اتحاد کو مزید مضبوط کریں تاکہ کالعدم تحریک طالبان کی امیدوں پر پانی پھیرا جاسکے اور امام حسین (ع) ہم سے راضی ہوسکیں

Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Backlash: Three-day mourning period in Parachinar - The Express Tribune

Backlash: Three-day mourning period in Parachinar - The Express Tribune | From Parachinar The Pakistani Gaza | Scoop.it
Tribal people gather­ed on Thursd­ay to condem­n the the killin­g of MWM cleric Allama Muhamm­ad Nawaz Irfani­
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Two dead, five injured in roadside blast near Parachinar school van - DAWN.com

Two dead, five injured in roadside blast near Parachinar school van - DAWN.com | From Parachinar The Pakistani Gaza | Scoop.it
The driver of the van and a child were killed in the explosion whereas five other children were wounded in the blast.
more...
Shafiq Ahmed's curator insight, November 26, 2014 3:55 PM

پیش نماز علامہ نواز عرفانی کے قتل کی پرزور مذمت کرتا ہوں اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ دہشتگردوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے
علامہ نواز عرفانی کو سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی نے قتل کیا ہے۔

Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Ali Hussain: A chance to break down stereotypes - Tallahassee.com

Ali Hussain: A chance to break down stereotypes - Tallahassee.com | From Parachinar The Pakistani Gaza | Scoop.it
Ali Hussain: A chance to break down stereotypes Tallahassee.com Hailing from Pakistan's tribal areas, Parachinar in the Kurram agency (or area), I have a broad understanding of the tribal society and the ongoing war against terrorists along the...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

The battle for Kurram - The News on Sunday

The battle for Kurram - The News on Sunday | From Parachinar The Pakistani Gaza | Scoop.it
The News on Sunday The battle for Kurram The News on Sunday On the surface, the recently concluded sit-in in Parachinar could have easily led an outsider to believe that the problem revolved around a feud between two Shia factions, namely the Syeds...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Parachinar blasts kill two students | Saach.TV

Parachinar blasts kill two students | Saach.TV | From Parachinar The Pakistani Gaza | Scoop.it
Parachinar: Three people including two students were killed in two back to back explosions in Parachinar capital of Kurram Agency on Sunday morning, say media reports.
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

The Story of a Cou 12 Oct 1999 ( Documentary ) 1/3

12 Oct 1999 -- The Story of a Coup -- a documentary by asghar abdullah The documentary revolves around the events happened on 12 Oct 1999 . Interviews : 1-Ge...

Shafiq Ahmed's insight:
 The Story of a Coup12 Oct 1999  ( Documentary ) 1/3
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

TTP released video of blast that killed Maj. Gen Sanaullah Niazi (Shaheed)

TTP released video of blast that killed Maj. Gen Sanaullah Niazi (Shaheed)
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

امیرالمومنین حضرت علیؑ کی مسجد میں شہادت سے پاکستان میں خوارج کی بربریت تک: تحریر اے ایچ بنگش

صدائے مظلومین نیٹ ورک:اسلام کے نام پر مساجد میں دہشت گردی اور بغیر کسی جرم کے کلمہ گو مسلمانوں کو بے گناہ شہید کرنےکا سلسلہ کوئی نیا نہیں۔ پاکستان اور دنیا کے دیگر
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Hum Sub ( Mulk Mein Dashatgard Ki Taaza Lehaar… Hukumati Dawe Kaha Gaye?? ) – 27th July 2013

Hum Sub ( Mulk Mein Dashatgard Ki Taaza Lehaar… Hukumati Dawe Kaha Gaye?? ) – 27th July 2013 | From Parachinar The Pakistani Gaza | Scoop.it
Watch Hum Sub ( Mulk Mein Dashatgard Ki Taaza Lehaar... Hukumati Dawe Kaha Gaye?? ) – 27th July 2013 (More than 50 people martyred in Parachinar, and so far this is the only talk show that has been dedicated to the...
more...
No comment yet.
Scooped by Shafiq Ahmed
Scoop.it!

Parachinar bleeds, but who cares? - DAWN.COM

Parachinar bleeds, but who cares? - DAWN.COM | From Parachinar The Pakistani Gaza | Scoop.it
The injured in Parachinar are haunted by the nightmarish moments while the media is asking stereotyped questions. (#Parachinar bleeds, but who cares?
more...
No comment yet.